اہم اعلان

460 views October 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

میرا بلاگ ابن ضیاء ڈاٹ کام پر منتقل ہوگیا ہے۔ اب آپ میرا بلاگ یہاں ملاحظہ کرسکیں گے۔ اگر آپ بلاگر ہیں تو ازراہ کرم اپنا بلاگ رول اپ۔ڈیٹ کرلیں۔ نوازش

اور ہاں، عید مبارک

خان اور نون غنہ

610 views September 13, 2008 | راہبر
No Gravatar

مجھ سے پچھلے دنوں کئی بار یہ سوال کیا گیا ہے کہ میں اپنے نام میں لفظ “خاں” نون غنہ سے کیوں لکھتا ہوں، “ن” کیوں نہیں لکھتا؟ ایک دوست نے تو کہا کہ ایسے نون گنجا لگتا ہے۔ میرے پاس اس کا جواب صرف یہ تھا کہ لکھا دونوں طرح سے جاتا ہے یعنی نون اور نون غنہ لیکن ہمارے خاندان میں نام کے ساتھ خان میں نون غنہ لگایا جاتا ہے اس لیے میں بھی ایسے ہی لکھتا ہوں۔

ہمارے دفتر میں ایک صاحب ہیں جنہیں ہم ماہر لسانیات کہتے ہیں۔ ان کا مشغلہ مطالعہ کرنا ہے۔ فرصت کے اوقات میں لغات اور قواعد کی کتب چھانتے رہتے ہیں۔ میں نے ان سے یہ ذکر کیا کہ خان میں نون غنہ لکھا جائے یا نون؟ تو انہوں نے جو جواب دیا اس کی منطق سمجھ میں آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرچہ دونوں طرح سے لکھنا درست ہے لیکن نون غنہ کے ساتھ لکھنے کی وجہ فارسی زبان کا ایک قاعدہ ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب بھی حروف مدہ کے بعد نون ساکن آئے تو نون غنہ لکھا جاتا ہے اگر آگے حروفِ عطف یا حروفِ علت نہ ہو۔

حروف مدہ کیا ہیں؟
1۔ جب الف ساکن سے پہلے والے حرف پر زبر ہو (جو کہ عموما ہوتا ہے) تو وہ الف حروفِ مدہ میں شمار ہوتا ہے۔ مثلا با، سما، شاہ
2۔ جب ی ساکن سے پہلے والے حرف پر زیر ہو تو وہ ی حروفِ مدہ میں شمار ہوتی ہے۔ مثلا بڑی، گھڑی، لگی۔
3۔ جب واؤ ساکن سے پہلے والے حروف پر پیش ہو تو وہ واؤ بھی حروفِ مدہ کہلاتی ہے۔ مثلا روح، صور، نور

اب ان تمام حروف مدہ کے بعد نون غنہ آنے کی مثالیں دیکھیں۔
الف کے ساتھ: شاداں، فرحاں، سماں، حیراں
ی کے ساتھ: شیریں، نوریں، زیریں، داد و تحسیں
و کے ساتھ: آنسوؤں، حوروں

تاہم جب نون کسی لفظ کے ساتھ ملے گا تو نون غنہ نہیں لکھیں گے مثلا خاں صاحب سے خانصاحب، آں حضرت سے آنحضرت وغیرہ۔

تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ اردو میں اس قاعدہ کی عموما پابندی نہیں کی جاتی اس لیے آپ کو اردو میں حروفِ مدہ کے بعد آنے والے نون میں نقطہ نظر آئے گا۔ سو، خان لکھنا بھی درست ہے اور خاں لکھنا بھی جو کہ فارسی قاعدے کے مطابق ہے۔

رمضان کی سختی

466 views September 13, 2008 | راہبر
No Gravatar

ماہِ رمضان کا پہلا عشرہ گزر چکا۔ آج بارہواں روزہ ہے یعنی دوسرے عشرے کو دوسرا دن۔ اس وقت کراچی والوں کا حال کراچی والے ہی جانتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ پچھلے سال کے روزے نہایت سخت تھے۔ شدید گرمی، دھوپ اور لو کی وجہ سے برا حال ہوتا تھا۔ اتنے سخت روزے میں نے پہلی بار دیکھے تھے۔ اب کی بار میں سوچ رہا تھا کہ دن چونکہ گرمی کی طرف گئے ہیں اس لیے پچھلی دفعہ سے بھی زیادہ سخت روزے ہوں گے لیکن پہلا عشرہ بہت آرام سے گزر گیا۔ مناسب موسم رہا۔ میں شکر ادا کررہا تھا اللہ کا کہ اب کی بار پہلے جیسا نہیں مگر تین، چار دن سے جو حال ہے، اس کی میرے ہم شہر گواہی دیں گے۔

پرسوں درجہ حرارت 41.5 سینٹی گریڈ تھا، کل 42.2 اور آج 43 ڈگری ہونے کی پیشین گوئی ہے۔ :oops:دھوپ اتنی شدید کہ جسم جلنے لگے اور لو اس قدر کہ سانس لینا مصیبت۔ پنکھا گرم ہوا پھینک رہا ہے اور نہانے جائیں تو پانی بھی گرم۔ جب تک پانی جسم پر انڈیلتے رہیں، سکون سے ہوں لیکن بس باہر نکلتے ہی ایک منٹ میں پہلے کی طرح۔ اوپر سے کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ اور وفاقی وزیر بجلی و پانی راجہ پرویز اشرف فرماتے ہیں کہ ملک سے لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہے۔ مبارک ہو! :evil:

آپ جتنی چاہیں کلیاں کریں، جتنا چاہیں نہائیں، فائدہ کچھ نہیں ہونے والا۔ کیا آپ جانتے ہیں، آپ کا اندرونی حال کیسا ہے؟ آئینے کے سامنے کھڑے ہوں، زبان باہر نکالیں اور دیکھیں۔۔۔۔ میری تو ابھی صبح صبح ہی بہت سفید ہورہی ہے۔ :sad:

کیا تمہیں یاد ہے؟

412 views September 2, 2008 | راہبر
No Gravatar

سنو۔۔۔! کیا تمہیں یاد ہے۔۔۔۔۔!!!

آج۔۔۔
۔۔۔۔ ہمارے ساتھ کو پورے تین سال
۔۔۔۔ ہماری دوستی کو دو سال
اور
۔۔۔۔ ہماری محبت کو ایک سال
مکمل ہوگیا۔

لیکن۔۔۔!!
یہ سال۔۔۔۔ یہ سال شاید جدائی کا ہے۔۔۔ :chup:
:F :break

مرحبا رمضان

207 views September 2, 2008 | راہبر
No Gravatar

ماہِ رمضان کا چاند نظر آچکا۔ آج یکم رمضان المبارک 1429ھ ہے۔ آپ سب کو ماہِ رمضان کی مبارک۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بابرکت مہینے عطا فرمایا۔ اللہ پاک ہمیں اس کی رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

یہاں لوگ ابھی سوچ رہے ہیں کہ رمضان میں اپنے نظام الاوقات کیسے مرتب کریں۔ ایک گھنٹہ کے آگے پیچھے ہونے سے مسئلہ ہورہا ہے۔ بہرحال! میں نے اپنی مصروفیات کا خاکہ بنالیا ہے۔ صبح سحری کے بعد قرآن پاک کی تلاوت اور پھر کمپیوٹر۔ آٹھ بجے تک گھر سے نکلنا ہوگا کیونکہ ماہِ رمضان میں دفتر نو بجے پہنچنا ہے۔ سہ پہر تین بجے دفتر سے چھٹی۔ گھر جاکر نیند۔ پھر عصر، افطار، مغرب۔ تھوڑی دیر ٹی۔وی یا کوئی اور کام، ساڑھے نو بجے عشاء اور تراویح۔ گیارہ بجے تک گھر واپسی اور بارہ بجے بستر پر۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کس قدر ہوتا ہے۔:razz:

کل برے پھنسے۔ شام ساڑھے پانچ بجے گھر کے لیے نکلا اور ساڑھے نو بجے گھر پہنچا۔ ڈیڑھ گھنٹہ تک بس میں پھنسا رہا، پھر ابو کو فون کیا تو وہ بھی نکل رہے تھے۔ ساڑھے سات بجے صدر پہنچے، ان کے ساتھ بیٹھا تو دو گھنٹہ تک بائیک پر بیٹھا ہی رہا۔ برا حال ہوگیا۔ اس قدر ٹریفک جام تھا کہ خدا کی پناہ۔ اب تک ٹانگیں درد کررہی ہیں۔

پچھلے سال میں نے رمضان میں ایک بہت دلچسپ تحریر لکھی تھی، اب بھی اس کی یاد تازہ ہے۔ آپ چاہیں تو دوبارہ پڑھ لیں: انڈہ

Protected: تم سے ملنا

169 views August 19, 2008 | راہبر
No Gravatar

This post is password protected. To view it please enter your password below:


آہ ثاقب!

402 views August 15, 2008 | راہبر
No Gravatar

12 اگست 2008۔ بروز منگل۔
میں ایک دوست کے ساتھ سہ پہر سے پی۔اے۔ایف میوزیم میں تھا۔ رات 9 بجے ہم نکلنے ہی والے تھے کہ میرا موبائل فون بجنے لگا۔ دوسری طرف امی تھیں۔ گھبرائی ہوئی آواز میں بولیں، ثاقب اور انجم پھپھو کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، صبا چاچی کا فون آیا تھا، سعد کو فون کرکے کنفرم کرو۔ میرا دماغ جیسے میرا ساتھ چھوڑ گیا۔ ہاں ہوں کرکے فون بند کیا۔ سوچا، سعد کو کیوں، ثاقب کے گھر ہی فون کرکے کیوں نہ معلوم کروں۔ اس کے گھر فون کیا، ثاقب کی چھوٹی بہن نے اٹھایا۔ میں نے پوچھا تو روتے ہوئے بولی کہ بھائی اور امی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، پتا نہیں کس حال میں ہیں۔ میں نے پوچھا، کہاں ہیں وہ؟ کون ہے ان کے ساتھ؟ تو کہنے لگی کہ ابو گئے ہیں۔ پھر میں نے گھر فون کیا اور امی کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ شاید بچیوں کو نہ بتایا ہو لیکن دونوں کا انتقال ہوگیا ہے۔ :cry: (اناللہ وانا الیہ راجعون)
مزید پڑھیں »

بارش کی رم جھم

199 views July 30, 2008 | راہبر
No Gravatar

اور آخرکار کل ابرِ کرم برس ہی گیا۔ آرزو پایہ تکمیل تک پہنچی۔ کل دوپہر دفتر میں ہی امی کا ٹیکسٹ آیا کہ تیز بارش ہورہی ہے حالانکہ ہمارے ہاں تیز دھوپ تھی۔ شام کو جب گھر کے لیے نکلا تب تک بارش کے آثار نہیں تھے۔ راستہ بھی سوکھا پڑا تھا، ناظم آباد سات نمبر کے اوورہیڈ برج سے پہلے تک سب کچھ خشک تھا اور برج کے دوسری جانب بارش ہورہی تھی، سڑکیں گیلی ہی نہیں تھیں، پانی بھی کافی کھڑا ہوا تھا اور جیسے جیسے شمال کی طرف آگے بڑھتے گئے، اندازہ ہوتا گیا کہ یہاں اچھی خاصی بارش ہوچکی ہے۔ پھر پتا چلا کہ شہر کے مرکز میں شام کے وقت بارش برسنا شروع ہوئی تھی۔

گھر پہنچا تو دروازے پر ہی روک لیا گیا۔ پتا چلا کہ خواتین کا میلاد رکھا گیا تھا اور روکنے کی وجہ ہمارے سسرال کا مع ہماری منگیتر صاحبہ کے موجود ہونا تھا۔ حکم ہوا کہ چہرہ ادھر ادھر گھمائے بغیر سیدھا اپنے کمرے کا رخ کرو۔ حکم کی تعمیل کی۔ :razz:

جب تک وہ موصوفہ گھر میں موجود رہیں، ہماری سرگرمیاں انتہائی محدود رہیں لیکن گھر سے باہر نکلنے کا جی بھی نہیں کیا حالانکہ تیز بارش ہورہی تھی اور مجھ سے بارش میں نہائے بِنا رہا نہیں جاتا۔ بس گیلری میں کھڑا رومانوی موسم سے لطف اندوز ہوتا رہا۔۔۔ بے وقوفی ہی کی۔ باہر نکل کر انجوائے کرتا تو ہی بہتر تھا، گھر میں رہنے کا فائدہ کیا ہوا جب ایک جھلک بھی دیکھ نہ سکا۔ :sad:

رات گیارہ/ بارہ بجے تک بارش تھم گئی تھی۔ آج دن میں تو اچھی خاصی دھوپ ہی تھی لیکن ابھی چار بجے کے بعد بادل گِھر آئے ہیں۔ مجھے ابھی کچھ کام ہے ورنہ میرے ذہن میں موسم کی مناسبت سے ایک دو گیت کلبلارہے ہیں۔۔۔ :smile: چلیں، آپ اپنے طور مزہ لیں۔۔۔ میں بعد میں لکھتا ہوں۔

قائد کو سلیوٹ

186 views July 18, 2008 | راہبر
No Gravatar

میرا دماغ بھی عجیب ہے۔۔۔ اچھوتی اچھوتی باتوں کا سوچتا ہے اور پھر اس کے بعد اپنے ہی آپ کو چیلنج کہ میں یہ کرسکتا ہوں یا نہیں؟ “نہیں” کیسے کہوں، جواب “ہاں” ہی میں ہوتا ہے اور پھر ثبوت۔۔۔!!!

میرے دفتر سے کچھ فاصلہ ہی پر مزارِ قائد ہے۔۔۔ عظیم رہنما، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تربت۔ گھر سے دفتر آنے اور دفتر سے گھر جانے کے دوران عموما اس کے سامنے ہی سے گزرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے دماغ پر ایک خیال سوار ہوگیا کہ میں نے گزرتے ہوئے قائد کو سلیوٹ کرنا ہے۔۔۔ اب آپ خود سوچیں، عین سڑک پر گزرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا کوئی بندہ سلیوٹ مارتا کیسا لگے گا۔۔۔؟ کافی دن ٹالتا رہا۔۔۔ اب نہ کروں تو اندر سے آواز آتی، “اچھا تو قائد سے تمہاری محبت ایسی ہے کہ لوگوں کا خیال کرکے تم ایک سلیوٹ نہیں کرسکتے۔” کئی ایک بار سر تک ہاتھ اٹھایا بھی مگر۔۔۔۔ :razz:

لیکن کل میں کامیاب ہوگیا۔۔۔ رات کو ابو کے ساتھ جارہا تھا بائیک پر۔۔۔ جیسے ہی مزارِ قائد آیا، وہی خیال پھر سے کود پڑا اور میں نے اپنے قائد کو محبت بھرا سلام کیا۔۔۔۔ :smile: اب سکون ہے۔

کھری کھری سنانا

187 views July 14, 2008 | راہبر
No Gravatar

امی کہتی ہیں، تمہیں غصہ کچھ زیادہ ہی آنے لگا ہے۔۔۔ پر میرا خیال ہے کہ اب اظہار زیادہ ہونے لگا ہے۔ غلط بات ہوتے دیکھوں تو مجھ سے خاموش نہیں رہا جاتا، عجب بے چینی شروع ہوجاتی ہے اور جب تک اپنے دل کی بھڑاس نہ نکالوں، قرار نہیں آتا۔۔۔ ابھی پرسوں، سنیچر کی شام کا قصہ ہی سنئے۔

دفتر سے گھر واپسی پر جس بس میں سوار ہوا، اس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر انتہائی گنوار اور جاہل تھے۔ مسافروں، خاص کر خواتین کو اتارنے میں ایسی بے صبری کا مظاہرہ کررہے تھے اور ساتھ ساتھ انتہائی بکواس بھی کہ جلدی سے اترو نا، وقت کیوں ضائع کررہی ہو، اب کسی خاتون کو سوار نہیں کروں گا گاڑی میں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اور ان کو اترنے ہی نہ دیں نا۔۔۔ فورا سے گاڑی چلادیں۔۔۔ میں بڑی مشکل سے برداشت کئے بیٹھا رہا۔ پھر سخی حسن چورنگی سے کچھ پہلے ڈرائیور فضول میں گاڑی روک کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ تب میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا بلکہ چھلکنے لگا۔ :razz:

پہلے تو میں نے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ڈرائیور کو آواز لگائی پر اس پر اثر نہیں ہوا۔ تب میں نے اپنے آس پاس دیکھا، ایک بندہ کھڑا تھا قریب ہی کہ بس بھری ہوئی تھی۔ میں کھڑا ہوا اور اس کو کہا کہ بیٹھ جاؤ اس سیٹ پر۔۔۔ پھر میں نے کھڑے ہوکر ڈرائیور کو کھری کھری سنائیں کہ مسافروں کو اتارتے ہوئے تو تمہیں موت آرہی تھی اور یہاں جاہلوں کی طرح کھڑے ہوکر جو وقت ضائع کررہے تو شرم نہیں آتی تمہیں، بے غیرتو! :wink: اس پر آگے پیچھے سے سب نے مجھے گھورا۔

میں دیکھنے میں کافی شریف لگتا ہوں (یا شاید مجھے ایسی خوش فہمی ہے :smile:) لہذا میں نے اپنی شرافت کو چھپانے کے لیے اپنی آستینوں کے بٹن کھولے اور ان کو ذرا سا اوپر کرلیا۔۔۔ گریبان کے بٹن بھی اوپر تک لگے تھے، اس میں سے بھی ایک کھول لیا۔۔۔ :razz: ڈرائیور نے شیشے میں پیچھے کی طرف دیکھا اور بڑبڑا کر خاموش ہوگیا۔۔۔ پھر خود ہی آہستہ آہستہ گاڑی چلانا شروع کردی۔

سنانے کو تو میں نے اور بھی سوچا تھا بہت لیکن بڑی مشکل سے ضبط کیے رکھا کیونکہ اس پر کنڈیکٹر ہاتھا پائی پر بھی اتر سکتا تھا اور مجھے ایسا مذاق بالکل پسند نہیں ہے۔ :wink:

اصل میں غلطی ہماری بھی ہے۔ ہم نے ڈرائیوری کے پیشہ کو شجر ممنوعہ کی حیثیت دی ہے اور اسے جاہلوں، ان پڑھوں کے حوالہ کردیا ہے۔۔۔ اب خمیازہ تو بھگتنا ہی ہے نا۔۔۔ خیر، زبان تو کھولنی چاہئے ایسی بے حسی پر۔ اب لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تمہارے بولنے سے کیا فرق پڑے گا، ڈھیٹ لوگ ہیں، جاہل ہیں، گنوار ہیں۔۔۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں؟ وہ جتنے بھی جاہل ہوں، اگر ہم حق بات کے لیے صدا بلند نہیں کرتے تو ہم پڑھے لکھے جاہل ہوئے۔ اور اگر چند لوگوں میں بھی یہ شعور بیدار ہوجائے اور وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے لگیں تو سامنے والا چاہے طاقتور ہو یا گنوار، وہ ایک دن ہماری بات ماننے پر مجبور ہوجائے گا۔ (ان شاء اللہ)