میری سوچ اور ہم خیال

93 views September 28, 2007 | راہبر
No Gravatar

اگرچہ میری عمر صرف 20 سال ہی ہے لیکن میں نے اپنے بچپن سے زندگی کا سامنا کچھ اس طرح کیا ہے کہ لوگوں نے ہمیشہ مجھے اپنی عمر سے زائد سمجھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صورت و جسم بھی ایسا دیا کہ اپنی عمر سے بڑا ہی لگتا ہوں۔ سات، آٹھ سال کا تھا تو میرے ساتھ کے طالبعلم مجھے 12 سال سے کم کا ماننے سے انکار کرتے تھے، اب 20 سال کا ہوں تو دیکھنے والے میری عمر 22، 23 سال بتاتے ہیں۔۔۔ :sad:
کتب و اخبارات کے مسلسل مطالعہ نے میرے دماغ کی عمر بھی کچھ بڑھا دی۔ میں اپنے خیالات کا اظہار جب اپنے خاندان یا دوستوں میں کرتا ہوں تو مجھے کبھی دقیانوسی یا کبھی بے وقوف سمجھ کر زیادہ توجہ نہیں کرائی جاتی۔ خود میرا اپنا چھوٹا بھائی اکثر میرا مذاق اڑاتا ہے لیکن سوچوں پر کس کا پہرہ ہے؟ میں نے بہت کچھ سوچا ہے لیکن اکثر اپنے خیالات کا اظہار اس لیے نہیں کیا کہ کوئی ان کو سمجھنے والا نہیں ملا تھا۔
لیکن اب لگتا ہے کہ مجھے اپنی جیسی سوچ رکھنے والے مل گئے ہیں اگرچہ ان کے بیچ میری حیثیت کچھ خاص نہیں اور میں ان میں سب سے کم عمر ہوں لیکن پھر بھی۔۔۔ ہم مزاج یا ہم خیال لوگ مل جائیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔
تفصیل جاننا چاہیں تو اردو محفل پر جناب محسن حجازی صاحب کی جانب سے شروع کی جانے والی گفتگو بعنوان میری فکری تنہائی کا سدباب کیجیےملاحظہ کرلیں۔ نوازش :razz:

سیاسی کردار کی ضرورت

113 views September 11, 2007 | راہبر
No Gravatar

ملک میں جس قدر تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور معاشرہ بگاڑ کی طرف بڑھ رہا ہے، میں سنجیدگی سے دو باتیں سوچنے لگا ہوں۔۔۔ ایک انقلاب اور دوسرا ہمارا کردار۔ انقلاب سے زیادہ اہم ہمارا کردار ہے کیونکہ یہ کردار ہی انقلاب لانے کا سبب بنے گا۔
نواز شریف کو پرویزی حکومت نے واپس بھیج دیا انتہائی ڈھٹائی ہٹ دھرمی اور دل میں چھپے بے پناہ خوف کے ساتھ۔۔۔ لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ اس وقت جبکہ ہر سیاسی جماعت کسی نہ کسی سطح پر انتہائی کرپشن اور مختلف جرائم میں ملوث رہی ہے، کیا اس وقت ایک نئی، صاف ستھری سیاسی جماعت قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا اس وقت، نوجوانوں کو سیاسی طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرنی نہیں چاہئے؟ کیا ہمیں صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تبصرے کرنے چاہئیں۔۔۔؟
یہ میرا آپ سے سوال ہے۔۔۔
کیونکہ میں یہ سوال اپنے آپ سے پوچھ چکا ہوں اور اس کا جواب بظاہر کافی بے وقوفانہ سا ہے لیکن ہے یہی کہ اپنا سیاسی کردار کسی نہ کسی طرح ضرور ادا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ!

یومِ دفاعِ پاکستان

60 views September 6, 2007 | راہبر
No Gravatar

آج یومِ دفاعِ پاکستان ہے۔
میں چند لمحات کے لیے تمام موجودہ حقائق سے منہ موڑ کر پاک فوج کو اس کی جرات و بہادری پر خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اے جانباز سپاہیو! مجھے آپ پر فخر ہے۔
اے خدا! میرے ملک کی حفاظت کرنا۔ آمین

مولوی؟

135 views August 31, 2007 | راہبر
No Gravatar

وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے رجحانات بدلتے ہیں۔ آج کل ہمارے ہاں رجحان ہے، دین میں نئی نئی اختراعات پیدا کرنے کا اور مولوی کو بدنام کرنے کا۔ ہر ایک بہتی گنگا میں اپنا ہاتھ دھو رہا ہے۔ ایسے میں، اگرچہ کافی دنوں سے میرے ذہن میں کچھ نکات تھے جو کہ مولوی حضرات پر مناسب اعتراضات کی صورت تھے لیکن بہرحال میں اس گفتگو کو اس لیے مؤخر کررہا ہوں کہ مجھے دوسروں کے ساتھ گنگا میں نہانے کا کوئی شوق نہیں۔ ;)
کئی بلاگرز اسی مسئلہ میں الجھے ہیں، محفل پر دیکھتا ہوں تو وہاں بھی یہی بحث نظر آتی ہے۔ کیا ہے یہ سب؟ ہم قرآن کو خود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور اگر کوئی دوسرا شخص قرآن سمجھ کر ہمیں سمجھاتا ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ اس کی کیوں سنیں؟ ہم تو خود پڑھیں گے۔۔۔ خود سمجھیں گے۔۔۔!
اچھائی، برائی ہر جگہ ہوتی ہے۔۔۔ یہ قاعدہ تو شروع ہی سے رہا ہے۔ اب یہ کیسا انصاف ہے کہ چند نا اہل لوگوں کے سبب آپ تمام مولوی حضرات کو یک لخت جاہل، بے کار، گنوار، اور دیگر احمقانہ خطابات سے نواز دیں۔۔۔! اگر آپ کو کوئی اچھا مولوی نہیں ملا تو یہ آپ کی قسمت، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تمام اچھے مولوی حضرات ختم ہوچکے ہیں؟
اس طرح کی مسلسل تنقید سے کیا حاصل ہوگا؟ فرض کریں کہ سب مل کر ایک محاذ قائم کردیتے ہیں مولویت کے خلاف، صحیح؟ مولوی کو سب سے نچلا درجہ دیتے ہیں۔۔۔ اس کے بات سننا چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔ اس کو چھوت قرار دیتے ہیں۔۔۔ اس کے بعد؟؟؟ سب مسئلہ حل ہوجائے گا؟ ہاں آپ کو اس طرح مادر پدر آزادی مل جائے گی۔۔۔!
قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے کہ تم مسلمانوں میں ایک جماعت ہونی چاہئے جو نیکی کی طرف بلائے اور برائی سے دور کرے۔۔۔ آج کے دور میں مولوی حضرات کے علاوہ دوسری کون سی جماعت ہے ایسی جو خدا کا یہ حکم بجا لائے؟؟؟
اور سب باتیں چھوڑیں۔۔۔ گولی ماریں ہر بحث کو۔۔۔ بس اتنا عرض کریں کہ اگر تمام مولوی اتنے ہی بے کار ہیں، اتنے ہی جاہل، گنوار ہیں تو ازراہِ کرم آپ ہی اس شعبہ میں آجایئے۔۔۔ آپ کو اگر اس مولوی کی سمجھ نہیں آتی تو آپ پانچ وقت کی نماز پڑھانا شروع کردیں۔ آپ مدرسہ میں بچوں کو قرآن کی اور اسلام کی تعلیم دینا شروع کردیں۔۔۔ اگر آپ یہ کام کرتے ہیں تو سبحان اللہ، بارک اللہ اور اگر نہیں کرتے تو چپ کرکے بیٹھئے اور جو لوگ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا نیک فریضہ انجام دے رہے ہیں، ان کو یہ کام کرنے دیجئے۔

قائد تجھے سلام

103 views August 20, 2007 | راہبر
No Gravatar

کچھ دن سے پاکستانی اخبارات میں ایک اشتہار بعنوان “قائد تجھے میرا سلام” شائع ہورہا ہے جو کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے ہے۔ اشتہار میں لکھا ہے کہ تمام سچے پاکستانی اپنے قائد کے نام ایک خط تحریر کریں اور شکریہ ادا کریں ان تمام نعمتوں کا جو ہمیں آزادی کے ساتھ پاکستان سے ملیں۔۔۔ اور اس خط کو اشتہار میں درج پتہ پر بھیج دیں جہاں ادبی شخصیات کی کمیٹی سب سے اچھے خط کا انتخاب کرے گی۔ انعامات میں پہلا انعام Honda VTi کار، دوسرا انعام دو لاکھ روپے، تیسرا انعام ایک لاکھ روپے اور سینکڑوں قیمتی انعامات شامل ہیں۔ اِدھر گھر کے حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ ماں اور باقی بھائی، بہنیں مجھ سے اور ابو سے ضد کررہے ہیں کہ ہم دونوں ایک ایک خط لکھ کر پوسٹ کردیں، شاید اسی طرح کچھ مل جائے۔ :(
لکھنے کے معاملے میں ابو کی اور میری صلاحیتیں بلاشبہ اچھی ہیں لیکن ہم دونوں ہی اس سلسلے میں کچھ سست اور کاہل واقع ہوئے ہیں۔ پھر یہ کہ گذشتہ دنوں سے مصروفیات اس قدر ہیں کہ میں اب تک سوچ ہی نہیں سکا کہ خط لکھنے بیٹھوں تو کیا لکھوں؟ میں لکھنے کا کام ایسے نہیں کرتا کہ بس فوراً قلم لے کر بیٹھ جاؤں۔۔۔ میری عادت ہے کہ پہلے بہت سوچ بچار کرتا ہوں، ایک ایک جملہ کا انتخاب کرتا ہوں، اس کے بعد کچھ لکھتا ہوں۔
ویسے میں سوچتا ہوں کہ لکھوں تو کیا لکھوں اپنے پیارے قائد کو؟ بعد از سلام یہ لکھوں کہ قائد اعظم! میں آپ کے پاکستان کا شہری ہوں۔۔۔ لیکن یہ پاکستان اب آپ کا والا نہیں رہا۔۔۔ یہ پاکستان ہرگز ویسا نہیں ہے، جیسا آپ نے سوچا تھا۔۔۔ جیسا آپ نے بنانا چاہا تھا۔۔۔ اور یہ آپ کی پاکستانی قوم ہے نا۔۔۔ یہ اب تک اس بات پر بحث کرتی ہے کہ آپ نے پاکستان بنایا تو آخر کس مقصد کے لیے بنایا؟ آپ سیکولر پاکستان چاہتے تھے یا مذہبی؟ آپ کے پیشِ نظر مسلمانوں کی معاشی ترقی پیشِ نظر تھی یا مذہبی آزادی؟ میرے پیارے قائد! آپ کو پتا ہے، آپ کے دیس میں بسنے والے مسلمانوں میں سے بھی کچھ آپ کو کافر کہتے ہیں۔۔۔ ہماری قوم نے آپ کا مزار تو بنادیا لیکن اس کا تقدس اور احترام بھول گئی ہے۔۔۔ باغِ جناح میں تو لوگوں کا اژدھام ہوتا ہے۔۔۔ آپ تو روز ہی دیکھتے ہوں گے کہ آپ کی قوم کہاں پہنچ گئی ہے۔۔۔ اور ہاں! آپ اپنے مزار کے ارد گرد ہریالی اور اچھی سڑکیں دیکھ کر خوش نہ ہوں۔۔۔ آپ کا پورا شہر ہم نے ترقی کی خاطر کھود ڈالا ہے۔۔۔ جناح صاحب! کہاں کہاں کا حال بتاؤں آپ کو؟ دنیا والے ہمیں دہشت گرد سمجھتے ہیں۔۔۔ اور کشمیر کا معاملہ۔۔۔ وہ تو سمجھیں کہ بس ہم دشمن کو تحفتاً پیش کرچکے ہیں۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ ہماری قوم کی غلطی ہے۔۔۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں کی غلطی ہے۔۔۔ لیکن نہیں قائد! یہ آپ کی وجہ سے بھی ہے۔۔۔ کس قوم کے لیے بنایا تھا آپ نے پاکستان؟؟؟ کبھی سوچا تھا؟ مسلمانوں کے لیے؟؟ مگر یہاں تو کوئی مسلمان ہی نہیں۔۔۔ یہاں سندھی ہے، پنجابی ہے، پٹھان ہے، بلوچی ہے، مہاجر ہے، بہاری ہے۔۔۔ تو آپ نے ان میں سے کس کے لیے بنایا تھا یہ وطن؟؟؟ اور پھر کیوں چلے گئے اتنی جلدی اس دیس کو چھوڑ کر؟ کیوں نہیں رکھا تھا اپنی صحت کا خیال؟ اگر آپ نے اپنی صحت کا خیال رکھا ہوتا تو شاید آپ کچھ عرصہ اور جی لیتے۔۔۔ شاید آپ پاکستان کو مستحکم کرسکتے۔۔۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ قائد! ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔ اب ہمیں آپ سے، آپ کے خیالات سے اور آپ کے دیس سے کچھ مطلب نہیں۔۔۔ ان سب کی کوئی پروا نہیں ہے۔۔۔ پلیززز آپ اگر پاکستان کو دیکھنے آتے ہوں تو اب آنا بند کردیں۔۔۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ کچھ دن میں پاکستان کی صورتحال شاید ایسی ہوجائے گی کہ اسے دیکھ کر آپ ایک بار پھر مرجائیں گے۔۔۔ اور اگر آپ کے دل میں اس وطن کو ٹھیک کرنے کی خواہش ہو تو پلیززز اللہ تعالیٰ سے میری سفارش کیجئے گا کہ وہ مجھے آپ جیسی سیاسی بصیرت اور صلاحیت بخش دے۔ میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔۔۔ وعدہ! فقط۔۔۔ ایک پاکستانی۔۔۔

[اگر میں نے یہ خط لکھ کر بھیج دیا تو بے فائدہ ہی رہے گا۔۔۔ ادیبوں کی کمیٹی اس میں چھپے جذبات کے بجائے ادب تلاش کرے گی جو اسے نہیں ملے گا۔۔۔ اس صورت میں، مجھے ادباء کمیٹی کوئی انعام نہیں دے سکے گی۔۔۔ ہاں شاید میرے قائد اعظم میرے پاس آکر کوئی انعام دے جائیں۔۔۔]

انقلاب

136 views August 7, 2007 | راہبر
No Gravatar

ہمارے ملک کی بگڑی صورتحال صرف سیاسی منظرنامے تک محدود نہیں۔ معاشرتی طور پر بھی ہماری قوم اس وقت بے حد پستی کا شکار ہے۔ مختلف عوامل کے سبب برائیاں لوگوں کے خون میں سرایت کرگئی ہیں اور مسلسل برائیوں میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ یہ سب ٹھیک کس طرح ہوسکتا ہے؟ کون کرسکتا ہے اسے ٹھیک؟ ہمارے مسائل کا حل کیا ہوسکتا ہے؟ دینی، سیاسی، سماجی، معاشرتی، ثقافتی، غرض ہر لحاظ سے ہمیں ہزار مشکلات کا سامنا ہے۔ دینی مسائل کی بات کی جائے تو دین سے تعلق رکھنے والے افراد کا حال دیکھ کر لوگوں کا ان پر سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے، سیاسی منظرنامہ دیکھا جائے تو سیاسی گروہ عوام کو مایوس کرچکے ہیں، سماجی اور معاشرتی مسائل کے نام پر تو جیسے کچھ کہنے کو بچا ہی نہیں ہے، ثقافتی ورثہ کا میڈیا نے وہ حال کیا ہے کہ اللہ معافی۔ پھر یہ سب کس طرح ٹھیک ہونا ہے؟ اس کا میرے ذہن میں ایک ہی جواب آتا ہے، وہ ہے: انقلاب
میرے خیال میں ایک انقلاب ہے کہ ہماری قوم کو جس کی اشد ضرورت ہے۔ انقلاب ایسا جو ہماری قوم میں نئی روح پھونک دے۔ مجموعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک یہی بات ہے جو واضح نظر آتی ہے۔ ہماری قوم تیزی سے انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے۔ گذشتہ روز ابو اور ماموں سے اس موضوع پر گفتگو ہورہی تھی تو ماموں نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستان ایک انقلاب کی طرف جارہا ہے اور یہ انقلاب جتنی جلدی آجائے تو بہتر ہے کہ خون خرابا کم ہوگا۔
لیکن یہ انقلاب کس طرح آسکتا ہے؟ کون لائے گا انقلاب؟ موجودہ رہنماؤں سے لوگ نہ تو پُرامید ہیں اور نہ ہی ان پر متفق۔ تازہ ترین صورتحال میں تو لگتا ہے کہ شاید عدلیہ اس ملک میں انقلاب لے آئے کہ اس وقت وکلاء برادری انتہائی پُر جوش اور پُر عزم ہے۔ تاہم انقلاب لانے والوں کے بارے میں، میں نے بہت پہلے اپنے ابو سے بات کی تھی۔ ابو کا کہنا تھا کہ انقلاب فوج کا نچلا درجہ لاسکتا ہے کہ حالیہ صورتحال میں فوج میں بغاوت ہوجانا بعید از امکان نہیں۔ فوج کا نچلا درجہ اگر اٹھ کھڑا ہو تو انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ انقلاب عوام کی طرف سے ہوگا، پڑھا لکھا طبقہ منظم ہوکر اٹھ کھڑا ہوگا تو انقلاب کا آغاز ہوجائے گا۔غالبا علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے فرمایا تھا کہ:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود آپ اپنی حالت بدلنے کا
میں سمجھتا ہوں کہ ہماری قوم میں شعور بیدار ہوچکا ہے۔ میں انٹرنیٹ پر کئی پاکستانی بلاگز پڑھتا ہوں۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی اور سکون ہوتا ہے کہ لوگوں میں تبدیلی آرہی ہے۔۔۔ لوگ سوچ رہے ہیں کہ ان کے ارد گرد کیا ہورہا ہے۔۔۔ اور جو نہیں سوچ رہے، وہ بھی سوچیں گے۔۔۔ بس ان کا ذہن اس طرف لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی بلاگرز کی تحریروں سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ بیداری کی لہر دوڑنے کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ابھی تک صرف باتوں اور خیالات تک ہی محدود ہیں لیکن یہی پہلا قدم ہے۔ اب اگر واقعی ہمیں اپنے وطن سے محبت ہے اور ہم اس کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی باتوں اور خیالات کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ میں پُرامید ہوں کہ میرے بھائی بلاگرز مجھے مایوس نہیں کریں گے۔۔۔ خدارا! عملی پہلو کی طرف توجہ فرمائیے۔ میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ ہمارے ہاں ایک یہ روایت پڑگئی ہے کہ دوسرا یہ کام نہیں کررہا تو مجھ اکیلے کے کرنے سے کیا ہوگا؟ اس لیے اگر چند افراد مل کر کام کرنا شروع کریں تو ان شاء اللہ ہمارا یہ عمل ملک میں اچھی تبدیلیوں کی طرف پہلا قدم ہوگا۔

بحیثیت قوم ہمارا کردار اور ضروریات

123 views August 4, 2007 | راہبر
No Gravatar

ہم پاکستانیوں نے اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کا اچھا طریقہ ڈھونڈا ہے۔ پہلی غلطی ہم یہ کرتے ہیں کہ فرائض پورے نہیں کرتے اور دوسری غلطی یہ کہ اپنے فرائض کو فرائض ماننے ہی سے انکار کردیتے ہیں۔ صرف حقوق طلب کرنا یاد رکھتے ہیں۔ ملک میں پھیلی برائیوں کا الزام ایک دوسرے پر ڈالنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ بن گیا ہے۔ فلاں برائی ہے تو حکمران کی وجہ سے، فلاں جرم ہے تو میڈیا کی وجہ سے، فلاں غلط کام ہے تو مغرب کی وجہ سے۔۔۔ لیکن ہماری وجہ سے کیا ہے؟؟؟ کبھی کوئی یہ نہیں سوچتا کہ حکمران ہے جب ہی تو حکمران کی وجہ سے کچھ ہے، میڈیا ہے تو تب ہی میڈیا کی وجہ سے کچھ ہے، مغرب کا اپنا وجود ہے جب ہی تو اس کی وجہ سے کچھ ہے، لیکن ہم بھی تو ہیں۔۔۔ ہماری وجہ سے کچھ کیوں نہیں ہے؟
ہر ایک اپنے کام میں، اپنے فرض میں کوتاہی کررہا ہے مگر ماننے سے انکاری ہے۔ ہماری اعلیٰ درسگاہوں کے طلباء کا خواب کیا ہے؟ ڈاکٹر بننا، انجینئر بننا، بزنس کرنا، بینکنگ وغیرہ کا شعبہ اختیار کرنا، کمپیوٹر کے حوالہ سے ملازمت کرنا۔۔۔ بس؟؟؟ کیا ہمارے طلباء اتنی محدود سوچ کے مالک ہیں؟ کوئی بتا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں کتنے طلباء ایسے ہوتے ہیں جن کا خواب ملکی سیاست کی طرف آنا ہوتا ہے؟ کتنے طلباء ایسے ہوتے ہیں جن کا سپنا رفاہی اور فلاحی کاموں کا ہوتا ہے؟ کتنے طلباء کے ذہن میں پڑھ لکھ کر ٹیکسی چلانے کا خیال ہوتا ہے؟
ہمارا کام صرف اتنا رہ گیا ہے کہ سیاسی لوگوں سے ہمیں نقصان ہو تو ہم سارے سیاستدانوں کو ایک جملے میں ہزار گالیاں دے ماریں، کوئی بچہ ہم سے بدتمیزی کرے تو ملک بھر کی درسگاہوں کو بے کار اور اساتذہ کو نا اہل ہونے کا اعلان کردیں، دکان والا ناپ تول میں کمی کرے تو ایک سانس میں اس کی ہزار برائیاں گنواتے پھریں۔۔۔ ایسے کیوں؟ اگر آپ کو سیاستدانوں سے اختلاف ہے تو خود آپ سیاست میں آکر کیوں یہ سب ٹھیک نہیں کردیتے؟ اگر آپ کو دکان والوں کے ناپ تول یا کسی دوسری بات پر اعتراض ہے تو آپ ایک دکان والا بن کر اپنے اچھے اخلاق و اعمال سے کیوں مثال قائم نہیں کردیتے؟ اگر آپ کو اساتذہ سے شکوہ ہے تو آپ اپنے بچے کی اچھی تربیت کیوں نہیں کردیتے؟ لیکن نہیں۔۔۔ آپ یہ سب نہیں کریں گے۔ کیوں کہ آپ کی نظر میں تو یہ آپ کا فرض ہے ہی نہیں۔۔۔! آپ کا فرض شاید صرف اتنا ہے کہ دولت کی ہوس میں اپنا ضمیر بیچ دیں۔
میں اپنے کو ایسے ہی سب لوگوں میں شامل کرتا ہوں لیکن خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرا ذہن سوچتا ہے۔۔۔ میں صرف بے حس اور خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرتا بلکہ میں لوگوں کے بیچ اپنا کردار، اپنا فرض، اپنی ذمہ داری تلاش کرتا ہوں۔ عمر کے جس حصہ میں، مجھے سیاست کے حوالہ سے معلومات ہوئی، میرا جی چاہا کہ میں بڑا ہوکر سیاست میں جاؤں اور جتنا ممکن ہوسکے، برائیوں سے دور رہ کر ایک مثال قائم کروں۔ میرا یہ خیال جب دوسروں کو پتا چلا تو ہر ایک نے اس خیال کو لغو قرار دیا، مذاق اڑایا، ڈرایا۔۔۔ میرا لڑکپن تھا۔ سوچا، کوئی اور شعبہ ڈھونڈتا ہوں۔ پھر وکالت کا شعبہ پسند کیا لیکن اس پر بھی پہلے کی طرح ہزار باتیں، ہزار اعتراضات۔ تنگ آکر تیسرا شعبہ منتخب کیا، صحافت۔ نتیجہ، وہی حسبِ سابق۔ تب میں نے اس بارے میں سوچنا وقتی طور پر مؤخر کردیا۔
اب کچھ عرصہ سے پھر ایک نئی بات سوچتا ہوں۔ جس کو بتاتا ہوں، وہ ہنستا ہے، مذاق اڑاتا ہے، طعنہ دیتا ہے، کوئی کوئی کہانی سمجھ کر خوش ہوجاتا ہے۔۔۔! لیجئے، آپ بھی محظوظ ہوں۔
تدریسی میدان میں ذمہ داری انجام دینے کا خواب، کمپیوٹر کے شعبہ میں کام کرنے کا سپنا، یہ سب الگ لیکن اس کے ساتھ ساتھ میرے ذہن میں جو نئی چیز کلبلا رہی ہے وہ ہے “بس ڈرائیور” یا “بس کنڈیکٹر”۔ بظاہر یہ ایک مذاق ہی لگتا ہے لیکن میرے ذہن میں “بس ڈرائیور یا کنڈیکٹر” کا تصور ذرا ہٹ کر ہے۔ آپ بھی میری طرح لمحہ بھر تصور کیجیے۔۔۔ ایک ایسی بس کا جو ٹوٹی پھوٹی نہ ہو، اس میں بیٹھنے کی جگہ بھی اچھی ہو، صاف ستھری ہو۔۔۔ اس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر صاف ستھری پینٹ شرٹ میں مبلوس، آپس میں اکثر انگریزی میں بات کرتے ہوئے۔۔۔ کچھ دیر کے لیے اپنے آپ کو ایسی گاڑی میں تصور کیجئے۔۔۔ کس قدر سہانا منظر ہے۔۔۔ (پینٹ شرٹ اور انگریزی میں بات کرنا اگرچہ میرے لیے کوئی غیر معمولی اور ضروری بات نہیں لیکن ایسا صرف ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ان دونوں چیزوں کو ایک معیار سمجھا ہوا ہے)۔ اور پھر۔۔۔ ایک اور منظر سوچئے۔۔۔ اس گاڑی کو ایک ٹریفک پولیس والا روکتا ہے۔۔۔ رشوت لینے کے لیے۔۔۔ تو بس کا ڈرائیور اپنا کوٹ اٹھاکر پہنتا ہے، اسی کوٹ میں سارے کاغذات ہیں گاڑی کے۔۔۔۔ اور پھر دنیا دیکھتی ہے کہ تھری پیس سوٹ میں مبلوس ایک ڈرائیور گاڑی سے اتر رہا ہے۔۔۔ مہذبانہ انداز میں ٹریفک پولیس والے سے گفتگو کررہا ہے۔۔۔ ذرا سوچئے، کیا اس صورت میں ٹریفک پولیس والا رشوت مانگتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہوگا؟ ذرا سوچئے کہ کیا یہ منظر ہمارے نام نہاد، جھوٹے اور مردود اسٹیٹس کے منہ پر ایک طمانچہ نہ ہوگا؟ ذرا سوچئے کہ کیا کسی گاڑی کا ایسا تعلیم یافتہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر بہت سی جھنجھٹ سے چھٹکارے کا سبب نہ ہوگا؟ ذرا سوچئے کہ کیا ایسا تعلیم یافتہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر، اس گاڑی میں سفر کرنے والے لوگوں پر مثبت اثر نہ ڈالے گا۔۔۔
ذرا سوچئے۔۔۔ اور ہاں! اگرچہ سوچنے پر پابندی نہیں ہے لیکن سوچئے تو صرف مثبت سوچئے!
(تعلیم یافتہ بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر والے خیال پر جتنا مذاق اڑانا چاہیں، جتنا ہنسنا چاہیں، ہنس لیں لیکن یاد رکھیں، جس دن یہ مثال عملی شکل میں پیش ہوگی، اس وقت آپ ہی ہوں گے جو اس کی تعریفیں کرتے ہوں گے، آپ ہی ہوں گے جو ایسی بس میں سفر کرنے کی خواہش رکھتے ہوں گے۔ سوچ لیجئے!)

چیف جسٹس بحال

1 views July 21, 2007 | راہبر
No Gravatar

قاضی القضاء (چیف جسٹس آف) پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری صاحب بحال ہوگئے۔ فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیدیا۔۔۔ یہ شکست ہے باطل کی۔۔۔ آمر کی۔۔۔ پرویز مشرف اور اس کے حواریوں کی۔۔۔ لوٹوں کو۔۔۔
12 مئی کو الطاف حسین نے بہت بکواس کی تھی اپنے ٹیلیفونک خطاب میں۔۔۔ اس وقت میرا دل کررہا ہے کہ الطاف حسین کو ٹھینگا دیکھاؤں۔۔۔! کہاں ہے تو اے الطاف؟؟؟

سیاہ ست چھوڑ دی میں نے

1 views May 29, 2007 | راہبر
No Gravatar

سیاست کو سیاہ ست کے روپ میں بہت عرصہ سے دیکھ رہا ہوں۔ اب تنگ آکر میں نے سوچا ہے کہ کم سے کم اپنے بلاگ پر سیاست کے حوالہ سے کچھ نہ لکھنے کی کوشش کروں گا۔ اس بے کار کی چخ چخ سے بہتر ہے کہ میں بلاگ کو اپنے اور اپنی زندگی کے حد تک محدود رکھوں۔
بس۔س۔س۔سسس! سو میرا اگلا بلاگ میرے حوالہ ہی سے ہوگا۔

12 مئی 2007ء

1 views May 16, 2007 | راہبر
No Gravatar

انسان کی ایک فطرت ہے۔ اگر آپ ‌ مکمل یقین دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ دنیا اس کے ساتھ ظلم کررہی ہے اور آپ اس کے ہمدرد ہیں تو وہ آپ کے پیچھے دوڑے گا۔ آپ اگر سحر بیاں ہیں تو وہ آپ کی باتوں میں مدہوش ہوجائے گا۔ آپ کو اپنا مصلح سمجھے گا۔
متحدہ قومی مومنٹ (سابقہ مہاجر قومی مومنٹ) نے کراچی کی مہاجروں کے ساتھ یہی کیا۔ ان کو احساس دلایا کہ تمہارے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے۔۔۔ تم پر ظلم ہوتا ہے۔۔۔ اٹھو، ہمارے ساتھ آؤ۔۔۔ اور مہاجر اٹھ کھڑے ہوئے۔ لسانی فسادات بھڑکے اور کراچی جلنے لگا۔۔۔ میرا پیارا شہر کراچی۔۔۔۔۔ میرے ملک کا معاشی مرکز تباہ ہوگیا۔ متحدہ قومی مومنٹ کے ساتھ نا انصافی کا الزام لگانے والے بتائیں۔۔۔ ہاں بتائیں کہ کیا انہوں نے عوامی سطح پر ایم۔کیو۔ایم کا کردار غیرجانبداری سے ملاحظہ کیا ہے؟ کیا انہیں پتا ہے کہ بھتہ خوری اس جماعت کا شیوہ ہے۔۔۔ اس جماعت کی پہچان ہے۔ کیا انہیں پتا ہے کہ اس دہشت گرد جماعت کے غنڈے چندہ کے نام پر بھتہ مانگتے تھے؟ اور نہ دینے والوں کے ساتھ وہ سلوک ہوتا تھا کہ توبہ توبہ۔۔۔ جایئے۔۔۔۔ لالو کھیت کے رہنے والوں سے جاکر پوچھئے کہ ان پر کیا بیتا کرتی تھی۔۔۔
جس کو اس جماعت کے منافق ہونے میں شک ہے وہ اس جماعت کی تاریخ ملاحظہ کرے۔۔۔ پہلے سندھیوں کی مخالفت اور اب شاہ عبد اللطیف بھٹائی کا مالا جپنا۔۔۔ پہلے پتوں پر الطاف حسین کی تصویر اور اب لبرل ازم کے دعویدار۔۔۔ اور ملاحظہ کیجئے۔۔۔ 12 مئی کے حوالہ سے جو بینرز لگے، ان میں ایک بینر پر لکھا تھا کہ: “قائد تحریک، رہبر ملت و شریعت“۔۔۔ یہ لبرل ازم کا حامی، یہ لسانی وارداتیں کرانے والا، یہ پاکستانی عوام کو آپس میں لڑوادینے والا، مولویوں اور علمائے دین کو برا بھلا کہنے والا، رہبر شریعت قرار پایا۔۔۔۔۔ سر دھنیئے۔۔۔!
اب 12 مئی کے واقعہ کی طرف آیئے۔۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری صاحب کے کراچی دورہ کا شیڈول 5مئی کو مشتہر ہوچکا تھا لیکن 12 مئی کے واقعہ کے بعد ایم۔کیو۔ایم سے تعلق رکھنے والے، سندھ کے مشیر داخلہ جناب وسیم اختر صاحب کی معصومیت تو دیکھئے، فرماتے ہیں کہ ہمیں چیف جسٹس صاحب نے اپنا شیڈول ہی نہیں بتایا تھا کہ ہم اس لحاظ سے حفاظتی اقدامات کرتے۔۔۔۔۔ میں صدقے! میں قربان! بہت خوب! کراچی کی تمام عوام جانے ہے پر یہ ایک مشیر داخلہ ہے جس کو خبر نہیں۔۔۔
چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ سیاسی جماعتیں چل رہی ہیں۔۔۔ لیکن چیف جسٹس آف پاکستان، سیاسی جماعتوں کے ساتھ نہیں چل رہے۔ وہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کے حوالہ سے کچھ نہیں کہتے۔ وہ ان کو روکتے نہیں تو ساتھ آنے کا کہتے بھی نہیں۔۔۔ وہ سیاسی منظرنامہ پر بیان بازی نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں تو صرف اتنا کہ عدلیہ کی آزادی چاہیئے۔۔۔ وہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ میں بے گناہ ہوں، انصاف کی امید ہے۔۔۔
اور ہاں، چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی موجودگی پر اعتراض کرنے والو۔۔۔ پلٹو۔۔۔ ایک نظر دوسری طرف دیکھو۔۔۔ صدر پاکستان بھی ہیں۔۔۔ افواج پاکستان کے سربراہ ہیں۔۔۔ سرکاری ملازم ہیں اور حاکم بنے بیٹھے ہیں۔۔۔ ان کے ساتھ بھی لوٹوں کی ایک بڑی جماعت ہے۔۔۔ ان پر کیا کہوگے؟؟؟
سچ کہا تھا، ایک سیاستدان نے گذشتہ دنوں کہ ہمارے ہاں قائدین کی قلت پڑگئی ہے۔ حکومتی جماعت کو دیکھئے تو وہ بھی حاضر سروس ملازم کے پیچھے ہے۔۔۔ اپوزیشن جماعتوں کو دیکھئے تو وہ بھی ایک غیرسیاسی بندے کے پیچھے ہیں۔۔۔
سچ ہے! قصور چیف جسٹس کا تھا۔۔۔ کیونکہ انہوں نے نظریہ ضرورت کی دھجیاں بکھیر دیں۔ قصور ان کا تھا کیونکہ انہوں نے از خود کاروائی کرتے ہوئے ہزاروں کیس نمٹائے۔ سینکڑوں بے قصور خاندانوں کے سکون کا سبب بنے۔۔۔ قصور ان کا تھا کہ انہوں نے نجکاری کے خلاف فیصلے دیئے۔ قصور ان کا تھا کہ انہوں نے لاپتہ افراد کے معاملے پر کوئی لگی لپٹی رکھے بنا حکومت کی لگام کھینچ لی تھی۔۔۔۔
ہاں سچ ہے۔۔۔ قصور ان کا تھا کیونکہ انہوں نے آمر وقت کو “انکار“ کیا تھا۔