عوام پر ظلم

536 views September 18, 2008 | راہبر
No Gravatar

اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں اور سفر کے دوران وال چاکنگ پر غور نہیں کرتے تو یقین جانئے، بہت برا کرتے ہیں۔ :razz: بہرحال! وال چاکنگ پر تو میں پھر کبھی لکھوں گا کیونکہ اس پر ٹھیک ٹھاک لکھنے کا ارادہ ہے۔ ابھی پچھلے دنوں میں نے “پاسبان” کی طرف سے کچھ دیواروں پر دو عبارات لکھی دیکھیں۔ “پاسبان” شاید جماعتِ اسلامی کی بغل بچہ تنظیم ہے۔

پہلی عبارت:
فی لیٹر دودھ کی قیمت 12 روپے۔
فروخت 44 روپے۔
فی لیٹر منافع 32 روپے۔ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔

دوسری عبارت:
فی مسافر خرچہ 3 روپے
لیکن منی بس کا کرایہ 12 روپے
فی مسافر منافع 9 روپے۔ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔

(وضاحت: منی بس کا کرایہ 12 روپے کم سے کم ہے اور زیادہ سے زیادہ 14 روپے۔ بڑی بس کا کم سے کم کرایہ 11 اور زیادہ سے زیادہ 13 روپے۔ کوچز کا کرایہ شاید 17 روپے ہے)

اب میرے تین سوال ہیں۔

1۔ جو کچھ ان دو عبارات میں درج ہے، کیا یہ حقیقت ہے؟ تصدیق کس سے کی جائے؟
2۔ اگر یہ حقیقت ہے تو احتجاج کس سے اور کیسے ہو؟
3۔ کیا یہ ظلم کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہے گا یا۔۔۔۔۔؟؟؟

کسی کے پاس ہے ان سوالات کا جواب؟؟

تصحیح: میں نے پاسبان کے بارے میں لکھا تھا کہ شاید جماعتِ اسلامی کی بغل بچہ جماعت ہے لیکن کل ہی راستے میں وال چاکنگ دیکھ رہا تھا تو پتا چلا کہ جماعتِ اسلامی والی جماعت دراصل ’شباب ملی‘ ہے۔ یہ پاسبان کا نہیں پتا۔ ان عبارات کے ساتھ لکھا تھا: “پاسبان، صدر: الطاف شکور‘

بھرم بازی

346 views April 30, 2008 | راہبر
No Gravatar

میں بہت شریف انسان ہوں (واقعی)۔ سیدھا سادہ۔۔۔ لیکن چونکہ غصہ کا تیز اور جوشیلا ہوں اس لیے کچھ جلدی بھڑک جاتا ہوں۔ :razz: کل اچھی خاصی حرکت ہوگئی۔

بس میں جارہا تھا۔ قائد اعظم کے مزار سے کچھ پہلے گاڑی بیچ سڑک پر کھڑی ہوگئی۔ دونوں اطراف سے گاڑیاں گزر رہی تھیں۔ کچھ دیر تو میں نے خاموشی اختیار کی پھر حسب عادت کرخت آواز میں ڈرائیور پر گرجا۔ ڈرائیور نے معصومیت سے شیشے میں دیکھ کر کہا کہ یار آگے سارجنٹ نے روک رکھا ہے۔ یہ ٹریفک پولیس والے اپنے دھندے کے چکر میں ہر جگہ ہی کھڑے نظر آتے ہیں۔ میں نے ڈرائیور کو کہا کہ بھئی، گاڑی کھڑی کرنی ہے تو کنارے پر لگاؤ نا، یہ کیا بیچ میں کھڑے ہو۔ پتا چلا کہ سارجنٹ صاحب گاڑی کے عین سامنے آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔ پھر کنڈیکٹر آیا۔ مسافروں سے اپیل کرنے لگا کہ یار، آپ لوگ اترو، کچھ کہو۔۔۔ ہم حرام تو نہیں کماتے جو ان لوگوں کو دیدیں۔ میں بہت متاثر ہوا کہ یہ تو بڑا بہادر بنا ہے۔ دو، تین لوگ بس سے اتر رہے تھے۔ میں بھی اترا اور سارجنٹ کے پاس پہنچا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیوں روک رکھا ہے، جانے کیوں نہیں دیتا؟ کہنے لگا کہ تم لوگ کون ہوتے ہو؟ میری مرضی۔۔۔ اور اس گاڑی والے سے کہو، کاغذات دیدے، چالان کردیتا ہوں۔ اب کنڈیکٹر اس سے پوچھے کہ چالان کی وجہ تو بتاؤ نا؟ کیا میں نے کوئی سگنل توڑا؟ کوئی جرم کیا؟ تو اس پر وہ سارجنٹ اس کو گالیاں دے کہ تم لوگ میراثی کے بچے، صبر کرو، تمہارا تو میں یہ کروں گا، وہ کروں گا۔۔۔ عجیب بکواس۔۔۔ لوگ واپس آگئے۔۔۔ پھر میں نے بس میں کچھ لوگوں کو تیار کیا۔ لڑکوں کو بھی کہا کہ ویسے تو بہت بھرم مارتے پھرتے ہو، آؤ تو میدان میں۔ لیکن بے فائدہ۔ خیر، اب کی بار کچھ بوڑھے حضرات اترے۔ میں پھر ان کے ساتھ چلا۔ بوڑھوں نے بات کی تو ان سے بھی سارجنٹ نے بدتمیزی کی۔ مجھے تو غصہ تھا۔ میں نے کہا، ابھی تیرے ہاتھ میں پچاس روپے کا نوٹ رکھ دیں گے نا تو سب چالان بھول جائے تجھے۔ بس یہ سننا تھا کہ سارجنٹ نے تو سب کو چھوڑا، مجھ سے الجھ گیا۔

بس ڈرائیور نے موقع غنیمت جانا۔ اس نے گاڑی تھوڑا پیچھے کی اور رخ موڑ کر ایک طرف سے نکالنے لگا۔ باقی لوگ جلدی جلدی بس میں چڑھ گئے۔ جب بس کا دروازہ میرے قریب آیا تو میں بھی سوار ہوگیا۔ سارجنٹ اپنی بڑبڑا رہا تھا، میں نے چینخ کر اسے کہا، حرام لگ گیا ہے تمہارے منہ کو بے غیرتو۔۔۔ :razz: اس پر تو اس نے ماں بہن کی گالیاں شروع کردیں۔ بس آگے بڑھ رہی تھی۔ میں نے اس کی طرف ہاتھ کا اشارہ کیا اور کہا، لعنت ہو تجھ پر۔ وہ فورا اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہوا اور آگے بڑھا۔ تاثر اس نے یہ دیا کہ جیسے وہ ہمارا پیچھا کرے گا لیکن دراصل ان گرے ہوئے لوگوں میں اتنی جرات نہیں ہوتی اور جہاں کئی لوگ ہم آواز ہوجائیں، وہاں سے یہ لوگ فرار ہونے میں ہی عافیت جانتے ہیں لہذا وہ بھی موٹرسائیکل لے کر ایک طرف ہوگیا۔ میں نے اپنے ساتھ والے ایک لڑکے کو خوب سنایا کہ ویسے تو تم بڑی بڑی ہوائیاں مارتے ہو کہ فلاں کو ایسا بھرم دیا، فلاں کے ساتھ ایسا کیا۔ وقت پڑا تو تمہاری آواز نہیں نکل رہی تھی؟ لوگ بہانے بنارہے تھے کہ ہمیں کیا حق پہنچتا ہے اس کے معاملہ میں بولنے کا؟ میں نے کہا، اتنا تو فرض بنتا ہے کہ مظلوم کی حمایت کرو؟ اگر کوئی ظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہورہا ہے تو تم اس کا ساتھ تو دے سکتے ہو؟ بہرحال، ہم منزل مقصود پر پہنچے۔

گھر پہنچ کر یہ قصہ سنایا تو امی، ابو کی ڈانٹ :sad: کہتے ہیں، اکیلے کھڑے ہوجاتے ہو، کوئی ساتھ نہیں دے گا تمہارا۔ میں نے کہا، نہیں دیتا تو نہ دے۔ میں خود ہی کرتا رہوں گا ایسے۔۔۔ ایک دن لگے گی اخبار میں بڑی سی خبر۔۔۔

اور کسی “اور” نے بھی مجھ پر بہت غصہ کیا۔ :cry:

کچرا

295 views April 24, 2008 | راہبر
No Gravatar

“کچرا نہ پھیلائیں۔ سب کو یہ سمجھائیں۔”

“کچرا کوڑے دان میں ڈالئے۔”

ایسے مزید بھی کچھ جملے شاید آپ کی نظر سے گزرے ہوں۔ حکومت نے کئی جگہ لکھوائے ہیں۔ لیکن آج میری نظر سے ایک منفرد جملہ گزرا۔ جانتے ہیں، کیا؟

“خدا کے لیے یہاں کچرا نہ ڈالیں۔”

ذرا محسوس کیجئے، کتنی بے بسی اور لاچاری سے التجاء کی گئی ہے۔ یہ ناظم آباد کے علاقہ میں ایک کونے کے مکان کی دیوار پر لکھا ہوا تھا۔ غالبا اس گھر کے سامنے لوگ کچرا ڈال جایا کرتے ہوں گے جس پر اس بے چارے نے تنگ آکر یہ جملہ لکھوایا ہوگا۔

یہاں کچرا پھیلانے والے بہت ہیں۔ یا یوں کہئے کہ یہاں کچرا بہت ہے۔ جب سے شہری حکومتوں کا نظام آیا ہے، صفائی ستھرائی پر کچھ توجہ دی جانے لگی ہے لیکن اب بھی بہت کچھ کرنا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ ہمیں خود احساس کرنا ہے اس مسئلہ کا۔۔۔ ہمیں خود کچرا پھیلانے سے بچنا ہے۔

ہمارے گھر سے کچھ دور ایک پلازا ہے۔ وہاں دوسری تیسری منزل کے ایک بزرگ اکثر چینختے ہوئے ملتے تھے کہ لوگ پلازا کے کنارے کچرا ڈال جاتے ہیں جس سے بدبو کے بھبکے اٹھتے رہتے ہیں (واضح رہے کہ وہ جگہ باقاعدہ کچرا ڈالنے کی جگہ ہی ہے)۔ خیر، وہ بزرگ ہر وقت کچرا ڈالنے والوں پر گرجتے برستے رہتے۔ ایک دن ابو وہاں سے گزر رہے تھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ بزرگ خود اپنے گھر سے کچرا نیچے پھینک رہے ہیں۔ ابو نے انہیں دیکھا تو وہ کچھ بوکھلا سے گئے اور پھر کہنے لگے کہ اصل میں یہ کچرا ہم سے اوپر والوں نے ہماری گیلری میں پھینک دیا تھا اس لیے اسے نیچے پھینک رہا ہوں۔ :razz:

کچھ گھرانوں میں تو صفائی کا معیار بہت گرا ہوا ہے۔ کچرے کی تھیلیاں بنائیں اور وہیں سے بیٹھے بیٹھے کھڑکی سے باہر پھینک دیں۔ اب چاہے وہ کسی کے سر پر جاگرے یا کچھ بھی ہو۔۔۔ انڈا توڑا، توے پر ڈالا اور چھلکا کھڑکی سے باہر۔۔۔ شہر کے ان علاقوں میں ایسے واقعات اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں میمن برادری کی اکثریت ہو۔ لیکن یہ حرکت صرف ان ہی تک محدود نہیں بلکہ دوسرے بھی کرتے ہیں۔ ہماری ہی بلڈنگ میں ایک گھر سے سب کو یہ شکایت تھی۔ بارہا کہا لیکن کچھ اثر نہ ہوا۔ شرم دلانے کے لیے ان کو کچرا ڈالنے کی ٹوکری بھی دی گئی لیکن اس کے باوجود وہی شکایت۔

حاصل گفتگو یہ کہ کچرا اپنے مقام پر ڈالیں۔

27 مارچ 2008ء

307 views March 27, 2008 | راہبر
No Gravatar

میں جہاں کام کرتا ہوں، اس جگہ سے کچھ ہی آگے ابو کی دکان ہے تو میں اکثر صبح ابو کے ساتھ ہی بائیک پر نکل آتا ہوں۔ آج ہمیں کچھ دیر ہوگئی تھی تو گولیمار چورنگی سے ابو نے گولیمار کی طرف جانے کے بجائے گاڑی دائیں طرف موڑ لی اور پرانا گولیمار کی طرف سے نکلے۔ وہاں میں نے سیاہ بینر لگے ہوئے دیکھے جنہیں پڑھ کر مجھے بے انتہا حیرت ہوئی اور از حد افسوس بھی۔ لکھا تھا:

27 مارچ 1948ء کو بلوچستان پر پاکستان کا ناجائز قبضہ نامنظور
بلوچستان نیشنل فرنٹ

:cry:

۔۔۔۔۔۔

ایک رکشہ کے پیچھے یہ شعر لکھا ہوا دیکھا:

عدل و انصاف فقط حشر پہ موقوف نہیں
زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے

مشاہدات

281 views March 27, 2008 | راہبر
No Gravatar

میرے ابو اکثر کہا کرتے ہیں کہ وہ شخص کامیاب ہوتا ہے جس کا مشاہدہ تیز ہو اور وہ اپنے مشاہدات سے سبق حاصل کرے۔ ہر آنکھ والا بے شمار مناظر دیکھتا ہے لیکن ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی جو اپنے اردگرد کے حالات و واقعات کو دماغ کی آنکھ سے دیکھ کر انہیں محفوظ کرلیتے ہیں۔

مشاہدات عام طور سے بہت مختصر ہوتے ہیں لیکن ان میں گہرائی بہت ہوتی ہے یا ان کے کئی اہم اور مفید پہلو ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان پر ایک لمبی چوڑی تحریر لکھی جائے۔

آج میں اپنی بیاض پر ایک نیا زمرہ شامل کر رہا ہوں جس کا نام ہے: “مشاہدات” جس کے تحت میں اپنے مشاہدات تحریر کروں گا اور ہر تحریر کا عنوان وہ تاریخ ہوگی جب میں نے کسی امر کا مشاہدہ کیا۔ مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ بے حد معلوماتی اور مفید ثابت ہوگا۔