عادات اور نرم بستر

45 views July 4, 2008 | راہبر
No Gravatar

کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ہماری فلاں عادت کبھی چھوٹ نہیں سکتی یا ہم فلاں چیز کے بغیر رہ نہیں سکتے کیونکہ اس چیز کے پاس ہوتے ہوئے اس چیز کی غیر موجودگی کا سوچنا اکثر اوقات مشکل ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، بہت سی عادات چھوٹ جاتی ہیں بلکہ کبھی تو اس کی متضاد عادت اپنالی جاتی ہے۔

کچھ سالوں تک مجھے نرم بستر پر سونے کی عادت تھی۔ اگر میں زمین پر لیٹا کرتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ میری کمر کی ہڈی میں تکلیف ہو رہی ہے اور وہ زمین سے لگ رہی ہے۔ اس لیے یا تو میں گدا بچھایا کرتا یا فوم والے پلنگ پر لیٹتا۔ پھر بعد میں ہم نے جگہ کی تنگی کے باعث پلنگ بیچ دیا، آہستہ آہستہ گدے کی عادت بھی ختم ہوگئی اور زمین ہی پر سونے لگا۔

گذشتہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب میں اپنی خالہ کی گھر ٹھہرا تھا۔ وہاں جب سونے لگا تو انتہائی نرم پلنگ تھا۔ میں اس پر لیٹ کر اتنا بے چین رہا کہ بیان نہیں۔ حالانکہ میں امتحانات کی وجہ سے کافی جاگا ہوا تھا اور نیند کے مارے آنکھوں میں بے حد جلن تھی لیکن اس نرم بستر کی وجہ سے ایک گھنٹے تک میں کروٹ ہی بدلتا رہا اور سمجھ نہیں آیا کہ کیسے سوؤں اس پر۔۔۔

پھر کوئی ساڑھے چار بجے کے قریب میری آنکھ لگی۔۔۔ تو اس رات کروٹ بدلتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا کہ کہاں نرم بستر کی اتنی عادت تھی کہ اس کے بغیر سونا مشکل تھا اور اب زمین پر لیٹنے کی ایسی عادت پڑی ہے کہ نرم بستر پر سونا عذاب ہوگیا۔

میری واپسی

38 views July 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

لیجئے، مابدولت واپس آچکے ہیں۔ :razz:

شکر ہے خدا کا کہ سر پر جو امتحانات کی بلا آن پڑی تھی، اس کا اچھی طرح مقابلہ کیا اور پرچے اچھے خاصے ہوگئے۔ اب سکون ہے۔ اگرچہ اتنا عرصہ دفتر سے بھی چھٹی لی تھی اور باقی سب کام بھی چھوڑے تھے کہ صرف پڑھائی کرنی ہے، لیکن حال یہ تھا کہ گھر میں ہوتا تھا تو پڑھائی کم ہوتی ہے اور دوسرے کام زیادہ۔ اور کچھ نہیں تو ٹی۔وی پر فلم دیکھنے بیٹھ گیا۔ :wink: پھر امی اٹھاتی تھیں کہ اس کو دیکھو، سال بھر پڑھا نہیں ہے اور اب پڑھنے کا وقت ہے تو بھی ٹی۔وی دیکھ رہا ہے۔۔۔ :D لیکن پھر بھی سارے ہی پرچے بہت اچھے ہوئے۔ میں “اے” گریڈ کی توقع کیے بیٹھا ہوں۔ ان شاء اللہ کامیابی ہوگی۔

اسلامک اسٹڈیز کا پرچہ شاید بدھ کو تھا اور اتوار کو تو میں نے کتاب ہی خریدی۔ اس دن مطالعہ کیا۔ سوموار کو دفتر چلا گیا۔ آکر تھوڑا بہت پڑھا۔ پھر اگلے دن بارہ، ایک بجے تک پڑھا تو اس کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا جیسے اب یاد کرنے کو کچھ نہیں بچا۔ لہذا کتاب ایک طرف رکھی اور پھر تفریح شروع :razz: اور اللہ کا شکر ہے کہ اگلے دن پرچہ دینے گیا تو اے ون ہوا۔

باقیوں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں رہی۔ بہرحال! اب میں آہستہ آہستہ فعال ہونے کی کوشش کروں گا۔ اللہ مالک ہے۔

پھر ملیں گے

40 views May 21, 2008 | راہبر
No Gravatar

10 جون سے میرے انٹرمیڈیٹ سیکنڈ ائیر آرٹس کے امتحانات شروع ہیں۔ ہمارا شہرہ اگرچہ لائق طالبعلم کی حیثیت سے ہے لیکن حال ہمارا یہ ہے کہ نہیں پڑھا میں نے پورا سال، اب کیا ہوگا میرا حال۔۔۔ :razz: پورے دن کی جاب کے سبب سال بھر تو پڑھنے کا وقت ملتا نہیں، اب یہی کچھ دن ہیں جن میں ہم سوچ رہے ہیں کہ کچھ پڑھ لیا جائے۔ لہذا فی الحال دیگر مصروفیات بشمول اردو محفل اور اپنے بلاگ سے کچھ عرصہ کے لیے غائب ہورہا ہوں۔ ان شاء اللہ پھر ملیں گے۔

دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔

بھرم بازی

196 views April 30, 2008 | راہبر
No Gravatar

میں بہت شریف انسان ہوں (واقعی)۔ سیدھا سادہ۔۔۔ لیکن چونکہ غصہ کا تیز اور جوشیلا ہوں اس لیے کچھ جلدی بھڑک جاتا ہوں۔ :razz: کل اچھی خاصی حرکت ہوگئی۔

بس میں جارہا تھا۔ قائد اعظم کے مزار سے کچھ پہلے گاڑی بیچ سڑک پر کھڑی ہوگئی۔ دونوں اطراف سے گاڑیاں گزر رہی تھیں۔ کچھ دیر تو میں نے خاموشی اختیار کی پھر حسب عادت کرخت آواز میں ڈرائیور پر گرجا۔ ڈرائیور نے معصومیت سے شیشے میں دیکھ کر کہا کہ یار آگے سارجنٹ نے روک رکھا ہے۔ یہ ٹریفک پولیس والے اپنے دھندے کے چکر میں ہر جگہ ہی کھڑے نظر آتے ہیں۔ میں نے ڈرائیور کو کہا کہ بھئی، گاڑی کھڑی کرنی ہے تو کنارے پر لگاؤ نا، یہ کیا بیچ میں کھڑے ہو۔ پتا چلا کہ سارجنٹ صاحب گاڑی کے عین سامنے آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔ پھر کنڈیکٹر آیا۔ مسافروں سے اپیل کرنے لگا کہ یار، آپ لوگ اترو، کچھ کہو۔۔۔ ہم حرام تو نہیں کماتے جو ان لوگوں کو دیدیں۔ میں بہت متاثر ہوا کہ یہ تو بڑا بہادر بنا ہے۔ دو، تین لوگ بس سے اتر رہے تھے۔ میں بھی اترا اور سارجنٹ کے پاس پہنچا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیوں روک رکھا ہے، جانے کیوں نہیں دیتا؟ کہنے لگا کہ تم لوگ کون ہوتے ہو؟ میری مرضی۔۔۔ اور اس گاڑی والے سے کہو، کاغذات دیدے، چالان کردیتا ہوں۔ اب کنڈیکٹر اس سے پوچھے کہ چالان کی وجہ تو بتاؤ نا؟ کیا میں نے کوئی سگنل توڑا؟ کوئی جرم کیا؟ تو اس پر وہ سارجنٹ اس کو گالیاں دے کہ تم لوگ میراثی کے بچے، صبر کرو، تمہارا تو میں یہ کروں گا، وہ کروں گا۔۔۔ عجیب بکواس۔۔۔ لوگ واپس آگئے۔۔۔ پھر میں نے بس میں کچھ لوگوں کو تیار کیا۔ لڑکوں کو بھی کہا کہ ویسے تو بہت بھرم مارتے پھرتے ہو، آؤ تو میدان میں۔ لیکن بے فائدہ۔ خیر، اب کی بار کچھ بوڑھے حضرات اترے۔ میں پھر ان کے ساتھ چلا۔ بوڑھوں نے بات کی تو ان سے بھی سارجنٹ نے بدتمیزی کی۔ مجھے تو غصہ تھا۔ میں نے کہا، ابھی تیرے ہاتھ میں پچاس روپے کا نوٹ رکھ دیں گے نا تو سب چالان بھول جائے تجھے۔ بس یہ سننا تھا کہ سارجنٹ نے تو سب کو چھوڑا، مجھ سے الجھ گیا۔

بس ڈرائیور نے موقع غنیمت جانا۔ اس نے گاڑی تھوڑا پیچھے کی اور رخ موڑ کر ایک طرف سے نکالنے لگا۔ باقی لوگ جلدی جلدی بس میں چڑھ گئے۔ جب بس کا دروازہ میرے قریب آیا تو میں بھی سوار ہوگیا۔ سارجنٹ اپنی بڑبڑا رہا تھا، میں نے چینخ کر اسے کہا، حرام لگ گیا ہے تمہارے منہ کو بے غیرتو۔۔۔ :razz: اس پر تو اس نے ماں بہن کی گالیاں شروع کردیں۔ بس آگے بڑھ رہی تھی۔ میں نے اس کی طرف ہاتھ کا اشارہ کیا اور کہا، لعنت ہو تجھ پر۔ وہ فورا اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہوا اور آگے بڑھا۔ تاثر اس نے یہ دیا کہ جیسے وہ ہمارا پیچھا کرے گا لیکن دراصل ان گرے ہوئے لوگوں میں اتنی جرات نہیں ہوتی اور جہاں کئی لوگ ہم آواز ہوجائیں، وہاں سے یہ لوگ فرار ہونے میں ہی عافیت جانتے ہیں لہذا وہ بھی موٹرسائیکل لے کر ایک طرف ہوگیا۔ میں نے اپنے ساتھ والے ایک لڑکے کو خوب سنایا کہ ویسے تو تم بڑی بڑی ہوائیاں مارتے ہو کہ فلاں کو ایسا بھرم دیا، فلاں کے ساتھ ایسا کیا۔ وقت پڑا تو تمہاری آواز نہیں نکل رہی تھی؟ لوگ بہانے بنارہے تھے کہ ہمیں کیا حق پہنچتا ہے اس کے معاملہ میں بولنے کا؟ میں نے کہا، اتنا تو فرض بنتا ہے کہ مظلوم کی حمایت کرو؟ اگر کوئی ظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہورہا ہے تو تم اس کا ساتھ تو دے سکتے ہو؟ بہرحال، ہم منزل مقصود پر پہنچے۔

گھر پہنچ کر یہ قصہ سنایا تو امی، ابو کی ڈانٹ :sad: کہتے ہیں، اکیلے کھڑے ہوجاتے ہو، کوئی ساتھ نہیں دے گا تمہارا۔ میں نے کہا، نہیں دیتا تو نہ دے۔ میں خود ہی کرتا رہوں گا ایسے۔۔۔ ایک دن لگے گی اخبار میں بڑی سی خبر۔۔۔

اور کسی “اور” نے بھی مجھ پر بہت غصہ کیا۔ :cry:

نیا سانچہ

166 views March 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

لیں جی۔۔۔ میری بیاض ایک بار پھر نئے سانچے سے مزین ہے۔ عجیب بے چین روح پائی ہے۔ ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھا جاتا۔ ہر بار سوچتا ہوں کہ یہاں ٹھہر جاؤں گا لیکن کچھ عرصہ بعد پھر سے اندر ہی اندر کوئی چٹکیاں بھرنے لگتا ہے۔۔۔ :razz: ویسے اب میں سوچ رہا ہوں کہ یہ سانچہ کافی مناسب ہے اور تقریبا سبھی بنیادی ضروریات کو پورا کررہا ہے تو اب میں اس پر ٹک جاؤں۔۔۔ ابھی سے عادت ڈال لوں کہ اب اپنے لیے ادھر ادھر نہیں جھانکنا، دوسروں کا خیال کرنا ہے۔ :wink: واقعی۔۔۔ کافی طویل قطار ہے میرے علاوہ بھی۔۔۔!

اب دیکھیں تو سہی، میری اس بات کا کوئی یقین ہی نہیں کررہا ہے۔۔۔ ایک موصوف کہتے ہیں کہ ناممکن ہے، کچھ دن بعد پھر بدل لوگے۔۔۔ ایک صاحب نے تو بھرے بازار میں یہ کہہ دیا کہ میں یہ تھیم ایک صاحب کو عطیہ کردوں۔۔۔ اب میں نے ان سے عرض کی کہ بھئی، یہ تھیم بڑی مشکل سے مزاج کو بھائی ہے، اس کو بھی عطیہ کردوں کیا؟ تو فرمانے لگے، کیا فرق پڑتا ہے، کچھ عرصہ بعد بدل لینی ہے۔۔۔ ماوراء کی طرح۔۔۔! :razz: اچھا۔۔۔ میں اس میدان میں اکیلا نہیں ہوں۔۔۔ اور بھی لوگ ہیں میرے ساتھ۔۔۔ lol

آج صبح ہی میں سوچ رہا تھا کہ بلاگنگ کی دنیا میں اتنے سانچے کسی نے تبدیل نہ کیے ہوں گے، جتنے اپنی ساری بلاگنگ کے مختصر سے عرصہ میں، میں نے کردیے ہیں۔ ایسا کوئی ریکارڈ محفوظ رکھا ہوتا تو شاید گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی نام درج ہوجاتا۔۔۔ بہرحال۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔

اس سانچے کو دیکھیں۔۔۔ میں نے اسے اردو میں ڈھالنے کے لیے تین/ چار گھنٹے لگائے ہیں۔۔۔ دو نشستوں میں جاکر مکمل ہوا ہے۔۔۔ اس کی دائیں جانب دیکھئے۔۔۔ میں نے اپنے بچپن کی ایک تصویر لگائی ہے جس میں میرے ہاتھ میں کاغذ اور قلم ہے جبکہ بالوں میں بم پھٹا ہوا ہے۔۔۔ یہ تصویر ظاہر کرتی ہے کہ اس بیاض کا لکھنے والا بچپن سے ہی الٹے دماغ کا حامل ہے۔۔۔ اس کے علاوہ تصویر کے ساتھ لکھی تحریر بھی “کچھ” ظاہر کررہی ہے، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔۔۔؟

موصوف بدتمیز کی کمال مہربانی سے اب بیاض پر گوگل کے اشتہارات بھی آویزاں ہیں۔۔۔ ان کو لگانے کے لیے ہم نے جتنی محنت کرنی تھی، کرلی۔۔۔ اب آپ کی باری ہے۔۔۔ اشتہارات لگانے کی نہیں، بلکہ یہ جو اشتہارات لگے ہوئے ہیں ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی۔۔۔۔ :wink:

اور بس آپ مجھے یہ بتائیں کہ سانچہ کیسا لگ رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟ اچھا چلیں۔۔۔ میرے کام کی تعریف نہ کریں۔۔۔ :razz: یہ بتادیں کہ کوئی کمی تو نہیں ہے؟؟؟ ویسے آپ لوگوں نے اس کی زیادہ خامیاں گنوادیں نا تو پھر پتا ہے، کیا ہونا ہے؟؟؟؟

ہونا تو خیر سے کچھ نہیں ہے، بس میں نے سانچہ بدل لینا ہے۔۔۔۔! :lol:

بلاگ کی پہلی سالگرہ

121 views March 11, 2008 | راہبر
No Gravatar

بدتمیز نے توجہ دلائی ہے کہ میرے بلاگ کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔ (شکریہ بدتمیز) سات مارچ 2007ء کو میں نے اپنے بلاگ پر پہلی تحریر لکھی تھی اور آج 11 مارچ 2008 ہے یعنی بلاگ کی سالگرہ سے بھی کچھ دن اوپر ہی ہوگئے ہیں۔

پتا نہیں، بلاگ کی سالگرہ کس طرح منانی چاہئے۔ بھائی قدیر نے تو ایسے منائی تھی۔ :razz: چونکہ میرے ذہن میں اس حوالہ سے کچھ تھا ہی نہیں، اس لیے یہ سالگرہ کچھ پھیکی پھیکی سی ہے۔

چلیں۔۔۔ کچھ غباروں سے رنگین بنالیتے ہیں۔۔۔

birthday

۔۔۔۔۔۔
بلاگنگ کے پہلے سال کا جائزہ لینے کے لیے شاید یہ تحریر کافی ہے۔

Protected: وہ پہلی بار جب ہم ملے

103 views March 6, 2008 | راہبر
No Gravatar

This post is password protected. To view it please enter your password below:


Protected: تصاویر۔ تقریب منگنی

135 views March 4, 2008 | راہبر
No Gravatar

This post is password protected. To view it please enter your password below:


جو کبھی سوچا نہ تھا

223 views March 4, 2008 | راہبر
No Gravatar

جی ہاں۔۔۔ وہ سب کچھ ہوگیا جو کبھی سوچا نہ تھا۔ رشتہ طے ہوا اور منگنی کی تقریب خیریت کے ساتھ نمٹ گئی الحمد للہ۔۔۔!
جمعہ کو رات میں نانی کو لے آیا تھا۔ سنیچر کو خالہ زاد بہنوں کو بھی لے آیا۔ کافی ہلا گلا رہا۔ اس رات تقریبا ڈھائی بجے سویا۔ اتوار کو صبح دس بجے اٹھنے کا الارم لگایا تھا کیونکہ ٹین اسپورٹس پر WWE کی خصوصی ریسلنگ آنی تھی۔ میری آنکھ دس بجے سے کچھ پہلے ہی کھل گئی لیکن افسوس کہ بجلی غائب تھی۔ کافی دیر تک بجلی نہ آئی تو کے۔ای۔ایس۔سی والوں کو فون کیا۔ جواب میں انتہائی خوفناک جواب سننے کو ملا کہ آج سالانہ شٹ ڈاؤن کیا ہے، کچھ کام جاری ہے، شام پانچ/ چھ بجے تک بجلی بحال ہوگی۔ افففف۔۔۔ اس قدر غصہ آیا۔ بہرحال! خدا کا شکر ہے کہ ان کے “ترقیاتی کام” دوپہر تک نمٹ گئے اور ڈیڑھ یا دو بجے تک بجلی بحال ہوگئی۔میں بس مارا مارا پھرتا رہا یا ہُمی کے ساتھ گپ شپ۔ شام تک مزید مہمان آگئے۔ سب تیار ہوچکے تھے، صرف ایک میں ہی تھا جو مغرب تک اسی حلیے میں گھوم رہا تھا۔ سب میرے پیچھے پڑے تھے اور میں بے فکر۔۔۔ مغرب کے بھی کافی دیر بعد تیار ہوا۔
مہمانوں کو بعد نماز مغرب کا وقت دیا تھا۔ ہماری طرف کے تقریبا سبھی مہمان وقت پر تیار تھے لیکن لڑکی والوں کی جانب سے بہت دیر ہوئی۔ اپنی جانب کے تمام مہمان ہال میں پہنچ گئے تو میں آٹھ بجے کے قریب ہال میں داخل ہوا۔ اپنے دو پھوپھی زاد بھائیوں کے ساتھ بیٹھا باتیں کرتا رہا تھا اور لڑکیاں مختلف بہانوں سے اس طرف آکر مجھے دیکھتی رہیں۔۔۔ :razz:
کوئی ساڑھے آٹھ بجے کے قریب لڑکی کو تیار کرکے لایا گیا تو ڈریسنگ روم میں بٹھادیا گیا۔ آدھ/ پون گھنٹہ وہیں بٹھائے رکھا گیا۔ خدا جانے کیا کررہے تھے۔ ادھر سب لوگ مجھ سے آکر کہہ رہے تھے کہ یار! اتنی دیر کیوں ہورہی ہے اور میں بے چارہ کچھ کہہ نہیں سکتا تھا کیونکہ اگر میں جلدی جلدی کا نعرہ بلند کرتا تو سب نے مجھے ہی کہنا تھا کہ تمہیں بہت جلدی ہورہی ہے؟؟؟ :sad:
خیر۔۔۔! شاید ساڑھے نو بجے کا وقت ہوگا، جب ڈریسنگ روم سے چاند برآمد ہوا اور اسٹیج پر جلوہ گر ہوا۔ :razz: پتا نہیں، اسٹیج پر کیا کچھ ہوتا رہا کیونکہ میں تو وہاں سے ایک طرف ہوگیا تھا۔۔۔ نوابشاہ سے میری کزن آئی ہوئی تھی۔۔۔ کچھ دیر اس سے باتیں کرتا رہا۔۔۔ یا پھر خالہ زاد بہنوں کے ساتھ۔۔۔ جیسے تیسے وقت گزرا۔ لڑکی کو واپس ڈریسنگ روم میں لے جایا گیا۔ اب میں نے سوچا تھا کہ مہمانوں کو کھانا دے دیا جائے گا لیکن غیر متوقع طور پر ہوا یہ کہ مجھے سب کزنز نے مل کر اسٹیج کی طرف دھکیل دیا اور صوفے پر بٹھادیا گیا۔ تھوڑی دیر تک تو کچھ ہوا نہیں۔ میں نے امی کو آواز لگائی کہ گھر میں مٹھائی مانگی تھی تو یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ ہال میں کھانا، اب کم سے کم مٹھائی تو کھلادیں۔۔۔ تھوڑی دیر بعد مٹھائی کی پلیٹ آگئی اور سسر صاحب بھی۔۔۔ ان کے ساتھ دیگر رشتہ دار بھی تھے۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر گھڑی باندھی، لفافہ تھمایا۔۔۔ ہار پھول پہنائے گئے۔۔۔ میں ہونق اور پریشان۔۔۔ میرے ساتھ کوئی اپنا رشتہ دار بھی موجود نہیں تھا۔۔۔ اس کے بعد۔۔۔ یکے بعد دیگرے لڑکی کے چچا، ماموں، خالائیں۔۔۔ سب آتے رہے۔۔۔ مجھ سے نام پوچھتے، اپنا تعارف کراتے، مٹھائی کھلاتے اور لفافہ دے کر روانہ۔ پھر اگلا۔۔۔ کچھ نے مٹھائی کھلاتے ہوئے بہت تنگ کیا۔ منہ کے قریب لاتے اور جونہی میں منہ کھولتا تو چمچہ پیچھے۔۔۔ لڑکی کے ایک کزن نے تو بہت ستایا۔۔۔ دو تین منٹ تک تو وہی یہی حرکت کرتا رہا اور پھر آخر میں اس نے اتنی بڑی چم چم کی پوری مٹھائی میرے منہ میں ٹھونس دی۔ ابھی اس کو ختم نہیں کرپایا تھا کہ لڑکی کی دوسری کزنز مٹھائی کھلانے کو تیار بیٹھی تھیں۔ میں نے پانی منگوایا۔ پانی پیا۔۔۔ مجھ سے مٹھائی کے بارے میں پوچھا گیا۔۔۔ میں نے کہا کہ یہ جو پلیٹ رکھی ہے، میرے لیے تو یہ بھی کم ہے۔ :smile: لیکن سب سے کہا کہ بس تھوڑی تھوڑی مٹھائی کھلاؤ کیونکہ ابھی بہت سے لوگ لائن لگاکر کھڑے ہیں۔ اتنی دیر بعد میرے رشتہ داروں کو ہوش آیا تو وہ آگئے اور کہنے لگے کہ اتنی مٹھائی کھلارہے ہو بچہ کو، بس کرو۔۔۔ لیکن جب کسی نے نہیں سنا تو وہاں سے کسی “اپنے” نے مٹھائی کی پلیٹ ہی اٹھالی۔۔۔ میں نے سکھ کا سانس لیا لیکن یہ وقتی تھا۔ وہ شاید لڑکی کی خالہ تھیں جو مٹھائی کا پورا ڈبہ اٹھا کر لے آئیں اور کہنے لگیں کہ جس نے پلیٹ اٹھاکر کمال کیا ہے، وہ دیکھ لے کہ ہمارے پاس تو پورا ڈبہ ہے۔۔۔ پھر وہی کھیل شروع۔۔۔ کچھ دیر بعد ساس صاحبہ آئیں اور کان میں کہنے لگیں کہ پوری مٹھائی کھانے کے بجائے بس منہ میں رکھ کر ٹشو پیپر پر نکال لو۔۔۔ لیکن مجھے یہ کرنا مناسب نہیں لگا۔ آخر میرے ابو نے کھانا کھلوادیا۔۔۔ تب جاکر میرے گرد رش کم ہوا۔۔۔
تھوڑی دیر تک تو میں نے خود کزنز کو بلواکر تصاویر کھینچوائیں ورنہ بعد میں سب نے شکایت کرنی تھی کہ ہمیں بھول گئے۔۔۔ پھر بہن اور اس کی دوست کھانا کھاتے ہوئے نظر آئی تو ان ہی کو اسٹیج پر بلالیا اور ان کے ساتھ ہی تھوڑا بہت کھانا کھایا۔۔۔
آخر میں طے ہوا کہ لوگوں کی انگلی نہ اٹھے، اس لیے بس ڈریسنگ روم میں چل کر کچھ تصاویر ساتھ لے لیتے ہیں۔۔۔ اس لیے وہاں جاکر بے انتہا شور اور لوگوں کے رش میں کچھ تصاویر ساتھ کھینچی گئیں اور بس۔۔۔
ابھی مہمانوں کی کافی تعداد موجود تھی لیکن امی نے کہا کہ بہنوں کو لے کر گھر چلے جاؤ۔ میں بھی بہت تھک گیا تھا سو گھر لوٹ آیا۔۔۔ ہال ہمارے گھر کے بالکل برابر ہی میں تھا۔
جلدی جلدی کرتے ہوئے بھی گھر لوٹا تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔

کھویا کھویا سا

173 views February 28, 2008 | راہبر
No Gravatar

واقعی۔۔۔ آج کل میرا دماغ کام نہیں کررہا ہے۔ نہ یہ سمجھ آتی ہے کہ کس سے کیا بات کرنی ہے اور نہ ہی کچھ پلے پڑتا ہے۔ بس م۔س۔ن پر یا تو بدتمیز کا دماغ کھارہا ہوتا ہوں یا زینب کا۔ اور تو اور، اتنے دن سے نہ تو بیاض پر کچھ لکھ سکا ہوں اور نہ ہی کچھ بے چاروں کے بلاگ پر تبصرہ کرسکا :razz: کھویا کھویا سا رہتا ہوں۔۔۔ نہیں۔۔۔ کسی کے خیالوں میں نہیں کھویا۔۔۔ آپ میرا یقین کریں۔۔۔ :smile: یہ غائب دماغی کسی کے خیالات کی وجہ سے نہیں ہے۔۔۔ بس ایویں ہی ہے۔۔۔

ابھی میرے پاس ایک دو اچھے موضوعات ہیں بیاض پر لکھنے کے لیے لیکن ان کو چھوڑ کر یہ اوٹ پٹانگ لکھ رہا ہوں۔ آج جمعرات ہے۔۔۔ جمعہ سے سوموار تک کی چھٹی لی ہے دفتر سے۔۔۔ اتوار کو تقریب ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ گھر میں کتنی تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں۔۔۔ اور تقریب کے لیے کیا کیا فائنل ہوا ہے۔۔۔ کیا کیا ہونا ہے۔۔۔ میں گھر میں ہوکر بھی نہیں ہوتا۔۔۔ کل سے کزنز آجائیں گی۔۔۔ پھر ہلا گلا، شور شرابا۔۔۔!

دفتر کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر بھی سوموار تک غیر حاضر رہوں گا۔ منگل کو آمد ہوگی۔ تب شاید کوئی نئی تحریر لکھ سکوں۔۔۔ تب تک کے لیے اجازت۔۔۔

دعاؤں میں یاد رکھیں۔