صدائے احتجاج
کل جمعہ کی نماز پڑھ کر گھر جانے کے لیے بس میں بیٹھا تو ڈرائیور نے صدر ہی کے علاقے میں گاڑی ایک جگہ جاکر کھڑی کردی تو چلنے کا نام نہ لیا۔ پہلے تو سبھی مسافروں نے صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا لیکن برداشت بھی کب تک کرتے۔ کوئی دس منٹ ہونے کو تھے۔ پہلے ایک صاحب نے کھڑکیاں بجائیں لیکن ڈرائیور ٹس سے مس نہ ہوا۔ پھر خاموشی چھائی رہی تو میرا پارہ بلند ہونے لگا۔ میں نے کھڑکیاں پیٹنا شروع کیں۔ دیکھا دیکھی اور بھی لوگوں نے یہی عمل دہرایا۔ ڈرائیور کافی دیر تک تو لاتعلق بنا بیٹھا رہا، پھر اس نے پیچھے مڑکر دیکھا تو سب چلائے کہ مسئلہ کیا ہے، گاڑی چلاؤ۔ لیکن اس پر جیسے کچھ اثر نہ ہوا اور وہ بڑبڑا کر خاموش ہوگیا۔ پھر کھڑکیاں پیٹنے کا عمل شروع ہوا۔تو ڈرائیور کہتا ہے کہ جب پچھلی گاڑی آئے گی تبھی چلاؤں گا۔ اب لوگوں کا غصہ بڑھا۔ آپ خود اندازہ کریں، شدید دھوپ اور لو، درجہ حرارت چالیس سینٹی گریڈ سے زیادہ، ایسے موسم میں روزہ داروں کا کیا عالم ہوگا۔ جس شے کو ہاتھ لگاؤ، جل رہی ہو۔
تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی تو میں نے سوچا کہ لوگ تو خاموش ہوگئے اور ڈرائیور بھی یہی سوچے گا کہ دو ٹکے کے جواب کے بعد اب ان کے پاس کچھ کہنے کو نہیں رہا۔ تب میں نے جو کھڑکی پیٹی تو اتنی زور سے اور اتنی دیر تک پیٹی کہ سب مجھے دیکھیں اور پھر ڈرائیور کو۔ آخر ڈرائیور نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا تو میں نے ٹھیک ٹھاک سنائی اور سناتا ہی رہا۔ میں لوگوں کو تو ڈرائیور کی دھنائی پر بھی راضی کررہا تھا پر کسی کا ایسا ارادہ نہیں تھا۔ ؛) آخر کوئی پندرہ منٹ رکے رہنے اور سارے مسافروں کی گالیاں سننے کے بعد اس نے گاڑی چلائی۔
اب جب کنڈیکٹر نے کرایہ لینا شروع کیا تو میرے ذہن میں ایک اور خیال آیا۔ کنڈیکٹر جب میرے پاس پہنچا اور کرایہ مانگا تو میں نے بڑے مزے سے اسے کہا کہ ابھی نہیں دے رہا، بعد میں دوں گا۔ پھر مانگا تو میں بولا کہ کہا نا، دیدوں گا پر ابھی نہیں دوں گا، صبر کرو! مجھے نارتھ کراچی جانا ہے، دیدوں گا آگے چل کر۔ پھر اس نے آس پاس کے مسافروں سے کرایہ لیا تو واپس میرے پاس آیا، میں نے اسے کہا کہ گاڑی چلانے میں تم نے اتنا انتظار کروایا، کرایہ تمہیں فورا سے دیدوں؟ اب تم بھی انتظار کرو۔ جیسے تم نے انتظار کروانے کے بعد گاڑی چلائی ہے اسی طرح میں بھی انتظار کروانے کے بعد دیدوں گا کرایہ۔ اب اس نے میرے برابر والے مسافر کی طرف دیکھا جیسے اس کی رائے پوچھ رہا ہو۔ کوئی لڑکا ہی تھا، کہتا ہے اسے کہ ٹھیک کر رہا ہے بالکل۔ وہ چپ کرکے چلا گیا۔
آگے چل کر مجھے تھوڑا رحم آیا تو میں اسے کرایہ دینے لگا۔ مسکراتے ہوئے کہتا ہے، رہنے دو یار، آگے چل کر ہی دیدینا۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے اور پیسے جیب میں رکھ لیے۔ پھر بعد میں وہ خود ہی آیا تو کرایہ مانگنے لگا۔ تب میں نے دیا اسے اور ساتھ میں کہہ بھی دیا کہ کیوں اپنی حرکتوں سے لوگوں کو غصہ دلاتے ہو۔۔۔ اس نے کچھ کہا نہیں جواب میں اور مسکرا کر چلا گیا۔
اب کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہارے ایسا کرنے سے فائدہ کیا ہوا تو میں کہوں کہ ہر کام میں فائدہ یا نقصان تلاش کرنے والا احمق ہے۔ جیسے آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس کے بحال ہونے سے ہمیں کیا فائدہ؟ اس نے کونسا مہنگائی ختم کردینی ہے۔ تو میرے ساتھی! ہر چیز، ہر امر سود و زیاں کے اصول پر نہیں پرکھا جاتا۔ دنیا میں ایک چیز ہوتی ہے حق اور حق تلفی کہلاتی ہے نا انصافی اور ناانصافی کی وجہ سے بلند ہوتی ہے صدائے احتجاج۔ کچھ کام فائدے یا نقصان سے بالاتر ہوتے ہیں۔ وہ صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ آپ سامنے والے کو اس بات کا احساس دلائیں کہ وہ غلط ہے یا اس نے غلط کیا ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اس نے غلط آپ کے ساتھ کیا ہے یا کسی اور کے ساتھ اور اس کا آپ کو کوئی فائدہ یا نقصان ہے یا نہیں۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیے اور حق نہ ملے تو صدائے احتجاج بلند کیجئے۔ یہی زندہ قوموں کی نشانی ہے۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
September 13, 2008 بوقت 11:27 am
بہت صحیح لکھا ہے۔ ہر کام میں فائدہ نقصان دیکھتے ہیں ہم جبھی نقصان اٹھا رہے ہیں اور گھاٹے میں جا رہے ہیں۔
September 13, 2008 بوقت 7:13 pm
آپ کا دوسرا والا عمل کرائے کے لئے اانتطار کروانے والا زبردست تھا!
شعیب صفدر کے بلاگ سے آخری تحریر Formality تو پوری کرنی ہے ناں
September 13, 2008 بوقت 10:59 pm
کرائے کے لیے انتظار کروانے سے اسے کوئی اثر نہیں ہوا ہوگا. کیوں کہ کرائے کے بغیر اس کا کوئی کام نہیں رکا ہوا تھا اس نے بھی جیب میں رکھنا تھا جو تھوڑی اور دیر آپکے پاس رپا.
پھر بھی اکیلے ایک کو اتنی کوشش بھی بہت ہے. سب ہی ایسا کریں تو مزا آجائے
شکاری کے بلاگ سے آخری تحریر میسنجر کہانی
September 14, 2008 بوقت 4:42 am
کراچی میں بسوں کا یہ حال ہے.. باقی شہروں میں کیا ہوٕ گا.
September 15, 2008 بوقت 8:14 am
خیال تو بہت خوب تھا
لیکن مزا تب آتا جب تمام مسافر اسے کرایہ دینے میں تاخیر کرتے
September 15, 2008 بوقت 9:44 am
متفق ہوں ڈفر.

شعیب بھائی! شکریہ.
شکاری! فرق pڑے یا نہیں، اس سے غرض نہیں. بات یہ ہے کہ آپ نے احتجاج کرکے اپنی ذمہ داری ادا کی یا نہیں؟
ماوراء! بس ایسا ہی ہے جی
فہد بھائی! تمام مسافر…. ایسا نہیں ہوسکتا. آپ کو تو پتا ہے نا ہماری سوئی ہوئی قوم کا.