عادات اور نرم بستر
45 views July 4, 2008 | راہبرکبھی ہم سوچتے ہیں کہ ہماری فلاں عادت کبھی چھوٹ نہیں سکتی یا ہم فلاں چیز کے بغیر رہ نہیں سکتے کیونکہ اس چیز کے پاس ہوتے ہوئے اس چیز کی غیر موجودگی کا سوچنا اکثر اوقات مشکل ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، بہت سی عادات چھوٹ جاتی ہیں بلکہ کبھی تو اس کی متضاد عادت اپنالی جاتی ہے۔
کچھ سالوں تک مجھے نرم بستر پر سونے کی عادت تھی۔ اگر میں زمین پر لیٹا کرتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ میری کمر کی ہڈی میں تکلیف ہو رہی ہے اور وہ زمین سے لگ رہی ہے۔ اس لیے یا تو میں گدا بچھایا کرتا یا فوم والے پلنگ پر لیٹتا۔ پھر بعد میں ہم نے جگہ کی تنگی کے باعث پلنگ بیچ دیا، آہستہ آہستہ گدے کی عادت بھی ختم ہوگئی اور زمین ہی پر سونے لگا۔
گذشتہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب میں اپنی خالہ کی گھر ٹھہرا تھا۔ وہاں جب سونے لگا تو انتہائی نرم پلنگ تھا۔ میں اس پر لیٹ کر اتنا بے چین رہا کہ بیان نہیں۔ حالانکہ میں امتحانات کی وجہ سے کافی جاگا ہوا تھا اور نیند کے مارے آنکھوں میں بے حد جلن تھی لیکن اس نرم بستر کی وجہ سے ایک گھنٹے تک میں کروٹ ہی بدلتا رہا اور سمجھ نہیں آیا کہ کیسے سوؤں اس پر۔۔۔
پھر کوئی ساڑھے چار بجے کے قریب میری آنکھ لگی۔۔۔ تو اس رات کروٹ بدلتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا کہ کہاں نرم بستر کی اتنی عادت تھی کہ اس کے بغیر سونا مشکل تھا اور اب زمین پر لیٹنے کی ایسی عادت پڑی ہے کہ نرم بستر پر سونا عذاب ہوگیا۔
لیکن پھر بھی سارے ہی پرچے بہت اچھے ہوئے۔ میں “اے” گریڈ کی توقع کیے بیٹھا ہوں۔ ان شاء اللہ کامیابی ہوگی۔
لیکن سب سے کہا کہ بس تھوڑی تھوڑی مٹھائی کھلاؤ کیونکہ ابھی بہت سے لوگ لائن لگاکر کھڑے ہیں۔ اتنی دیر بعد میرے رشتہ داروں کو ہوش آیا تو وہ آگئے اور کہنے لگے کہ اتنی مٹھائی کھلارہے ہو بچہ کو، بس کرو۔۔۔ لیکن جب کسی نے نہیں سنا تو وہاں سے کسی “اپنے” نے مٹھائی کی پلیٹ ہی اٹھالی۔۔۔ میں نے سکھ کا سانس لیا لیکن یہ وقتی تھا۔ وہ شاید لڑکی کی خالہ تھیں جو مٹھائی کا پورا ڈبہ اٹھا کر لے آئیں اور کہنے لگیں کہ جس نے پلیٹ اٹھاکر کمال کیا ہے، وہ دیکھ لے کہ ہمارے پاس تو پورا ڈبہ ہے۔۔۔ پھر وہی کھیل شروع۔۔۔ کچھ دیر بعد ساس صاحبہ آئیں اور کان میں کہنے لگیں کہ پوری مٹھائی کھانے کے بجائے بس منہ میں رکھ کر ٹشو پیپر پر نکال لو۔۔۔ لیکن مجھے یہ کرنا مناسب نہیں لگا۔ آخر میرے ابو نے کھانا کھلوادیا۔۔۔ تب جاکر میرے گرد رش کم ہوا۔۔۔