آرزوئے وصال مت کیجے

185 views July 10, 2008 | راہبر
No Gravatar

طویل وقفہ کے بعد آمد ہوئی تو ایک غزل کہی۔۔۔ اردو محفل پر اصلاح کے لیے پیش کی تو اعجاز عبید صاحب نے اصلاح دی۔ آپ بھی پڑھئے۔


آرزوئے وصال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے

میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے

جو اسے لاجواب کر ڈالے
کوئی ایسا سوال مت کیجے

اس کے وعدے تمام جھوٹے ہیں
اس طرح دل نہال مت کیجے

دل تو آخر رقیب ہی ٹھہرا
اس سے کچھ بول چال مت کیجے

کیوں پریشاں ہیں، چھوڑیے عمار
اپنا جینا محال مت کیجے

کٹھ پتلی

211 views November 4, 2007 | راہبر
No Gravatar

کل روزنامہ “ایکسپریس” کراچی کی اتوار کی اشاعت میں شامل میگزین کا مطالعہ کرتے ہوئے میری نظر سے درد بزمی (راولپنڈی) کی ایک تخلیق گذری جو واقعی بہت لاجواب اور موقع محل کی مناسبت سے ہے۔ آپ بھی لطف اندوز ہوں:

تیرے ہاتھ میں ڈور ہے آقا، کھیل تمہارا کٹھ پتلی
نام ہمارا کٹھ پتلی ہے، کام ہمارا کٹھ پتلی

جو کروانا ہے کروا لو، جو منوانا ہے منوا لو
دیس ہے سارا حبس کا مارا، ملک ہے سارا کٹھ پتلی

تم جو کہو تو شب کو کہیں دن، دن کو کہیں بن دیکھے شب
دن کا سورج، رات کا چندا، صبح کا تارا کٹھ پتلی

ہم کو لفظِ قوم کے معنی بالکل ہی معلوم نہیں
سولہ کروڑ انسانوں کا یہ مجمع سارا کٹھ پتلی

دہشت گرد کہو اب ہم کو، کل پھر کہہ لینا ہیرو
سوچ کا دریا سونا چاندی، سوچ کا دھارا کٹھ پتلی

حکم پہ تیرے ہم نے جن کو ملک بدر کرڈالا تھا
حکم سے تیرے لے آئیں گے صدر ہمارا کٹھ پتلی

دور سے بیٹھ کے تم نے ہم کو خوب غلام بنایا پھر
اس خطے کے امبر پر چمکے ہر تارا کٹھ پتلی

باغِ جناح میں درد کا قائد آنکھیں موندے روتا ہے
خود مختار چمن کا ہر پل دیکھ نظارا کٹھ پتلی

یہ موت کی آہٹ ہے کہ دل میرے کی دھڑکن؟

202 views September 10, 2007 | راہبر
No Gravatar

گذشتہ دنوں محفل پر وارث بھائی سے بات چیت کے دوران میں نے ان سے عرض کیا کہ اپنا کوئی تازہ کلام ارشاد کیجئے۔۔۔ تو کہنے لگے کہ آمد بالکل بند ہے۔۔ یہی حال یہاں میرا بھی ہے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ ایک مصرع ان کے ذہن میں کئی دنوں سے گردش کررہا تھا لیکن آگے کچھ لکھ نہ سکے تو منحوس سمجھ کر چھوڑ دیا۔ مصرع تھا کہ:
یہ موت کی آہٹ ہے کہ دل میرے کی دھڑکن
مصرع تو لاجواب تھا۔۔۔ آخر وارث بھائی کہنہ مشق شاعر جو ٹھہرے۔۔۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس مصرع پر زور آزمائی کی جائے۔۔۔۔۔۔ نتیجہ کچھ یوں بر آمد ہوا۔۔۔!
غزل

ہر لمحہ نیا مسئلہ، ہر پل نئی الجھن (مَسُ۔ ءَ۔ لَہُ)
کیا خوب ہے واللہ مِرا آپ سے بندھن

کس منہ سے گلہ کیجئے سرکار خزاں سے؟
اجڑے ہیں بہاروں ہی سے یہ باغ، یہ گلشن

آواز سی سنتا ہوں، ہر اِک سانس کے ہمراہ
یہ موت کی آہٹ ہے کہ دل میرے کی دھڑکن؟

اک چاند سے چہرے سے محبت کا نتیجہ
ڈوبا ہے اندھیرے میں یہ عمار کا آنگن

پیار کہانی (دوسری قسط)

179 views September 5, 2007 | راہبر
No Gravatar

ہماری زندگی میں کبھی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے یادگار بن جاتے ہیں۔ یا تو وہ خوشگوار یاد کے طور پر ساتھ رہتے ہیں، یا پھر عمر بھر کا روگ۔ اکثر اوقات ہمارے کسی عمل کے نتائج غیر متوقع ثابت ہوتے ہیں۔ بس ایسا ہی ایک واقعہ اس کی زندگی میں ہونے جارہا تھا۔ اس نے بس کچھ بے تکلفی دکھائی، ہر طرف شور مچ گیا۔ دوست، یار چھیڑنے لگے۔ محبت کا احساس پختہ ہونے لگا۔ اس نے جو کچھ سوچا نہ تھا، اب وہ سب بھی ذہن میں آنے لگا۔۔۔ چھ اگست دو ہزار دو۔۔۔ ہاں چھ اگست ہی کو اس کی ایک حرکت۔۔۔ ایک بے اختیاری اور غیر ضروری عمل نے غیر متوقع نتائج دیئے۔۔۔ کچھ بدلنے کا وقت آگیا تھا۔۔۔ زندگی میں انقلاب رونما ہونے کا وقت تھا۔ ایسے میں کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے نپولین بونا پارٹ کے آخری الفاظ اس کی نظروں سے گزرے تو کسی انجانے احساس و خیال کے ساتھ اپنے پاس لکھ لیا۔۔۔ وہ الفاظ کیا تھے۔۔۔؟ لکھا تھا:
’’میں نے محبت کو بڑا تلاش کیا مگر وہ نہ ملی۔ جس سے بھی محبت کی، اس نے بے وفائی کا ثبوت دیا۔ شاید محبت کا جواب ہی دغا ہوتا ہے۔‘‘
کہتے ہیں کہ
عشق جب دونوں طرف ہو تو مزہ دیتا ہے
عشق جب ایک طرف ہو تو سزا دیتا ہے
احساسِ محبت کیا ہوا۔۔۔ دل اظہارِ محبت کو مچلنے لگا۔۔۔ تئیس اگست۔۔۔ شاعرانہ رنگ نے کچھ یوں لکھنے پر مجبور کیا:
تِرا جلوہ نظر آیا ہے جب سے
تِرے جلوے میں گم رہنے لگا ہوں
مِرے مولا! عطا ہو مجھ کو ہمت
میں اس سے حالِ دل کہنے لگا ہوں

اور اس دن حالِ دل کہنے کی کوشش بھی کی۔۔۔ لیکن وہ ناکام رہا۔ اس نے ہزار الفاظ سوچے، جملوں کا انتخاب کیا۔۔۔ پر جب وہ پری چہرہ سامنے آیا تو زبان لڑکھڑانے لگی۔ بمشکل جو کچھ منہ سے نکلا، وہ بے سر و پا تھا جس کا احساس اسے جلد ہی ہوگیا اور اس نے بات ختم کردی۔
وہ کیسا امتحان تھا۔۔۔؟ ہر لمحہ تلوار کی دھار کی مانند۔۔۔ ہر پل یہ خوف کہ
اے دلِ بے قرار! کیا ہوگا؟
جارہی ہے بہار، کیا ہوگا؟
گر انہوں نے یہ کہہ دیا ہم سے
کہ ’’نہیں تم سے پیار‘‘ کیا ہوگا؟
لوٹ کر وہ اگر نہ آئے تو
جن کا ہے انتظار، کیا ہوگا؟
تم نے ڈالا اگر گلے میں مِرے
بے وفائی کا ہار، کیا ہوگا؟
سوچ تو اپنے عشق کا عمار!
آخر انجام کار کیا ہوگا؟

(پیار کہانی جاری ہے۔۔۔۔)۔

عمار کو کیا سمجھا ہے؟

209 views August 31, 2007 | راہبر
No Gravatar

ایک طویل عرصہ سے میری شاعرانہ صلاحیتیں نجانے کہاں کھوگئی ہیں؟ جب سے غمِ روزگار نے جکڑا ہے، بہت کچھ چھوٹ گیا ہے۔ پرسوں رات جب سونے لیٹا تو شاعرانہ رنگ چھانے لگا۔۔۔ خیالات اگرچہ زیادہ مجتمع نہ کرسکا لیکن پھر بھی یہ غزل تخلیق پائی۔

گو ان کو مِرے پیار سے انکار نہیں ہے
لیکن مجھے لگتا ہے، انہیں پیار نہیں ہے

باتوں پہ نہ جا، دوغلے انسان ہیں یاں پر
دعوے تو ہزاروں ہیں، پہ کردار نہیں ہے

اس شہرِ خموشاں میں بھی انسان ہیں بستے
بس فرق یہ ہے، یاں کوئی خونخوار نہیں ہے

ہر ایک نہ چاہے گا تمہیں میری طرح سے
ہر شخص تو اب صورتِ عمار نہیں ہے

مصروف ہو گر تُم، تو مجھے بھی ہیں بہت کام
عمار کو کیا سمجھا ہے؟ بے کار نہیں ہے!

پیار کہانی (پہلی قسط)

227 views August 28, 2007 | راہبر
No Gravatar

صنفِ مخالف کی طرف کشش تو فطری بات ہے لیکن یاد نہیں کہ اسے پہلی بار کب اس بات کا احساس ہوا؟ بہر حال جو بھی تھا، بہت معمولی ہی سا تھا لیکن چھٹی جماعت میں آنے کے بعد جیسے اس کی زندگی بدلنے لگی۔ اسے لگا کہ وہ اب تک کی زندگی قید خانہ میں گزارتا رہا ہے۔ اس کی صلاحیتیں، اس کی خوبیاں، اس کی شیطانیاں، سب کچھ نکھرنے لگا۔۔۔ اظہار ہونے لگا۔ اپنی شخصیت کے کچھ ایسے گوشے بھی اس کے سامنے آنے لگے جس سے وہ خود بھی بے خبر رہا تھا۔ شاید تب ہی صنفِ مخالف کی طرف اس کا جھکاؤ غیر معمولی طور پر بڑھنے لگا۔ اس کے چہرے پر معصومیت کے آثار آہستہ آہستہ سوجھ بوجھ اور پر اعتمادی کے نشانات میں تبدیل ہونے لگے۔ مقامِ محبت بہت بلند ہے۔ اس منزل تک پہنچنا آسان نہیں۔ راہ میں ہزار مواقع سراب کی صورت آتے ہیں۔ اس کا سفر بھی اسی طرح طے ہوا۔ ہر پری صورت چہرہ دیکھ کر گمان ہوتا کہ شاید منزل یہی ہو لیکن منزل دور تھی۔ نویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے راہِ محبت میں ایک پڑاؤ آگیا۔ یہ کوئی معمولی راستہ نہ تھا۔ محبت کی راہ تھی۔ خوشگوار فضا، رنگین ماحول، مہکتی سانسیں، دھڑکتا دل۔ لیکن اس راہی کو ابھی یقین نہ تھا۔ یقین اس بات کا کہ وہ صحیح سمت میں سفر کررہا ہے یا نہیں؟ یقین اس بات کا کہ اس کے احساسات درست ہیں یا نہیں؟ ہزار سوالات۔۔۔ ان گنت خدشات۔۔۔ غور سے سنا تو اپنے اندر ہی، کسی گوشے سے یہ صدا آتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔
آج کیوں دل یہ بے قرار ہوا
ایسا لگتا ہے مجھ کو پیار ہوا

کیوں ہے بے تابی؟ کیوں ہے بے چینی؟
دل کو اب کس کا انتظار ہوا

اور کیا کیا کہوں میں ظالم کو
میرا دل لے کے جو فرار ہوا

جس سفینے کا نام چاہت ہے
اس سفینے پہ میں سوار ہوا

تیری عادت بھی خوب ہے عمار
تیرا دشمن بھی تیرا یار ہوا

پیار کہانی جاری ہے۔۔۔۔۔!

ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا

212 views August 25, 2007 | راہبر
No Gravatar

یہ نظم میں نے 13 جنوری 2003ء کو لکھی تھی:

مِری یادوں میں آنسو مت بہانا، وقت پر سونا
ہے اتنی التجا تم سے، کبھی ناراض مت ہونا

اگر میں دور جاؤں گا، تو واپس لوٹ آؤں گا
بھلا تم بِن بھی اپنا گھر، کہیں جاکر بساؤں گا؟
سنو! مصروف رہنا تم، کبھی یادوں میں مت کھونا

ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا

تِری زلفیں، تِرا ہنسنا، بہت ہی یاد آئے گا
تِرا ہر ایک جملہ مجھ کو ہر لمحہ ستائے گا
ذرا پھر سے کہو، “کانٹا جسم سے دور کردو نا!”

ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا

مِری دوری پہ آنسو، اے مِری جاں! مت بہادینا
ہے تم میں حوصلہ کتنا، یہ دنیا کو دکھا دینا
جب آجاؤں تو پھر بیشک گلے لگ کر بہت رونا

ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا

مِری یادوں میں آنسو مت بہانا، وقت پر سونا
ہے اتنی التجا تم سے، کبھی ناراض مت ہونا

خبر کیا تھی

202 views August 21, 2007 | راہبر
No Gravatar

یہ نظم میں نے 27 نومبر 2002ء کو انتہائی افسردہ حالت میں لکھی تھی :(

یہ باتیں مسکرا کر تم کیا کرتی نہیں مجھ سے
وفا کے عہد بھی ہرگز بھرا کرتی نہیں مجھ سے
جو ایسا تھا تو خود کو آشنا کرتی نہیں مجھ سے

یہ اب جانا کہ کچھ غلطی ہوئی شاید کہیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

میں یہ سمجھا کہ میرے واسطے ہے ہر ادا تیری
میں خاموشی سے سب سہتا رہا، جو تھی سزا تیری
خبر کیا تھی، نہیں میرے لیے کوئی وفا تیری

منایا میں نے ہر اِک بار جب بھی تم لڑیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

تاثر تھا تِرا کہ مجھ پہ تیری ہر عنایت ہے
نجانے کیا ہوا کہ اب تجھے مجھ سے شکایت ہے
مِری دیوانی چاہت کی تِرے لب پر حکایت ہے

کیا میں نے وہ سب کچھ، جو بھی تم کہتی رہیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

یہی چاہا ہے کہ ہو کچھ بھی مگر تم کو ہو آسانی
یہ سب کچھ جان کر بھی تم یونہی بنتی تھیں انجانی
ہوا ہے کیا تمہیں اب؟ کیوں ہوئی ہو مجھ سے بیگانی؟

وفائیں تم نے میری دھوکا دے کر مول لیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

کری جب بے وفائی، وہ بہت منحوس تھی ساعت
نہ یہ جانا کہ سچی ہے محبت، سچی ہے چاہت
نہ یہ کہ میں نے چاہی ہے ہمیشہ سے تِری راحت

نہ یہ سوچا کہ تیری مشکلیں کتنی ٹلیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

تمہارے سامنے کمتر بحر جانا، جبل جانا
تمہیں جانِ جسم مانا، تمہیں روحِ غزل جانا
تمہیں اپنی ابد مانا، تمہیں اپنی ازل جانا

نجانے راستہ پھر کیوں بدل کر تم چلیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

مِری سچی محبت جان کر بھی تم نے دل توڑا
نجانے کیا ہوا تم کو کہ تم نے مجھ سے منہ موڑا
یہ سب کرنے سے پہلے کاش سوچا ہوتا یہ تھوڑا

تمہاری زندگی میں کتنی کلیاں کھل اٹھیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

اگر مژدہ محبت کا سنا دیتیں تو کیا ہوتا؟
اگر کچھ خواب آنکھوں میں سجا دیتیں تو کیا ہوتا؟
اگر عمار کو اپنا بنا دیتیں تو کیا ہوتا؟

جواب آخر کوئی بنتا نہیں آ کر یہیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

کیا یہ سودا سستا ہے؟

255 views August 17, 2007 | راہبر
No Gravatar

میں آزاد شاعری زیادہ پسند نہیں کرتا۔ میرے اپنے مجموعے میں بھی بہت کم آزاد نظمیں ہیں۔ یہ نظم میں نے 17 اگست 2003ء کو جشنِ آزادئ پاکستان کے موقع پر لکھی تھی:

میں آزادی سے لے کر
آج تک کی گزری اس آدھی صدی پر
غور جب کرتا ہوں
یوں محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے یہ کوئی سنسان رستہ ہے
جہاں ہر ایک منزل پر پہنچنا چاہتا ہے
اس پر طرہ یہ کہ
سارے ایک ہی منزل کے طالب ہیں
مگر سارے الگ ہیں
دوسروں سے دور ہیں
مجبور ہیں
ہاں یوں تو منزل ایک ہے سب کی
مگر سارے جدا ہیں
اس لیے رستہ بھٹک کر
اتنا چل کر بھی وہیں موجود ہیں اب
جس جگہ سے ہم چلے تھے کہ
وہی ویران راہیں ہیں
وہی سنسان رستہ ہے
ذرا سوچو تو
کیا یہ سودا سستا ہے؟

میں بحیثیت شاعر

205 views August 17, 2007 | راہبر
No Gravatar

گذشتہ شب تعلیمی کاغذات کی تلاش میں اپنی الماری کھنگالی تو اپنی شاعری کے مجموعے نظر آگئے۔ میں نے اپنی شاعری کو محفوظ کرنے کا کام غالبا 2001ء میں شروع کیا تھا۔ پھر 2004ء تک شاعری کرتا رہا، ڈھیر سارا لکھا اور اس کے بعد اچانک سب کچھ ختم ہوگیا۔ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی ذہن اس طرف توجہ دینے کے قابل نہ رہا۔ کئی بار سوچتا ہوں کچھ لکھنے کا لیکن ایک دو شعر سے آگے بڑھ نہیں پاتا۔ خدا جانے کیا وجہ ہے؟
اب جو شاعری کے پرانے مجموعے نکال کر دیکھتا ہوں تو اس میں سے اکثر کا معیار اتنا گرا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ خود ہی حذف کرتا جاتا ہوں۔۔۔ ابھی ایک انتخاب میں نے اپنے ساتھ رکھا ہے۔۔۔ اس میں سے کانٹ چھانٹ کررہا ہوں۔ جو غزلیں اور نظمیں بہتر لگیں گی، ان کو بلاگ پر پیش کروں گا ان شاء اللہ۔