Hannah Montana

138 views September 24, 2008 | راہبر
No Gravatar

گذشتہ ایک ہفتہ سے میرے روزمرہ کے معمولات میں ایک چیز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ میں رات تراویح پڑھ آنے کے بعد کھانا کھاکر ڈزنی چینل لگاکر بیٹھ جاتا ہوں۔ باقی سب بور ہوتے رہتے ہیں کہ کیا دیکھیں، کیا سمجھیں۔ گیارہ بجے سے دو، تین اچھے سٹ کام آتے ہیں۔ گیارہ بجے Cory in the house جس کی کہانی کوری کے گرد گھومتی ہے۔ اس کا باپ وہائٹ ہاؤس کے باورچی خانے کا نگران ہے۔ اپنے دو دوستوں نیوٹ (جو چیف جسٹس کا بیٹا ہے) اور مینا (جو ایک سفیر کی بیٹی ہے) کے ساتھ مل کر دونوں اچھی تفریح فراہم کرتے ہیں۔

بارہ بجے The Suite Life of Zack & Cody آتا ہے اس کی کہانی زیک اور کوڈی، دو جڑواں بھائیوں کے گرد گھومتی ہے جو اپنی ماں کے ساتھ ایک ہوٹل میں رہتے ہیں۔ یہ سٹ کام بھی کافی دلچسپ ہے پر کبھی کبھی اس میں کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ مجھے چینل بدلنا پڑتا ہے۔۔۔

لیکن میرا سب سے پسندیدہ سٹ کام Hannah Montana ہے۔ یہ ساڑھے گیارہ بجے نشر ہوتا ہے۔ گیارہ اور بارہ بجے والا سٹ کام بھلے چھوڑ دوں، لیکن اسے ضرور دیکھتا ہوں۔

مطلب آج کل میں بچہ بنا ہوا ہوں چھوٹا سا۔۔۔ :P
مزید پڑھیں »

میری میت پر

132 views September 23, 2008 | راہبر
No Gravatar

گیت: میری میت پر
گلوکار: محمد علی تاجی

دبا کے قبر میں سب چل دیے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہوگیا زمانے کو؟

دل نے پہنا ہے جوڑا کفن کا، چادر گُل تو لا کر چڑھا دو
جارہی ہے محبت کی میت، دوستو آؤ کاندھا لگادو

جتنے چاہو ستم ہم پہ ڈھاؤ، اُف کریں گے نہ ہم اے دنیا والو!
دل تو ہم دے چکے ہیں کسی کو، جسم کو خاک میں تم ملادو

دم نکلنے پہ ملنے کو آئے، یہ سدا ہی ستم ہم پہ ڈھائے
میری میت پہ آکر وہ بولے، “کب سے سویا ہے، اس کو جگادو“

پیار کرنا اگر یہ خطا ہے، تو میرا دوستو فیصلہ ہے
پیار میں کیا خطا کی تھی میں نے، تم جو چاہو خطا کی سزا دو

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت ِ دفن
میری دم بھر محبت کا صلہ دینے لگے
کسی کے منہ سے نہ نکلا یہ میرے دفن کے بعد
کہ ان پہ خاک نہ ڈالو، یہ ہیں نہائے ہوئے

کفن ہٹاؤ نہ للہ میرے چہرے سے
گنہگار کو رہنے دو منہ چھپائے ہوئے
ایسا میرا دل پھٹتا ہے احباب کی اس بے دردی پر
کہ کاندھے پر اٹھانے والے کو مٹی میں ملایا جاتا ہے

اللہ اللہ یہ لگن، باندھ کے سر سے کفن
ایک دیوانہ چلا، ایک مستانہ چلا
اب خزاں سے کہہ دو، راہ سے ہٹ جائے
کوئی مشکل انور، اب نہ آڑے آئے

پیار کرنا اگر یہ خطا ہے، تو میرا دوستو فیصلہ ہے
پیار میں کیا خطا کی تھی میں نے، تم جو چاہو خطا کی سزا دو

بن گئی میری آنکھیں کسوٹی، سینکڑوں میں نے دیکھے ہیں جلوے
دیکھ لو میری آنکھوں میں تم بھی، آئینہ سامنے سے ہٹادو

بھوتنی کے

43 views August 19, 2008 | راہبر
No Gravatar

ہاہاہا۔۔۔ یہ کچھ اور نہیں، ایک فلم کا گیت ہے۔۔۔ایسا بھی وقت آنا تھا۔۔۔ دراصل یہ لفظ یوں رائج ہوا کہ یہاں لوگ اس سے ملتے جلتے الفاظ کی ایک گالی نکالتے ہیں۔۔۔ اب جہاں لوگ وہ گالی نکالنا مناسب خیال نہ کریں، اس کی جگہ یہ لفظ کہہ دیتے ہیں۔ ظاہری معانی فضول اور مقصد وہ گالی۔۔۔ لیکن جب یہ لفظ فلم “سنگھ از کنگ” کے ایک گیت کا ٹائٹل بنا تو جو لوگ اس کا مطلب نہیں سمجھتے تھے، انہوں نے کھوج لگانا شروع کی۔ یاہو آنسرز انڈیا پر یہ سوال پوچھا گیا کہ What does bhootni ke mean۔۔۔ :razz: اب جواب دینے والے بے چارے کیا لکھیں؟ پہلا لکھتا ہے کہ بھوتنی، فیمیل جِن ہوتی ہے۔ دوسرا لکھتا ہے: bhootni ke mean۔۔۔۔ it does’nt have specific meaning۔۔۔ فنی ہی رہا۔۔۔ خیر، آپ گانے سے لطف اندوز ہوں۔

گیت: بھوتنی کے
فلم: سنگھ از کنگ
ہدایت کار: انیس بزمی
موسیقار: پریتم
شاعر: مایور پوری
ستارے: اکشے کمار، جاوید جعفری، کترینا کیف، نیہا دھوپیا
مزید پڑھیں »

لگا رہ۔۔۔!!

26 views August 9, 2008 | راہبر
No Gravatar

ملکی صورتحال پر شہزاد رائے کا نیا میوزک البم “لے لو قسمت اپنے ہاتھ میں” پچھلے دنوں ہی ریلیز ہوا ہے۔ اس کا ایک گانا ان دنوں چند چینلز سے نشر کیا جارہا ہے، “لگا رہ”۔ بہت دلچسپ گیت اور ملکی صورتحال کو اجاگر کرنے والا۔۔۔ اس کی شوٹنگ، لگتا ہے کراچی ہی میں ہوئی ہے۔ وڈیو مع شاعری حاضر ہے۔

گیت: لگا رہ
البم: لے لو قسمت اپنے ہاتھ میں
گلوکار: شہزاد رائے
ڈائریکٹر: احسن رحیم

“میں جب دس سال کا تھا، میں نے نائن او کلاک نیوز پہ سنا کہ پاکستان تاریخ کے ایک نازک موڑ سے گزر رہا ہے”

“ابووووو”

“میں پھر بیس سال کا ہوا، میں نے پھر نائن او کلاک نیوز پہ سنا کہ پاکستان تاریخ کے ایک نازک موڑ سے گزر رہا ہے”

آس باندھ کر کیوں کھڑا ہے، ٹس سے مس نہیں ہوتا
تو ہے ایک عام آدمی، ارے بس اب نہیں ہوتا

“تو کیا کروں؟ ہمت ہاردوں؟”

نہیں۔۔۔ لگا رہ

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
اڑا رہ۔۔۔ اڑا رہ تُو اڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

بزرگوں نے مجھ سے پوچھا
ملک کیسے یہ چلے گا
بزرگوں کو میں یہ بولااااا
لگے رہو، لگے رہو

بزرگوں نے مجھ سے پوچھا
ملک کیسے یہ چلے گا
بزرگوں کو میں یہ بولااااا
“مجھے فکر یہ نہیں ہے کہ یہ ملک کیسے چلے گا،
مجھے فکر یہ ہے کہ ایسے ہی نہ چلتا رہے”

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ

“یار! ملک میں بڑی ٹینشن ہوگئی ہے”
“کوئی نہیں، کوئی نہیں! سب کچھ اللہ پہ چھوڑ دو”

کچھ نہ کر کچھ نہ کر تُو
سب کچھ اللہ پہ چھوڑ دے
بس اللہ ہی تیرا حافظ ہے

اے بھائی! تُو بھی نازک موڑ بن گیا
ٹس سے مس نہیں ہوتا
تُو ہے ایک عام آدمی
ارے بس۔۔۔۔ اب تو دکھ ہوتا ہے یار

“کوئی نہیں! ابھی بھی بڑے نیک لوگ باقی ہیں اس دنیا میں”

بزرگوں نے مجھ سے پوچھا
نیک کون ہے یہ تو بتا
بزرگوں کو میں یہ بولااااا
“نیک وہ ہے جس کو موقع نہیں ملا”

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

“ہمارے ملک میں امن و امان کی صورتحال بحال ہے۔۔۔۔ آئے اےےے”

او پھر ایک دن تیرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل جائے گی
اور پھر وہ تجھے کہیں گے، کہیں گے تو اڑ رہا ہے ہواؤں میں
تو اڑ رہا ہے ہواؤں میں

“تو کیا ہم سچ مچ ہواؤں میں اڑیں گے؟ ہائیں۔۔۔۔؟”
“تُو نہیں سمجھے گا بے”

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

لگا رہ۔۔۔ لگا رہ تُو لگارہ
کھڑا رہ۔۔۔ کھڑا رہ تُو کھڑا رہ
پڑا رہ۔۔۔ پڑا رہ تُو پڑا رہ

“اس لڑکے کی شکل شہزاد رائے سے کتنی مل رہی تھی”

“سر! میرا خیال ہے، قوم کو جگانے کا وقت آگیا ہے”
“ان کو مت جگاؤ، یہ کسی ضروری کام سے سورہے ہیں۔۔۔ ہیں۔۔۔۔!!”

پانی تو برساؤ

44 views July 26, 2008 | راہبر
No Gravatar

آج کل کراچی کا موسم ایسا ہے کہ یہاں رہنے والوں کی اکثریت بارش کو ترس رہی ہے۔ دن بھر گہرے بادل چھائے رہتے ہیں، موسم رومانوی رہتا ہے لیکن ابر برستا نہیں ہے۔ شب نے اپنے بلاگ پر عاشقانہ موسم کا ذکر کیا تو ہے :razz: پر اس میں ایک گیت شامل ہونے سے رہ گیا ہے۔ اسے میں لکھ دیتا ہوں۔ :smile: کراچی والوں کے دل کی آواز:
مزید پڑھیں »

ویسٹ سائیڈ اسٹوری

57 views July 25, 2008 | راہبر
No Gravatar

گزشتہ اتوار کو شام میں ٹی۔وی کھولے چینل گردی کے دوران انگریزی فلمی ٹی وی چینل MGM پر چلتی ایک مووی کچھ دلچسپ لگی تو دیکھنے بیٹھ گیا۔ نام وغیرہ تو پتا ہی نہیں چلا کہ فلم کافی گزر چکی تھی۔ ایک گیت پسند آیا تو اس کے کچھ جملے میں نے جلدی جلدی اپنے سیل فون میں لکھ کر محفوظ کرلیے کہ نیٹ پر سرچ کروں گا۔ ہیروئن کا نام تھا ماریہ اور اسی پر وہ گیت تھا کہ I just met a girl named Maria۔ اب جو میں نے گوگل کیا تو اتنے سارے آرٹیکلز اور بلاگز سامنے آگئے۔ ایسا لگتا تھا جیسے آدھی دنیا ماریہ سے ملی ہو اور اس پر کچھ لکھ ڈالا ہو کہ میں ایک ایسی لڑکی سے ملا جس کا نام ماریہ تھا۔ خیر، ایک جگہ لیرکس ملیں تو فلم کا نام پتا چلا۔ “West Side Story“۔
مزید پڑھیں »

ٹیگ کے اکھاڑے میں

53 views July 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

جہانزیب اشرف نے 5 اردو بلاگرز کو کیا ٹیگ کیا، ہر جگہ ٹیگ ٹیگ ہونے لگا۔ اچھا لگا لیکن پھر میں حسبِ عادت یکسانیت سے تنگ آگیا اور سوچا کہ اب نئے سوال ہوں۔ اس لیے میں نے سوالات اور سوالات کا انداز بدل دیا ہے۔

کھیل کے قوانین مندرجہ ذیل ہیں ۔
الف۔ کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے۔
ب۔ جس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے۔
ج۔ سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے۔
سوالات چونکہ میں لکھ رہا ہوں، اگر کسی نے مجھے دورانِ کھیل اِس سے منسلک کیا تو تب جوابات لکھوں گا۔ سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ ونڈوز یا لینکس؟
2۔ ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟
3۔ پیپسی یا کوک؟
4۔ سیب یا انگور؟
5۔ کراچی یا لاہور؟
6۔ پاپ میوزک یا راک؟
7۔ چائے یا کافی؟
8۔ عدنان سمیع یا عاطف اسلم؟
9۔ نہاری یا حلیم؟
10۔ لوو میریج یا ارینجڈ؟
11۔ فورمز یا بلاگ؟
12۔ نواز شریف یا آصف زرداری؟
13۔ دوست یا کزنز؟
14۔ کرکٹ یا فٹ بال؟
15۔ پرسکون یا پریشان؟

سوالات مختصر ہیں اس لیے پندرہ ہیں :razz: اگر آپ کو لگے کہ آپ کا مطلوبہ جواب سوال میں موجود نہیں تو کوئی اور جواب بھی لکھ سکتے ہیں۔ مثلا کوک یا پیپسی میں اگر آپ کو کوئی بھی پسند نہیں تو مرنڈا یا فانٹا یا ڈیو، جو پسند ہو لکھ دیں۔

میں درج ذیل ساتھیوں کو ٹیگ کررہا ہوں:
جہانزیب اشرف
ماوراء
قدیر احمد
حجاب
اور
مائی بیسٹ فرینڈ زینب

آؤ ٹیگ ٹیگ کھیلیں

70 views July 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

کچھ ہی عرصہ گزرا ہے کہ اردو بلاگرز نے ٹیگ ٹیگ کھیلنا شروع کیا ہے۔ مجھے سب سے پہلے جہانزیب بھائی نے دعوت دی، اس کے بعد زینب، ابوشامل اور شاہدہ آپی کی طرف سے بلاوا آیا۔ اچھا ہی ہوا کہ میں نے کچھ دن انتظار کرلیا کہ اتنے سارے لوگوں کی دعوت کا ایک ہی پوسٹ میں جواب دینا ممکن ہوسکا۔ :razz: جس جس نے مجھے اس اکھاڑے میں گھسیٹا، ان سب کا بہت شکریہ۔ تو جیسا کہ روش چلی ہے، ہم بھی اسی کے مطابق آؤ ٹیگ ٹیگ کھیلیں۔

کھیل کے قوانین مندرجہ ذیل ہیں ۔
ا) کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے ۔
ب) جِس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے ۔
ج) سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے ۔
سوالات مندرجہ ذیل ہیں ۔

1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟
میں عموما جرابیں استعمال ہی نہیں کرتا۔

2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟
ہاں، پنکھے کی سرسراہٹ۔ :razz:

3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟
صبح کو ناشتے میں ڈبل روٹی اور دہی۔

4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟
سیف علی خان، اکشے کھنہ اور انیل کپور کی بہترین فلم “ریس”۔

5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟
ٹیپو سلطان کا قول کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔

6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟
ٹین اسپورٹس پر ڈبلیو ڈبلیو ای دیکھ رہا تھا۔

7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟
قائد اعظم محمد علی جناح۔

8) غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟
کسی ایسے سے بات کرکے جو میرا ذہن دوسری طرف کرسکے۔

9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟
کیوں بتاؤں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ :wink:

10) آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟
عید الفطر۔۔۔! یہ میرا اتنا پسندیدہ تہوار ہے کہ مجھے اس دنیا میں آنے کے لیے بھی یہی دن دیا گیا۔ :razz:

اس کھیل کا اصول ہے کہ کم از کم پانچ مزید بندوں کو اکھاڑے میں لایا جائے لیکن میں ایک جیسے سوالات کی گردش کرنے سے تنگ ہوں اس لیے میں جلد ہی سوالات بدل کر پانچ بندوں کو دعوت دوں گا۔

کیوں میاں۔۔۔ سب سمجھ گئے؟

143 views April 11, 2008 | راہبر
No Gravatar

ایک مولانا صاحب ہوا کرتے تھے جن کا تکیہ کلام تھا، “کیوں میاں؟ سب سمجھ گئے؟”۔ ہوا یوں کہ ایک دن مسجد انتظامیہ نے عصر کی نماز سے قبل اعلان کردیا کہ تمام نمازی حضرات نماز کے بعد تشریف رکھیں، مولانا صاحب وعظ فرمائیں گے۔ اب مولانا صاحب کا دل نہیں چاہتا تھا لیکن چونکہ اعلان ہوچکا تھا لہذا بعد از نماز منبر پر چڑھے۔۔۔ ابتدائی کلمات حمدیہ و نعتیہ کے بعد فرمایا۔۔۔ “کیوں میاں؟ سب سمجھ گئے” سب لوگوں نے صدا بلند کی کہ “جی جی۔۔۔ سمجھ گئے۔۔۔” تو انہوں نے فرمایا کہ “میاں جب آپ لوگ اتنے ہی سمجھدار ہیں کہ میرے سمجھائے بنا سمجھ گئے تو پھر میرے سمجھانے کی کیا ضرورت؟” اور یہ کہہ کر اٹھ پڑے۔

لوگوں نے بڑا افسوس کیا کہ یہ ہم نے کیسا جواب دیدیا کہ وعظ سننے سے محروم رہ گئے۔۔۔ طے ہوا کہ اگلی بار جب مولانا صاحب یہ پوچھیں کہ سب سمجھ گئے تو سب مل کر کہیں گے کہ نہیں، ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔ سو، مغرب پر پھر اعلان ہوا کہ نماز کے بعد وعظ ہوگا۔ مولانا صاحب کا دل ہرگز نہ چاہتا تھا لیکن مجبور تھے لہذا منبر پر جلوہ گر ہوئے۔ ابتدائی کلمات کے بعد اپنا تکیہ کلام دہرایا۔۔۔ “کیوں؟ سب سمجھ گئے؟” سب نے ایک آواز ہوکر کہا کہ “نہیں نہیں۔۔۔ ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔۔۔ کچھ بھی نہیں سمجھے۔۔۔” مولانا صاحب فرمانے لگے: “ارے جب آپ لوگ اتنے نا سمجھ ہو کہ سمجھتے ہی نہیں تو پھر آپ لوگوں کو سمجھانا فضول ہے۔۔۔” یہ کہا اور اٹھ کر چل دیئے۔۔۔

اب لوگ پریشان کہ یہ کیا ہوا۔۔۔ دوبارہ وعظ سننے محروم۔۔۔ کیا کیا جائے؟ طے ہوا کہ عشاء میں دوبارہ وعظ کا اعلان کیا جائے اور مولانا صاحب جب یہ سوال پوچھیں تو ان کے دائیں طرف والے لوگ کہیں کہ ہاں، ہم سمجھ گئے اور بائیں طرف والے لوگ کہیں کہ نہیں، ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔۔۔ تب تو انہیں ضرور وعظ کرنا ہی پڑے گا۔

منصوبہ کے مطابق عشاء کے وقت بھی وعظ کا اعلان کردیا گیا۔ اب مولوی صاحب نہ چاہتے ہوئے بھی منبر پر تشریف فرما ہوئے اور جب اپنا تکیہ کلام ادا کیا کہ سب سمجھ گئے؟ تو آدھے لوگوں نے کہا کہ ہاں، ہم سمجھ گئے اور آدھے لوگ کہنے لگے کہ نہیں، ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔ مولانا صاحب نے فرمایا: “بھئی ماشاء اللہ۔۔۔ کچھ لوگ بہت ہی سمجھ دار ہیں اور کچھ لوگ انتہائی ناسمجھ۔ تو جو لوگ سمجھ گئے ہیں، میری ان سے گزارش ہے کہ جو لوگ نہیں سمجھے، وہ ان کو سمجھادیں۔۔۔ وما علینا الا البلاغ”
یہ کہہ کر چل دیئے۔
:razz:

قاضی کا انصاف

150 views March 25, 2008 | راہبر
No Gravatar

یہ ایک لوک کہانی ہے۔ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک چور نے کسی گھر میں نقب لگائی۔ واپسی میں کھڑکی سے بھاگ رہا تھا کہ چوکھٹ اکھڑ گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چور نیچے جاگرا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اگلے دن اس نے قاضی جی کی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا کہ یہ تو میری جان لینے کی کوشش کی گئی ہے اور میری ٹانگ بھی ٹوٹ گئی تو اب میں بے روزگار ہوگیا ہوں۔۔۔۔ اس گھر کی مالکہ ایک عورت تھی۔ قاضی نے اس عورت کو عدالت میں بلالیا اور چور کا دکھڑا کہہ سنایا۔ عورت بڑی حیران ہوئی کہ یہ عجیب قاضی ہے۔ دہائی دی کہ قاضی جی! یہ چور ہے۔۔۔ میرے گھر میں چوری کرنے گھسا تھا۔۔۔ اس کو تو سزا ملنی چاہئے۔۔۔ اچھی بات ہے کہ اس کی ٹانگ ٹوٹی۔۔۔ لیکن قاضی بہت اڑیل تھا۔ کہنے لگا کہ سزا تو تمہیں ملے گی کہ بے چارہ چور ٹانگ سے محروم ہوگیا اور ذریعہ معاش سے بھی۔ جب عورت نے اندازہ کیا کہ اس قاضی سے بحث کرنا فضول ہے تو اس نے جان چھڑانے کی ترکیب نکالی۔ کہنے لگی، قاضی جی! اصل قصور وار تو وہ بڑھئی ہے جس نے یہ کھڑکی صحیح سے نہ لگائی۔ اگر وہ ٹھیک سے لگاتا تو چوکھٹ نہ اکھڑتی اور یہ معذور نہ ہوتا۔ بات معقول تھی، قاضی نے فرمان جاری کیا کہ اس بڑھئی کو عدالت میں حاضر کیا جائے۔

بڑھئی پیش ہوا۔۔۔ قاضی نے سارا ماجرا اس کو پیش کیا اور کہا کہ چونکہ تمہاری کام چوری اور نالائقی کی وجہ سے یہ چوکھٹ اکھڑی اور چور کی ٹانگ ٹوٹی اس لیے تمہیں سزا ملے گی۔ بڑھئی بھی بہت رویا، چلایا کہ قاضی صاحب! یہ کیسا انصاف ہے۔ لیکن قاضی جی پر اثر نہ ہوا۔ آخر بڑھئی کو بھی جان بچانے کا بہانہ سوجھا۔ بولا، قاضی صاحب! اصل قصور میرا نہیں بلکہ اس عورت کا ہے جو بے حد بھڑکیلے رنگ کے کپڑے پہنے اس وقت گلی سے گزر رہی تھی جب میں کھڑکی لگارہا تھا۔ اس کے بھڑکیلے کپڑوں کی وجہ سے میری نظر بھٹکی اور کیل غلط ٹھونک دی۔ قاضی نے حکم جاری کیا، اچھا۔۔۔ اس عورت کو تلاش کیا جائے۔۔۔!

ہرکارے دوڑے پھرے۔۔۔ بڑی بھاگ دوڑ کے بعد اس عورت کا سراغ ملا۔ لے کر عدالت پیش ہوئے۔ قاضی نے اس کو سارے معاملہ سے آگاہ کیا اور کہا کہ تیری وجہ سے ایسا ہوا۔ اگر تو نے اتنے بھڑکیلے رنگ کے کپڑے نہ پہنے ہوتے تو نہ بڑھئی کی نظر بہکتی نہ ہاتھ بھٹکتا اور نہ یہ کیل ٹیڑھی ٹھونکتا کہ چور کودا تو چوکھٹ ہی اکھڑ گئی۔ عورت بڑی ہوشیار تھی۔ سارا ماجرا سنا تو سمجھ گئی بہتر یہی ہے کہ اپنے سر سے بلا ہٹا کر دوسرے کے سر پر رکھ دی جائے۔ کہنے لگی، قاضی جی! قصور میرا نہیں، قصور تو اس رنگ ریز (کپڑا رنگنے والے) کا ہے جس نے میرے کپڑوں کو اتنا شوخ رنگ دیا جس سے لوگوں کی نظر بھٹکی۔ سو، حکم ہوا کہ اس رنگ ریز کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

غرض کہ رنگ ریز چلا آیا۔۔۔ سارا معاملہ سنا اور یہ جانا کہ الزام میرے سر آتا ہے لیکن تھا بے وقوف۔ اتنا نہ سمجھ سکا کہ اگر وہ ذرا چالاکی سے الزام کسی اور پر رکھ دے تو اس کی جان چھوٹ جائے گی۔ بے چارہ قاضی کو سمجھاتا رہا کہ یہ شوخ اور بھڑکیلے رنگ تو ہوتے ہیں عورت کے لباس کے لیے ہیں۔ اگر عورت ایسے شوخ کپڑے نہ پہنے گی تو کون پہنے گا۔۔۔ قاضی نے اس کی بات پر کان نہ دھرا اور حکم جاری کردیا کہ اس کو سزائے موت دی جائے۔

بے چارہ رنگ ریز روتا پیٹتا تختہ دار کو چلا۔ اب پھانسی دی جانے لگی تو پتا چلا کہ رنگ ریز کا تو قد ہی بہت بڑا ہے اور پھانسی دینا مشکل۔ معاملہ قاضی کے گوش گزار ہوا۔ قاضی نے کہا اس رنگ ریز کے خاندان سے کسی کو بھی اٹھا لاؤ جس کا قد مناسب ہو اور پھانسی دیدو۔ چنانچہ رنگ ریز کے خاندان سے ایک بندے کو اٹھا لائے اور پھانسی پر چڑھا دیا، یوں قاضی جی کا انصاف پورا ہوا۔

ایسی ہی ایک اور لوک کہانی ہے جس کا انجام ذرا مختلف اور زیادہ دلچسپ ہے۔ آخر میں ہوا یوں ہے کہ جب قاضی نے اس رنگ ریز کے خاندان سے ایک بندے کو پکڑ کر پھانسی دینے کا حکم صادر کیا تو قاضی کی مجلس سے ایک ذی علم بزرگ آگے بڑھے اور ہنسی خوشی کہنے لگے کہ اس شخص کے بجائے وہ پھانسی پر چڑھنا چاہیں گے۔ قاضی حیران ہوا، سبب پوچھا۔ بزرگ نے کہا، یہ ساعت بہت مبارک ہے اور اس گھڑی جو بھی پھانسی پر چڑھا وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔ قاضی نے یہ سنا تو کہا کہ پھر آپ کیوں، میں ہی کیوں نہ جاؤں جنت۔۔۔ اور یہ کہہ کر قاضی خود پھانسی پر چڑھ گیا۔ :razz:

۔۔۔۔۔۔
اگر آپ کو اس کہانی سے کوئی سبق حاصل نہیں ہوتا تو یہ نہ سوچئے کہ بے فائدہ وقت برباد کیا۔ امید ہے کہ آپ کو کہانی پڑھتے ہوئے لطف ضرور آیا ہوگا۔