No Gravatar

آخرکار جناب آصف علی زرداری صدرِ پاکستان منتخب ہوگئے۔ ان کے چاہنے والوں کو بہت بہت مبارک اور نہ چاہنے والوں کو مشورہ کہ برا بھلا کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، کیوں نہ سوچ میں کچھ تبدیلی لائیں۔ بہرحال، ایک فوجی صدر سے عوامی صدر بہتر ہے۔

آصف زرداری پر لاکھ الزامات سہی، لیکن غیر جانبداری سے دیکھئے تو اکثریت سیاسی مقدمات ہی کی نظر آتی ہے۔ رہی بات کرپشن کی تو آپ کو پاکستان کے ابتدائی دور کے قائدین کے علاوہ کون سا ایسا راہنما ملا ہے جس کے ہاتھ بالکل صاف ہوں۔ آصف زرداری کی کردار کشی کی مہم میں ملکی و غیر ملکی میڈیا کا بہت ہاتھ رہا۔ بہرحال! اب وہ چونکہ صدرِ پاکستان کے عہدے پر فائز ہوچکے ہیں تو امید ہے کہ پروپیگنڈے کے تسلسل میں کچھ کمی آئے گی۔

حیرت کی بات ہے کہ اب تک پاکستان کو جو بھی حکمران نصیب ہوئے، ان میں سے اکثر کے آنے پر مٹھائیاں اور جانے پر بھی مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، عوام کی کثیر تعداد نے ان کے آنے کی خوشی منائی اور جانے کی بھی لیکن آصف زرداری آئے ہیں تو عوام کی اکثریت اداس اور مایوس ہے۔ خدا کرے کہ جس طرح ان کے آنے پر ردِ عمل خلافِ معمول ہوا ہے اسی طرح ان کے جانے پر بھی عوامی ردِ عمل خلافِ معمول ہو اور جب وہ اپنی صدارت کی مدت پوری کرکے ایوانِ صدر سے رخصت ہوں تو قوم مٹھائیاں باٹنے اور خوشی منانے کے بجائے رنجیدہ ہو اور تمنا کرے کہ اسے آصف زرداری کا دورِ صدارت مزید نصیب ہو۔

اس وقت تمام نظریں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف لگی ہیں۔ ملک کی تمام تر صورتحال پیپلز پارٹی کے ذمہ ہے۔ ملک کا صدر بھی ان کا ہے اور وزیر اعظم بھی یہاں تک کہ چار میں سے تین صوبوں میں حکومت بھی انہی کی ہے۔ یقینا پیپلز پارٹی کے قائدین کو اس حقیقت کا واضح ادراک ہوگا اور وہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ کیونکہ اگر اب کے پیپلز پارٹی نے عوام کو ریلیف نہیں دیا تو نہ صرف یہ بڑی جماعت اپنا وقار اور اعتماد کھو بیٹھے گی بلکہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوجائے گی۔

سو، تمام تر نیک خواہشات کے ساتھ۔۔۔ جناب آصف علی زرداری صاحب کو صدرِ پاکستان کا عہدہ بہت بہت مبارک ہو۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔