آہ ثاقب۔ تصاویر

37 views August 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

15 اگست 2008ء کو دفتر سے واپسی پر ثاقب کے گھر ہی چلا گیا۔ عصر پڑھ کر تھوڑی دیر میں پتا چلا کہ پولیس اسٹیشن جارہے ہیں جہاں ملزم، واٹر ٹینکر اور موٹر سائیکل موجود ہے۔ میری ایک چاچی کے بھائی پولیس میں اچھے عہدے پر ہیں۔ ایک ان کی گاڑی تھی اور ایک فرحت پھپھا کی۔ شاید فیروز آباد کا تھانہ کہلاتا ہے جہاں ہم پہنچے۔ بتایا گیا کہ ملزم کو جیل لے جایا جاچکا ہے۔ ہم تین لڑکوں کو حکم ہوا کہ باہر کھڑے رہو اور بڑے اندر بات کرنے چلے گئے۔ میں نے فہد سے کہا، موبائل فون میں کیمرہ ہے نا تو نکالو۔۔۔ ہم نے فوٹو گرافی شروع کردی۔
مزید پڑھیں »

آہ ثاقب!

69 views August 15, 2008 | راہبر
No Gravatar

12 اگست 2008۔ بروز منگل۔
میں ایک دوست کے ساتھ سہ پہر سے پی۔اے۔ایف میوزیم میں تھا۔ رات 9 بجے ہم نکلنے ہی والے تھے کہ میرا موبائل فون بجنے لگا۔ دوسری طرف امی تھیں۔ گھبرائی ہوئی آواز میں بولیں، ثاقب اور انجم پھپھو کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، صبا چاچی کا فون آیا تھا، سعد کو فون کرکے کنفرم کرو۔ میرا دماغ جیسے میرا ساتھ چھوڑ گیا۔ ہاں ہوں کرکے فون بند کیا۔ سوچا، سعد کو کیوں، ثاقب کے گھر ہی فون کرکے کیوں نہ معلوم کروں۔ اس کے گھر فون کیا، ثاقب کی چھوٹی بہن نے اٹھایا۔ میں نے پوچھا تو روتے ہوئے بولی کہ بھائی اور امی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، پتا نہیں کس حال میں ہیں۔ میں نے پوچھا، کہاں ہیں وہ؟ کون ہے ان کے ساتھ؟ تو کہنے لگی کہ ابو گئے ہیں۔ پھر میں نے گھر فون کیا اور امی کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ شاید بچیوں کو نہ بتایا ہو لیکن دونوں کا انتقال ہوگیا ہے۔ :cry: (اناللہ وانا الیہ راجعون)
مزید پڑھیں »

Protected: مائی بیسٹ نیٹ فرینڈ

35 views July 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

This post is password protected. To view it please enter your password below:


وکیل صاحب

122 views May 13, 2008 | راہبر
No Gravatar

میں اس بات پر خدا کا بہت شکر ادا کرتا ہوں کہ اردو محفل پر آنے کے بعد مجھے بہت اچھے اچھے دوست اور ساتھی ملے۔ کافی دوستوں سے ملاقات کا تذکرہ تو میں پہلے اپنی کچھ تحاریر میں کرچکا ہوں لیکن ایک شخصیت پر لکھنے کا مجھ پر اب تک قرض تھا اور ایک عرصہ سے میری کوشش تھی کہ یہ قرض چکادوں۔ آج وقت ملا ہے اور وہ شخصیت ہے شعیب صفدر کی۔

دو ماہ پہلے تک میری شعیب صفدر سے زیادہ واقفیت نہ تھی۔ کبھی بھولے سے ان کے بلاگ پر چلا جاتا تھا، ورنہ کبھی کبھی یہ خود اردو محفل پر اپنا دیدار کروا جاتے تھے۔ آج کل ان کا بلاگ تجربات کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔ ایک دن قدیر کے بلاگ پر پڑھا کہ شعیب صفدر نے قدیر سے میرا موبائل نمبر لیا ہے۔ اسی دن انہوں نے فون پر رابطہ کیا اور پھر سلسلہ چل پڑا۔ اگلے دن ہماری ملاقات ہوئی، ان کی جانب سے لنچ کیا گیا۔ اس کے بعد مزید دو، ملاقاتیں ہوئیں۔

وکیل ہیں، شاید اسی لیے بہت حاضر جواب ہیں۔ پنجابی ہیں شاید اس لیے کافی سے زیادہ خوش مزاج ہیں۔ اچھے انسان ہیں شاید اس لیے صاف گو ہیں۔ :razz: آپ جتنے بھی سنجیدہ انسان ہیں، منہ بناکر بیٹھے ہوں، ان کے لب کھلیں گے تو ان کے ساتھ ساتھ آپ کے منہ سے بھی قہقہے جھڑیں گے۔ سنجیدہ باتوں میں مزاح کا پہلو نکالنا اور موقع کی مناسبت سے دلچسپ واقعات اور لطائف کو برجستہ بیان کرنا ان کی ایسی خوبی ہے جس نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے۔ ابتدائی ملاقات میں تو میں خاموش ہی ہوگیا تھا۔ یہ اتنا برجستہ کہتے تھے کہ کوئی جواب سمجھ ہی نہیں آتا تھا۔ بعد میں، میں نے سوچا کہ کہیں یہ نہ سمجھیں کہ میں بور ہوتا ہوں اس لیے میں نے زبردستی بولنا شروع کیا۔ اب باتیں کرلیتا ہوں۔ :wink:

ہر کچھ عرصہ بعد ایس۔ایم۔ایس یا فون کرکے حال چال پوچھتے ہیں، پھر مصروفیات کے بارے میں سوال ہوتا ہے۔ فرصت کا وقت ہو تو فورا ملنے کی پیشکش کرتے ہیں کہ شام میں کہیں مل بیٹھ کر کچھ کھاتے پیتے ہیں۔ چونکہ یہ اپنے بڑے ہونے کا حق جتاکر مجھے کوئی خرچہ نہیں کرنے دیتے، اس لیے مجھے تھوڑی سی شرمندگی بھی ہوتی ہے۔

ان سے بات کرنے بیٹھیں تو گھنٹہ گزرنے پر بھی لگتا ہے کہ کچھ ہی وقت ہی گزرا ہے۔ بہت اچھے انسان ہیں۔ اب میں زیادہ تعریفیں کروں گا تو کہیں گے کہ وہ خوبیاں بھی بیان کرڈالیں جو خود ان کے علم میں نہیں تھیں اس لیے اتنا ہی کافی ہے۔ :smile:

شعیب صفدر کے بارے میں قدیر احمد کی تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایک دن میرزا محب دہلوی کے ساتھ

219 views April 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

آپ نے میرزا محب دہلوی کو دیکھا ہو یا نہ ہو، ملے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، نام تو یقینا سنا ہی ہوگا۔ میں انہیں زمانہ حال کی نادر و نایاب اشیاء (یا افراد) میں گردانتا ہوں۔ اب آپ بھلے مجھ سے لاکھ اختلاف کریں، لیکن میں اپنے بیان پر مصر ہوں۔ آپ ان سے بات کیجئے، جھٹ سے فروغ اردو کے لیے آپ کو رضاکار بننے کی تجویز دیں گے۔ پھر آپ چاہے ہنس کر ٹال دیں یا بات گھمادیں، لیکن اس خوش فہمی کا شکار ہرگز نہ ہوں کہ آپ کو کامیابی مل گئی ہے۔ دو لمحے کی مزید گفتگو کے بعد آپ کو ایک بار پھر دعوت دی جائے گی اور دعوت کا یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جائے گا اگرچہ آپ کام شروع بھی کردیں۔ آپ بہانے کرتے کرتے تنگ آجائیں گے لیکن یہ ہرگز تنگ نہ ہوں گے۔

کچھ لوگ سوچتے ہیں اور کچھ پوچھتے بھی ہیں کہ یہ موصوف ہم سے اتنا کام کرواتے ہیں پر خود کیا کرتے ہیں؟ یہ اکثریت کے لیے ایک معمہ ہے اور اسے معمہ ہی رہنا چاہئے۔ اگرچہ بزرگ بلونگڑے قدیر احمد مدظلہ العالی نے میرزا محب دہلوی کو “گفتار کا غازی” پکار کر کچھ انکشاف کرنے کی کوشش کی ہے تاہم بہتر ہے کہ آپ ایسی باتیں نظر انداز کردیں۔

عرصہ سے اڑتی اڑتی خبر تھی کہ میرزا صاحب کراچی تشریف لائیں گے اور آخر کار وہ گھڑی آگئی کہ موصوف نے 19 اپریل 2008ء کو اپنی آمد سے شہر کراچی کو شرف بخشا۔ اگلے دن، اتوار کو ان کا فون آیا تو پتا چلا کہ کچھ مقامات دیکھنے کا ارادہ ہے۔ کچھ دیر بعد ہم نے ان کے میزبان ابو شامل کو فون گھمایا۔۔۔ پتا چلا کہ پہلے پی۔اے۔ایف میوزیم چلنے کا ارادہ ہے۔ ادھر ہم پہنچے، ادھر میزبان اپنے مہمان صاحب کو لے پہنچے۔

کچھ دیر باتیں ہوئیں، ٹھنڈا پیا۔ اسی دوران کراچی اور لاہور کا تقابل ہونے لگا۔ پتا یہ چلا کہ کل رات سے یہی بحث جاری ہے کہ لاہور کو اتنا سر چڑھا کر کیوں بیان کیا جاتا ہے؟ میرزا محب دہلوی اکثر کافی زور و شور سے لاہور کی برتری ثابت کرنے کی کوشش فرماتے۔ کچھ دیر بعد نماز ظہر ادا کی۔ اس کے بعد میوزیم کے معائنہ کے لیے اندر داخل ہوئے۔ میں کراچی میں رہتے ہوئے اس طرف پہلی بار آیا تھا۔ بہت دلچسپ اور معلوماتی دورہ تھا۔ غالبا محب صاحب کو اس میں خاص دلچسپی محسوس نہ ہوئی لہذا وہ ہم سے پہلے ہی گھوم پھر کر باہر نکل گئے۔ ابوشامل مجھے جہازوں اور ہتھیاروں کے بارے میں کافی معلومات فراہم کرتے رہے۔ ہم تو شاید مزید کافی دیر وہیں لگادیتے لیکن میرزا صاحب کی مس۔کالز آنے لگیں۔ لہذا ہم باہر نکلے۔ اب موصوف کو ڈھونڈتے ہیں تو نظر نہیں آتے۔ کچھ دیر بعد میری نظر پڑی تو ایک جوڑے کے پہلو میں بیٹھے فون پر گفتگو میں مصروف تھے۔ ہم نے انہیں وہاں سے اٹھایا۔ فرمانے لگے، میں نے ایک جوڑے کو مخصوص مسائل پر گفتگو سے ہٹ کر عمومی مسائل پر گفتگو کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ :) پھر کچھ دیر سیاسی و تاریخی گفتگو فرمائی۔ چائے کا دور چلا۔ وقفہ وقفہ سے کراچی اور لاہور کا تقابل جاری رہا۔

پھر یہ طے کیا جانے لگا کہ اگلی منزل کیا ہوگی؟ میرزا محب دہلوی کو کوچہ ثقافت دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا۔ اگرچہ ہم نے انہیں کہا بھی کہ ثقافت تو یہاں بھی اچھی خاصی نظر آرہی ہے لیکن موصوف بضد تھے لہذا کوچہ ثقافت کی ٹھانی۔ تاہم جب منزل پر پہنچے تو یہ دیکھ کر خاصی مایوسی ہوئی کہ کوچہ ثقافت لپیٹ دیا گیا تھا۔ شاید انہیں میرزا صاحب کے آنے کی خبر ہوگئی تھی۔ :D انہیں بڑا افسوس ہوا۔

قریبی مسجد میں عصر کی نماز ادا کی۔ اب سوچنے لگے کہ یہاں سے کہاں جایا جائے؟ ہمارا ارادہ تھا کہ ساحل سمندر پر چلتے ہیں لیکن میرزا صاحب فرماتے تھے کہ انہوں نے پہلے بھی دیکھا ہوا ہے لہذا کسی “اور” جگہ چلا جائے۔ اب یہ “اور” کافی قابل غور بھی ہوسکتا تھا لیکن اس “اور” کے “قابل غور” ہونے کے لیے “لاہور” والے کا ہونا بہت ضروری تھا اس لیے آخر کو سمندر کی طرف روانہ ہوئے۔

ساحل پر پہنچ کر میرزا صاحب سٹے کی بابت دریافت کرنے لگے۔ ہم معصوم تو بے چارے ایک ہی سٹے کو جانتے ہیں جو کسی کھیل پر لگایا جاتا ہے لیکن راز کھلا کہ ان کے “سٹے” سے مراد وہ ہے جسے ہم “بھٹہ” کہتے ہیں۔ میرا اور ابو شامل کا دل نہیں تھا۔ میرزا صاحب نے ایک جگہ سے “سٹہ” لیا۔ میں اور ابو شامل کھڑے باتیں کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد دیکھتے ہیں تو میرزا صاحب ایک دوسرے سٹے والے کے ٹھیلے پر پہنچے ہوئے تھے۔

خیر، اس کے بعد ہم نے انہیں ساحل کے ساتھ ساتھ بہت پیدل چلایا۔ کافی دیر بعد جب ہم بیٹھے تو اندھیرا چھا رہا تھا۔ چائے پی، کھایا پیا، اور اس کے بعد گھر کو روانہ ہوئے۔۔۔

پیسہ ہضم، کہانی ختم۔

صوفی نعیم بابا

160 views January 26, 2008 | راہبر
No Gravatar

کہتے ہیں کہ موٹے لوگ بہت خوش مزاج ہوتے ہیں۔ یہ کہاوت نعیم صاحب کو دیکھ کر سچ لگتی ہے۔ یہ میرے ساتھ کام کرتے ہیں۔ انگریزی میں بولے تو کولیگ۔ اسلامی نظریات میں انتہا پسندوں سے کم اور مجھ سے کچھ زیادہ شدت ہے۔ موڈ میں ہوں تو خود کو اہلِ علم اور اہلِ نظر کہتے ہیں۔ اگر آپ ان کی بات کی حمایت کرنے لگیں تو آپ کو بھی اہلِ علم میں شمار کرنے لگیں گے۔
ان کو لنگر کھانے کا بے حد شوق ہے۔ پہلے سے علم رکھتے ہیں کہ کس جگہ کون سا پروگرام یا محفل ہے جہاں سے لنگر مل سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا حجم بھی اچھا خاصا ہے۔
کچھ دن پہلے کی بات ہے، میرے ساتھ کھڑے تھے۔ اچانک غور کیا تو کہنے لگے، ارے آپ کا قد مجھ سے زیادہ بڑا ہے؟ میں نے کہا، کیا آپ پر اب انکشاف ہوا؟ بولے، ہاں! ابھی غور کیا۔ پھر کہنے لگے کہ جبھی میں سوچوں آپ کی عقل ٹخنوں میں لگتی ہے۔ میں نے کہا، میری عقل تو چلو ٹخنوں میں ہے پر ہے تو سہی، موٹوں کی عقل تو پیٹ میں چلی جاتی ہے اور جو چیز پیٹ میں چلی جائے وہ بچتی نہیں، باہر نکل جاتی ہے۔ :razz: کھی کھی کرکے ہنسنے لگے۔
اکاؤنٹنٹ کو ایک بات سے بہت چِڑ ہے۔ یہ جب بھی آتے ہیں، سیٹ کے پیچھے سے لگ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس صورت میں سیٹ پر بیٹھنے والے سے ان کا پیٹ ٹکراتا رہتا ہے۔ اب یہ جب بھی کمرے میں داخل ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے، پیٹ لگاکر مت کھڑے ہوجانا۔
پچھلے دنوں بتانے لگے، کچھ وظائف اور تعویذات وغیرہ کی اجازت مل گئی ہے۔ میں نے کہا، چلو بھئی اب یہ ملازمتوں کو مارو لات، گھر میں آستانہ کھولو اور شروع ہوجاؤ۔۔۔ کہنے لگے، ابھی نہیں۔ کچھ عرصہ بعد دیکھیں گے۔ ریاض صاحب بولے، کمائی بھی بہت ہوتی ہے اور عورتیں بھی آتی ہیں۔ :smile: میں نے کہا، نام یہی رکھ لینا، صوفی نعیم بابا۔
کتابیں پڑھنے اور جمع کرنے کا بے حد شوق ہے۔ گھر کا خرچ مشکل سے چلاتے ہیں لیکن کتابوں میں اکثر رقم خرچ کردیتے ہیں۔ گھر میں کتابیں رکھنے کی جگہ بھی نہیں۔ ایک دفعہ بتانے لگے، بیگم نے تنگ آکر بہت سی کتابیں ردی والے کو بیچ دی تھیں۔
بیگم سے بہت ڈرتے ہیں۔گھر میں بتائے بِنا کہیں چلے جاتے تھے اور گھر والے پریشان۔ آخر کو بیگم نے حل سوچ لیا۔ ایک دن افسردہ ہوکر بتانے لگے کہ یار، بیگم نے کہا ہے، اب روز شام کو دفتر فون کرکے معلوم کروں گی کہ کب تک نکلو گے؟ :lol: میں نے کہا، اچھا ہوا۔ ایک نہ ایک دن تو یہ نتیجہ نکلنا ہی تھا۔
کہاں تک لکھوں ان کے کارنامے۔۔۔ ڈر ہے کہ زیادہ پرسنل نہ ہوجائے۔۔۔ اس لیے فی الحال اتنا ہی۔

Protected: نور کی واپسی

311 views December 18, 2007 | راہبر
No Gravatar

This post is password protected. To view it please enter your password below:


Protected: میری آپی

130 views November 16, 2007 | راہبر
No Gravatar

This post is password protected. To view it please enter your password below:


ارضان آپی کے نام!

115 views October 30, 2007 | راہبر
No Gravatar

یہ خصوصی تحریر میری آپی جان کے لیے ہے جنہوں نے لوگوں کے رویئے کے سبب یہ عزم کرلیا کہ وہ ورڈ پریس کی تھیمز کو اردو قالب میں ڈھال کر دکھائیں گی اور پھر انہوں نے ایسا کردکھایا صرف دو دن میں!
گریٹ آپی! یہ سب آپ کی ہمت، محنت اور جوش و جذبہ کی وجہ سے ہے۔ میری دعا ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر کامیابی آپ کے قدم چومے اور ڈھیرررررر ساری خوشیاں نصیب ہوں۔ ویسے میں آپ کے بلاگ کا پتہ نہیں دے رہا ہوں لیکن اگر آپ چاہیں کہ دوسرے لوگ بھی‌آپ کی محنت دیکھ سکیں تو تبصروں میں اپنے بلاگ کا پتہ لکھ جایئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)
(اب جو غلطیاں باقی رہ گئی ہیں اس تھیم میں، وہ کل ٹھیک کرنی ہیں لازمی۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ آئی نا)

خوش قسمت دن

1 views June 4, 2007 | راہبر
No Gravatar

جس دن آپ کی ملاقات کسی اہم یا بہت قابل و فاضل شخصیت سے ہو تو وہ دن آپ کے لئے بہت یادگار ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
سو، دو دن قبل یعنی سنیچر (ہفتہ)، 2 جون 2007ء کو ہماری ملاقات ایسی ہی ایک قابل شخصیت سے ہوئی جسے علمدار بھائی کے بقول قابل نہیں، (کمپیوٹر کا) قاتل کہنا چاہئے۔۔۔۔۔ امید ہے آپ پہچان گئے ہوں گے۔۔۔۔۔۔ وہ شخصیت ہیں:
محمد علی مکی بھائی
یہ ان سے میری دوسری ملاقات تھی۔ پہلی ملاقات میں، میں نے ان سے ایکس۔اوبنٹو کی سی۔ڈی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد میں کافی عرصہ سے ان کی جان کھارہا تھا کہ بھائی مجھے اوبنٹو کی سی۔ڈی اور اس کے کچھ سافٹ ویئرز فراہم کردیں۔ آخر سنیچر کو جب میری اور مکی بھائی کی جی۔میل پر چیٹ ہوئی تو مکی بھائی نے یہ خوشخبری سنائی کہ انہیں ریگل کی طرف ایک کام سے آنا ہے سو وہ بنفس نفیس میرے دفتر تشریف لاکر میری مطلوبہ اشیاء مجھے فراہم کردیں گے اور جناب کچھ ہی دیر میں وہ میرے دفتر تشریف لے آئے۔
وہ آئیں ہمارے دفتر یہ ہماری قسمت۔۔۔۔۔!
حسبِ سابق تقریبا آدھ گھنٹے کی نشست میں مختصرا مختصرا کئی موضوع زیر بحث آئے۔۔۔۔۔۔ میرے پاس کیمرہ نہ تھا ورنہ تصویر ہی کھینچ لیتا آپ لوگوں کو دکھانے کے لئے۔۔۔۔