وکیل صاحب
251 views May 13, 2008 | راہبرمیں اس بات پر خدا کا بہت شکر ادا کرتا ہوں کہ اردو محفل پر آنے کے بعد مجھے بہت اچھے اچھے دوست اور ساتھی ملے۔ کافی دوستوں سے ملاقات کا تذکرہ تو میں پہلے اپنی کچھ تحاریر میں کرچکا ہوں لیکن ایک شخصیت پر لکھنے کا مجھ پر اب تک قرض تھا اور ایک عرصہ سے میری کوشش تھی کہ یہ قرض چکادوں۔ آج وقت ملا ہے اور وہ شخصیت ہے شعیب صفدر کی۔
دو ماہ پہلے تک میری شعیب صفدر سے زیادہ واقفیت نہ تھی۔ کبھی بھولے سے ان کے بلاگ پر چلا جاتا تھا، ورنہ کبھی کبھی یہ خود اردو محفل پر اپنا دیدار کروا جاتے تھے۔ آج کل ان کا بلاگ تجربات کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔ ایک دن قدیر کے بلاگ پر پڑھا کہ شعیب صفدر نے قدیر سے میرا موبائل نمبر لیا ہے۔ اسی دن انہوں نے فون پر رابطہ کیا اور پھر سلسلہ چل پڑا۔ اگلے دن ہماری ملاقات ہوئی، ان کی جانب سے لنچ کیا گیا۔ اس کے بعد مزید دو، ملاقاتیں ہوئیں۔
وکیل ہیں، شاید اسی لیے بہت حاضر جواب ہیں۔ پنجابی ہیں شاید اس لیے کافی سے زیادہ خوش مزاج ہیں۔ اچھے انسان ہیں شاید اس لیے صاف گو ہیں۔
آپ جتنے بھی سنجیدہ انسان ہیں، منہ بناکر بیٹھے ہوں، ان کے لب کھلیں گے تو ان کے ساتھ ساتھ آپ کے منہ سے بھی قہقہے جھڑیں گے۔ سنجیدہ باتوں میں مزاح کا پہلو نکالنا اور موقع کی مناسبت سے دلچسپ واقعات اور لطائف کو برجستہ بیان کرنا ان کی ایسی خوبی ہے جس نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے۔ ابتدائی ملاقات میں تو میں خاموش ہی ہوگیا تھا۔ یہ اتنا برجستہ کہتے تھے کہ کوئی جواب سمجھ ہی نہیں آتا تھا۔ بعد میں، میں نے سوچا کہ کہیں یہ نہ سمجھیں کہ میں بور ہوتا ہوں اس لیے میں نے زبردستی بولنا شروع کیا۔ اب باتیں کرلیتا ہوں۔ :wink:
ہر کچھ عرصہ بعد ایس۔ایم۔ایس یا فون کرکے حال چال پوچھتے ہیں، پھر مصروفیات کے بارے میں سوال ہوتا ہے۔ فرصت کا وقت ہو تو فورا ملنے کی پیشکش کرتے ہیں کہ شام میں کہیں مل بیٹھ کر کچھ کھاتے پیتے ہیں۔ چونکہ یہ اپنے بڑے ہونے کا حق جتاکر مجھے کوئی خرچہ نہیں کرنے دیتے، اس لیے مجھے تھوڑی سی شرمندگی بھی ہوتی ہے۔
ان سے بات کرنے بیٹھیں تو گھنٹہ گزرنے پر بھی لگتا ہے کہ کچھ ہی وقت ہی گزرا ہے۔ بہت اچھے انسان ہیں۔ اب میں زیادہ تعریفیں کروں گا تو کہیں گے کہ وہ خوبیاں بھی بیان کرڈالیں جو خود ان کے علم میں نہیں تھیں اس لیے اتنا ہی کافی ہے۔
شعیب صفدر کے بارے میں قدیر احمد کی تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
انہیں بڑا افسوس ہوا۔