کھری کھری سنانا

188 views July 14, 2008 | راہبر
No Gravatar

امی کہتی ہیں، تمہیں غصہ کچھ زیادہ ہی آنے لگا ہے۔۔۔ پر میرا خیال ہے کہ اب اظہار زیادہ ہونے لگا ہے۔ غلط بات ہوتے دیکھوں تو مجھ سے خاموش نہیں رہا جاتا، عجب بے چینی شروع ہوجاتی ہے اور جب تک اپنے دل کی بھڑاس نہ نکالوں، قرار نہیں آتا۔۔۔ ابھی پرسوں، سنیچر کی شام کا قصہ ہی سنئے۔

دفتر سے گھر واپسی پر جس بس میں سوار ہوا، اس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر انتہائی گنوار اور جاہل تھے۔ مسافروں، خاص کر خواتین کو اتارنے میں ایسی بے صبری کا مظاہرہ کررہے تھے اور ساتھ ساتھ انتہائی بکواس بھی کہ جلدی سے اترو نا، وقت کیوں ضائع کررہی ہو، اب کسی خاتون کو سوار نہیں کروں گا گاڑی میں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اور ان کو اترنے ہی نہ دیں نا۔۔۔ فورا سے گاڑی چلادیں۔۔۔ میں بڑی مشکل سے برداشت کئے بیٹھا رہا۔ پھر سخی حسن چورنگی سے کچھ پہلے ڈرائیور فضول میں گاڑی روک کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ تب میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا بلکہ چھلکنے لگا۔ :razz:

پہلے تو میں نے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ڈرائیور کو آواز لگائی پر اس پر اثر نہیں ہوا۔ تب میں نے اپنے آس پاس دیکھا، ایک بندہ کھڑا تھا قریب ہی کہ بس بھری ہوئی تھی۔ میں کھڑا ہوا اور اس کو کہا کہ بیٹھ جاؤ اس سیٹ پر۔۔۔ پھر میں نے کھڑے ہوکر ڈرائیور کو کھری کھری سنائیں کہ مسافروں کو اتارتے ہوئے تو تمہیں موت آرہی تھی اور یہاں جاہلوں کی طرح کھڑے ہوکر جو وقت ضائع کررہے تو شرم نہیں آتی تمہیں، بے غیرتو! :wink: اس پر آگے پیچھے سے سب نے مجھے گھورا۔

میں دیکھنے میں کافی شریف لگتا ہوں (یا شاید مجھے ایسی خوش فہمی ہے :smile:) لہذا میں نے اپنی شرافت کو چھپانے کے لیے اپنی آستینوں کے بٹن کھولے اور ان کو ذرا سا اوپر کرلیا۔۔۔ گریبان کے بٹن بھی اوپر تک لگے تھے، اس میں سے بھی ایک کھول لیا۔۔۔ :razz: ڈرائیور نے شیشے میں پیچھے کی طرف دیکھا اور بڑبڑا کر خاموش ہوگیا۔۔۔ پھر خود ہی آہستہ آہستہ گاڑی چلانا شروع کردی۔

سنانے کو تو میں نے اور بھی سوچا تھا بہت لیکن بڑی مشکل سے ضبط کیے رکھا کیونکہ اس پر کنڈیکٹر ہاتھا پائی پر بھی اتر سکتا تھا اور مجھے ایسا مذاق بالکل پسند نہیں ہے۔ :wink:

اصل میں غلطی ہماری بھی ہے۔ ہم نے ڈرائیوری کے پیشہ کو شجر ممنوعہ کی حیثیت دی ہے اور اسے جاہلوں، ان پڑھوں کے حوالہ کردیا ہے۔۔۔ اب خمیازہ تو بھگتنا ہی ہے نا۔۔۔ خیر، زبان تو کھولنی چاہئے ایسی بے حسی پر۔ اب لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تمہارے بولنے سے کیا فرق پڑے گا، ڈھیٹ لوگ ہیں، جاہل ہیں، گنوار ہیں۔۔۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں؟ وہ جتنے بھی جاہل ہوں، اگر ہم حق بات کے لیے صدا بلند نہیں کرتے تو ہم پڑھے لکھے جاہل ہوئے۔ اور اگر چند لوگوں میں بھی یہ شعور بیدار ہوجائے اور وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے لگیں تو سامنے والا چاہے طاقتور ہو یا گنوار، وہ ایک دن ہماری بات ماننے پر مجبور ہوجائے گا۔ (ان شاء اللہ)

آرزوئے وصال مت کیجے

185 views July 10, 2008 | راہبر
No Gravatar

طویل وقفہ کے بعد آمد ہوئی تو ایک غزل کہی۔۔۔ اردو محفل پر اصلاح کے لیے پیش کی تو اعجاز عبید صاحب نے اصلاح دی۔ آپ بھی پڑھئے۔


آرزوئے وصال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے

میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے

جو اسے لاجواب کر ڈالے
کوئی ایسا سوال مت کیجے

اس کے وعدے تمام جھوٹے ہیں
اس طرح دل نہال مت کیجے

دل تو آخر رقیب ہی ٹھہرا
اس سے کچھ بول چال مت کیجے

کیوں پریشاں ہیں، چھوڑیے عمار
اپنا جینا محال مت کیجے

عادات اور نرم بستر

185 views July 4, 2008 | راہبر
No Gravatar

کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ہماری فلاں عادت کبھی چھوٹ نہیں سکتی یا ہم فلاں چیز کے بغیر رہ نہیں سکتے کیونکہ اس چیز کے پاس ہوتے ہوئے اس چیز کی غیر موجودگی کا سوچنا اکثر اوقات مشکل ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، بہت سی عادات چھوٹ جاتی ہیں بلکہ کبھی تو اس کی متضاد عادت اپنالی جاتی ہے۔

کچھ سالوں تک مجھے نرم بستر پر سونے کی عادت تھی۔ اگر میں زمین پر لیٹا کرتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ میری کمر کی ہڈی میں تکلیف ہو رہی ہے اور وہ زمین سے لگ رہی ہے۔ اس لیے یا تو میں گدا بچھایا کرتا یا فوم والے پلنگ پر لیٹتا۔ پھر بعد میں ہم نے جگہ کی تنگی کے باعث پلنگ بیچ دیا، آہستہ آہستہ گدے کی عادت بھی ختم ہوگئی اور زمین ہی پر سونے لگا۔

گذشتہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب میں اپنی خالہ کی گھر ٹھہرا تھا۔ وہاں جب سونے لگا تو انتہائی نرم پلنگ تھا۔ میں اس پر لیٹ کر اتنا بے چین رہا کہ بیان نہیں۔ حالانکہ میں امتحانات کی وجہ سے کافی جاگا ہوا تھا اور نیند کے مارے آنکھوں میں بے حد جلن تھی لیکن اس نرم بستر کی وجہ سے ایک گھنٹے تک میں کروٹ ہی بدلتا رہا اور سمجھ نہیں آیا کہ کیسے سوؤں اس پر۔۔۔

پھر کوئی ساڑھے چار بجے کے قریب میری آنکھ لگی۔۔۔ تو اس رات کروٹ بدلتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا کہ کہاں نرم بستر کی اتنی عادت تھی کہ اس کے بغیر سونا مشکل تھا اور اب زمین پر لیٹنے کی ایسی عادت پڑی ہے کہ نرم بستر پر سونا عذاب ہوگیا۔

کیا معذور اپنے حقوق سے محروم ہیں؟

189 views July 2, 2008 | راہبر
No Gravatar

اتوار کی صبح مجھے خبر ملی کہ عائشہ افتخار نامی ایک ذہین طالبہ کو ڈاؤ میڈکل کالج کے انٹری ٹیسٹ میں بیٹھنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا۔ میڈکل کالج کی انتظامیہ کا اس اقدام سے مذکورہ طالبہ کی سب محنت رائیگاں جاتی نظر آتی ہے۔

عائشہ افتخار کا میٹرک کے امتحان میں نتیجہ 91 فیصد اور انٹر کے امتحان میں 88 فیصد رہا۔ میں تب سے یہ سوچ رہا ہوں کہ اس طالبہ نے اور اس کے گھر والوں نے کتنے سپنے سجائے ہوں گے، اور عائشہ نے میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کی خاطر پڑھائی میں کتنی محنت کی ہوگی۔۔۔ اور اس کا صلہ یہ؟

میڈکل کالج کی انتظامیہ نے عائشہ کی معذروی کو وجہ بنایا ہے کہ وہ پولیو سے متاثرہ ہے۔ میں ایکسپریس نیوز پر دیکھ رہا تھا، کالج کے وائس چانسلر نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ شعبہ ایمرجنسی کا ہے۔ کیا ڈاکٹری کی تمام شاخوں میں ایمرجنسی کیسز آتے ہیں؟ طالبہ معذور ہے تو کیا ہوا؟ آگے چل کر سائیکاٹرسٹ بن سکتی ہے، کسی فیلڈ میں اسپیشلسٹ کرسکتی ہے۔۔۔ یا ہمارے ہاں ڈاکٹری میں صرف سرجن ہی ہوتے ہیں؟

میڈکل کالج میں معذور افراد کا الگ سے کوٹہ بھی ہوتا ہے کہ اگر معذور افراد میرٹ کے معیار پر پورے نہ اترتے ہوں تو اس کوٹہ کی بنیاد پر داخلہ ہوجائے لیکن عائشہ کے امتحانی نتائج میرٹ کے اعتبار سے انتہائی شاندار ہیں۔ قدیر نے اپنی ایک تحریر میں چند ایسے معذور ڈاکٹرز کے حوالہ دیے ہیں جو احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔ اس کے علاوہ PMC میں ڈاکٹر وقاص بھی خدمات انجام دے رہے ہیں حالانکہ وہ بھی پولیو سے متاثرہ ہیں۔

اس معاملہ میں کالج کے انچارج ایڈمیشن سیل، ڈاکٹر عزیز سمیت تمام انتظامیہ کا کردار ہی افسوسناک رہا ہے۔ طالبہ کی جانب سے یہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ فی الحال انٹری ٹیسٹ میں شمولیت کے لیے عارضی ایڈمٹ کارڈ جاری کردیا جائے اور بعد میں اس معاملہ کو دیکھ لیا جائے لیکن اس طرف بھی توجہ نہیں دی گئی۔

پاکستانی میڈیا نے اس معاملہ کو کافی ہائی لائیٹ کیا ہے۔ جیو، ایکسپریس، اے آر وائی ٹیلی ویژن چینلز سمیت کئی اخبارات نے بھی اس بارے میں کافی کوریج کی ہے۔ میں نے کل پڑھا ہے کہ چار ڈاکٹرز پر مشتمل ایک بورڈ بٹھانے کا کہا کیا گیا ہے جو اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔ اب دیکھتے ہیں کہ فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے۔

ٹیگ کے اکھاڑے میں

223 views July 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

جہانزیب اشرف نے 5 اردو بلاگرز کو کیا ٹیگ کیا، ہر جگہ ٹیگ ٹیگ ہونے لگا۔ اچھا لگا لیکن پھر میں حسبِ عادت یکسانیت سے تنگ آگیا اور سوچا کہ اب نئے سوال ہوں۔ اس لیے میں نے سوالات اور سوالات کا انداز بدل دیا ہے۔

کھیل کے قوانین مندرجہ ذیل ہیں ۔
الف۔ کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے۔
ب۔ جس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے۔
ج۔ سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے۔
سوالات چونکہ میں لکھ رہا ہوں، اگر کسی نے مجھے دورانِ کھیل اِس سے منسلک کیا تو تب جوابات لکھوں گا۔ سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ ونڈوز یا لینکس؟
2۔ ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟
3۔ پیپسی یا کوک؟
4۔ سیب یا انگور؟
5۔ کراچی یا لاہور؟
6۔ پاپ میوزک یا راک؟
7۔ چائے یا کافی؟
8۔ عدنان سمیع یا عاطف اسلم؟
9۔ نہاری یا حلیم؟
10۔ لوو میریج یا ارینجڈ؟
11۔ فورمز یا بلاگ؟
12۔ نواز شریف یا آصف زرداری؟
13۔ دوست یا کزنز؟
14۔ کرکٹ یا فٹ بال؟
15۔ پرسکون یا پریشان؟

سوالات مختصر ہیں اس لیے پندرہ ہیں :razz: اگر آپ کو لگے کہ آپ کا مطلوبہ جواب سوال میں موجود نہیں تو کوئی اور جواب بھی لکھ سکتے ہیں۔ مثلا کوک یا پیپسی میں اگر آپ کو کوئی بھی پسند نہیں تو مرنڈا یا فانٹا یا ڈیو، جو پسند ہو لکھ دیں۔

میں درج ذیل ساتھیوں کو ٹیگ کررہا ہوں:
جہانزیب اشرف
ماوراء
قدیر احمد
حجاب
اور
مائی بیسٹ فرینڈ زینب

آؤ ٹیگ ٹیگ کھیلیں

237 views July 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

کچھ ہی عرصہ گزرا ہے کہ اردو بلاگرز نے ٹیگ ٹیگ کھیلنا شروع کیا ہے۔ مجھے سب سے پہلے جہانزیب بھائی نے دعوت دی، اس کے بعد زینب، ابوشامل اور شاہدہ آپی کی طرف سے بلاوا آیا۔ اچھا ہی ہوا کہ میں نے کچھ دن انتظار کرلیا کہ اتنے سارے لوگوں کی دعوت کا ایک ہی پوسٹ میں جواب دینا ممکن ہوسکا۔ :razz: جس جس نے مجھے اس اکھاڑے میں گھسیٹا، ان سب کا بہت شکریہ۔ تو جیسا کہ روش چلی ہے، ہم بھی اسی کے مطابق آؤ ٹیگ ٹیگ کھیلیں۔

کھیل کے قوانین مندرجہ ذیل ہیں ۔
ا) کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے ۔
ب) جِس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے ۔
ج) سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے ۔
سوالات مندرجہ ذیل ہیں ۔

1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟
میں عموما جرابیں استعمال ہی نہیں کرتا۔

2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟
ہاں، پنکھے کی سرسراہٹ۔ :razz:

3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟
صبح کو ناشتے میں ڈبل روٹی اور دہی۔

4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟
سیف علی خان، اکشے کھنہ اور انیل کپور کی بہترین فلم “ریس”۔

5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟
ٹیپو سلطان کا قول کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔

6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟
ٹین اسپورٹس پر ڈبلیو ڈبلیو ای دیکھ رہا تھا۔

7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟
قائد اعظم محمد علی جناح۔

8) غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟
کسی ایسے سے بات کرکے جو میرا ذہن دوسری طرف کرسکے۔

9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟
کیوں بتاؤں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ :wink:

10) آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟
عید الفطر۔۔۔! یہ میرا اتنا پسندیدہ تہوار ہے کہ مجھے اس دنیا میں آنے کے لیے بھی یہی دن دیا گیا۔ :razz:

اس کھیل کا اصول ہے کہ کم از کم پانچ مزید بندوں کو اکھاڑے میں لایا جائے لیکن میں ایک جیسے سوالات کی گردش کرنے سے تنگ ہوں اس لیے میں جلد ہی سوالات بدل کر پانچ بندوں کو دعوت دوں گا۔

میری واپسی

174 views July 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

لیجئے، مابدولت واپس آچکے ہیں۔ :razz:

شکر ہے خدا کا کہ سر پر جو امتحانات کی بلا آن پڑی تھی، اس کا اچھی طرح مقابلہ کیا اور پرچے اچھے خاصے ہوگئے۔ اب سکون ہے۔ اگرچہ اتنا عرصہ دفتر سے بھی چھٹی لی تھی اور باقی سب کام بھی چھوڑے تھے کہ صرف پڑھائی کرنی ہے، لیکن حال یہ تھا کہ گھر میں ہوتا تھا تو پڑھائی کم ہوتی ہے اور دوسرے کام زیادہ۔ اور کچھ نہیں تو ٹی۔وی پر فلم دیکھنے بیٹھ گیا۔ :wink: پھر امی اٹھاتی تھیں کہ اس کو دیکھو، سال بھر پڑھا نہیں ہے اور اب پڑھنے کا وقت ہے تو بھی ٹی۔وی دیکھ رہا ہے۔۔۔ :D لیکن پھر بھی سارے ہی پرچے بہت اچھے ہوئے۔ میں “اے” گریڈ کی توقع کیے بیٹھا ہوں۔ ان شاء اللہ کامیابی ہوگی۔

اسلامک اسٹڈیز کا پرچہ شاید بدھ کو تھا اور اتوار کو تو میں نے کتاب ہی خریدی۔ اس دن مطالعہ کیا۔ سوموار کو دفتر چلا گیا۔ آکر تھوڑا بہت پڑھا۔ پھر اگلے دن بارہ، ایک بجے تک پڑھا تو اس کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا جیسے اب یاد کرنے کو کچھ نہیں بچا۔ لہذا کتاب ایک طرف رکھی اور پھر تفریح شروع :razz: اور اللہ کا شکر ہے کہ اگلے دن پرچہ دینے گیا تو اے ون ہوا۔

باقیوں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں رہی۔ بہرحال! اب میں آہستہ آہستہ فعال ہونے کی کوشش کروں گا۔ اللہ مالک ہے۔

Protected: مائی بیسٹ نیٹ فرینڈ

155 views July 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

This post is password protected. To view it please enter your password below:


پھر ملیں گے

202 views May 21, 2008 | راہبر
No Gravatar

10 جون سے میرے انٹرمیڈیٹ سیکنڈ ائیر آرٹس کے امتحانات شروع ہیں۔ ہمارا شہرہ اگرچہ لائق طالبعلم کی حیثیت سے ہے لیکن حال ہمارا یہ ہے کہ نہیں پڑھا میں نے پورا سال، اب کیا ہوگا میرا حال۔۔۔ :razz: پورے دن کی جاب کے سبب سال بھر تو پڑھنے کا وقت ملتا نہیں، اب یہی کچھ دن ہیں جن میں ہم سوچ رہے ہیں کہ کچھ پڑھ لیا جائے۔ لہذا فی الحال دیگر مصروفیات بشمول اردو محفل اور اپنے بلاگ سے کچھ عرصہ کے لیے غائب ہورہا ہوں۔ ان شاء اللہ پھر ملیں گے۔

دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔

منظرنامہ۔ ایک منفرد بلاگ

284 views May 15, 2008 | راہبر
No Gravatar

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ مجھے ایک موصوف کا انٹرویو لینے کا شوق چرایا بالکل اسی طرح جیسے ان موصوف کو اپنے بارے میں سب کچھ چھپانے کا شوق ہے۔ میں نے باتوں باتوں میں کئی بار ان سے تذکرہ کیا لیکن وہ چونکہ ٹالنے کے فن میں طاق ہیں اس لیے کمال خوبی سے مجھے ٹالتے رہے۔ یہ بات ماوراء تک پہنچی۔ ماوراء ایک اچھی اردو بلاگر ہیں اور گو کہ انہیں لکھتے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے، لیکن اردو بلاگنگ میں یہ کافی معرو ف ہیں۔ اس سے پہلے ان سے میری جان پہچان اردو محفل پر بھی تھی۔ خیر، جب یہ بات ماوراء تک پہنچی تو انہیں جیسے اسی کا انتظار تھا۔ رابطہ ہوا اور پھر ایک خیال پر بات چیت شروع ہوئی کہ ایک ایسا بلاگ بنایا جائے جہاں اردو بلاگرز کے انٹرویو ز لیے جاسکیں۔

کافی وقت تو صرف مختلف خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری ہوتی رہی اور پھر بالاخر گذشتہ ماہ یہ بلاگ “منظرنامہ” کے عنوان سے بنالیا گیا۔ اس سلسلہ میں بدتمیز کی تجاویز کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی کہ کہ ان کے مفید مشوروں اور تنقید نے ہماری کافی مدد کی۔ شکریہ سر!

ہمارا ارادہ ہے کہ وقتا فوقتا مختلف اردو بلاگرز سے انٹرویو کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اس ضمن میں پہلا انٹرویو زکریا اجمل صاحب کا اب منظرنامہ پر موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو بلاگرز کو ایک موضوع دیا جائے گا جس پر تحریر کی تمام بلاگرز کو کھلی دعوت ہوگی۔ وہ تحاریر منظرنامہ کی زینت بنیں گی۔

ہم نے یہاں اردو بلاگرز کی فہرست بھی مرتب کی ہے۔ اگر اس فہرست میں آپ کا یا کسی اور کا بلاگ موجود نہ ہو تو ہمیں آگاہ کریں تاکہ اس فہرست کو مکمل کیا جاسکے۔

اکثر ساتھی کہتے ہیں کہ بس اس کو جاری رکھنا، چھوڑ نہ دینا لیکن کسی نے مجھے کہا ہے کہ جس پروجیکٹ میں ماوراء شامل ہوجائے، سمجھ لو کہ وہ کامیاب ہی ہوجائے گا۔ اس لیے مجھے اطمینان ہے۔ انٹرویو وغیرہ کے سوالات تیار کرنے میں ماوراء ہی کا زیادہ کام ہے۔ ماوراء! تھینکس۔

یہ ابھی آغاز ہے اور ہمارا ارادہ اسے بہت آگے لے جانے کا ہے۔ آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ رابطہ کے لیے ہمارا ای۔میل ایڈریس یہ ہے:
contact us