ہادی عالم۔ ایک انوکھی کتاب

332 views April 3, 2008 | راہبر
No Gravatar

مولانا ولی رازی کی شخصیت پاکستان کے مذہبی علمی حلقوں میں نئی نہیں ہے۔ غالبا وزیر مذہبی امور یا وزیر اوقاف بھی رہ چکے ہیں۔ روزنامہ “امت” میں اکثر ان کے کالم بھی چھپا کرتے تھے۔ آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ایک کتاب لکھی ہے جو اردو زبان کی سب سے انوکھی کتاب ہے۔ جانتے ہیں کیوں؟ اس لیے کہ اس پوری کتاب میں تمام الفاظ غیر منقوط استعمال کیے گئے ہیں۔ یعنی اردو کا ایک حرف بھی ایسا نہیں آیا جس میں نقطہ ہو۔۔۔ مثلا، ب، پ، ت، ج، چ، خ، ش، ض وغیرہ وغیرہ۔۔۔ کمال بات یہ ہے کہ تحریر پڑھتے ہوئے آپ کو ایسا خاص احساس نہیں ہوتا کہ اس میں غیر منقوط الفاظ کے استعمال کی وجہ سے تحریر کچھ مشکل ہوگئی ہے۔ کچھ کچھ جگہ مشکل الفاظ ضرور ہیں لیکن ان کے معانی بھی آخر میں درج ہیں۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق اردو زبان میں ایسی کوئی کتاب سیرت پر نہیں۔ ہاں، اکبر بادشاہ کے زمانے میں ابو الفیض فیضی نے ایک تفسیر لکھی تھی جو غیر منقوط تھی تاہم وہ کوئی مسلسل کتاب نہیں تھی بلکہ قرآن کریم کے الفاظ اور جملوں کے مابین مختصر وضاحتی کلمات کا مجموعہ تھی۔

مولانا ولی رازی کی اس کتاب کا نام ہے “ہادی عالم”۔ حکومت پاکستان کی جانب سے کتب سیرت النبی کے قومی مقابلہ برائے سال 1983ء میں اس کتاب کو اول انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ یہ کتاب دار العلم، کراچی کی جانب سے شائع ہوئی۔ اس کتاب سے کچھ اقتباسات پیش کررہا ہوں تاکہ آپ بھی لطف اندوز ہوں۔

کرم ہی کرم ہے اس مالک الملک کا اور واسطہ ہے اسم رسول اکرم کا کہ سرور عالم صلی اللہ علی رسولہ وسلم کے ہر حال کی لکھائی سہل ہوگئی اور سارے احوال رسول اکرم اس طرح مسطور ہوئے کہ سال مولود سے لے کر لمحہ وصال کے سارے احوال، سال وار آگئے۔۔۔۔۔۔۔ الحمد للہ “ہادی عالم” اردو کا واحد اور اول رسالہ ہوا کہ اردوئے معرا کے اصول سے مسطور ہوا مگر لوگوں کو معلوم رہے کہ سارا کام اللہ کے کرم اور اس کی عطائے کامل سے ہوا۔

اللہ اللہ کرکے وہ لمحہ مسعود اور وہ امر الٰہی آکے رہا کہ اس کی آمد کی اطلاع اہل عالم کو رسولوں کے واسطے دی گئی۔ وہ لمحہ سعد کہ سارے عالم کے علماء اس کی آمد کے لیے اللہ کے آگے سر ٹکائے محوِ دعا رہے۔ وہ لمحہ محمود کہ سارے عالم کے گم کردہ راہوں کے لیے مہر علم و عمل ہوکر طلوع ہوا اور لوگوں کو لاعلمی کی گہری کھائی سے رہائی ملی۔ وہ لمحہ موعود کہ سالہا سال سے اللہ کے اس وعدے کی دلوں کو آس رہی۔ مآل کار اللہ کا وعدہ مکمل ہوا۔
اللہ کے رسول کی عمر ساٹھ کم سو سال ہوئی۔ اک سحر کو وہ حرا کی گود کو معور کیے ہوئے محوِ دعا و الحاح ہوئے۔ اللہ کا حکم ہوا اور ملائک کے سردار امرِ وحی لے کر آئے۔

کمال بات یہ کہ قرآن پاک کی کسی آیت کا اگر ترجمہ پیش کیا گیا تو اسے بھی غیر منقوط رکھا گیا:

اللہ مالک الملک اس طرح ہم کلام ہوا۔
“دل سے دہراؤ اس لمحے کو کہ اللہ سے للکار کر دعاگو ہوئے۔ سولوں کی دعا وصول ہوئی (اور اللہ کا وعدہ ہوا) کہ آٹھ سو اور دو سو ملائک سے (اہلِ اسلام کی) امداد کروں گا۔ وہ (ملائک) اک دوسرے کے آگے سلسلہ وار ہوں گے اور اللہ کی وہ امداد اس لیے ہوئی کہ اہلِ اسلام کو کامگاری کی اطلاع ملے اور (اہلِ اسلام کے دل) محکم و مسرور ہوں اور اللہ کی مدد ہی اصل مدد ہے اور اللہ ہی حاوی ہے اور حِکَم والا ہے۔”

آخری اقتباس:

ہادی کامل صٌی اللہ علی رسول وسلم سارے رسولوں کے سردار ہوکر اہلِ اسلام کی اصلاح کے لیے سراسر کرم وعطا ہوکر آئے۔ اک معلوم عرصہ کے لیے اس عالم مادی آکر رہے۔ لوگوں کو راہ ہدا دکھائی۔ اسلام کے احکام و اسرار عطاء کئے۔ لوگوں کو حلال و حرام کا علم عطا ہوا۔ عدل و صلہ رحمی، عطاء و کرم، ہمدردی و مددگاری کا عمل عام ہوا۔ لوگوں کی اصلاح کا اہم کام مکمل ہوا۔ اگلے لوگوں کے لیے ہرگام کے لیے اسوہ مطہرہ عطا ہوا۔ اس لیے سارے دوسرے رسولوں کی طرح سرور عالم کے لیے حکم وصال آکر رہا۔ اللہ کا ارادہ ہوا کہ اللہ کا رسول اس عالم مادی کی اصطلاح کا کام مکمل کرکے اللہ واحد سے آملے۔

پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک

1,447 views January 2, 2008 | راہبر
No Gravatar

کل راہ چلتے فٹ پاتھ پر ایک بڑے میاں کافی کتابیں رکھے نظر آئے۔ ہر کتاب پینتیس روپے میں دے رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ دیکھ لی جائیں، شاید کوئی اچھی کتاب ہاتھ لگ جائے۔ زیادہ تر کتابیں شاعری اور کمپیوٹر کے حوالہ سے تھیں۔ اچانک میری نظر ایک کتاب پر پڑی جسے میں پہلے بھی کچھ جگہ دیکھ چکا تھا۔ میں نے وہ کتاب خرید لی۔ کتاب کا نام ہے: “پارلیمنٹ سے بازار حسن تک”۔
دفتر سے گھر واپسی پر، بس کا سارا سفر اسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے گزارا۔ اس کتاب میں پاکستان کے تمام بڑے سیاسی راہنماؤں کی خفیہ زندگی کو کھنگالا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ بظاہر شریف اور عوام کے ہمدرد نظر آنے والے سیاستدان کس طرح اپنا منہ کالا کرتے رہے ہیں اور کون کون سی خواتین، اداکارائیں، گلوکارائیں ان کے ساتھ خلوت کے لمحات گزارتی رہی ہیں۔
کتاب کے مصنف ظہیر بابر ہیں جن کے بارے میں تعارف کرایا گیا ہے کہ یہ معروف مصنف صحافی ہیں۔ کتاب کی زیادہ تر باتیں اس قدر ہوش رُبا ہیں کہ مجھے یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ کیا کسی نے اس کتاب کا مطالعہ کیا ہے؟ اور کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ یہ کتاب کس حد تک قابل اعتبار ہے؟ مجھے فی الحال اس کے اقتباسات پیش کرنے میں جھجک ہے۔