صدرِ پاکستان۔ مبارک ہو!

446 views September 8, 2008 | راہبر
No Gravatar

آخرکار جناب آصف علی زرداری صدرِ پاکستان منتخب ہوگئے۔ ان کے چاہنے والوں کو بہت بہت مبارک اور نہ چاہنے والوں کو مشورہ کہ برا بھلا کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، کیوں نہ سوچ میں کچھ تبدیلی لائیں۔ بہرحال، ایک فوجی صدر سے عوامی صدر بہتر ہے۔

آصف زرداری پر لاکھ الزامات سہی، لیکن غیر جانبداری سے دیکھئے تو اکثریت سیاسی مقدمات ہی کی نظر آتی ہے۔ رہی بات کرپشن کی تو آپ کو پاکستان کے ابتدائی دور کے قائدین کے علاوہ کون سا ایسا راہنما ملا ہے جس کے ہاتھ بالکل صاف ہوں۔ آصف زرداری کی کردار کشی کی مہم میں ملکی و غیر ملکی میڈیا کا بہت ہاتھ رہا۔ بہرحال! اب وہ چونکہ صدرِ پاکستان کے عہدے پر فائز ہوچکے ہیں تو امید ہے کہ پروپیگنڈے کے تسلسل میں کچھ کمی آئے گی۔

حیرت کی بات ہے کہ اب تک پاکستان کو جو بھی حکمران نصیب ہوئے، ان میں سے اکثر کے آنے پر مٹھائیاں اور جانے پر بھی مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، عوام کی کثیر تعداد نے ان کے آنے کی خوشی منائی اور جانے کی بھی لیکن آصف زرداری آئے ہیں تو عوام کی اکثریت اداس اور مایوس ہے۔ خدا کرے کہ جس طرح ان کے آنے پر ردِ عمل خلافِ معمول ہوا ہے اسی طرح ان کے جانے پر بھی عوامی ردِ عمل خلافِ معمول ہو اور جب وہ اپنی صدارت کی مدت پوری کرکے ایوانِ صدر سے رخصت ہوں تو قوم مٹھائیاں باٹنے اور خوشی منانے کے بجائے رنجیدہ ہو اور تمنا کرے کہ اسے آصف زرداری کا دورِ صدارت مزید نصیب ہو۔

اس وقت تمام نظریں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف لگی ہیں۔ ملک کی تمام تر صورتحال پیپلز پارٹی کے ذمہ ہے۔ ملک کا صدر بھی ان کا ہے اور وزیر اعظم بھی یہاں تک کہ چار میں سے تین صوبوں میں حکومت بھی انہی کی ہے۔ یقینا پیپلز پارٹی کے قائدین کو اس حقیقت کا واضح ادراک ہوگا اور وہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ کیونکہ اگر اب کے پیپلز پارٹی نے عوام کو ریلیف نہیں دیا تو نہ صرف یہ بڑی جماعت اپنا وقار اور اعتماد کھو بیٹھے گی بلکہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوجائے گی۔

سو، تمام تر نیک خواہشات کے ساتھ۔۔۔ جناب آصف علی زرداری صاحب کو صدرِ پاکستان کا عہدہ بہت بہت مبارک ہو۔

لعنۃ اللہ علی الظالمین

204 views August 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

21 اگست 2008ء بروز جمعرات۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے کچھ فاصلہ پر واقع پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے دو مرکزی دروازوں پر ہونے والے خود کش حملے میں اب تک کی اطلاع کے مطابق 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ (خبر)

تحریک طالبان، پاکستان کے مولوی عمر نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ان کے خلاف کاروائی کا رد عمل قرار دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت کے فوجی آپریشن سے عام شہری ہلاک ہورہے ہیں۔ اس عقل کے اندھے کو یہ نظر نہیں آتا کہ اس کی کاروائیوں میں بھی مارے جانے والوں کی اکثریت عام شہریوں ہی کی ہے۔ مولوی عمر کا کہنا ہے کہ

ان کو اس بات کا احساس ہے کہ عام لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واہ کینٹ میں ان کا ہدف عام شہری نہیں بلکہ سکیورٹی اہلکار تھے۔

کس قدر احساس ہے جناب کو عام لوگوں کی “تکلیف” کا۔ کتنے گھر اجڑ گئے اور کہتے ہیں کہ عام لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے؟؟؟ اگر حملے اسی لیے ہیں کہ فوجی آپریشن سے عوام متاثر ہورہے ہیں تو ان کے حملوں سے بھی عام شہری ہی متاثر ہورہے ہیں نا۔ 100 بندے مریں تو دس سیکورٹی اہلکار اور نوے بے گناہ شہری مرتے ہیں۔

یہ اسلام ہے؟ طالبان کا اسلام؟ اسلام تو نام ہے سلامتی کا۔۔۔ امن کا۔۔۔ شانتی کا۔۔۔ لعنۃ اللہ علی الظالمین

وقت

195 views August 9, 2008 | راہبر
No Gravatar

کل کا قیدی آج کا شریک چیئرمین اور کل کا ملک بدر آج کا ہیرو۔ ؛) 1947ء میں آزاد ہونے والا ملک ابھی ترقی پذیر اور 1949ء میں آزادی پانے والا ملک ابھرتی ہوئی سپر پاور۔ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔

کبھی لوگ دل کو تسلی دینے کے لیے بھی کیسے کیسے بہانے گھڑتے ہیں۔ کسی اپنے پر برا وقت آئے تو دلاسہ دیں کہ کوئی بات نہیں، برے وقت کے بعد اچھا وقت بھی آتا ہے۔ کسی پرائے/ دشمن پر اچھا وقت آئے تو دل کو بہلاوا دیتے ہیں کہ کوئی نہیں، اچھے وقت کے بعد برا وقت بھی آتا ہے۔ :P مطلب وقت نے بدلنا ضرور ہے۔۔۔ ایسی کی تیسی جو کرنی ہے۔

ہم کوئی احمقانہ حرکت کرڈالیں تو سوال ہوتا ہے، جب عقل بٹنے کا وقت تھا تو کیا گھاس چرنے گئے تھے؟ (کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہے؟ ہم تو نہیں گئے تھے، آپ اپنا کنفرم کریں)۔ برسوں پہلے پڑھا تھا کہ “گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں”۔ سچ کہیں تو جو وقت ہمارا حال ہے، ہمارے ہاتھ تو وہ بھی نہیں آتا۔۔۔ ہاتھ خالی ہی رہ جاتے ہیں۔ (ہاں ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو تنخواہ ضرور ہاتھ آتی ہے مختصر وقت کے لیے)

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یونہی تمام ہوتی ہے
:(

چونکہ ہمارے حکمران بڑے جینئس ہیں، اس لیے وہ نہ صرف ملک و قوم کو اپنے تجربات کی بھینٹ چڑھاتے ہیں، بلکہ اکثر اوقات دوسروں کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھانے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔ وقت آگے پیچھے کرنے کی ایک کوشش گزشتہ حکومت کے دور میں کی گئی تھی، موجودہ حکومت نے بھی کی ہے۔ اسے ڈے لائٹ سیونگ کہتے ہیں۔ یکم جون رات بارہ بجے ملک کی گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کردی گئیں۔

ہمیں کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہر چیز کو ہمارے حکمرانوں سے بیر ہے۔ اسی معاملہ میں دیکھئے، ایک طرف تو لوگ کہ وقت ایک گھنٹہ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تو تاجر برادری نے فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔۔۔ ان کی گھڑیاں پرانے حساب سے چل رہی ہیں۔۔۔ لیکن دوسری طرف۔۔۔ سب سے بڑھ کر سورج نے بھی اس فیصلہ کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔۔۔ نہ وہ ایک گھنٹہ پہلے طلوع ہوتا ہے، نہ ایک گھنٹہ پہلے غروب۔۔۔ :( دن بھی اپنے پہلے والے وقت کے حساب سے چل رہا ہے اور رات بھی۔ بے چاری حکومت۔

ہمیں چونکہ مظلوموں پر ترس آتا ہے اس لیے ہم نے بے چاری حکومت کی بات مان لی ہے اور گھڑیاں حسب حکم ایک گھنٹہ آگے کردیں۔ لیکن لوگ ہیں نا، ضد لگاکر بیٹھے ہیں۔۔۔ اب بھی کسی کے پوچھنے پر اسے وقت بتاؤ تو کہتا ہے، نیا والا یا پرانا والا؟ اب ہر ایک کو لیکچر دو کہ یار یہ نیا پرانا کیا ہوتا ہے؟ وقت وقت ہے۔۔۔

آخر میں ایک شعر بھی۔۔۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

پھر ملیں گے

202 views May 21, 2008 | راہبر
No Gravatar

10 جون سے میرے انٹرمیڈیٹ سیکنڈ ائیر آرٹس کے امتحانات شروع ہیں۔ ہمارا شہرہ اگرچہ لائق طالبعلم کی حیثیت سے ہے لیکن حال ہمارا یہ ہے کہ نہیں پڑھا میں نے پورا سال، اب کیا ہوگا میرا حال۔۔۔ :razz: پورے دن کی جاب کے سبب سال بھر تو پڑھنے کا وقت ملتا نہیں، اب یہی کچھ دن ہیں جن میں ہم سوچ رہے ہیں کہ کچھ پڑھ لیا جائے۔ لہذا فی الحال دیگر مصروفیات بشمول اردو محفل اور اپنے بلاگ سے کچھ عرصہ کے لیے غائب ہورہا ہوں۔ ان شاء اللہ پھر ملیں گے۔

دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔

نیا سانچہ۔ میری کاوش

326 views May 5, 2008 | راہبر
No Gravatar

میری بیاض ایک بار پھر نئے سانچہ سے مزین ہے لیکن اس سانچہ کو دیکھ کر مجھے ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہے۔ کچھ دنوں پہلے معروف بلاگر جہانزیب اشرف اپنے بلاگ پر ویب سائٹ ٹیمپلیٹ کو ورڈ پریس کے سانچہ میں ڈھالنے کا طریقہ کار لکھا۔ ان کے آسان اسباق کی روشنی میں تجربات کرتے ہوئے میں نے ایک ویب سائٹ ٹیمپلیٹ “نیوز پورٹل” کو ورڈ پریس کے سانچہ کے طور پر ڈھالا ہے اور یہی فی الحال میری بیاض پر موجود ہے۔
نیوز پورٹل کا ویب ٹیمپلیٹ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
آخر میں جہانزیب بھائی کا بہت بہت شکریہ۔

پاکستانی پولیس کو قتل معاف

251 views April 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

آج اس کالم پر گزارا کرلیں۔
روزنامہ جنگ کراچی۔ 30 مارچ 2008ء۔ اتوار

پاکستانی پولیس کو قتل معاف ہے

جیو تو ایسے

259 views March 24, 2008 | راہبر
No Gravatar

کل جیو ٹیلی ویژن سے ایک ڈرامہ نشر کیا گیا، نام تھا: “جیو تو ایسے”۔ یہ ڈرامہ 23 مارچ کے حوالہ سے ایوب خاور کی خصوصی تحریر تھی جس میں مرکزی کردار نعمان اعجاز نے ادا کیا۔ بہت جاندار لکھا تھا۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ نعمان اعجاز بہت محب الوطن اور قائد اعظم کا شیدائی ہے۔ یہ لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کرکے کئی سال بعد وطن پہنچتا ہے۔ ماں، باپ اس کی شادی کی تیاری کرتے ہیں اور اس زمین پر گھر تعمیر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں جو انہوں نے سالوں پہلے خریدی ہوتی ہے۔ جب وہ اس زمین کو دیکھنے جاتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اس پر تو لینڈ مافیا کا قبضہ ہوچکا ہے۔ پولیس وغیرہ کی مدد سے بلڈوزر اور کرین لے کر آتے ہیں اس غیر قانونی گھر کو ڈھانے کے لیے تو ایک وڈیرا “شاہ صاحب” اپنے کارندوں کے ساتھ پہنچ جاتا ہے اور دھمکی دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس زمین کی ملکیت کے اصل کاغذات اس کے پاس ہیں۔ سب کو حیرانگی ہوتی ہے۔

نعمان اعجاز اپنے بچپن کے ایک دوست کے ساتھ یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے متعلقہ محکمہ پہنچتا ہے تو اس کو یہ دیکھ کر ٹھیس پہنچتی ہے کہ ہر جگہ رشوت سے کام چل رہا ہے اور ان کو اپنی ایک فائل آگے تک پہنچانے کے لیے کئی جگہ رشوت دینی پڑتی ہے۔ اس دوران نعمان اعجاز کا دوست اس کو بتاتا ہے کہ یہاں قانون نہیں، قائد اعظم چلتے ہیں اور قائد اعظم میں بڑی طاقت ہے۔ بہرحال! جب وہ محکمہ میں اس زمین کی فائل تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو ان پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوتا ہے کہ یہ زمین تو کئی لوگ خرید چکے ہیں۔۔۔ جعلی دستخط۔۔۔ انگوٹھے کا جعلی نشان۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔! آخرکار مایوسی!

نعمان اعجاز، شاہ صاحب سے ملنے جاتا ہے۔ وہ نعمان کو پیشکش کرتے ہیں کہ اس کے ماں باپ نے جو زمین تین لاکھ میں خریدی تھی، اب نعمان اس کے 7 لاکھ مزید لے لے اور اس زمین کو بھول جائے اور اگر زمین چاہئے تو دو کروڑ دے کر خرید لے۔ غیر ملک سے آیا وہ اصول پسند نوجوان یہ سن کر غصہ سے بھر جاتا ہے۔ شاہ صاحب اس کو پاکستان کے نظام کی تفصیل بہت خوبصورت انداز میں سمجھاتے ہیں اور پھر اسے کہتے ہیں کہ شام کو ان کے پاس آجائے تاکہ وہ اس کو ایک بڑے کارندے کے پاس لے جائیں۔

رات کو شاہ صاحب اسے لے کر ایک کوٹھی پر پہنچتے ہیں جہاں مجرا ہورہا ہوتا ہے اور لوگ رقاصہ پر نوٹ اچھال رہے ہوتے ہیں۔ جب نوٹ اس رقاصہ کے پاؤں کے نیچے آتا ہے تو نعمان کا دل یہ دیکھ کر ٹوٹ جاتا ہے کہ قائد اعظم کی تصویر ایک رقاصہ کے پاؤں تلے روندی جارہی ہے۔

آخرکار تنگ آکر وہ ایک عدالت میں قائد اعظم کی جانب سے مقدمہ دائر کردیتا ہے جس میں پاکستان کی 60 سالہ تاریخ کو ملزم اور وقت کو گواہ نامزد کیا جاتا ہے۔ وکیل صفائی کا کردار شبیر جان نے نبھایا۔ گو کہ عدالت آخر میں یہ مقدمہ خارج کردیتی ہے لیکن بہرحال ڈرامہ نگار نے بہت اچھی طرح ایک مثبت پیغام عوام تک پہنچایا۔ مکالمے بھی جاندار تھے۔

جس نے دیکھ لیا، اس کو مبارک اور جس نے نہیں دیکھا۔۔۔ وہ انتظار کرے کہ یہ یوٹیوب پر کوئی اپ۔لوڈ کردے۔

اطلاعآ عرض ہے

294 views March 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

اطلاعآ عرض ہے کہ بندہ کا موبائل سِم کارڈ چند نامعلوم وجوہات کی بنا پر بند ہوگیا تھا۔۔۔ (شاید اس کو جی بھر کے استعمال کرلیا تھا :razz:) اب اگرچہ ڈپلیکیٹ سم نکلوالی ہے لیکن جتنے رابطہ نمبر محفوظ تھے، وہ سب اب میرے پاس نہیں رہے ہیں۔۔۔ :sad: اس لیے جو ساتھی اپنا رابطہ نمبر دوبارہ مجھے عطا کرنا چاہیں، وہ یا تو مجھے ای۔میل کردیں یا اردو محفل پر پیغام میں بھیج دیں۔۔۔ یا بیاض کے رابطہ والے صفحہ سے بھیج دیں۔
بہت مہربانی

اسرائیلی ہولوکاسٹ

518 views March 15, 2008 | راہبر
No Gravatar

ایک برازیلی کارٹونسٹ Carlos Latuff نے اپنے خاکوں میں اس اسرائیلی ہولوکاسٹ کی منظر کشی کی ہے جو اسرائیل نے فلسطین کے ساتھ روا رکھا ہے۔

مزید پڑھیں »

ربیع النور مبارک ہو

398 views March 8, 2008 | راہبر
No Gravatar

تمام عالم اسلام کو
ماہ ربیع الاول۔۔۔ ربیع النور
مبارک ہو۔

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے حبیب نبی کریم رؤوف و رحیم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ ہمیں ان کے اسوہ پر عمل کرنے اور اس مبارک ماہ کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین