اردو نسخ پنک

42 views July 29, 2008 | راہبر
No Gravatar

نام کچھ عجیب سا لگ رہا ہے کیا؟ خیر میں نے تو ورڈ پریس سانچہ کی مناسبت سے رکھ دیا ہے۔ یہ ایک اور ورڈ پریس سانچہ ہے جسے میں نے اردو تاہوما گرین کی بنیاد پر ہی تیار کیا ہے تاہم اس میں کی جانے والی تبدیلیوں کے باعث یہ پچھلے سے زیادہ اچھا ہے۔ اس کا مرکزی خطِ تحریر نفیس ویب نسخ ہے، اردو اوپن پیڈ انٹیگر ہے، رنگ گلابی ہے اور سائیڈ بار کے بٹنز بہت خوبصورت ہیں۔ اب یہ بنائے کیسے ہیں، ابھی نہیں بتارہا۔ :razz:

اردو نسخ پنک ڈاؤنلوڈ کریں۔

اردو تاہوما گرین

21 views July 29, 2008 | راہبر
No Gravatar

ورڈ پریس کے سانچے اردو میں ڈھالنے کا کام میں نے محب علوی کے کہنے پر شروع کیا تھا اور اس سے بھی پہلے شاکر عزیز کے لکھے اسباق نے اس طرف راغب کیا تھا۔ اب تک کوئی پندرہ سے زائد سانچوں کو اردو قالب میں ڈھال چکا تھا لیکن وہ مجھ سے ضائع ہوگئے۔ :razz: خیر، ابھی مجھے دوبارہ ایک جگہ ویب سائٹ پر نظر آئے ہیں۔۔۔ محفوظ کرتا ہوں ان کو۔
بہرحال، چند سانچوں پر کام کرنے کے بعد میرے دماغ پر یہ بھوت سوار ہوگیا کہ دوسروں کی تھیمز پر کام کرنے کے بجائے خود اپنی تھیم بنانے کی کوشش کی جائے۔ اب سے پہلے میں نے ایک سانچہ “نیوز پورٹل” کو ترتیب دیا تھا لیکن وہ بھی کہیں کھوگیا۔ :wink: میں کچھ زیادہ ہی لاپرواہ ثابت ہوا اس معاملہ میں۔ خیر اب کے احتیاط کررہا ہوں۔
میں نے پچھلے دنوں ایک ویب ٹیمپلیٹ کی بنیاد پر ورڈ پریس کا سانچہ بنایا ہے۔ ویب ٹیمپلیٹ کی مدد بس برائے نام ہی ہے۔ زیادہ تر کام میرا اپنا ہی کیا ہوا ہے۔ ملاحظہ کریں ایک سادہ سا ورڈ پریس اردو سانچہ، “اردو تاہوما گرین”۔

تھیم میں اردو پیڈ انٹیگر ہے، مرکزی خط تاہوما رکھا ہے۔ ابھی میں چونکہ ماہر نہیں ہوا ہوں اس لیے تھیم کی سائیڈ بار میں ویجٹس کی سپورٹ نہیں ہے۔
اردو تاہوما گرین ڈاؤنلوڈ کریں

منظرنامہ۔ ایک منفرد بلاگ

124 views May 15, 2008 | راہبر
No Gravatar

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ مجھے ایک موصوف کا انٹرویو لینے کا شوق چرایا بالکل اسی طرح جیسے ان موصوف کو اپنے بارے میں سب کچھ چھپانے کا شوق ہے۔ میں نے باتوں باتوں میں کئی بار ان سے تذکرہ کیا لیکن وہ چونکہ ٹالنے کے فن میں طاق ہیں اس لیے کمال خوبی سے مجھے ٹالتے رہے۔ یہ بات ماوراء تک پہنچی۔ ماوراء ایک اچھی اردو بلاگر ہیں اور گو کہ انہیں لکھتے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے، لیکن اردو بلاگنگ میں یہ کافی معرو ف ہیں۔ اس سے پہلے ان سے میری جان پہچان اردو محفل پر بھی تھی۔ خیر، جب یہ بات ماوراء تک پہنچی تو انہیں جیسے اسی کا انتظار تھا۔ رابطہ ہوا اور پھر ایک خیال پر بات چیت شروع ہوئی کہ ایک ایسا بلاگ بنایا جائے جہاں اردو بلاگرز کے انٹرویو ز لیے جاسکیں۔

کافی وقت تو صرف مختلف خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری ہوتی رہی اور پھر بالاخر گذشتہ ماہ یہ بلاگ “منظرنامہ” کے عنوان سے بنالیا گیا۔ اس سلسلہ میں بدتمیز کی تجاویز کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی کہ کہ ان کے مفید مشوروں اور تنقید نے ہماری کافی مدد کی۔ شکریہ سر!

ہمارا ارادہ ہے کہ وقتا فوقتا مختلف اردو بلاگرز سے انٹرویو کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اس ضمن میں پہلا انٹرویو زکریا اجمل صاحب کا اب منظرنامہ پر موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو بلاگرز کو ایک موضوع دیا جائے گا جس پر تحریر کی تمام بلاگرز کو کھلی دعوت ہوگی۔ وہ تحاریر منظرنامہ کی زینت بنیں گی۔

ہم نے یہاں اردو بلاگرز کی فہرست بھی مرتب کی ہے۔ اگر اس فہرست میں آپ کا یا کسی اور کا بلاگ موجود نہ ہو تو ہمیں آگاہ کریں تاکہ اس فہرست کو مکمل کیا جاسکے۔

اکثر ساتھی کہتے ہیں کہ بس اس کو جاری رکھنا، چھوڑ نہ دینا لیکن کسی نے مجھے کہا ہے کہ جس پروجیکٹ میں ماوراء شامل ہوجائے، سمجھ لو کہ وہ کامیاب ہی ہوجائے گا۔ اس لیے مجھے اطمینان ہے۔ انٹرویو وغیرہ کے سوالات تیار کرنے میں ماوراء ہی کا زیادہ کام ہے۔ ماوراء! تھینکس۔

یہ ابھی آغاز ہے اور ہمارا ارادہ اسے بہت آگے لے جانے کا ہے۔ آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ رابطہ کے لیے ہمارا ای۔میل ایڈریس یہ ہے:
contact us

بلاگ پر ویڈیوز اور تصاویر

136 views April 15, 2008 | راہبر
No Gravatar

بلاگ کے نئے صارفین کو کئی مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ابتداء میں چھوٹے چھوٹے مسائل بھی بہت بڑے محسوس ہوتے ہیں۔ ان ہی میں ایک مسئلہ بلاگ پر کوئی تصویر یا ویڈیو لگانا ہے۔

سب سے پہلے بلاگ پر تصویر لگانے کا طریقہ:
آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ کسی امیج ہوسٹ سائٹ پر اپنی تصویر اپ۔لوڈ کروالیں۔ مثلا امیج شیک پر۔ جب آپ کی تصویر اپ۔لوڈ ہوجائے گی تو اس کا لنک آپ پوسٹ ایڈیٹر میں وہاں پیسٹ کردیں جہاں آپ وہ تصویر ظاہر کروانا چاہتے ہیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جب آپ کوئی پوسٹ لکھنے کے لیے ایڈیٹر کھولتے ہیں تو ایڈیٹر کے نیچے دیکھئے گا، اپ۔لوڈز کا خانہ موجود ہوگا۔ وہاں آپ براؤز کرکے اپنی مطلوبہ تصویر اپ۔لوڈ کریں۔ جب اپ۔لوڈ ہوجائے گی تو آپ کے سامنے Send to Editor کا بٹن آجائے گا۔ اسے دبانے سے وہ تصویر پوسٹ میں شامل ہوجائے گی۔
شروع میں ممکن ہے کہ کچھ مشکلات پیش آئیں لیکن چند تجربات کیجئے، مزا بھی آئے گا اور پھر کامیابی بھی ملے گی ان شاء اللہ۔

بلاگ پر ویڈیو اپ۔لوڈ کرنے کا طریقہ:
تصویر کی طرح آپ جو ویڈیو اپنے بلاگ پر شائع کرنا چاہ رہے ہیں، اس کا بھی کہیں نہ کہیں اپ۔لوڈ ہونا ضروری ہے۔ ایسی بہت سی ویڈیو ہوسٹ سائٹس موجود ہیں جن میں یوٹیوب سر فہرست ہے۔ آپ یوٹیوب پر اپنا اکاؤنٹ بنا لیجئے (یعنی کہ سائن۔اپ کرلیں)۔ اس کے بعد اپنی ویڈیو یوٹیوب پر اپ۔لوڈ کیجئے۔ میں یہاں پر فرض کررہا ہوں کہ آپ جو ویڈیو اپنے بلاگ پر شائع کرنا چاہتے ہیں، وہ یوٹیوب پر موجود ہے۔ اس ویڈیو کو چلایئے۔۔۔
ایڈریس بار میں اس ویڈیو کا ڈائرکٹ لنک (URL) ہوگا جب کہ ویڈیو کے دائیں جانب ایک کوڈ Embedded Player کے نام سے ہوگا۔ اس کوڈ کو کاپی کرلیجئے اور اپنے بلاگ کے پوسٹ ایڈیٹر میں آکر پیسٹ کردیں۔ پوسٹ پبلش کرکے دیکھیں۔۔۔۔ لیجئے۔۔۔ پوسٹ میں ویڈیو شامل ہوگئی۔۔۔

گوگل اینالیٹکس

174 views March 11, 2008 | راہبر
No Gravatar

کیا آپ گوگل اینالیٹکس کے بارے میں جانتے ہیں؟ اگر نہیں جانتے تو کوئی بات نہیں۔۔۔ میں بھی کچھ ماہ پہلے تک نہیں جانتا تھا لیکن ایک ملاقات میں ابوشامل نے مجھے اس بارے میں مختصرا بتایا۔۔۔ اور پھر جب میں نے اس کا استعمال شروع کیا تو مجھے بے حد حیرت ہوئی۔

گوگل اینالیٹکس۔۔۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، گوگل کی سروس ہے۔ اس سروس کو استعمال کرنے کے لیے آپ کو سائن۔اپ کرنا پڑے گا جو کہ بالکل مفت ہے۔ اگر آپ کے پاس گوگل کا اکاونٹ ہے تو اسی کی معلومات فراہم کرکے پہلے سائن۔ان ہوجائیں۔۔۔ اس کے بعد سامنے آنے والے صفحہ پر صرف ایک کلک کے ذریعہ آپ اس سروس کے لیے سائن۔اپ ہوجائیں گے۔

ایگریمنٹ وغیرہ سے متفق ہونے کے بعد آپ کو ایک کوڈ دیا جائے گا۔۔۔ آپ نے کرنا یہ ہے کہ اس کوڈ کو اپنی ویب سائٹ کے پہلے صفحہ (عام طور سے انڈیکس پیج) پر چسپاں کردیں۔ اگلے ہی دن سے آپ کو گوگل اینالیٹکس پر اپنی ویب سائٹ کے بارے میں رپورٹ ملنا شروع ہوجائے گی۔

یہ آپ کی ویب سائٹ کے صارفین کا تفصیلی ریکارڈ رکھتی ہے۔ اتنا تفصیلی کہ مجھے پہلے اس کا اندازہ نہیں تھا۔ کتنے صارفین آئے؟ کس ملک سے کتنے آئے؟ ان کے پاس ویب براؤزر کون سا تھا؟ ان کا آپریٹنگ سسٹم کون سا تھا؟ ان کی اسکرین ریزولیشن اور اسکرین کلرز کتنے تھے؟ ان کے براؤزر میں جاوا اور فلیش فعال تھا یا نہیں؟ انہوں نے آپ کی ویب پر کتنی دیر قیام کیا؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔

کچھ اسکرین شاٹس دیکھئے۔۔۔
Map Overlay
Map Overlay نقشہ میں ان ممالک کو ظاہر کررہا ہے جہاں سے آپ کی سائٹ کو دیکھا گیا۔ آپ اپنا ماوس کرسر جس جگہ لے کر جائیں گے، ایک چھوٹے سے دریچہ میں اس مقام کا نام اور وہاں سے آنے والے صارفین کی تعداد ظاہر ہوجائے گی۔

Browsers
یہ چارٹ ظاہر کررہا ہے کہ صارفین کون سا ویب براؤزر استعمال کررہے ہیں۔۔۔!

ایسے ہی بائیں جانب آپ کو بہت سے مفید روابط نظر آئیں گے۔۔۔

ان سب کا فائدہ؟؟؟ تو فائدہ یہ ہے کہ ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے آپ اپنی ویب سائٹ یا بلاگ کو ترتیب دے سکتے ہیں۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کی سائٹ کے زیادہ تر صارفین انٹرنیٹ ایکسپلورر استعمال کررہے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ اپنی سائٹ بناتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کیونکہ فائر فوکس اور انٹرنیٹ ایکسپلورر کا نتیجہ یکساں نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ صارفین کی زیادہ تعداد کے پاس فلیش یا جاوا فعال نہیں ہے تو بہتر ہوگا کہ آپ سائٹ پر فلیش یا جاوا کے استعمال سے گریز کریں۔ اسی حساب سے اسکرین ریزولیشن بھی کافی اہمیت رکھتی ہے۔۔۔

میں نے صرف مختصر بتانے کی کوشش کی ہے کیونکہ خود مجھے بھی دعوی نہیں ہے کہ میں گوگل اینالیٹکس کو بالکل اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔ سو، تعارف میں نے کرادیا ہے، آگے آپ کھنگالیں۔ :razz:
بیسٹ آف لک۔۔۔!

سال 2007ء اور میری بلاگنگ

1,077 views December 27, 2007 | راہبر
No Gravatar

سال 2007ء کا اختتام آن پہنچا ہے۔ اسی سال کے اوائل میں، میں نے اردو محفل میں شمولیت اختیار کی اور یوں انٹرنیٹ پر موجود ایک نئے جہان سے متعارف ہوا۔ وہیں سے بلاگز وغیرہ کی معلومات ہوئیں اور شاکر بھائی کے بلاگ پر اس بارے میں کافی تحاریر پڑھنے کو ملیں، ساتھ ہی ورڈ پریس کو فری ہوسٹس پر استعمال کرنے اور اس کو اردو کے قابل بنانے کا طریقہ بھی جانا۔ سو، میں نے کچھ دن تک مغز کھپانے کے بعد ایک فری ہوسٹ پر اپنا بلاگ شروع کیا۔ ٧ مارچ ٢٠٠٧ء کو میں نے پہلی تحریر لکھی، “میں اور بلاگ”۔پھر چند تحاریر کے بعد میرا بلاگ جب اردو سیارہ پر شامل ہوا تو اس کے قارئین میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
میرے بلاگ پر سب سے پہلا تبصرہ میری دوسری تحریر “دوغلہ پن”پر اظہر الحق صاحب نے کیا جبکہ دوسرا تبصرہ نبیل بھیا نے اسی تحریر پر کیا۔ ابتدائی چند ماہ میں نے بہت کم تحاریر لکھیں۔ مارچ میں چار، اپریل میں پانچ، مئی میں سات اور جون میں دو تحاریر لکھیں۔ 7 جولائی 2007ء کو “اتحاد بین المسلمین اور اہلِ تشیع”کے عنوان سے ایک تحریر لکھی جس پر حمایت و مخالفت، دونوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تحریر پر 12 تبصرے ہوئے جو اس وقت کسی بھی تحریر پر ہونے والے سب سے زیادہ تبصرے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میں بہت خوش ہوا تھا۔ ماہ جولائی میں دس تحاریر لکھیں۔
اگست کے مہینہ میں میرا بلاگ اردو ٹیککی سروس پر منتقل ہوگیا۔ اس مہینہ میں نے بلاگ پر خاصی توجہ دی اور 23 تحاریر بلاگ کی زینت بنیں۔ ان میں “تحفظِ حقوقِ مرداں ایک دلچسپ اور مزاحیہ تحریر تھی جس پر 14 تبصرے نازل ہوئے جبکہ مولویوں کے خلاف بولنے والوں کے لیے ایک تحریر “مولوی” لکھی۔
ماہ ستمبر میں رمضان المبارک کی آمد تھی۔ ماحول کچھ سوکھا سوکھا تھا، اس میں ایک ہلکی پھلکی تحریر “انڈہ” لکھی جو کہ بے حد پسند کی گئی۔ اسی مہینے اپنی افطاری اور جغرافیہ کے عملی امتحان کے دلچسپ تجربے پر بھی تحریر معرض وجود میں آئی۔ ستمبر میں 14 اور اکتوبر میں 10 تحاریر بلاگ پر پیش ہوئیں۔
نومبر میں 16 تحاریر لکھیں جن میں “خبرنامہ پٹھو ٹیلی ویژن” دلچسپ تحریر تھی جو کہ پی ٹی وی پر طنز تھی۔ نومبر کے اختتام میں اردو بلاگنگ کے حوالہ سے کچھ سوال اٹھائے گئے اور تجاویز وغیرہ دی گئیں۔ یوں ماہ دسمبر میں بلاگ پر کچھ تبدیلیاں واقع ہوئیں۔
دسمبر کے مہینہ میں اب تک 16 تحریریں لکھی جاچکی ہیں جبکہ یہ 17ویں تحریر ہے۔ اس مہینہ کی اہم تحریر “یومِ ولادت” تھی جو کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا جشن منانے کے جواز میں لکھی گئی تھی۔ بلاگ پر سائٹ میٹر کا اضافہ کیا اور ساتھ ہی گوگل اینالیٹکس پر بھی اپنے بلاگ کو رجسٹر کیا۔ گوگل اینالیٹکس پر 15 دسمبر سے رپورٹ وصول ہوئی جس کے مطابق اب تک 183 وزٹس ہوئے، 437 صفحات دیکھے گئے۔ 68ء31 فیصد ٹریفک مختلف سائٹس سے آیا، براہ راست آمد 25ء68 رہی جبکہ سرچ انجنز سے 6ء01 ٹریفک موصول ہوا۔
پاکستان سے 97، متحدہ ہائے امریکہ سے 36، برطانیہ سے 14، ناروے سے 9، عرب امارات سے 6، سوئٹزر لینڈ، سعودی عرب، جرمنی اور کینیڈا سے 3، 3 جبکہ مصر سے 2افراد نے وزٹ کیا۔
ایک دن میں سب سے زیادہ آمد 15 دسمبر 2007ء کو ہوئی جو کہ 76 تھی اور اس کا سبب تحریر “یوم ولادت” تھی جبکہ دوسرے نمبر پر 69 ہے جو کہ بلاگ پر مختلف تبدیلیاں دیکھنے کے لیے آئے۔
سب سے اہم تبصرے اجمل صاحب کے رہے۔ بدتمیز اور قدیر کے تبصروں کا انتظار رہا۔ ME کے تبصرے اکثر و بیشتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلیں رہنے دیں۔ ماوراء، امن، عبید اللہ، ابوشامل اور ساجد اقبالکے تبصرے اچھے لگے۔
سیاست پر 21، نکتہ نظر کے عنوان سے 19، کمپیوٹنگ اور بلاگنگ کے حوالہ سے 12، میری باتیں کے زمرے میں 26 اور 20 ہلکی پھلکی تحاریر لکھیں جبکہ دیگر تحاریر مختلف زمروں میں شائع ہوئیں۔
اس سال بلاگ پر لکھی جانے والی تحاریر کے لحاظ سے تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا۔ پہلا دور جس میں زیادہ تر سیاسی تحاریر تھیں، دوسرا دور جس میں معاشرتی و سماجی مسائل پر لکھا جبکہ اختتام میں کچھ ہلکی پھلکی تحاریر زیادہ ہی ہوگئیں۔ شاید میں کافی تھک گیا ہوں۔
میری پسندیدہ تحاریر میں قصہ لینکس پاکستان کے دورے کا، قصہ ایک نادانی کا، تحفظِ حقوقِ مرداں، انڈہ، احساسِ ذمہ داری، انقلاب، شہری شعور اور خبرنامہ پٹھو ٹیلی ویژن شامل ہیں جبکہ معلوماتی تحریر ایک ہی نظر آتی ہے: “یوٹیوب سے ویڈیوز کیسے ڈاؤنلوڈ کریں؟”
ویسے یہ تحریر کچھ زیادہ ہی طویل ہوگئی ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ کونسی معلومات کو راز رکھنا چاہئے اور کس کو شائع کردینا چاہئے۔ میں نے تو کھلے عام اپنے بلاگ کا سارا احوال کھول کر رکھ دیا ہے۔ توبہ توبہ!

ورڈ پریس پلگ۔انز

495 views December 19, 2007 | راہبر
No Gravatar

میں نے اردو ٹیک بورڈ پر ورڈ پریس کی پلگ۔انز کے بارے میں لکھنا شروع کیا ہے جس میں ورڈ پریس کی مختلف پلگ۔انز کا تعارف اور ان کا فائدہ بتایا جائے گا۔ آپ لوگ درج ذیل ربط پر کلک کرکے ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
اردو ٹیک بورڈ۔ ورڈ پریس پلگ۔انز
اس سلسلہ میں نہ صرف آپ کی آراء اور تجاویز مفید ثابت ہوں گی بلکہ اگر آپ ورڈ پریس کی کسی پلگ۔ان کے بارے میں جانتے ہیں تو ہمیں اشتیاق ہے کہ آپ بھی وہاں اس بارے میں تحریر کریں۔
اردو ٹیک بلیٹن بورڈ پر ورڈ پریس اور بلاگز سے متعلقہ مسائل بیان کیے جاتے ہیں اور اس سے ہٹ کر بھی مختلف موضوعات پر معلوماتی گفتگو ہوتی ہے۔ آئیں! آپ بھی اردو ٹیک بلیٹن بورڈ کا حصہ بنیں۔

بلاگ کا مرکزی صفحہ تبدیل کریں

297 views December 18, 2007 | راہبر
No Gravatar

جب آپ کوئی بلاگ کھولتے ہیں تو “سرورق” یا “ہوم پیج” کھلتا ہے جس پر تازہ ترین تحاریر موجود ہوتی ہیں۔ اگر آپ اس صفحہ کے بجائے کوئی خاص صفحہ کھولنا چاہتے ہیں، مثلا اپنے تعارف کا صفحہ، یا کسی اعلان پر مشتمل یا خبر دینے والا صفحہ تو اس کے لیے آپ درج ذیل طریقہ پر عمل کیجئے۔
(واضح رہے کہ یہ طریقہ ورڈ پریس کے صارفین کے لیے لکھا جارہا ہے)
1۔ اپنے بلاگ پر لاگ۔ان ہوجائیں۔
2۔ ڈیش بورڈ پر مینیو سے “آپشنز” پر کلک کریں۔
3۔ سب۔مینیو سے “ریڈنگ” (Reading) پر کلک کریں۔
5۔ Reading Options میں پہلا عمل ہی پہلے صفحہ کے بارے میں ہے۔ دیکھئے: Front Page
6۔ Front Page Display کے نام سے آپ کے سامنے ایک آپشن ہوگا جو آپ کو پیشکش کرے گا کہ آپ اپنے بلاگ کا فرنٹ پیج اپنی تازہ ترین تحاریر والا رکھیں گے یا کوئی ساکت صفحہ (A Static Page)
7۔ آپ Static Page کو منتخب کریں اور اس کے سامنے موجود لسٹ سے اپنا وہ صفحہ منتخب کرلیں جو کہ آپ پہلے صفحہ پر ظاہر کروانا چاہتے ہیں۔
8۔ Update Options کے بٹن پر کلک کردیں۔
9۔ لیجئے۔ کام مکمل! اپنا بلاگ چیک کریں۔
تصویر ملاحظہ ہو:
ImageShack

اب شاید کوئی سوچے کہ بھلا اس کا کیا فائدہ ہوگا؟
ہممم۔۔۔۔ اس کا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ نے اپنا بلاگ مخصوص لوگوں کے لیے بنایا ہے تو آپ ایک صفحہ لکھ لیں جس میں بلاگ کے بارے میں تفصیل ہو اور اس صفحہ کو فرنٹ پیج کی حیثیت سے رکھ دیں تاکہ بلاگ پڑھنے سے پہلے قارئین بلاگ کے مندرجات سے آگاہ ہوسکیں۔
اس کے علاوہ اگر آپ کچھ عرصہ کے لیے بلاگ لکھنا بند کررہے ہیں یا اچانک کوئی اہم بات ہوگئی ہے یا کچھ خاص خبر بتانا چاہتے ہیں تو اس کا ایک صفحہ بنا کر آپ اسے فرنٹ پیج پر رکھ سکتے ہیں تاکہ آپ کے بلاگ پر آنے والے قارئین اس سے باخبر ہوجائیں۔

بیاض پر تبدیلیاں

236 views December 3, 2007 | راہبر
No Gravatar

پہلے زکریا نے اردو بلاگرز کے لیے تجاویز، غلطیاں، شکوے وغیرہ بیان کیے پھر بدتمیز نے بھی اچھی خاصی کلاس لے ڈالی۔ یوں کچھ نئی باتیں پتا چلیں اور ہم جیسے نو آموزوں کو ایک راہنمائی ملی۔ میرے لیے دونوں صاحبان کی تحاریر بالکل ایسی ہیں جیسے کوئی بڑا یا استاد صحیح بات بتائے۔ اس کے لیے میں ان کا مشکور ہوں۔
سو، اب تک سامنے آئی باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے بلاگ میں کچھ اضافے کیے ہیں (جوکہ تھیم کی تبدیلی کے سوا ہیں)۔ ;) ایک چیز یہ کہ میں نے صفحات میں رابطہ کا صفحہ بڑھایا ہے۔ اس صفحہ پر جاکر آپ مجھ سے رابطہ کرسکتے ہیں اور آپ کا پیغام مجھے بذریعہ ای۔میل موصول ہوجائے گا۔ دوسرا صفحہ Help کا ہے، جس میں ونڈوز ایکس۔پی میں اردو لکھنے کا طریقہ تصویروں کی مدد سے اردو میں سمجھایا گیا ہے۔ یہ میں نے چند مہینوں پہلے اردو محفل پر ہونے والی ایک گفتگو کے بعد لکھا تھا۔ اس میں یقینا مزید تبدیلیوں، اضافوں اور بہتری کی گنجائش ہوگی۔ اس سلسلے میں آپ مجھے تجاویز دے سکتے ہیں۔ تیسرا اضافہ سائٹ میٹر کا ہے جو بائیں طرف نیچے موجود ہے جسے یکم دسمبر 2007ء سے فعال کیا گیا ہے۔
امید ہے کہ یہ تبدیلیاں اور اضافے خوش آئند ہوں گے اور معزز قارئین کو پسند آئیں گے۔

اردو بلاگنگ اور میرے آس پاس

298 views November 30, 2007 | راہبر
No Gravatar

اچانک ہی اردو بلاگنگ پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔ لوگوں کو تشویش لاحق ہے۔۔۔ آج ہی مجھے دو/ تین جگہ اس بارے میں پڑھنے کو ملا۔۔۔ تو سوچا کہ کیوں نہ اپنی رائے کا اظہار بھی کیا جائے۔۔۔۔۔!
میں 2007ء کے اوائل میں اردو محفل پر پہنچا اور وہاں سے مجھے کئی نئی نئی باتیں پتا چلیں۔۔۔ بلاگ بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔ اردو محفل پر اور ایک معروف بلاگر شاکر عزیز کے بلاگ سے مجھے ورڈ پریس اور اس کو اردو کے قابل بنانے کا طریقہ پتا چلا۔۔۔ یوں میں نے مارچ 2007ء میں باقاعدہ بلاگنگ کا آغاز کیا اور پھر یہ سفر چلتا ہی رہا۔
وہی، شاکر والی بات۔۔۔۔۔ کہ میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا۔۔۔ جس کے والد نے اپنی محنت سے خطاطی کا فن اپنایا اور پھر ہماری قوم نے یہ فن چھوڑ کر کمپیوٹر کی لکھائی کی ترجیح دی۔ یوں اپنے والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے مجھے میٹرک کے بعد کمپیوٹر کے شعبہ میں جیسے تیسے جان کر ملازمت اختیار کرنی پڑی۔۔۔ (میرے دو تعلیمی سال بھی اس کی نذر ہوگئے۔۔۔۔) :(
خیر۔۔۔۔۔! میرے اور میرے آس پاس کے لوگوں کے کیا مسائل ہیں؟ یا وہ لوگ کس طرح سوچ رہے ہیں۔۔۔؟ عموما میری تحریروں کا مرکز یہی باتیں ہوتی ہیں۔۔۔ یا پھر سیاست۔۔۔ اور یہ صرف اسی لیے ہوتی ہیں کیونکہ مجھے اپنے آس پاس کوئی ایسا نہیں ملتا جس سے میں یہ باتیں کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرسکوں۔۔۔! میرے ملنے جلنے والے لوگ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ اگر بہت زیادہ ہے تو وہ خاندان میں تھوڑا بہت کہ دو/ تین مہینوں میں کسی سے ملاقات ہوگئی تو ٹھیک، نہیں تو نہیں۔۔۔۔۔! میرا جو کچھ ہے، وہ یہی دن بھر کی ملازمت کے بعد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا ہے جہاں دوست بھی ہیں اور مجھے برداشت کرنے والے بھی۔۔۔!
لیکن ایسا ہر کسی کے ساتھ نہیں ہے۔۔۔ میں نے اپنے سے ڈیڑھ سال چھوٹے بھائی کو کئی مرتبہ بلاگنگ اور اردو محفل کی طرف آنے کا کہہ چکا ہوں لیکن اسے یہ سب محض بکواس لگتا ہے۔ مجھے اکثر بلاگ لکھتے ہوئے، یا دوسروں کا بلاگ پڑھتے ہوئے یا اردو محفل کے لیے کوئی کام کرتے ہوئے دیکھ کر وہ مجھے کہتا ہے کہ پاگل ہو، وقت ضائع کررہے ہو۔۔۔۔۔۔ :( میرے چچا زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد، سب کا یہی حال ہے۔۔۔۔ ان کے لیے ایسے کاموں سے بہتر ہے کہ وہ یوٹیوب سے ویڈیوز ڈاؤنلوڈ کریں، گانے سنیں، اورکٹ یا چیٹ رومز میں اپنا ٹائم پاس کریں (یا پھر بلیو پرنٹ۔۔۔۔)
ایسی صورتحال میں، میں کیا کرسکتا ہوں؟ چند بار اس موضوع پر بات کرنے کی کوشش بھی کی تو رد عمل یہ تھا کہ میرے بولنے کے دوران وہ لاتعلقی اور بوریت کا اظہار کرتے رہے۔۔۔ کسی کو دلچسپی ہی نہیں ہے ایسی باتوں سے۔۔۔!
دوسری بات۔۔۔۔۔ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اردو لکھنا اب کتنا آسان ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ کتنی سہولیات میسر ہیں۔۔۔ بلاگنگ کیا ہے؟ کیا فوائد ہیں۔۔۔؟ کتنی آسانیاں ہیں۔۔۔۔؟
شاید ہمیں اس بات کا احساس دلانے کے لیے اورکٹ اور چیٹ رومز یا ایسی ہی دوسری چیزوں کا سہارا لینا پڑے۔۔۔۔۔!
ویسے زکریا صاحب نے لکھا ہے کہ پاکستانی بلاگرز کم نہیں، لیکن اردو میں لکھنے والے کم ہیں۔۔۔ اس افسوسناک حقیقت کی کیا وجہ ہے؟ کیا ہم پاکستانیوں کی اکثریت اردو پر انگریزی کو اس قدر ترجیح دیتی ہے؟ اس کے لیے تو ہمیں فروغِ اردو مہم چلانی پڑے گی۔۔۔۔۔۔!