گھڑیاں

3,813 views August 28, 2008 | راہبر
No Gravatar

ایک زمانہ میں گھڑیاں بڑی مہنگی ہوا کرتی تھیں۔ پھر جب چین کی گھڑیاں آنے لگیں تو کوڑی کے مول بکنے لگیں۔ آج آپ 100 روپے میں بہترین گھڑی لے سکتے ہیں۔ خود میں نے ایک سو روپے والی گھڑی ایک سال تک آرام سے چلائی تھی، سال بعد بھی اس کے ساتھ صرف ایک یہ مسئلہ ہوا کہ اس کا پٹا جہاں لگتا ہے، وہ پلاسٹک ٹوٹ گئی تھی تو اسے ایک طرف ڈال دیا ورنہ وہ تو عرصہ تک وقت بتاتی رہی تھی۔

گھڑیاں موجودہ وقت بتاتی ہیں۔۔۔ صرف وقت۔۔۔ اب وہ وقت اچھا ہے یا برا، وہ ساعت سعد ہے کہ نحس، اس کا فیصلہ آپ پر ہوتا ہے۔ میں نے پہلے لکھا تھا کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ ایک تو یہ خود بدلتا رہتا ہے، پھر ہم بھی اب وقت بدلنے لگے۔ پاکستان میں اس کا ایک تجربہ پرویز مشرف کے دور میں ہوا تھا، تب اس پر بہت باتیں بنی تھیں۔ موجودہ حکومت نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی اور گرمیوں میں یکم جون کو رات 12 بجے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کیں۔ پہلے پاک و ہند کے وقت کا موازنہ ہوتا تو لوگ کہتے کہ ہم انڈیا سے آدھ گھنٹا پیچھے ہیں۔ اب ہم آدھ گھنٹا آگے ہوگئے کہ چلو ویسے نہ سہی، ایسے ہی سہی۔ یہ عمل تین ماہ کے لیے تھا اور یکم ستمبر سے گھڑیوں نے واپس ایک گھنٹہ پیچھے آجانا تھا۔ لیکن وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن نے اعلان کیا ہے کہ گھڑیاں مزید دو مہینے ایک گھنٹہ آگے رہیں گی۔ اب جی تو کررہا ہے کہ شیری رحمن کو۔۔۔۔۔ :evil:

تقریبا ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے ہوگیا ہے یعنی آدھ دن بجلی غائب۔ بلوچستان میں پندرہ گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ اور کراچی میں بجلی غائب رہنے کا دورانیہ 20 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ پھر ہمیں وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف یہ نوید سناتے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہوگیا ہے۔ :twisted:

ماہِ رمضان قریب ہے، ایک ہفتہ سے بھی کم کا عرصہ ہے۔ ہم مطمئن تھے کہ رمضان سے پہلے گھڑیاں اپنے معمول پر آجائیں گی تو معمولات درست ہوجائیں گے لیکن یہ اعلان تو خلافِ توقع آپڑا۔ اب ذرا رمضان کے معمولات کا تصور کریں، ابھی ساڑھے نو بجے عشاء کی اذان ہورہی ہے۔۔۔ رمضان تک شاید سوا نو بجے وقت ہوجائے۔ آپ گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تراویح پڑھ کر گھر لوٹیں گے۔ اگر کھانا تروایح کے بعد کھاتے ہیں تو لازما بارہ بج گئے۔ کھانا تراویح سے پہلے بھی کیا ہو تو سوتے سوتے بارہ/ ایک تو بج ہی جائے گا۔ ابھی فجر کی اذانیں پونے چھ بجے شروع ہوجاتی ہیں۔ یعنی آپ نے پانچ بجے تو لازما اٹھ جانا ہے سحری کے لیے۔ فجر پڑھیں گے تو ساڑھے چھ/ پونے سات بجے فارغ ہوں گے۔ اب آپ اگر ملازمت کرتے ہیں تو شاید آپ کو ڈیڑھ دو گھنٹہ صبح آرام کو ملے، پھر شام کو گھر لوٹیں گے تو کب آرام کریں گے، کب عبادت کریں گے۔۔۔ اپنے نظام الاوقات مرتب کرتے پھریں۔ یہ مسئلہ آپ کا ہے، صاحب لوگوں کا نہیں کیونکہ “صاحب لوگ” مذہبی نہیں ہیں۔

الوداع پرویز مشرف

214 views August 19, 2008 | راہبر
No Gravatar

پرویز مشرف رخصت ہوئے۔ انہیں رخصت ہونا ہی تھا۔ اقتدار کی کرسی کب کسی کو ہمیشہ کے لیے ملتی ہے۔ ابھی ہمارے ہر مسئلہ کی وجہ مشرف تھے، اب ہم نے نئے اسباب تلاش کرنے ہیں کہ ہر مشکل میں ان پر انگلی اٹھاسکیں۔ زرداری سے مجھے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں۔ میڈیا کا کردار بھی اہم ہوگا۔ اب تک میڈیا کی تقریبا تمام توپوں کا رخ پرویز مشرف کی طرف تھا۔ اب وہ نہیں رہے تو ظاہر ہے آہستہ آہستہ یہ توپیں موجودہ حکمرانوں کی طرف رخ کرلیں گی۔ کیا موجودہ سیاستدان انہیں برداشت کرسکیں گے؟ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے کیا اپنا وعدہ ایفا کرسکیں گے یا یہی راگ الاپتے رہیں گے کہ ہمیں ملک ملا ہی ایسی حالت میں ہے کہ درست ہوتے ہوتے عرصہ لگ جائے گا۔

ہماری عوام بھی خوب ہے۔ ابھی پرویز مشرف کو جوتیاں مار کر اتارا ہے۔ کچھ عرصہ بعد جب موجودہ حکمران ستم ڈھائیں گے تو پھر پرویز مشرف کو یاد کیا جائے گا۔ مشرف چونکہ خود چلے گئے ہیں اس لیے ہماری قوم جلد ہی ان کی غلطیاں معاف کردے گی بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ہاں جب کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو لوگ اس کی ساری غلطیاں یکسر بھول کر ہر وقت اس کی شان میں قصیدے پڑھتے رہتے ہیں۔ واللہ! ہم بھی خوب ہیں۔

آہ مشرقی پاکستان!

365 views December 17, 2007 | راہبر
No Gravatar

مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا ہوئے 36 برس بیت گئے ہیں۔ میں ہر بار سوچتا ہوں کہ 16 دسمبر کے موقع پر ایک لمبی چوڑی تحریر لکھوں گا، دل کے پھپھولے پھوڑوں گا لیکن اتنا کچھ سوچ کر جب بھی اس موضوع پر لکھنے بیٹھتا ہوں، ایسا لگتا ہے جیسے افسردہ افسردہ الفاظ رقم ہونا نہیں چاہتے۔ غم و دکھ بیان کرنا نہیں چاہتے، بے وفا لوگوں سے گلہ کرنا نہیں چاہتے۔
کبھی کبھی دل میں ایک عجیب سی خواہش اٹھتی ہے کہ کچھ ایسا ہو کہ دونوں بازو، مغربی و مشرقی پاکستان ایک بار پھر ایک ہوجائیں!

کراچی والے رابطہ کریں

280 views November 14, 2007 | راہبر
No Gravatar

دوسرے شہر والے جو چاہے، وہ کریں۔ احتجاج کریں یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں لیکن کراچی سے تعلق رکھنے والے جو صاحبان پُر امن احتجاج کرنے کو تیار ہیں، وہ بذریعہ تبصرہ آگاہ کریں۔ پھر مل جل کر کوئی لائحہ عمل تیار کرتے ہیں۔ ازراہِ کرم دیر نہ کیجئے گا۔

احتجاج کیسے؟

234 views November 10, 2007 | راہبر
No Gravatar

اب ہم (بلاگرز) جب احتجاج کے لیے تیار ہونے لگے ہیں، بلکہ تیار ہونے کے بعد جب دوسروں کو اس طرف راغب کرنے لگے ہیں تو ہم سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے یہ پرچے، یہ ترغیبات بے فائدہ رہیں گی، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا عام آدمی یہ سب باتیں پڑھ کر بیچ چوک پر جا کھڑا ہوگا اور نعرے مارنا شروع کردے گا۔۔۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔۔۔ لوگوں کو چاہئے پلیٹ فارم۔۔۔ جب تک پلیٹ فارم مہیا نہیں ہوگا، تب تک عام بندہ گھر سے نہیں نکلے گا۔
اسلام آباد میں رہنے والوں کے لیے قدرے آسانی ہے کہ وہاں مختلف جماعتیں احتجاجی ریلیاں نکال رہی ہیں، وہاں رہنے والے ان میں شامل ہوکر اپنا فرض ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن کراچی، لاہور، فیصل آباد وغیرہ میں رہنے والے کیا کریں؟ یہاں تو خاموشی چھائی ہے۔ کون مہیا کرے گا پلیٹ فارم؟ سیاسی جماعتوں کی خاموشی دیکھتے ہوئے میں یہی جواب دیتا ہوں کہ ہم ہی مہیا کریں گے پلیٹ فارم بھی۔
میں اپنی ان احمقانہ باتوں اور اظہارِ خیال کے باعث پچھلے دنوں جتنا بے عزت کیا گیا ہوں اور جس قدر لوگوں نے میری حوصلہ شکنی کی ہے، شاید یہ پہلی بار ہے۔ یہاں تک کہ جس شخص نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا تھا، میرا حوصلہ بڑھایا تھا، اس نے بھی مجھے اس بار اکیلا چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔ طعنے دیئے گئے ہیں۔۔۔ دعویٰ کیا ہے لوگوں نے کہ میں ناکام ہوجاؤں گا۔۔۔ ;)
پر، میں بھی ڈھیٹ ہوں بہت۔۔۔! کچھ نہ کچھ تو کر ہی دوں گا۔۔۔ پہلے مرحلے میں، میں نے صرف سو آدمی اکٹھے کرنے ہیں۔۔۔ اس مرحلہ میں کامیابی حاصل ہوئی تو کم سے کم فی الحال تنقید کرنے اور طعنے دینے والوں کے منہ بند کردوں گا۔۔۔ ان شاء اللہ۔
اصل میں، خامی ہماری بنیاد میں ہیں۔ لوگوں کو سیاسی شعور، سیاسی تربیت نہیں دی گئی ہے۔۔۔ ان کو اپنے فرائض، اپنے حقوق ہی سے آگہی نہیں۔۔۔ سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ان حالات سے ان پر کیا اثر پڑتا ہے۔۔۔ کیا فرق پڑ رہا ہے۔۔۔۔ بس کندھے اچکاکر اتنا کہہ دیتے ہیں کہ یار، جو بھی ہوتا ہے ہوا کرے، ہمیں کیا؟ :(
مجھ سے لوگ کہتے ہیں کہ سیاست ہم مڈل کلاس والوں کا کام نہیں ہے؟ کیوں؟ کیا ہم اچھوت ہیں؟ کیا ہم پر صرف براہمن حکومت کریں گے؟
کوئی کہتا ہے کہ اتنے بڑے بڑے سیاستدان ہیں، جب وہ کچھ نہیں کرسکتے تو تم کیا کرلوگے؟ میں کہتا ہوں کہ وہ کچھ نہیں کررہے، جبھی تو ہمیں کرنا ہے۔۔۔!
میں گذشتہ دو، تین دن بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار رہا۔ کبھی سوچا کہ سب چھوڑ دوں، دوسروں کی طرح لاتعلق ہوجاؤں سیاست سے۔۔۔ لیکن میرا دل نہیں آتا اس طرف۔ کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہے۔۔۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ مجھے جیل تو جانا ہی ہے، اس کے بغیر میں لیڈر نہیں بن سکتا۔ :)
بہرحال! اس وقت ایک ہی ضرورت ہے۔۔۔ وہ ہے ایک نئی جماعت کے قیام کی۔ ایک تحریک کی۔۔۔۔ ایک ایسی تحریک اور سیاسی جماعت کی جو کہ واقعی ہم متوسط طبقے کی اپنی تحریک ہو۔۔۔۔ جس کے راہنماؤں پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔۔۔ اور مجھے یہ قدم اٹھانا ہے جلد سے جلد۔۔۔۔
میرے جتنے قارئین اس نئی تحریک کے آغاز اور جماعت کے قیام میں دلچسپی اور اس میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ جلد از جلد مجھے آگاہ کریں تاکہ اگلا قدم اٹھایا جائے۔

میرے ہم وطنو! احتجاج کرو

202 views November 6, 2007 | راہبر
No Gravatar

میرے عزیز ہم وطنو!
وہ میرے اور آپ کے آباء و اجداد تھے جنہوں نے جانی و مالی قربانیاں دے کر اس پیارے ملک کو حاصل کیا تھا۔۔۔ یہ میرا پیارا وطن۔۔۔ میرے شاعرِ مشرق حکیم الامت کا خواب۔۔۔ میری قائد کی جہدِ مسلسل کا نتیجہ۔۔۔ لیکن میرے شاعرِ مشرق نے ایسے وطن کا خواب ہرگز نہ دیکھا تھا جیسا اس وطن کو کردیا گیا۔۔۔ میرے قائد نے ہرگز ایسا پاکستان نہ چاہا تھا جیسا اس ملک کے جابر و ظالم حکمرانوں نے اس ملک کا حال کیا ہے۔۔۔ آج ہم اپنی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے پیار کرتے ہیں، اس کا خیال کرتے ہیں۔۔۔ پھر ایسا کیوں کہ دھرتی نے ہمیں گھر دیا، روزگار دیا، جینے کے مواقع فراہم کیے، اس دھرتی کے ساتھ جو چاہے، جیسا چاہے، کرتا رہے اور ہم آنکھیں پھیرے بیٹھے رہیں۔
غلطیوں کا ادراک کرنا اور اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر احتجاج کرنا آپ کا حق ہے۔ میرے ہم وطنو! ظالم کو اتنی آزادی نہ دو کہ وہ خود کو مادر پدر آزاد تصور کرنے لگے۔ آج ہم میں سے ہر شخص ملکی صورتحال پر بات کرتا ہے، افسوس کا اظہار کرتا ہے۔۔۔ غصہ کرتا ہے۔۔۔ لیکن ایک پل کو آنکھیں بند کرو۔۔۔ سوچو! یہ باتیں کرکے چپ ہوجانا۔۔۔ یہ غصہ کا اظہار کرکے دوبارہ اپنی دنیا میں مگن ہوجانا۔۔۔ افسوس کرکے پھر سے زندگی میں کھوجانا۔۔۔ کیا یہ سب ہمارے مسائل کا علاج ہے؟ کیا اتنا کچھ کرکے ہم اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے؟ یہ تو ہماری بے حسی کا ثبوت ہے۔۔۔ بے حس ہونے کا عملی مظاہرہ ہے۔ یاد رکھو اے پاکستانیو! یاد رکھو کہ جو شخص عملی قدم اٹھانا نہیں چاہتا۔۔۔ جو انسان عملی میدان میں آنے سے دلچسپی نہیں رکھتا۔۔۔ جو کوئی عملی طور پر کچھ کرنے سے گھبراتا ہے۔۔۔ ڈرتا ہے۔۔۔ اسے باتیں بنانے کا۔۔۔ ملکی حالات پر افسوس کرنے کا۔۔۔ غمزدہ ہونے کا۔۔۔ کوئی حق نہیں، کوئی حق نہیں، کوئی حق نہیں۔
اے میری ارضِ پاک پر بسنے والو! ظلم مت سہو۔ زندہ قومیں اس طرح نہیں کرتیں۔ زندہ قومیں اپنے اوپر ہونے والے ظلم پر۔۔۔ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر احتجاج کرتی ہیں۔ اے پاکستانیو! زندہ قوم ہونے کا ثبوت دو۔۔۔ میرے ہم وطنو! احتجاج کرو۔

پاکستان میں ہنگامی حالت نافذ

170 views November 3, 2007 | راہبر
No Gravatar

پاکستان میں ہنگامی حالت کا نفاذ ہوئے چار گھنٹے ہونے کو آئے ہیں۔ پاکستان کے “فوجی صدر” جنرل پرویز مشرف نے اپنے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کا ثبوت دیتے ہوئے شام چھ بجے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین معطل کردیا اور چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے برطرف کرکے ظاہر کردیا کہ ان ۔۔۔۔۔۔۔ حکمرانوں کا اصل مقصد کیا ہے۔
آج صبح روزنامہ ایکسپریس کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے شک ہو چلا تھا کہ کوئی نہ کوئی گڑبڑ بہت جلد ہونے والی ہے اور وہ ہو رہی۔ شام کو میرے موبائل پیغام کے جواب میں محب بھائی کی بھی فون کال آگئی۔ انہوں نے بھی غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ شخص چار کاندھوں ہی پر جائے گا۔
میں زبان سے کبھی گالی نہیں دیتا لیکن آج دل ہی دل میں بے شمار گالیاں بے ساختہ دی ہیں۔ یہ شخص پرویز مشرف مجھے جو تھوڑا بہت پسند تھا، اب اتنا ہی ۔۔۔۔۔ انسان لگتا ہے۔ چار کاندھوں پہ تو یہ جب جائے گا تو جائے لیکن پہلے میری طرف سے اس پر چار حرف۔ ل ع ن ت
ہنگامی حالت کے نفاذ کا جو فرمان جاری کیا گیا ہے اس میں تمام تر ذمہ داری عدلیہ ہی پر ڈالی گئی ہے کہ عدلیہ کی وجہ سے ملک کے انتظامی امور متاثر ہورہے تھے، عدلیہ دہشت گردوں کو رہا کروارہی تھی، عدلیہ سرکاری افسران کو لتاڑ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدلیہ یہ کررہی تھی، عدلیہ وہ کررہی تھی۔۔۔۔۔۔ بکواس بھری ہے۔
شب گیارہ بجے ملک کے ۔۔۔۔۔۔ شخص پرویز مشرف پاکستانی قوم سے بکواس کرے گا۔ تمام نجی چینلز کی نشریات اکثر علاقوں ہی میں بند ہیں اور صرف ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پٹا ہوا پی ٹی وی ہے جو پرویزی مؤقف بیان کررہا ہے۔
میں اس وقت غیظ و غضب میں بھرا ہوں۔ کسی کو اس تحریر میں کچھ برا لگتا ہے تو لگا کرے۔
پرویز مشرف پر ایک بار پھر ل ع ن ت
اس تحریر میں بہت کچھ لکھا تھا لیکن جب امی، ابو کے سامنے ذکر کیا تو مجھے اتنی ڈانٹ پڑی کہ کوئی حد نہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ انہیں پرویز مشرف یا ایسے کسی اقدام سے ہمدردی ہے بلکہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مجھے کچھ نہ ہوجائے۔ حالانکہ میں نے ان سے بہت بحث کی کہ سب لوگ اب تک چپ رہتے ہیں لیکن میں بولوں گا۔۔۔۔ اس پر والد صاحب کو مزید غصہ چڑھ گیا۔۔۔۔ :(

لعنت اللہ علی الظالمین

259 views October 28, 2007 | راہبر
No Gravatar

میرے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی تھی کہ کلمہ گو پر تلوار نہ اٹھانا کہ وہ مسلمان ہے لیکن آج مسلمان ہونے کا دعوی کرنے والے یہ انتہا پسند لوگ یہ فرمانِ نبوی کیوں بھول گئے ہیں؟ ایک اسلامی ریاست کی اسلامی فوج کو قتل کرنے کا جواز انہیں اسلام میں کہاں سے ملتا ہے؟ ایک اسلامی مملکت میں خود کش حملوں کی اجازت انہیں قرآن کی کون سی آیت فراہم کرتی ہے؟
اے انتہا پسندو! تم لوگ اسلام اور مسلمانوں کے نام پر سیاہ دھبہ ہو۔ تم لوگ اسلام کی خدمت نہیں، اسلام سے دشمنی کررہے ہو، معصوم لوگوں پر ظلم کررہے ہو اور
لعنت اللہ علی الظالمین

قوم پرستی۔۔۔ مردہ باد

242 views October 28, 2007 | راہبر
No Gravatar

پاکستان پیپلز پارٹی کی چئیر پرسن بے نظیر بھٹو صاحبہ کو تقریبا آٹھ سال کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد پاکستان پہنچے ایک عشرہ گزر چکا ہے اور اتنے عرصہ میں ایک طرف لوگ بہت ہی خوش ہیں تو دوسری طرف کئی لوگ غم و غصہ کے گھیرے میں ہیں، ایک طرف کچھ لوگوں کے دل اجڑے ہیں تو دوسری طرف کئی لوگوں کے گھر۔
اٹھارہ اکتوبر کی صبح جہاں خوشیوں کے شادیانے بج رہے تھے، اسی رات صفِ ماتم بچھی تھی۔ لیکن ابھی مجھے نہ بی بی کی واپسی پر گفتگو کرنی ہے اور نہ اس واپسی کے محرکات پر۔ مجھے تو صرف بی بی کے بیانات پر تشویش کا اظہار اور احتجاج کرنا ہے۔ بیانات بھی وہ نہیں جو ڈاکٹر عبد القدیر خاں یا پاکستان کی سالمیت کے خلاف دیئے گئے، کیونکہ ایسے بیانات کے خلاف تو پاکستانیوں کی اکثریت انگشت بدنداں ہے۔ مجھے بحث ہے تو بی بی کے ان قوم پرستی والے بیانات اور اقدامات پر جن کے سبب پاکستان کی صرف سیاسی نہیں بلکہ عوامی فضا بھی قومیت کے نعروں سے گرد آلود ہورہی ہے۔
میں شاید اس موضوع کو اہمیت نہ دیتا اور نہ اس پر کچھ لکھتا لیکن حسن اتفاق کہئے یا سوئے اتفاق کہ کسی بلاگ پر دوست شاکر عزیز کا ایک تبصرہ نظر سے گزرا جس میں انہوں نے کچھ ایسا لکھا تھا کہ بی بی کے بیانات کی وجہ سے آج انہیں یہ یاد آیا کہ وہ پنجابی ہیں۔
شاکر بھائی اور میرے تمام پاکستانی بھائیو! خدارا ان ملک دشمن قومیت پرست لوگوں کے بیانات کے باعث ہرگز ہرگز ایسا نہ سوچئے۔ میں مانتا ہوں کہ کچھ بیانات مشتعل کرتے ہیں، ایسا سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہمیں بھی متحدہ قومی مومنٹ کے احمق قائد کی احمقانہ حرکتوں کے سبب بہت بدنامی اٹھانی پڑتی ہے۔ لیکن دیکھئے، ملک دشمنوں نے ہمیں علاقائی اور لسانی عصبیت میں الجھا دیا ہے۔ ہم نے ان کو شکست دینی ہے۔ ہم نے ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ ہم نے بتانا ہے کہ ہم سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان، مہاجر نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم پاکستانی ہیں۔۔۔ ہم مسلمان ہیں۔
قوم پرستی۔۔۔ مردہ باد!

اٹھارہ اکتوبر

234 views October 20, 2007 | راہبر
No Gravatar

ایک، ڈیڑھ ماہ سے شور مچا تھا کہ سابق وزیر اعظم پاکستان اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو صاحبہ واپس آرہی ہیں۔ مجھے بے نظیر صاحبہ (بحیثیت سیاستدان :razz: ) کبھی پسند نہیں رہیں اور پاکستان آنے سے قبل ان کے چند بیانات نے مزید افسردہ کیا۔
اٹھارہ اکتوبر کو ان کی واپسی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ ان کے استقبال اور حفاظتی اقدامات کے لیے جس قدر خطیر رقم خرچ کی گئی، وہ اب کوئی راز کی بات تو نہیں رہی۔ لیکن مجھے ان باتوں سے فی الحال کوئی مطلب نہیں، کوئی سروکار نہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ ان کی واپسی پر استقبالیہ جلوس کے ساتھ جو افسوسناک حادثہ پیش آیا، اس کے ذمہ داروں کا جرم شاید بے نظیر صاحبہ کے تمام جرائم سے زیادہ بڑا ہے، تمام مظالم سے زیادہ گھناؤنا ہے۔
اس افسوسناک واقعہ کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ کس نے یہ سب کیا؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا اتنا ہی فضول ہے جتنا کہ صدر پرویز مشرف کی یہ بات کہ اس واقعہ کی رپورٹ چوبیس گھنٹوں میں انہیں پیش کی جائے اور اس کے ذمہ دار عناصر کو سخت ترین سزا دی جائے۔
آج، روزنامہ “ایکسپریس” میں عبد اللہ طارق سہیل صاحب نے اپنے کالم کے اختتام میں اڑتالیس گھنٹوں کے حوالہ سے بہت خوبصورت بات لکھی ہے۔ ان کا تجزیہ پڑھیں:

” صدر نے کراچی کے ہولناک سانحے کی رپورٹ چوبیس گھنٹے میں طلب کرلی ہے۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ چوبیس گھنٹے کب شروع ہوں گے لیکن ظاہر ہے بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ چوبیس گھنٹے اس وقت شروع ہوں گے جب دو ڈھائی برس قبل کراچی میں سنی تحریک کے جلسہ عام کو بم سے اڑانے کی واردات کے بعد ملزموں کی گرفتاری کے لیے دی گئی ڈیڈلائن کے اڑتالیس گھنٹے ختم ہوں گے۔ ابھی یہ اڑتالیس گھنٹے جاری ہیں اور مزید لامتناہی برسوں تک جاری رہیں گے۔”

ویسے اس تجزیہ میں دو غلطیاں بھی ہیں۔ پہلی یہ کہ صدر نے اس بار بھی اڑتالیس گھنٹے ہی دیے ہیں، چوبیس نہیں۔ دوسری غلطی یہ کہ دو ڈھائی سال قبل جس واقعہ کا ذکر ہے وہ سنی تحریک کا جلسہ عام نہیں بلکہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ تھا۔ شاید طارق سہیل صاحب اپنی دلی عداوت کو یہاں پوشیدہ نہیں رکھ سکے۔
خیر، تمام مرنے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت۔
ارےےےےے کوئی ہے؟ ان خودکش حملوں کو روکنے والا۔۔۔ سوچتا ہوں کہ ایک تحریر خود کش حملوں کی مخالفت میں بھی لکھ ماروں۔ پتا نہیں کون بے وقوف، بے عقل، گدھے ہیں جو پاکستان میں خود کش حملے جائز سمجھتے ہیں۔