آرزوئے وصال مت کیجے
طویل وقفہ کے بعد آمد ہوئی تو ایک غزل کہی۔۔۔ اردو محفل پر اصلاح کے لیے پیش کی تو اعجاز عبید صاحب نے اصلاح دی۔ آپ بھی پڑھئے۔
آرزوئے وصال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
جو اسے لاجواب کر ڈالے
کوئی ایسا سوال مت کیجے
اس [...]
کٹھ پتلی
کل روزنامہ “ایکسپریس” کراچی کی اتوار کی اشاعت میں شامل میگزین کا مطالعہ کرتے ہوئے میری نظر سے درد بزمی (راولپنڈی) کی ایک تخلیق گذری جو واقعی بہت لاجواب اور موقع محل کی مناسبت سے ہے۔ آپ بھی لطف اندوز ہوں:
تیرے ہاتھ میں ڈور ہے آقا، کھیل تمہارا کٹھ پتلی
نام ہمارا کٹھ پتلی ہے، کام [...]
یہ موت کی آہٹ ہے کہ دل میرے کی دھڑکن؟
گذشتہ دنوں محفل پر وارث بھائی سے بات چیت کے دوران میں نے ان سے عرض کیا کہ اپنا کوئی تازہ کلام ارشاد کیجئے۔۔۔ تو کہنے لگے کہ آمد بالکل بند ہے۔۔ یہی حال یہاں میرا بھی ہے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ ایک مصرع ان کے ذہن میں کئی دنوں سے گردش کررہا تھا [...]
پیار کہانی (دوسری قسط)
ہماری زندگی میں کبھی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے یادگار بن جاتے ہیں۔ یا تو وہ خوشگوار یاد کے طور پر ساتھ رہتے ہیں، یا پھر عمر بھر کا روگ۔ اکثر اوقات ہمارے کسی عمل کے نتائج غیر متوقع ثابت ہوتے ہیں۔ بس ایسا ہی ایک واقعہ اس کی زندگی میں [...]
عمار کو کیا سمجھا ہے؟
ایک طویل عرصہ سے میری شاعرانہ صلاحیتیں نجانے کہاں کھوگئی ہیں؟ جب سے غمِ روزگار نے جکڑا ہے، بہت کچھ چھوٹ گیا ہے۔ پرسوں رات جب سونے لیٹا تو شاعرانہ رنگ چھانے لگا۔۔۔ خیالات اگرچہ زیادہ مجتمع نہ کرسکا لیکن پھر بھی یہ غزل تخلیق پائی۔
گو ان کو مِرے پیار سے انکار نہیں ہے
لیکن مجھے [...]
پیار کہانی (پہلی قسط)
صنفِ مخالف کی طرف کشش تو فطری بات ہے لیکن یاد نہیں کہ اسے پہلی بار کب اس بات کا احساس ہوا؟ بہر حال جو بھی تھا، بہت معمولی ہی سا تھا لیکن چھٹی جماعت میں آنے کے بعد جیسے اس کی زندگی بدلنے لگی۔ اسے لگا کہ وہ اب تک کی زندگی قید خانہ [...]
ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا
یہ نظم میں نے 13 جنوری 2003ء کو لکھی تھی:
مِری یادوں میں آنسو مت بہانا، وقت پر سونا
ہے اتنی التجا تم سے، کبھی ناراض مت ہونا
اگر میں دور جاؤں گا، تو واپس لوٹ آؤں گا
بھلا تم بِن بھی اپنا گھر، کہیں جاکر بساؤں گا؟
سنو! مصروف رہنا تم، کبھی یادوں میں مت کھونا
ہے اتنی التجا تم [...]
خبر کیا تھی
یہ نظم میں نے 27 نومبر 2002ء کو انتہائی افسردہ حالت میں لکھی تھی
یہ باتیں مسکرا کر تم کیا کرتی نہیں مجھ سے
وفا کے عہد بھی ہرگز بھرا کرتی [...]
کیا یہ سودا سستا ہے؟
میں آزاد شاعری زیادہ پسند نہیں کرتا۔ میرے اپنے مجموعے میں بھی بہت کم آزاد نظمیں ہیں۔ یہ نظم میں نے 17 اگست 2003ء کو جشنِ آزادئ پاکستان کے موقع پر لکھی تھی:
میں آزادی سے لے کر
آج تک کی گزری اس آدھی صدی پر
غور جب کرتا ہوں
یوں محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے یہ کوئی سنسان رستہ [...]
میں بحیثیت شاعر
گذشتہ شب تعلیمی کاغذات کی تلاش میں اپنی الماری کھنگالی تو اپنی شاعری کے مجموعے نظر آگئے۔ میں نے اپنی شاعری کو محفوظ کرنے کا کام غالبا 2001ء میں شروع کیا تھا۔ پھر 2004ء تک شاعری کرتا رہا، ڈھیر سارا لکھا اور اس کے بعد اچانک سب کچھ ختم ہوگیا۔ عملی زندگی میں قدم رکھتے [...]
ماوراء! زیادہ پڑھ لیا تھا کیا جو سر میں...