No Gravatar

کچھ عرصہ پہلے تک جب انٹرنیٹ کی دنیا سے میری کچھ خاص واقفیت نہ تھی، تب بلاگز کا تذکرہ سنتا تھا تو کچھ پلے نہ پڑتا تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ جب بلاگز کے بارے میں جانا تو ایک جوش اٹھا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہ کام کر رہی ہے تو بھلا ہم کیوں پیچھے رہیں؟ ایک مدت سے میرا معمول رہا ہے کہ روزانہ یا ہر ایک سے دو دن بعد یا جیسے جیسے مجھے موقع ملتا ہے، میں روزنامچہ (ڈیلی ڈائری) میں روزمرہ کے واقعات قلم بند کرتا رہتا ہوں۔ ہاں! جوں جوں میری زندگی مصروف ہوتی گئی، روزنامچہ لکھنے میں ناغہ آتا گیا اور گزشتہ ایک ماہ سے تو بالکل لکھنا چھوڑ ڈالا ہے۔
بہر حال! گفتگو تھی بلاگز سے متعلق۔ سو جب اس سے تھوڑی بہت واقفیت ہوئی تو اس کام میں ہاتھ ڈالنے کا عزم مصمم کر لیا۔ میری یہ عادت (چاہیں تو بیماری کہہ لیں) صرف بلاگ لکھنے کی حد تک نہیں۔۔۔ ہر نیا فن، نئی چیز مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ آگے چل کر بھلے اسے نہ اپناؤں لیکن اس کی بنیادی معلومات جاننا اور کچھ چیدہ چیدہ باتوں کا علم رکھنے کا مجھے جنون ہے۔ لہذا بلاگ کو چھوڑ دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر یہ بھی کہ سیاست، بین الاقوامی اور قومی صورتحال، فن، معاشرہ، سماج وغیرہ وغیرہ، ان سب میں مجھے بے حد دلچسپی ہے، اپنی رائے، اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانا، دوسروں کے خیالات جاننا، مختلف موضوعات پر بحث کرنا، معلومات کا تبادلہ کرنا، یوں سمجھئے کہ میری زندگی کے تمام رنگ اسی سے وابستہ ہیں۔۔۔ اس لئے بلاگز کی طرف کشش اور بھی زیادہ محسوس ہوئی۔
اب جبکہ بلاگ لکھنے بیٹھا تو دو تین موضوعات پر لکھا، کچھ برا نہ لکھا تھا، لیکن نجانے کیوں اسے کچھ دن بعد حذف کردیا۔ سوچا کہ کچھ ایسا لکھنے سے ابتداء کی جائے کہ کسی کو بوریت محسوس نہ ہو۔ کوئی موضوع سوچتے سوچتے یہ سب کچھ لکھ بیٹھا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ جتنے لوگ اسے پڑھیں گے، ان میں سے اکثریت بوریت محسوس کرے گی لیکن اس میں مجھے اپنا قصور نظر نہیں آتا۔۔۔ (شاید میرا قصور ہے بھی نہیں)۔
ایک زمانہ سے میرا معمول یہ ہے کہ اگر محفل میں بیٹھا ہوں تو اکثر کوشش یہی کرتا ہوں کہ از خود کوئی بات شروع نہ کروں، نجانے سامنے والوں کو میرا منتخب کردہ موضوع پسند آئے یا نہیں۔۔۔ کیونکہ میں اگر کوئی بات کروں اور سامنے والے کے چہرے پر بیزاری کا تاثر نظر آئے تو مجھے نہ صرف غصہ آتا ہے بلکہ شرمندگی کے احساس کے ساتھ ساتھ احساس کمتری (یا شاید مناسب ہو اگر میں کہوں کہ احساس محرومی) ہوتا ہے۔۔۔ مجھے یہ چیز بالکل پسند نہیں۔۔۔ میں اسے روح کا زخم کہتا ہوں۔ اس زخم کو سہنے سے بہتر میں یہی سمجھتا ہوں کہ از خود کچھ نہ کہوں۔
لوگوں کے دل کا حال اگر آپ ان کے چہروں سے جاننے لگیں تو یہ ایک حد تک اچھا بھی ہے لیکن کچھ مواقع پر اس کے سبب ہونے والی کوفت کا اندازہ ہر ایرے غیرے کے لئے ممکن نہیں۔۔۔