No Gravatar

مجھ سے پچھلے دنوں کئی بار یہ سوال کیا گیا ہے کہ میں اپنے نام میں لفظ “خاں” نون غنہ سے کیوں لکھتا ہوں، “ن” کیوں نہیں لکھتا؟ ایک دوست نے تو کہا کہ ایسے نون گنجا لگتا ہے۔ میرے پاس اس کا جواب صرف یہ تھا کہ لکھا دونوں طرح سے جاتا ہے یعنی نون اور نون غنہ لیکن ہمارے خاندان میں نام کے ساتھ خان میں نون غنہ لگایا جاتا ہے اس لیے میں بھی ایسے ہی لکھتا ہوں۔

ہمارے دفتر میں ایک صاحب ہیں جنہیں ہم ماہر لسانیات کہتے ہیں۔ ان کا مشغلہ مطالعہ کرنا ہے۔ فرصت کے اوقات میں لغات اور قواعد کی کتب چھانتے رہتے ہیں۔ میں نے ان سے یہ ذکر کیا کہ خان میں نون غنہ لکھا جائے یا نون؟ تو انہوں نے جو جواب دیا اس کی منطق سمجھ میں آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرچہ دونوں طرح سے لکھنا درست ہے لیکن نون غنہ کے ساتھ لکھنے کی وجہ فارسی زبان کا ایک قاعدہ ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب بھی حروف مدہ کے بعد نون ساکن آئے تو نون غنہ لکھا جاتا ہے اگر آگے حروفِ عطف یا حروفِ علت نہ ہو۔

حروف مدہ کیا ہیں؟
1۔ جب الف ساکن سے پہلے والے حرف پر زبر ہو (جو کہ عموما ہوتا ہے) تو وہ الف حروفِ مدہ میں شمار ہوتا ہے۔ مثلا با، سما، شاہ
2۔ جب ی ساکن سے پہلے والے حرف پر زیر ہو تو وہ ی حروفِ مدہ میں شمار ہوتی ہے۔ مثلا بڑی، گھڑی، لگی۔
3۔ جب واؤ ساکن سے پہلے والے حروف پر پیش ہو تو وہ واؤ بھی حروفِ مدہ کہلاتی ہے۔ مثلا روح، صور، نور

اب ان تمام حروف مدہ کے بعد نون غنہ آنے کی مثالیں دیکھیں۔
الف کے ساتھ: شاداں، فرحاں، سماں، حیراں
ی کے ساتھ: شیریں، نوریں، زیریں، داد و تحسیں
و کے ساتھ: آنسوؤں، حوروں

تاہم جب نون کسی لفظ کے ساتھ ملے گا تو نون غنہ نہیں لکھیں گے مثلا خاں صاحب سے خانصاحب، آں حضرت سے آنحضرت وغیرہ۔

تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ اردو میں اس قاعدہ کی عموما پابندی نہیں کی جاتی اس لیے آپ کو اردو میں حروفِ مدہ کے بعد آنے والے نون میں نقطہ نظر آئے گا۔ سو، خان لکھنا بھی درست ہے اور خاں لکھنا بھی جو کہ فارسی قاعدے کے مطابق ہے۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔