صدائے احتجاج

470 views September 13, 2008 | راہبر
No Gravatar

کل جمعہ کی نماز پڑھ کر گھر جانے کے لیے بس میں بیٹھا تو ڈرائیور نے صدر ہی کے علاقے میں گاڑی ایک جگہ جاکر کھڑی کردی تو چلنے کا نام نہ لیا۔ پہلے تو سبھی مسافروں نے صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا لیکن برداشت بھی کب تک کرتے۔ کوئی دس منٹ ہونے کو تھے۔ پہلے ایک صاحب نے کھڑکیاں بجائیں لیکن ڈرائیور ٹس سے مس نہ ہوا۔ پھر خاموشی چھائی رہی تو میرا پارہ بلند ہونے لگا۔ میں نے کھڑکیاں پیٹنا شروع کیں۔ دیکھا دیکھی اور بھی لوگوں نے یہی عمل دہرایا۔ ڈرائیور کافی دیر تک تو لاتعلق بنا بیٹھا رہا، پھر اس نے پیچھے مڑکر دیکھا تو سب چلائے کہ مسئلہ کیا ہے، گاڑی چلاؤ۔ لیکن اس پر جیسے کچھ اثر نہ ہوا اور وہ بڑبڑا کر خاموش ہوگیا۔ پھر کھڑکیاں پیٹنے کا عمل شروع ہوا۔تو ڈرائیور کہتا ہے کہ جب پچھلی گاڑی آئے گی تبھی چلاؤں گا۔ اب لوگوں کا غصہ بڑھا۔ آپ خود اندازہ کریں، شدید دھوپ اور لو، درجہ حرارت چالیس سینٹی گریڈ سے زیادہ، ایسے موسم میں روزہ داروں کا کیا عالم ہوگا۔ جس شے کو ہاتھ لگاؤ، جل رہی ہو۔
تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی تو میں نے سوچا کہ لوگ تو خاموش ہوگئے اور ڈرائیور بھی یہی سوچے گا کہ دو ٹکے کے جواب کے بعد اب ان کے پاس کچھ کہنے کو نہیں رہا۔ تب میں نے جو کھڑکی پیٹی تو اتنی زور سے اور اتنی دیر تک پیٹی کہ سب مجھے دیکھیں اور پھر ڈرائیور کو۔ آخر ڈرائیور نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا تو میں نے ٹھیک ٹھاک سنائی اور سناتا ہی رہا۔ میں لوگوں کو تو ڈرائیور کی دھنائی پر بھی راضی کررہا تھا پر کسی کا ایسا ارادہ نہیں تھا۔ ؛) آخر کوئی پندرہ منٹ رکے رہنے اور سارے مسافروں کی گالیاں سننے کے بعد اس نے گاڑی چلائی۔

اب جب کنڈیکٹر نے کرایہ لینا شروع کیا تو میرے ذہن میں ایک اور خیال آیا۔ کنڈیکٹر جب میرے پاس پہنچا اور کرایہ مانگا تو میں نے بڑے مزے سے اسے کہا کہ ابھی نہیں دے رہا، بعد میں دوں گا۔ پھر مانگا تو میں بولا کہ کہا نا، دیدوں گا پر ابھی نہیں دوں گا، صبر کرو! مجھے نارتھ کراچی جانا ہے، دیدوں گا آگے چل کر۔ پھر اس نے آس پاس کے مسافروں سے کرایہ لیا تو واپس میرے پاس آیا، میں نے اسے کہا کہ گاڑی چلانے میں تم نے اتنا انتظار کروایا، کرایہ تمہیں فورا سے دیدوں؟ اب تم بھی انتظار کرو۔ جیسے تم نے انتظار کروانے کے بعد گاڑی چلائی ہے اسی طرح میں بھی انتظار کروانے کے بعد دیدوں گا کرایہ۔ اب اس نے میرے برابر والے مسافر کی طرف دیکھا جیسے اس کی رائے پوچھ رہا ہو۔ کوئی لڑکا ہی تھا، کہتا ہے اسے کہ ٹھیک کر رہا ہے بالکل۔ وہ چپ کرکے چلا گیا۔

آگے چل کر مجھے تھوڑا رحم آیا تو میں اسے کرایہ دینے لگا۔ مسکراتے ہوئے کہتا ہے، رہنے دو یار، آگے چل کر ہی دیدینا۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے اور پیسے جیب میں رکھ لیے۔ پھر بعد میں وہ خود ہی آیا تو کرایہ مانگنے لگا۔ تب میں نے دیا اسے اور ساتھ میں کہہ بھی دیا کہ کیوں اپنی حرکتوں سے لوگوں کو غصہ دلاتے ہو۔۔۔ اس نے کچھ کہا نہیں جواب میں اور مسکرا کر چلا گیا۔

اب کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہارے ایسا کرنے سے فائدہ کیا ہوا تو میں کہوں کہ ہر کام میں فائدہ یا نقصان تلاش کرنے والا احمق ہے۔ جیسے آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس کے بحال ہونے سے ہمیں کیا فائدہ؟ اس نے کونسا مہنگائی ختم کردینی ہے۔ تو میرے ساتھی! ہر چیز، ہر امر سود و زیاں کے اصول پر نہیں پرکھا جاتا۔ دنیا میں ایک چیز ہوتی ہے حق اور حق تلفی کہلاتی ہے نا انصافی اور ناانصافی کی وجہ سے بلند ہوتی ہے صدائے احتجاج۔ کچھ کام فائدے یا نقصان سے بالاتر ہوتے ہیں۔ وہ صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ آپ سامنے والے کو اس بات کا احساس دلائیں کہ وہ غلط ہے یا اس نے غلط کیا ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اس نے غلط آپ کے ساتھ کیا ہے یا کسی اور کے ساتھ اور اس کا آپ کو کوئی فائدہ یا نقصان ہے یا نہیں۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیے اور حق نہ ملے تو صدائے احتجاج بلند کیجئے۔ یہی زندہ قوموں کی نشانی ہے۔

اصل بات

374 views September 6, 2008 | راہبر
No Gravatar

ٹھنڈی خوشگوار ہوائیں چلتی ہوئی۔۔۔ ابر آلود موسم۔۔۔ پُر کیف فضا۔۔۔ فضا میں بچوں کے قہقہے گونجتے۔۔۔ ہوا کے جھونکے کانوں میں سرگوشیاں کرتے۔۔۔ ہلکی ہلکی بوندیں ٹپکتی ہوئیں۔۔۔ کتنا رومانوی موسم ہے۔۔۔ کتنا خوبصورت اور پُر فزا منظر ہے۔۔۔ لیکن اس سارے منظر میں ایک شخص ایسا ہے جو اس سین میں کہیں فِٹ نہیں بیٹھتا۔۔۔ جس کے چہرے کے تاثرات اس کے اردگرد کے ماحول کا ساتھ نہیں دیتے۔۔۔ جس کی حرکات و سکنات اپنے آس پاس کے عالم سے لاپرواہ نظر آتی ہیں۔۔۔ اسے باہر کے خوشگوار موسم سے کوئی غرض نہیں۔۔۔ باہر کے پُرکیف جہان سے ذرا سروکار نہیں۔۔۔ کیونکہ اس کے اندر آگ ہے۔۔۔ اس کے دل میں طوفان ہے۔۔۔ اس کے ذہن میں آدھی رات جیسی تاریکی اور اندھیرا ہے۔۔۔ وہ ایک شخص۔۔۔ تنہا۔۔۔ ایسا کہ اگر روئے تو آنسو صاف کرنے والا کوئی نہیں۔۔۔ ایسا کہ لڑکھڑا جائے تو سنبھالنے والا کوئی نہیں۔۔۔ ایسا کہ گر پڑے تو ہاتھ بڑھا کر اٹھانے والا کوئی نہیں۔۔۔ اسے باہر پڑتی پھوار کا احساس نہیں کہ اس کی آنکھوں سے سیلِ رواں جاری ہے۔۔۔

ہنستے مسکراتے لوگوں میں تو سب مگن ہوجاتے ہیں۔۔۔ سب ہی کی توجہ ان کی طرف چلی جاتی ہے۔۔۔ لیکن اس منظر کا مذاق اڑاتا انسان کون دیکھے۔۔۔ اس بکھرتے، ٹوٹتے شخص کی طرف کون ہاتھ بڑھائے۔۔۔ اس تنہا شخص کو کون اپنا ساتھ دے۔۔۔ اس آنسو بہاتے انسان کے آنسو کون صاف کیے۔۔۔ اس پریشان حال آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ کون بکھیرے؟ اصل بات یہ ہے!!!

ٹھوکو شاعر

177 views August 9, 2008 | راہبر
No Gravatar

اے اجنبی! تُو بھی کبھی
آواز دے کہیں سے
میں یہاں ٹکڑوں میں جی رہا ہوں [2]
تُو کہیں ٹکڑوں میں جی رہی ہے

آپ نے یہ گیت سنا ہے؟ نہیں سنا تو سن لیں بلکہ دیکھ لیں۔
ایک وقت تھا جب میرے دماغ (یا دل؟) کے حالات مخدوش تھے۔ تب میں رات گئے تک یہ گانا سنتا رہتا اور اتنےےےےے سارے آنسو بہاتا رہتا۔۔۔ ایک منٹ! کچھ غلط نہ سوچیں، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ مجھے ان دنوں محبت کا عارضہ لاحق رہا ہو۔ :P

خیر، میں نے اپنی کوئی کہانی لے کر نہیں بیٹھنی ہے (اور آپ نے بھی نہیں)۔ مجھے انڈین فلمز میں شامل شاعری کے دلچسپ پہلو اجاگر کرنے ہیں۔ ؛) آپ نے اوپر والا گیت سنا؟ سنا بھی ہوگا تو شاید اس کے بول پر زیادہ غور نہ کیا ہو۔ اس کا پہلا انترہ یوں ہے:

“روز روز ریشم سی ہوا
آتے جاتے کہتی ہے
بتا ریشم سی ہوا
کہتی ہے پتا
وہ جو دودھ دھلی
معصوم کلی
وہ ہے کہاں، کہاں ہے؟۔۔۔۔۔۔”

ذرا اس کی ابتدائی چند سطور پر غور کریں۔ کوئی معنی پلے پڑتے ہیں؟ میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا جواب اثبات میں ہوگا۔۔۔ ہاں، اس کو کچھ یوں ہونا چاہئے تھا:

“روز روز ریشم سی ہوا
آتے جاتے کہتی ہے
بتا! ریشم سی ہوا!
کہتی ہے تو کیا؟”

اگرچہ مکمل ٹھیک اب بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی اصل سے بہتر ہے۔ اچھا اب اس گیت کے دوسرے انترے پر آئیں۔

“تُو تو نہیں ہے لیکن تیری مسکراہٹیں ہیں
چہرہ کہیں نہیں ہے پر تیری آہٹیں ہیں
تُو ہے کہاں، کہاں ہے؟۔۔۔۔”

کچھ نوٹ کیا آپ نے؟ میں تو آج تک سمجھتا آیا تھا کہ چہرے سے مسکراہٹ ہوتی ہے اور “ہونے” سے آہٹ ہوتی ہے۔ لیکن یہاں تو شاعر کہہ رہا ہے کہ تُو نہیں ہے تو تیری مسکراہٹ ہے اور چہرہ نہیں ہے تو تیری آہٹ ہے۔ اس کی محبوبہ کی آہٹ چہرے سے ہوتی ہے کیا؟ پھر مسکراتی جسم کے کس حصہ سے ہے؟ :D

ویسے یہ گانا مجھے بہت بہت زیادہ پسند ہے۔ اس کی موسیقی اے۔آر رحمن نے دی ہے اور ادت نارائن نے گایا ہے۔ دونوں کمبی نیشن بہت کمال کے ہیں۔ شاہ رخ خان کی فلم “دل سے” میں شامل ہے۔

اچھا، آپ کو پتا ہے، ” جانِ من” کسے کہتے ہیں اور اس کے معنی کیا ہیں؟ یہ ہے فارسی کی ترکیب۔ “من” معنی میں یا میری۔۔۔ “جانِ من” یا “جانم” معنی میری جان۔ (کتنا رومانوی ہے نا۔۔۔! سب سے اچھا جملہ یہی لگتا ہے مجھے :P) اب یہ ایک گانا ہے، مجھے کچھ خاص نہیں لگتا لیکن سب بڑی تعریف کرتے ہیں۔ برسات کے دن آئے، ملاقات کے دن آئے۔ سنا ہے؟ نہیں سنا تو سن لیں۔

اس میں ایک جملہ ہے: “تجھ سے ملنے کو تِری جانِ من ترستی ہے”۔ اب ذرا اس میں دیکھیں، لفظ ” جانِ من” فٹ بیٹھتا ہے کیا؟ اگر میں اس جملہ کو اردو میں کہوں تو “تجھ سے ملنے کو تیری میری جان ترستی ہے۔”

اتنی سمجھ تو یار مجھے بھی ہے، یہ وہاں کیا ایسے شاعر بٹھائے ہوئے ہیں؟ میرے کزنز کی زبان میں “ٹھوکو” شاعر۔ حیرت ہے۔۔۔!!!

ہمارا معاشرہ اور وقت کی ضرورت

186 views July 18, 2008 | راہبر
No Gravatar

اردو محفل پر ایک موضوع پاکستانی معاشرہ کی تعریف کیجئے پر گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے میں نے بھی اپنے مبارک خیالات کا اظہار فرمایا۔ :razz: بیاض کے قارئین کے استفادے کے لیے پیش کرتا ہوں۔

ہر معاشرہ اور قوم میں خوبیاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں۔ اب اگر ہماری خامیاں بڑھ گئی ہیں تو اب کیا ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم دور بیٹھ کر تنقید کرتے رہیں؟ ایک لوگ وہ ہوتے ہیں جو صرف تنقید کرنے تک محدود رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو تنقید کے بعد ایک قدم آگے بڑھ کر اصلاح کا فرض بھی نبھاتے ہیں۔ ہاں، ہمارے معاشرہ کی خامیاں کافی بڑھ گئی ہیں۔

یقینا
۔۔۔۔۔ ہم لوگ فرقہ واریت، لسانی اور علاقائی تعصبات میں گھرے ہیں،
۔۔۔۔۔ ہم لوگ غیر قانونی اور غیر اخلاقی کاموں میں پھنسے ہیں،
۔۔۔۔۔ ہم اخلاقی، معاشرتی اور سماجی لحاظ سے پستی کا شکار ہیں،

لیکن
۔۔۔۔۔ یہی معاشرہ ہے جو ہمدردی کا احساس بھی رکھتا ہے،
۔۔۔۔۔ یہی قوم ہے جس میں ایک دوسرے کی پرواہ کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں،
۔۔۔۔۔ یہی لوگ ہیں جن کی اکثریت امن پسند ہے اور “جیو اور جینے دو” کے اصول پر جینا چاہتی ہے،

پھر
۔۔۔۔۔ اس معاشرہ کے لوگ متشدد کیوں ہیں؟
۔۔۔۔۔ یہ معاشرہ بے حس کیوں ہوتا جارہا ہے؟
۔۔۔۔۔ ہمارا معاشرہ بگاڑ کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے؟

اس لیے کہ
۔۔۔۔۔ اسلام کے نام پر کی جانے والی تربیت یہاں کے لوگوں کو گمراہ اور انتہاپسند بنارہی ہے،
۔۔۔۔۔ قانونی حق کا حصول دشوار اور غیرقانونی کام آسان ہوگیا ہے،
۔۔۔۔۔ یہاں یہ اصول رواج پارہا ہے کہ مجھے کھانے کو مل گیا تو سمجھو سب کو کھانے کو مل گیا اور مجھے نہیں ملتا تو تجھے کیوں ملا؟

اس معاشرہ کی ضرورت
یہ صرف تین، تین نکات ہی نہیں۔۔۔ اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔ یہ صرف مسئلہ کی طرف اشارہ کے لیے ہیں۔ خرم بھائی سوچتے ہیں کہ پاکستان آکر اس ملک کے لیے کچھ کرنا چاہیں تو کچھ نتیجہ نکلے گا بھی یا نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق؟ صحیح سوچتے ہیں بالکل۔ کچھ لوگ ایسے بھی سوچتے ہیں کہ یہ قوم سدھرنے والی نہیں، بھاڑ میں جائے، اپنا جیو۔ شاید وہ بھی اپنی جگہ صحیح سوچتے ہوں۔ لیکن اس قوم کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے۔۔۔ اچھے راہنماؤں کی۔۔۔ یقین جانئے، اس قوم کو، اس معاشرہ کو اگر اچھے راہنما اور مصلح میسر آجائیں نا تو ہم جو دور بیٹھ کر انگلیاں اٹھاتے ہیں، کل کو خوبیاں گنوائیں گے ان شاء اللہ۔

تنقید آسان، اصلاح مشکل
آج اگر میں اٹھ کر یہ کہتا ہوں کہ میں اس قوم کی اصلاح کے لیے آواز اٹھاتا ہوں، حق بات کہوں گا تو جانتے ہیں، یہاں ایک بندہ شاید مری مری آواز میں میرا حوصلہ بڑھاتا ہے اور نو بندے یہ کہتے ہیں کہ پاگل ہوا ہے۔ لیکن اگر میں اس معاشرہ کی کسی خامی پر تنقید کے لیے ایک جملہ کہوں گا نا تو جواب میں دس آوازیں نہ صرف میری تائید کریں گی بلکہ تنقید کی گولہ باری شروع ہوجائے گی۔ یعنی ہمیں گالیاں دینے کو بٹھادو، ڈنڈے مارنے کو بٹھادو تو یہ کام اچھا ہے لیکن ہم نے نہ سدھرنا ہے نہ کسی کو سدھرنے دینا ہے۔

ایک بڑا ماہر مصور تھا۔ اس نے ایک شاندار تصویر بنائی اور سرعام لٹکادی کہ اس کی غلطیاں بتائیں۔ بس، پھر تو لوگوں نے ڈھیر لگادیا۔۔۔ ہر جگہ نشانات کہ یہاں غلطی، یہاں غلطی۔۔۔ اس مصور نے ایک اور تصویر بنائی اور لکھا کہ اس میں کوئی غلطی ہو تو اصلاح کریں۔۔۔ کسی ایک نے بھی نہ چھیڑا۔

سبق؟؟؟ ہم اس معاشرہ کو گند بھی کہتے ہیں، کیچڑ بھی کہتے ہیں۔۔۔ تو صفائی کرنے کے لیے کیا آسمان سے کوئی آئے گا؟ ہم ہی نے کرنی ہے نا۔۔۔ یہ نہ دیکھیں کہ ابھی آپ کا ساتھ کون دے رہا ہے۔۔۔ پہلا قدم اٹھائیں۔۔۔ ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
لیکن اپنے آپ کو اس قوم اور معاشرہ کا ہمدرد کہنے والو۔۔۔ ذرا آگے آؤ تو سہی۔۔۔ اس قوم کو اپنے دل کی آواز سناؤ تو سہی۔۔۔ یہ لوگ جو لٹیروں کے بڑے بڑے جرائم تین سالوں میں بھول بھال کر ان کے نعرے مارنے لگتے ہیں، کیا تمہیں نہیں اپنائیں گے؟ بالکل ابتداء سے شروع کرتے ہیں۔۔۔ اس معاشرہ کی خامیوں، غلطیوں اور بگاڑ کی اصلاح کا عمل۔۔۔ یہ طے کیے بنا کہ آگے کیا ہونا ہے یا انجام کیا ہوگا؟ صرف پہلے قدم پر توجہ رکھیں۔۔۔ اور پہلے قدم کے بعد اگلے قدم کی طرف۔۔۔ بھول جائیں کہ دس قدم کے بعد کیا ہونا ہے۔۔۔ کیونکہ دس قدم کے بعد والی باتیں ابھی سے سوچیں گے نا تو بس سوچتے ہی رہیں گے۔۔۔ بہت سوچ چکے ہیں۔۔۔ بہت سوچکے ہیں۔۔۔ بہت کھوچکے ہیں۔۔۔ خواب کافی دیکھ لیے۔۔۔۔
اٹھ! باندھ کمر، کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

فقط
ایک محب الوطن

کھری کھری سنانا

188 views July 14, 2008 | راہبر
No Gravatar

امی کہتی ہیں، تمہیں غصہ کچھ زیادہ ہی آنے لگا ہے۔۔۔ پر میرا خیال ہے کہ اب اظہار زیادہ ہونے لگا ہے۔ غلط بات ہوتے دیکھوں تو مجھ سے خاموش نہیں رہا جاتا، عجب بے چینی شروع ہوجاتی ہے اور جب تک اپنے دل کی بھڑاس نہ نکالوں، قرار نہیں آتا۔۔۔ ابھی پرسوں، سنیچر کی شام کا قصہ ہی سنئے۔

دفتر سے گھر واپسی پر جس بس میں سوار ہوا، اس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر انتہائی گنوار اور جاہل تھے۔ مسافروں، خاص کر خواتین کو اتارنے میں ایسی بے صبری کا مظاہرہ کررہے تھے اور ساتھ ساتھ انتہائی بکواس بھی کہ جلدی سے اترو نا، وقت کیوں ضائع کررہی ہو، اب کسی خاتون کو سوار نہیں کروں گا گاڑی میں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اور ان کو اترنے ہی نہ دیں نا۔۔۔ فورا سے گاڑی چلادیں۔۔۔ میں بڑی مشکل سے برداشت کئے بیٹھا رہا۔ پھر سخی حسن چورنگی سے کچھ پہلے ڈرائیور فضول میں گاڑی روک کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ تب میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا بلکہ چھلکنے لگا۔ :razz:

پہلے تو میں نے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ڈرائیور کو آواز لگائی پر اس پر اثر نہیں ہوا۔ تب میں نے اپنے آس پاس دیکھا، ایک بندہ کھڑا تھا قریب ہی کہ بس بھری ہوئی تھی۔ میں کھڑا ہوا اور اس کو کہا کہ بیٹھ جاؤ اس سیٹ پر۔۔۔ پھر میں نے کھڑے ہوکر ڈرائیور کو کھری کھری سنائیں کہ مسافروں کو اتارتے ہوئے تو تمہیں موت آرہی تھی اور یہاں جاہلوں کی طرح کھڑے ہوکر جو وقت ضائع کررہے تو شرم نہیں آتی تمہیں، بے غیرتو! :wink: اس پر آگے پیچھے سے سب نے مجھے گھورا۔

میں دیکھنے میں کافی شریف لگتا ہوں (یا شاید مجھے ایسی خوش فہمی ہے :smile:) لہذا میں نے اپنی شرافت کو چھپانے کے لیے اپنی آستینوں کے بٹن کھولے اور ان کو ذرا سا اوپر کرلیا۔۔۔ گریبان کے بٹن بھی اوپر تک لگے تھے، اس میں سے بھی ایک کھول لیا۔۔۔ :razz: ڈرائیور نے شیشے میں پیچھے کی طرف دیکھا اور بڑبڑا کر خاموش ہوگیا۔۔۔ پھر خود ہی آہستہ آہستہ گاڑی چلانا شروع کردی۔

سنانے کو تو میں نے اور بھی سوچا تھا بہت لیکن بڑی مشکل سے ضبط کیے رکھا کیونکہ اس پر کنڈیکٹر ہاتھا پائی پر بھی اتر سکتا تھا اور مجھے ایسا مذاق بالکل پسند نہیں ہے۔ :wink:

اصل میں غلطی ہماری بھی ہے۔ ہم نے ڈرائیوری کے پیشہ کو شجر ممنوعہ کی حیثیت دی ہے اور اسے جاہلوں، ان پڑھوں کے حوالہ کردیا ہے۔۔۔ اب خمیازہ تو بھگتنا ہی ہے نا۔۔۔ خیر، زبان تو کھولنی چاہئے ایسی بے حسی پر۔ اب لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تمہارے بولنے سے کیا فرق پڑے گا، ڈھیٹ لوگ ہیں، جاہل ہیں، گنوار ہیں۔۔۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں؟ وہ جتنے بھی جاہل ہوں، اگر ہم حق بات کے لیے صدا بلند نہیں کرتے تو ہم پڑھے لکھے جاہل ہوئے۔ اور اگر چند لوگوں میں بھی یہ شعور بیدار ہوجائے اور وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے لگیں تو سامنے والا چاہے طاقتور ہو یا گنوار، وہ ایک دن ہماری بات ماننے پر مجبور ہوجائے گا۔ (ان شاء اللہ)

عادات اور نرم بستر

184 views July 4, 2008 | راہبر
No Gravatar

کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ہماری فلاں عادت کبھی چھوٹ نہیں سکتی یا ہم فلاں چیز کے بغیر رہ نہیں سکتے کیونکہ اس چیز کے پاس ہوتے ہوئے اس چیز کی غیر موجودگی کا سوچنا اکثر اوقات مشکل ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، بہت سی عادات چھوٹ جاتی ہیں بلکہ کبھی تو اس کی متضاد عادت اپنالی جاتی ہے۔

کچھ سالوں تک مجھے نرم بستر پر سونے کی عادت تھی۔ اگر میں زمین پر لیٹا کرتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ میری کمر کی ہڈی میں تکلیف ہو رہی ہے اور وہ زمین سے لگ رہی ہے۔ اس لیے یا تو میں گدا بچھایا کرتا یا فوم والے پلنگ پر لیٹتا۔ پھر بعد میں ہم نے جگہ کی تنگی کے باعث پلنگ بیچ دیا، آہستہ آہستہ گدے کی عادت بھی ختم ہوگئی اور زمین ہی پر سونے لگا۔

گذشتہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب میں اپنی خالہ کی گھر ٹھہرا تھا۔ وہاں جب سونے لگا تو انتہائی نرم پلنگ تھا۔ میں اس پر لیٹ کر اتنا بے چین رہا کہ بیان نہیں۔ حالانکہ میں امتحانات کی وجہ سے کافی جاگا ہوا تھا اور نیند کے مارے آنکھوں میں بے حد جلن تھی لیکن اس نرم بستر کی وجہ سے ایک گھنٹے تک میں کروٹ ہی بدلتا رہا اور سمجھ نہیں آیا کہ کیسے سوؤں اس پر۔۔۔

پھر کوئی ساڑھے چار بجے کے قریب میری آنکھ لگی۔۔۔ تو اس رات کروٹ بدلتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا کہ کہاں نرم بستر کی اتنی عادت تھی کہ اس کے بغیر سونا مشکل تھا اور اب زمین پر لیٹنے کی ایسی عادت پڑی ہے کہ نرم بستر پر سونا عذاب ہوگیا۔

کیا معذور اپنے حقوق سے محروم ہیں؟

188 views July 2, 2008 | راہبر
No Gravatar

اتوار کی صبح مجھے خبر ملی کہ عائشہ افتخار نامی ایک ذہین طالبہ کو ڈاؤ میڈکل کالج کے انٹری ٹیسٹ میں بیٹھنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا۔ میڈکل کالج کی انتظامیہ کا اس اقدام سے مذکورہ طالبہ کی سب محنت رائیگاں جاتی نظر آتی ہے۔

عائشہ افتخار کا میٹرک کے امتحان میں نتیجہ 91 فیصد اور انٹر کے امتحان میں 88 فیصد رہا۔ میں تب سے یہ سوچ رہا ہوں کہ اس طالبہ نے اور اس کے گھر والوں نے کتنے سپنے سجائے ہوں گے، اور عائشہ نے میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کی خاطر پڑھائی میں کتنی محنت کی ہوگی۔۔۔ اور اس کا صلہ یہ؟

میڈکل کالج کی انتظامیہ نے عائشہ کی معذروی کو وجہ بنایا ہے کہ وہ پولیو سے متاثرہ ہے۔ میں ایکسپریس نیوز پر دیکھ رہا تھا، کالج کے وائس چانسلر نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ شعبہ ایمرجنسی کا ہے۔ کیا ڈاکٹری کی تمام شاخوں میں ایمرجنسی کیسز آتے ہیں؟ طالبہ معذور ہے تو کیا ہوا؟ آگے چل کر سائیکاٹرسٹ بن سکتی ہے، کسی فیلڈ میں اسپیشلسٹ کرسکتی ہے۔۔۔ یا ہمارے ہاں ڈاکٹری میں صرف سرجن ہی ہوتے ہیں؟

میڈکل کالج میں معذور افراد کا الگ سے کوٹہ بھی ہوتا ہے کہ اگر معذور افراد میرٹ کے معیار پر پورے نہ اترتے ہوں تو اس کوٹہ کی بنیاد پر داخلہ ہوجائے لیکن عائشہ کے امتحانی نتائج میرٹ کے اعتبار سے انتہائی شاندار ہیں۔ قدیر نے اپنی ایک تحریر میں چند ایسے معذور ڈاکٹرز کے حوالہ دیے ہیں جو احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔ اس کے علاوہ PMC میں ڈاکٹر وقاص بھی خدمات انجام دے رہے ہیں حالانکہ وہ بھی پولیو سے متاثرہ ہیں۔

اس معاملہ میں کالج کے انچارج ایڈمیشن سیل، ڈاکٹر عزیز سمیت تمام انتظامیہ کا کردار ہی افسوسناک رہا ہے۔ طالبہ کی جانب سے یہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ فی الحال انٹری ٹیسٹ میں شمولیت کے لیے عارضی ایڈمٹ کارڈ جاری کردیا جائے اور بعد میں اس معاملہ کو دیکھ لیا جائے لیکن اس طرف بھی توجہ نہیں دی گئی۔

پاکستانی میڈیا نے اس معاملہ کو کافی ہائی لائیٹ کیا ہے۔ جیو، ایکسپریس، اے آر وائی ٹیلی ویژن چینلز سمیت کئی اخبارات نے بھی اس بارے میں کافی کوریج کی ہے۔ میں نے کل پڑھا ہے کہ چار ڈاکٹرز پر مشتمل ایک بورڈ بٹھانے کا کہا کیا گیا ہے جو اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔ اب دیکھتے ہیں کہ فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے۔

اپریل حملہ

282 views April 2, 2008 | راہبر
No Gravatar

اپریل کی آمد کے ساتھ ہی یہ خوشخبری گلے پڑی کہ بس کے کرایوں میں دو روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ یقینا اپریل فول نہیں تھا، ہمیں اس پر مکمل یقین ہے کہ ایسا ہی ہوا ہے۔۔۔ اور ایسا ہی ہونا تھا۔۔۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں جب دو بار ہوشربا اضافہ ہوا تو اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ بے چارے مسافر۔۔۔ بس والوں سے جھگڑتے رہتے ہیں حالانکہ ان کا بھی کوئی قصور نہیں ہے۔ کل سے گاڑیوں میں نئے کرایوں کی فہرست آویزاں ہوگئی ہے جو کہ حکومت کی منظوری سے ہے۔

ویسے ایک حیرت انگیز بات بھی ہے۔۔۔ اگر آپ 1 کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں تو کرایہ ہے 8 روپے جو کہ کم سے کم کرایہ ہے اور اگر آپ 23 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں تو کرایہ ہے دس روپے جو کہ زیادہ سے زیادہ کرایہ ہے۔ خود سوچئے کہ یہ کتنی عقلمندی کا کام ہے۔۔۔ کم سے کم کرایہ چھ روپے کا تھا، اس پر بھی دو روپے کا اضافہ ہوا اور زیادہ سے زیادہ کرایہ 8 روپے تھا، اس پر بھی دو روپے کا اضافہ۔ یعنی ایک بندہ جو صرف ایک، دو اسٹاپ کے چھ روپے دیتا تھا، اسے بھی اب 8 روپے دینے ہوں گے۔ کیا ہی عقلمند لوگ بیٹھے ہیں ماشاء اللہ۔

اس کے علاوہ دودھ کی قیمت میں بھی اچانک ہی 6 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا ہے اور اب دودھ 36 روپے کے بجائے 42 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے۔۔۔ عیش کرنے والے عیش کررہے ہیں، رونے والے جائیں بھاڑ میں۔

یہ اپریل کا مہینہ شروع ہوتے ہیں دو حملے ہوئے ہیں۔۔۔ باقی دیکھتے ہیں۔۔۔ اپریل وار جاری ہے۔۔۔!

بجا کے رکھ دو

785 views March 17, 2008 | راہبر
No Gravatar

جب روم تباہ ہورہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ موصوف نے سوال کیا تھا کہ صدر صاحب کیا بجا رہے ہیں؟ جس پر اجمل صاحب نے لکھا تھا کہ قوم کو بجارہے ہیں۔ یہ پڑھ کر میں نے موصوف سے کہا کہ شاید وہاں ایک جملہ لکھنا میرے شایان شان نہ ہوگا لیکن میرے خیال میں صدر صاحب قوم “کو” نہیں، بلکہ قوم “کی” بجارہے ہیں۔

ممکن ہے کہ آپ اس جملہ کو گرا ہوا خیال کریں تاہم حقیقت یہ ہے کہ صرف صدر صاحب ہی نہیں، بلکہ ہر ایک اس ملک و قوم کی بجارہا ہے۔ ترقی، کامیابی، روشن مستقبل، سکون، امن و امان ۔۔۔ یہ سب جھوٹے سپنے ہیں جن سے بہلایا جاتا رہا ہے اور تاحال بہلایا جارہا ہے۔ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ آٹھ گھنٹے لازمی لازمی ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ کبھی ابر رحمت برسے تو مزید ایک دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کردی جاتی ہے۔ ہر چار گھنٹے بعد دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ Must ہے (اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اسے اردو کا “مست” پڑھیں یا انگریزی کا must)۔ پھر چھٹیاں۔۔۔ نہلے پر دہلہ۔۔۔ جمعرات گئے، جمعہ کو ہڑتال۔ سنیچر گئے، اتوار کی چھٹی۔ اب آج سوموار کو آئے ہیں تو شنید ہے کہ کل یعنی منگل کو ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ہڑتال ہے اور آج کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا یہ ہڑتال صرف دو روزہ ہوگی یا غیر معینہ مدت تک۔ اگر صرف منگل کی بھی ہوئی تو بدھ کو آئیں گے، پھر جمعرات اور جمعہ کو سندھ حکومت نے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چھٹی دی ہے۔ اس کے بعد سنیچر کو آئیں گے تو اتوار کی چھٹی ہوگی۔ علاوہ ازیں 20 مارچ سے گاڑیوں کے کرایوں میں لازمی اضافہ کردیا جائے گا کیونکہ نگران حکومت کی اعلی نگرانی کے سبب پندرہ دن میں دوسری بار پٹرولیم کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک ایک کمال رفتار سے ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ معروف وکیل رہنما علی احمد کرد کے انداز میں کہیں تو “دما دم مست قلندر” ہورہا ہے۔

اس وقت ہمارا قومی ایجنڈا صرف اور صرف ایک ہے۔۔۔ اور وہ یہ ہے کہ “اس ملک کی بجا کر رکھ دو”۔

روشن پاکستان

486 views March 12, 2008 | راہبر
No Gravatar

پاکستان پر تو جیسے پے در پے بحرانوں کی برسات ہورہی ہے۔ ایک بحران ختم ہونے نہیں پاتا کہ کئی نئے بحران منہ کھولے تیار نظر آتے ہیں۔۔۔ آٹے کا۔۔۔ چینی کا۔۔۔ مہنگائی کا۔۔۔ پانی کا۔۔۔ اور وہی سال ہا سال سے چلتا بجلی کا بحران۔۔۔!

اب کے تو کراچی والوں کو ایک نیا تماشہ دیکھنے کو ملا۔ واپڈا نے وفاقی حکومت کی منظوری سے کراچی کو بجلی کی فراہمی ہی بند کردی جس سے پورا شہر بجلی سے محروم ہوگیا۔ واپڈا کا مؤقف تھا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن پر 34 ارب 80 کروڑ روپے واجب الاداء ہیں جن کی ادائیگی کے لیے بارہا یاد دہانی کے باوجود کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ بعد ازاں، وفاقی حکومت ہی کے کہنے پر رحم کھایا گیا اور کراچی کو بجلی کی فراہمی شروع کردی گئی لیکن چھ مارچ کو تقریبا سارا دن کراچی کے بیشتر علاقے بجلی سے محروم رہے۔

اب واپڈا اور کے۔ای۔ایس۔سی کی جانب سے بے حد لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ ہر تین یا چار گھنٹے کے بعد تقریبا دو گھنٹے کے لیے بجلی بند کی جاتی ہے جبکہ واپڈا نے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ تین گھنٹے کرتے ہوئے نوید سنائی ہے کہ بجلی کی ڈیمانڈ بڑھنے پر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھا دیا جائے گا۔

ہمیں چونکہ اپنی حکومت کے اس دعوے پر یقین ہے کہ وہ ہر قدم ترقی کی سمت اٹھا رہی ہے اس لیے آنے والے دنوں میں جو صورتحال ہوگی، اس سے ہمارے ملک میں یقینا ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوجائے گا۔ لوگوں کو پہلے سے منصوبہ بندی کی عادت پڑجائے گی اور گھروں میں بجلی کی غیر حاضری کے وقت اس طرح کی فہارس مرتب کی جائیں گی کہ جیسے ہی بجلی آئے گی تو ابو کے کپڑے اور بچوں کے یونیفارم پر استری کرنی ہے، واشنگ مشین لگا کر چند خاص خاص ضروری کپڑے دھولینے ہیں، چھوٹی کی قمیض کی سلائی ادھڑ گئی ہے، اس کو سینا ہے، وغیرہ وغیرہ۔۔۔!

گویا پہلے نعرہ لگایا جاتا تھا کہ افففف۔۔۔ بجلی چلی گئی۔۔۔ اور اب نعرہ بلند ہوگا کہ واؤوووو۔۔۔۔! بجلی آگئی۔۔۔ مبارک ہو۔۔۔ شادیانے بجیں گے۔

یقین رکھیں، یہ “روشن پاکستان” کی طرف قدم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوع سے کچھ منسلک یہ بھی گزارش کرنا چاہوں گا کہ چونکہ ماہ ربیع النور ہے، جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا موقع ہے اور اس پر اکثر عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چراغاں کرتے ہیں۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ یہ سب بجلی کی چوری سے ہوتا ہے لیکن پچھلے چند سالوں سے جب میں نے معلومات کی تو جانا کہ اکثر تنظیمیں اور افراد استعمال ہونے والی بجلی کا باقاعدہ خرچ ادا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود مناسب یہ ہوگا کہ ایسا چراغاں کم سے کم ہو، کیونکہ بھلے ہی آپ پیسہ کیوں نہ دیتے ہوں لیکن بجلی تو ویسے ہی کم ہے۔۔۔ سو، چراغاں کرنا ہے تو برقی قمقموں کے بجائے دیئے وغیرہ جلائے جائیں۔ یہ میری ادنی سی رائے ہے، اس کو مذہبی تناظر میں نہ دیکھا جائے اور خدارا! اب کوئی لڑنا جھگڑنا نہ شروع کردے۔