No Gravatar

گیت: میری میت پر
گلوکار: محمد علی تاجی

دبا کے قبر میں سب چل دیے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہوگیا زمانے کو؟

دل نے پہنا ہے جوڑا کفن کا، چادر گُل تو لا کر چڑھا دو
جارہی ہے محبت کی میت، دوستو آؤ کاندھا لگادو

جتنے چاہو ستم ہم پہ ڈھاؤ، اُف کریں گے نہ ہم اے دنیا والو!
دل تو ہم دے چکے ہیں کسی کو، جسم کو خاک میں تم ملادو

دم نکلنے پہ ملنے کو آئے، یہ سدا ہی ستم ہم پہ ڈھائے
میری میت پہ آکر وہ بولے، “کب سے سویا ہے، اس کو جگادو“

پیار کرنا اگر یہ خطا ہے، تو میرا دوستو فیصلہ ہے
پیار میں کیا خطا کی تھی میں نے، تم جو چاہو خطا کی سزا دو

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت ِ دفن
میری دم بھر محبت کا صلہ دینے لگے
کسی کے منہ سے نہ نکلا یہ میرے دفن کے بعد
کہ ان پہ خاک نہ ڈالو، یہ ہیں نہائے ہوئے

کفن ہٹاؤ نہ للہ میرے چہرے سے
گنہگار کو رہنے دو منہ چھپائے ہوئے
ایسا میرا دل پھٹتا ہے احباب کی اس بے دردی پر
کہ کاندھے پر اٹھانے والے کو مٹی میں ملایا جاتا ہے

اللہ اللہ یہ لگن، باندھ کے سر سے کفن
ایک دیوانہ چلا، ایک مستانہ چلا
اب خزاں سے کہہ دو، راہ سے ہٹ جائے
کوئی مشکل انور، اب نہ آڑے آئے

پیار کرنا اگر یہ خطا ہے، تو میرا دوستو فیصلہ ہے
پیار میں کیا خطا کی تھی میں نے، تم جو چاہو خطا کی سزا دو

بن گئی میری آنکھیں کسوٹی، سینکڑوں میں نے دیکھے ہیں جلوے
دیکھ لو میری آنکھوں میں تم بھی، آئینہ سامنے سے ہٹادو

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔