ٹھوکو شاعر

177 views August 9, 2008 | راہبر
No Gravatar

اے اجنبی! تُو بھی کبھی
آواز دے کہیں سے
میں یہاں ٹکڑوں میں جی رہا ہوں [2]
تُو کہیں ٹکڑوں میں جی رہی ہے

آپ نے یہ گیت سنا ہے؟ نہیں سنا تو سن لیں بلکہ دیکھ لیں۔
ایک وقت تھا جب میرے دماغ (یا دل؟) کے حالات مخدوش تھے۔ تب میں رات گئے تک یہ گانا سنتا رہتا اور اتنےےےےے سارے آنسو بہاتا رہتا۔۔۔ ایک منٹ! کچھ غلط نہ سوچیں، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ مجھے ان دنوں محبت کا عارضہ لاحق رہا ہو۔ :P

خیر، میں نے اپنی کوئی کہانی لے کر نہیں بیٹھنی ہے (اور آپ نے بھی نہیں)۔ مجھے انڈین فلمز میں شامل شاعری کے دلچسپ پہلو اجاگر کرنے ہیں۔ ؛) آپ نے اوپر والا گیت سنا؟ سنا بھی ہوگا تو شاید اس کے بول پر زیادہ غور نہ کیا ہو۔ اس کا پہلا انترہ یوں ہے:

“روز روز ریشم سی ہوا
آتے جاتے کہتی ہے
بتا ریشم سی ہوا
کہتی ہے پتا
وہ جو دودھ دھلی
معصوم کلی
وہ ہے کہاں، کہاں ہے؟۔۔۔۔۔۔”

ذرا اس کی ابتدائی چند سطور پر غور کریں۔ کوئی معنی پلے پڑتے ہیں؟ میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا جواب اثبات میں ہوگا۔۔۔ ہاں، اس کو کچھ یوں ہونا چاہئے تھا:

“روز روز ریشم سی ہوا
آتے جاتے کہتی ہے
بتا! ریشم سی ہوا!
کہتی ہے تو کیا؟”

اگرچہ مکمل ٹھیک اب بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی اصل سے بہتر ہے۔ اچھا اب اس گیت کے دوسرے انترے پر آئیں۔

“تُو تو نہیں ہے لیکن تیری مسکراہٹیں ہیں
چہرہ کہیں نہیں ہے پر تیری آہٹیں ہیں
تُو ہے کہاں، کہاں ہے؟۔۔۔۔”

کچھ نوٹ کیا آپ نے؟ میں تو آج تک سمجھتا آیا تھا کہ چہرے سے مسکراہٹ ہوتی ہے اور “ہونے” سے آہٹ ہوتی ہے۔ لیکن یہاں تو شاعر کہہ رہا ہے کہ تُو نہیں ہے تو تیری مسکراہٹ ہے اور چہرہ نہیں ہے تو تیری آہٹ ہے۔ اس کی محبوبہ کی آہٹ چہرے سے ہوتی ہے کیا؟ پھر مسکراتی جسم کے کس حصہ سے ہے؟ :D

ویسے یہ گانا مجھے بہت بہت زیادہ پسند ہے۔ اس کی موسیقی اے۔آر رحمن نے دی ہے اور ادت نارائن نے گایا ہے۔ دونوں کمبی نیشن بہت کمال کے ہیں۔ شاہ رخ خان کی فلم “دل سے” میں شامل ہے۔

اچھا، آپ کو پتا ہے، ” جانِ من” کسے کہتے ہیں اور اس کے معنی کیا ہیں؟ یہ ہے فارسی کی ترکیب۔ “من” معنی میں یا میری۔۔۔ “جانِ من” یا “جانم” معنی میری جان۔ (کتنا رومانوی ہے نا۔۔۔! سب سے اچھا جملہ یہی لگتا ہے مجھے :P) اب یہ ایک گانا ہے، مجھے کچھ خاص نہیں لگتا لیکن سب بڑی تعریف کرتے ہیں۔ برسات کے دن آئے، ملاقات کے دن آئے۔ سنا ہے؟ نہیں سنا تو سن لیں۔

اس میں ایک جملہ ہے: “تجھ سے ملنے کو تِری جانِ من ترستی ہے”۔ اب ذرا اس میں دیکھیں، لفظ ” جانِ من” فٹ بیٹھتا ہے کیا؟ اگر میں اس جملہ کو اردو میں کہوں تو “تجھ سے ملنے کو تیری میری جان ترستی ہے۔”

اتنی سمجھ تو یار مجھے بھی ہے، یہ وہاں کیا ایسے شاعر بٹھائے ہوئے ہیں؟ میرے کزنز کی زبان میں “ٹھوکو” شاعر۔ حیرت ہے۔۔۔!!!

وقت

195 views August 9, 2008 | راہبر
No Gravatar

کل کا قیدی آج کا شریک چیئرمین اور کل کا ملک بدر آج کا ہیرو۔ ؛) 1947ء میں آزاد ہونے والا ملک ابھی ترقی پذیر اور 1949ء میں آزادی پانے والا ملک ابھرتی ہوئی سپر پاور۔ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔

کبھی لوگ دل کو تسلی دینے کے لیے بھی کیسے کیسے بہانے گھڑتے ہیں۔ کسی اپنے پر برا وقت آئے تو دلاسہ دیں کہ کوئی بات نہیں، برے وقت کے بعد اچھا وقت بھی آتا ہے۔ کسی پرائے/ دشمن پر اچھا وقت آئے تو دل کو بہلاوا دیتے ہیں کہ کوئی نہیں، اچھے وقت کے بعد برا وقت بھی آتا ہے۔ :P مطلب وقت نے بدلنا ضرور ہے۔۔۔ ایسی کی تیسی جو کرنی ہے۔

ہم کوئی احمقانہ حرکت کرڈالیں تو سوال ہوتا ہے، جب عقل بٹنے کا وقت تھا تو کیا گھاس چرنے گئے تھے؟ (کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہے؟ ہم تو نہیں گئے تھے، آپ اپنا کنفرم کریں)۔ برسوں پہلے پڑھا تھا کہ “گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں”۔ سچ کہیں تو جو وقت ہمارا حال ہے، ہمارے ہاتھ تو وہ بھی نہیں آتا۔۔۔ ہاتھ خالی ہی رہ جاتے ہیں۔ (ہاں ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو تنخواہ ضرور ہاتھ آتی ہے مختصر وقت کے لیے)

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یونہی تمام ہوتی ہے
:(

چونکہ ہمارے حکمران بڑے جینئس ہیں، اس لیے وہ نہ صرف ملک و قوم کو اپنے تجربات کی بھینٹ چڑھاتے ہیں، بلکہ اکثر اوقات دوسروں کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھانے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔ وقت آگے پیچھے کرنے کی ایک کوشش گزشتہ حکومت کے دور میں کی گئی تھی، موجودہ حکومت نے بھی کی ہے۔ اسے ڈے لائٹ سیونگ کہتے ہیں۔ یکم جون رات بارہ بجے ملک کی گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کردی گئیں۔

ہمیں کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہر چیز کو ہمارے حکمرانوں سے بیر ہے۔ اسی معاملہ میں دیکھئے، ایک طرف تو لوگ کہ وقت ایک گھنٹہ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تو تاجر برادری نے فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔۔۔ ان کی گھڑیاں پرانے حساب سے چل رہی ہیں۔۔۔ لیکن دوسری طرف۔۔۔ سب سے بڑھ کر سورج نے بھی اس فیصلہ کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔۔۔ نہ وہ ایک گھنٹہ پہلے طلوع ہوتا ہے، نہ ایک گھنٹہ پہلے غروب۔۔۔ :( دن بھی اپنے پہلے والے وقت کے حساب سے چل رہا ہے اور رات بھی۔ بے چاری حکومت۔

ہمیں چونکہ مظلوموں پر ترس آتا ہے اس لیے ہم نے بے چاری حکومت کی بات مان لی ہے اور گھڑیاں حسب حکم ایک گھنٹہ آگے کردیں۔ لیکن لوگ ہیں نا، ضد لگاکر بیٹھے ہیں۔۔۔ اب بھی کسی کے پوچھنے پر اسے وقت بتاؤ تو کہتا ہے، نیا والا یا پرانا والا؟ اب ہر ایک کو لیکچر دو کہ یار یہ نیا پرانا کیا ہوتا ہے؟ وقت وقت ہے۔۔۔

آخر میں ایک شعر بھی۔۔۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

لگا رہ۔۔۔!!

168 views August 9, 2008 | راہبر
No Gravatar

ملکی صورتحال پر شہزاد رائے کا نیا میوزک البم “لے لو قسمت اپنے ہاتھ میں” پچھلے دنوں ہی ریلیز ہوا ہے۔ اس کا ایک گانا ان دنوں چند چینلز سے نشر کیا جارہا ہے، “لگا رہ”۔ بہت دلچسپ گیت اور ملکی صورتحال کو اجاگر کرنے والا۔۔۔ اس کی شوٹنگ، لگتا ہے کراچی ہی میں ہوئی ہے۔ وڈیو مع شاعری حاضر ہے۔

گیت: لگا رہ
البم: لے لو قسمت اپنے ہاتھ میں
گلوکار: شہزاد رائے
ڈائریکٹر: احسن رحیم

“میں جب دس سال کا تھا، میں نے نائن او کلاک نیوز پہ سنا کہ پاکستان تاریخ کے ایک نازک موڑ سے گزر رہا ہے”

“ابووووو”

“میں پھر بیس سال کا ہوا، میں نے پھر نائن او کلاک نیوز پہ سنا کہ پاکستان تاریخ کے ایک نازک موڑ سے گزر رہا ہے”

آس باندھ کر کیوں کھڑا ہے، ٹس سے مس نہیں ہوتا
تو ہے ایک عام آدمی، ارے بس اب نہیں ہوتا

“تو کیا کروں؟ ہمت ہاردوں؟”

نہیں۔۔۔ لگا رہ

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
اڑا رہ۔۔۔ اڑا رہ تُو اڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

بزرگوں نے مجھ سے پوچھا
ملک کیسے یہ چلے گا
بزرگوں کو میں یہ بولااااا
لگے رہو، لگے رہو

بزرگوں نے مجھ سے پوچھا
ملک کیسے یہ چلے گا
بزرگوں کو میں یہ بولااااا
“مجھے فکر یہ نہیں ہے کہ یہ ملک کیسے چلے گا،
مجھے فکر یہ ہے کہ ایسے ہی نہ چلتا رہے”

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ

“یار! ملک میں بڑی ٹینشن ہوگئی ہے”
“کوئی نہیں، کوئی نہیں! سب کچھ اللہ پہ چھوڑ دو”

کچھ نہ کر کچھ نہ کر تُو
سب کچھ اللہ پہ چھوڑ دے
بس اللہ ہی تیرا حافظ ہے

اے بھائی! تُو بھی نازک موڑ بن گیا
ٹس سے مس نہیں ہوتا
تُو ہے ایک عام آدمی
ارے بس۔۔۔۔ اب تو دکھ ہوتا ہے یار

“کوئی نہیں! ابھی بھی بڑے نیک لوگ باقی ہیں اس دنیا میں”

بزرگوں نے مجھ سے پوچھا
نیک کون ہے یہ تو بتا
بزرگوں کو میں یہ بولااااا
“نیک وہ ہے جس کو موقع نہیں ملا”

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

“ہمارے ملک میں امن و امان کی صورتحال بحال ہے۔۔۔۔ آئے اےےے”

او پھر ایک دن تیرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل جائے گی
اور پھر وہ تجھے کہیں گے، کہیں گے تو اڑ رہا ہے ہواؤں میں
تو اڑ رہا ہے ہواؤں میں

“تو کیا ہم سچ مچ ہواؤں میں اڑیں گے؟ ہائیں۔۔۔۔؟”
“تُو نہیں سمجھے گا بے”

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

“اس لڑکے کی شکل شہزاد رائے سے کتنی مل رہی تھی”

“سر! میرا خیال ہے، قوم کو جگانے کا وقت آگیا ہے”
“ان کو مت جگاؤ، یہ کسی ضروری کام سے سورہے ہیں۔۔۔ ہیں۔۔۔۔!!”

بارش کی رم جھم

200 views July 30, 2008 | راہبر
No Gravatar

اور آخرکار کل ابرِ کرم برس ہی گیا۔ آرزو پایہ تکمیل تک پہنچی۔ کل دوپہر دفتر میں ہی امی کا ٹیکسٹ آیا کہ تیز بارش ہورہی ہے حالانکہ ہمارے ہاں تیز دھوپ تھی۔ شام کو جب گھر کے لیے نکلا تب تک بارش کے آثار نہیں تھے۔ راستہ بھی سوکھا پڑا تھا، ناظم آباد سات نمبر کے اوورہیڈ برج سے پہلے تک سب کچھ خشک تھا اور برج کے دوسری جانب بارش ہورہی تھی، سڑکیں گیلی ہی نہیں تھیں، پانی بھی کافی کھڑا ہوا تھا اور جیسے جیسے شمال کی طرف آگے بڑھتے گئے، اندازہ ہوتا گیا کہ یہاں اچھی خاصی بارش ہوچکی ہے۔ پھر پتا چلا کہ شہر کے مرکز میں شام کے وقت بارش برسنا شروع ہوئی تھی۔

گھر پہنچا تو دروازے پر ہی روک لیا گیا۔ پتا چلا کہ خواتین کا میلاد رکھا گیا تھا اور روکنے کی وجہ ہمارے سسرال کا مع ہماری منگیتر صاحبہ کے موجود ہونا تھا۔ حکم ہوا کہ چہرہ ادھر ادھر گھمائے بغیر سیدھا اپنے کمرے کا رخ کرو۔ حکم کی تعمیل کی۔ :razz:

جب تک وہ موصوفہ گھر میں موجود رہیں، ہماری سرگرمیاں انتہائی محدود رہیں لیکن گھر سے باہر نکلنے کا جی بھی نہیں کیا حالانکہ تیز بارش ہورہی تھی اور مجھ سے بارش میں نہائے بِنا رہا نہیں جاتا۔ بس گیلری میں کھڑا رومانوی موسم سے لطف اندوز ہوتا رہا۔۔۔ بے وقوفی ہی کی۔ باہر نکل کر انجوائے کرتا تو ہی بہتر تھا، گھر میں رہنے کا فائدہ کیا ہوا جب ایک جھلک بھی دیکھ نہ سکا۔ :sad:

رات گیارہ/ بارہ بجے تک بارش تھم گئی تھی۔ آج دن میں تو اچھی خاصی دھوپ ہی تھی لیکن ابھی چار بجے کے بعد بادل گِھر آئے ہیں۔ مجھے ابھی کچھ کام ہے ورنہ میرے ذہن میں موسم کی مناسبت سے ایک دو گیت کلبلارہے ہیں۔۔۔ :smile: چلیں، آپ اپنے طور مزہ لیں۔۔۔ میں بعد میں لکھتا ہوں۔

اردو نسخ پنک

227 views July 29, 2008 | راہبر
No Gravatar

نام کچھ عجیب سا لگ رہا ہے کیا؟ خیر میں نے تو ورڈ پریس سانچہ کی مناسبت سے رکھ دیا ہے۔ یہ ایک اور ورڈ پریس سانچہ ہے جسے میں نے اردو تاہوما گرین کی بنیاد پر ہی تیار کیا ہے تاہم اس میں کی جانے والی تبدیلیوں کے باعث یہ پچھلے سے زیادہ اچھا ہے۔ اس کا مرکزی خطِ تحریر نفیس ویب نسخ ہے، اردو اوپن پیڈ انٹیگر ہے، رنگ گلابی ہے اور سائیڈ بار کے بٹنز بہت خوبصورت ہیں۔ اب یہ بنائے کیسے ہیں، ابھی نہیں بتارہا۔ :razz:

اردو نسخ پنک ڈاؤنلوڈ کریں۔

اردو تاہوما گرین

139 views July 29, 2008 | راہبر
No Gravatar

ورڈ پریس کے سانچے اردو میں ڈھالنے کا کام میں نے محب علوی کے کہنے پر شروع کیا تھا اور اس سے بھی پہلے شاکر عزیز کے لکھے اسباق نے اس طرف راغب کیا تھا۔ اب تک کوئی پندرہ سے زائد سانچوں کو اردو قالب میں ڈھال چکا تھا لیکن وہ مجھ سے ضائع ہوگئے۔ :razz: خیر، ابھی مجھے دوبارہ ایک جگہ ویب سائٹ پر نظر آئے ہیں۔۔۔ محفوظ کرتا ہوں ان کو۔
بہرحال، چند سانچوں پر کام کرنے کے بعد میرے دماغ پر یہ بھوت سوار ہوگیا کہ دوسروں کی تھیمز پر کام کرنے کے بجائے خود اپنی تھیم بنانے کی کوشش کی جائے۔ اب سے پہلے میں نے ایک سانچہ “نیوز پورٹل” کو ترتیب دیا تھا لیکن وہ بھی کہیں کھوگیا۔ :wink: میں کچھ زیادہ ہی لاپرواہ ثابت ہوا اس معاملہ میں۔ خیر اب کے احتیاط کررہا ہوں۔
میں نے پچھلے دنوں ایک ویب ٹیمپلیٹ کی بنیاد پر ورڈ پریس کا سانچہ بنایا ہے۔ ویب ٹیمپلیٹ کی مدد بس برائے نام ہی ہے۔ زیادہ تر کام میرا اپنا ہی کیا ہوا ہے۔ ملاحظہ کریں ایک سادہ سا ورڈ پریس اردو سانچہ، “اردو تاہوما گرین”۔

تھیم میں اردو پیڈ انٹیگر ہے، مرکزی خط تاہوما رکھا ہے۔ ابھی میں چونکہ ماہر نہیں ہوا ہوں اس لیے تھیم کی سائیڈ بار میں ویجٹس کی سپورٹ نہیں ہے۔
اردو تاہوما گرین ڈاؤنلوڈ کریں

پانی تو برساؤ

203 views July 26, 2008 | راہبر
No Gravatar

آج کل کراچی کا موسم ایسا ہے کہ یہاں رہنے والوں کی اکثریت بارش کو ترس رہی ہے۔ دن بھر گہرے بادل چھائے رہتے ہیں، موسم رومانوی رہتا ہے لیکن ابر برستا نہیں ہے۔ شب نے اپنے بلاگ پر عاشقانہ موسم کا ذکر کیا تو ہے :razz: پر اس میں ایک گیت شامل ہونے سے رہ گیا ہے۔ اسے میں لکھ دیتا ہوں۔ :smile: کراچی والوں کے دل کی آواز:
مزید پڑھیں »

ویسٹ سائیڈ اسٹوری

207 views July 25, 2008 | راہبر
No Gravatar

گزشتہ اتوار کو شام میں ٹی۔وی کھولے چینل گردی کے دوران انگریزی فلمی ٹی وی چینل MGM پر چلتی ایک مووی کچھ دلچسپ لگی تو دیکھنے بیٹھ گیا۔ نام وغیرہ تو پتا ہی نہیں چلا کہ فلم کافی گزر چکی تھی۔ ایک گیت پسند آیا تو اس کے کچھ جملے میں نے جلدی جلدی اپنے سیل فون میں لکھ کر محفوظ کرلیے کہ نیٹ پر سرچ کروں گا۔ ہیروئن کا نام تھا ماریہ اور اسی پر وہ گیت تھا کہ I just met a girl named Maria۔ اب جو میں نے گوگل کیا تو اتنے سارے آرٹیکلز اور بلاگز سامنے آگئے۔ ایسا لگتا تھا جیسے آدھی دنیا ماریہ سے ملی ہو اور اس پر کچھ لکھ ڈالا ہو کہ میں ایک ایسی لڑکی سے ملا جس کا نام ماریہ تھا۔ خیر، ایک جگہ لیرکس ملیں تو فلم کا نام پتا چلا۔ “West Side Story“۔
مزید پڑھیں »

قائد کو سلیوٹ

187 views July 18, 2008 | راہبر
No Gravatar

میرا دماغ بھی عجیب ہے۔۔۔ اچھوتی اچھوتی باتوں کا سوچتا ہے اور پھر اس کے بعد اپنے ہی آپ کو چیلنج کہ میں یہ کرسکتا ہوں یا نہیں؟ “نہیں” کیسے کہوں، جواب “ہاں” ہی میں ہوتا ہے اور پھر ثبوت۔۔۔!!!

میرے دفتر سے کچھ فاصلہ ہی پر مزارِ قائد ہے۔۔۔ عظیم رہنما، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تربت۔ گھر سے دفتر آنے اور دفتر سے گھر جانے کے دوران عموما اس کے سامنے ہی سے گزرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے دماغ پر ایک خیال سوار ہوگیا کہ میں نے گزرتے ہوئے قائد کو سلیوٹ کرنا ہے۔۔۔ اب آپ خود سوچیں، عین سڑک پر گزرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا کوئی بندہ سلیوٹ مارتا کیسا لگے گا۔۔۔؟ کافی دن ٹالتا رہا۔۔۔ اب نہ کروں تو اندر سے آواز آتی، “اچھا تو قائد سے تمہاری محبت ایسی ہے کہ لوگوں کا خیال کرکے تم ایک سلیوٹ نہیں کرسکتے۔” کئی ایک بار سر تک ہاتھ اٹھایا بھی مگر۔۔۔۔ :razz:

لیکن کل میں کامیاب ہوگیا۔۔۔ رات کو ابو کے ساتھ جارہا تھا بائیک پر۔۔۔ جیسے ہی مزارِ قائد آیا، وہی خیال پھر سے کود پڑا اور میں نے اپنے قائد کو محبت بھرا سلام کیا۔۔۔۔ :smile: اب سکون ہے۔

ہمارا معاشرہ اور وقت کی ضرورت

187 views July 18, 2008 | راہبر
No Gravatar

اردو محفل پر ایک موضوع پاکستانی معاشرہ کی تعریف کیجئے پر گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے میں نے بھی اپنے مبارک خیالات کا اظہار فرمایا۔ :razz: بیاض کے قارئین کے استفادے کے لیے پیش کرتا ہوں۔

ہر معاشرہ اور قوم میں خوبیاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں۔ اب اگر ہماری خامیاں بڑھ گئی ہیں تو اب کیا ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم دور بیٹھ کر تنقید کرتے رہیں؟ ایک لوگ وہ ہوتے ہیں جو صرف تنقید کرنے تک محدود رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو تنقید کے بعد ایک قدم آگے بڑھ کر اصلاح کا فرض بھی نبھاتے ہیں۔ ہاں، ہمارے معاشرہ کی خامیاں کافی بڑھ گئی ہیں۔

یقینا
۔۔۔۔۔ ہم لوگ فرقہ واریت، لسانی اور علاقائی تعصبات میں گھرے ہیں،
۔۔۔۔۔ ہم لوگ غیر قانونی اور غیر اخلاقی کاموں میں پھنسے ہیں،
۔۔۔۔۔ ہم اخلاقی، معاشرتی اور سماجی لحاظ سے پستی کا شکار ہیں،

لیکن
۔۔۔۔۔ یہی معاشرہ ہے جو ہمدردی کا احساس بھی رکھتا ہے،
۔۔۔۔۔ یہی قوم ہے جس میں ایک دوسرے کی پرواہ کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں،
۔۔۔۔۔ یہی لوگ ہیں جن کی اکثریت امن پسند ہے اور “جیو اور جینے دو” کے اصول پر جینا چاہتی ہے،

پھر
۔۔۔۔۔ اس معاشرہ کے لوگ متشدد کیوں ہیں؟
۔۔۔۔۔ یہ معاشرہ بے حس کیوں ہوتا جارہا ہے؟
۔۔۔۔۔ ہمارا معاشرہ بگاڑ کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے؟

اس لیے کہ
۔۔۔۔۔ اسلام کے نام پر کی جانے والی تربیت یہاں کے لوگوں کو گمراہ اور انتہاپسند بنارہی ہے،
۔۔۔۔۔ قانونی حق کا حصول دشوار اور غیرقانونی کام آسان ہوگیا ہے،
۔۔۔۔۔ یہاں یہ اصول رواج پارہا ہے کہ مجھے کھانے کو مل گیا تو سمجھو سب کو کھانے کو مل گیا اور مجھے نہیں ملتا تو تجھے کیوں ملا؟

اس معاشرہ کی ضرورت
یہ صرف تین، تین نکات ہی نہیں۔۔۔ اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔ یہ صرف مسئلہ کی طرف اشارہ کے لیے ہیں۔ خرم بھائی سوچتے ہیں کہ پاکستان آکر اس ملک کے لیے کچھ کرنا چاہیں تو کچھ نتیجہ نکلے گا بھی یا نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق؟ صحیح سوچتے ہیں بالکل۔ کچھ لوگ ایسے بھی سوچتے ہیں کہ یہ قوم سدھرنے والی نہیں، بھاڑ میں جائے، اپنا جیو۔ شاید وہ بھی اپنی جگہ صحیح سوچتے ہوں۔ لیکن اس قوم کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے۔۔۔ اچھے راہنماؤں کی۔۔۔ یقین جانئے، اس قوم کو، اس معاشرہ کو اگر اچھے راہنما اور مصلح میسر آجائیں نا تو ہم جو دور بیٹھ کر انگلیاں اٹھاتے ہیں، کل کو خوبیاں گنوائیں گے ان شاء اللہ۔

تنقید آسان، اصلاح مشکل
آج اگر میں اٹھ کر یہ کہتا ہوں کہ میں اس قوم کی اصلاح کے لیے آواز اٹھاتا ہوں، حق بات کہوں گا تو جانتے ہیں، یہاں ایک بندہ شاید مری مری آواز میں میرا حوصلہ بڑھاتا ہے اور نو بندے یہ کہتے ہیں کہ پاگل ہوا ہے۔ لیکن اگر میں اس معاشرہ کی کسی خامی پر تنقید کے لیے ایک جملہ کہوں گا نا تو جواب میں دس آوازیں نہ صرف میری تائید کریں گی بلکہ تنقید کی گولہ باری شروع ہوجائے گی۔ یعنی ہمیں گالیاں دینے کو بٹھادو، ڈنڈے مارنے کو بٹھادو تو یہ کام اچھا ہے لیکن ہم نے نہ سدھرنا ہے نہ کسی کو سدھرنے دینا ہے۔

ایک بڑا ماہر مصور تھا۔ اس نے ایک شاندار تصویر بنائی اور سرعام لٹکادی کہ اس کی غلطیاں بتائیں۔ بس، پھر تو لوگوں نے ڈھیر لگادیا۔۔۔ ہر جگہ نشانات کہ یہاں غلطی، یہاں غلطی۔۔۔ اس مصور نے ایک اور تصویر بنائی اور لکھا کہ اس میں کوئی غلطی ہو تو اصلاح کریں۔۔۔ کسی ایک نے بھی نہ چھیڑا۔

سبق؟؟؟ ہم اس معاشرہ کو گند بھی کہتے ہیں، کیچڑ بھی کہتے ہیں۔۔۔ تو صفائی کرنے کے لیے کیا آسمان سے کوئی آئے گا؟ ہم ہی نے کرنی ہے نا۔۔۔ یہ نہ دیکھیں کہ ابھی آپ کا ساتھ کون دے رہا ہے۔۔۔ پہلا قدم اٹھائیں۔۔۔ ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
لیکن اپنے آپ کو اس قوم اور معاشرہ کا ہمدرد کہنے والو۔۔۔ ذرا آگے آؤ تو سہی۔۔۔ اس قوم کو اپنے دل کی آواز سناؤ تو سہی۔۔۔ یہ لوگ جو لٹیروں کے بڑے بڑے جرائم تین سالوں میں بھول بھال کر ان کے نعرے مارنے لگتے ہیں، کیا تمہیں نہیں اپنائیں گے؟ بالکل ابتداء سے شروع کرتے ہیں۔۔۔ اس معاشرہ کی خامیوں، غلطیوں اور بگاڑ کی اصلاح کا عمل۔۔۔ یہ طے کیے بنا کہ آگے کیا ہونا ہے یا انجام کیا ہوگا؟ صرف پہلے قدم پر توجہ رکھیں۔۔۔ اور پہلے قدم کے بعد اگلے قدم کی طرف۔۔۔ بھول جائیں کہ دس قدم کے بعد کیا ہونا ہے۔۔۔ کیونکہ دس قدم کے بعد والی باتیں ابھی سے سوچیں گے نا تو بس سوچتے ہی رہیں گے۔۔۔ بہت سوچ چکے ہیں۔۔۔ بہت سوچکے ہیں۔۔۔ بہت کھوچکے ہیں۔۔۔ خواب کافی دیکھ لیے۔۔۔۔
اٹھ! باندھ کمر، کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

فقط
ایک محب الوطن