عوام پر ظلم
اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں اور سفر کے دوران وال چاکنگ پر غور نہیں کرتے تو یقین جانئے، بہت برا کرتے ہیں۔
بہرحال! وال چاکنگ پر تو میں پھر کبھی لکھوں گا کیونکہ اس پر ٹھیک ٹھاک لکھنے کا ارادہ ہے۔ ابھی پچھلے دنوں میں نے “پاسبان” کی طرف سے کچھ دیواروں پر دو عبارات لکھی دیکھیں۔ “پاسبان” شاید جماعتِ اسلامی کی بغل بچہ تنظیم ہے۔
پہلی عبارت:
فی لیٹر دودھ کی قیمت 12 روپے۔
فروخت 44 روپے۔
فی لیٹر منافع 32 روپے۔ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔
دوسری عبارت:
فی مسافر خرچہ 3 روپے
لیکن منی بس کا کرایہ 12 روپے
فی مسافر منافع 9 روپے۔ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔
(وضاحت: منی بس کا کرایہ 12 روپے کم سے کم ہے اور زیادہ سے زیادہ 14 روپے۔ بڑی بس کا کم سے کم کرایہ 11 اور زیادہ سے زیادہ 13 روپے۔ کوچز کا کرایہ شاید 17 روپے ہے)
اب میرے تین سوال ہیں۔
1۔ جو کچھ ان دو عبارات میں درج ہے، کیا یہ حقیقت ہے؟ تصدیق کس سے کی جائے؟
2۔ اگر یہ حقیقت ہے تو احتجاج کس سے اور کیسے ہو؟
3۔ کیا یہ ظلم کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہے گا یا۔۔۔۔۔؟؟؟
کسی کے پاس ہے ان سوالات کا جواب؟؟
تصحیح: میں نے پاسبان کے بارے میں لکھا تھا کہ شاید جماعتِ اسلامی کی بغل بچہ جماعت ہے لیکن کل ہی راستے میں وال چاکنگ دیکھ رہا تھا تو پتا چلا کہ جماعتِ اسلامی والی جماعت دراصل ’شباب ملی‘ ہے۔ یہ پاسبان کا نہیں پتا۔ ان عبارات کے ساتھ لکھا تھا: “پاسبان، صدر: الطاف شکور‘
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
September 18, 2008 بوقت 5:33 pm
مجھے باقی چیزوں کا علم نہیں. لیکن دودھ کی اصل قیمت بارہ روپے ہونے کا دعوی مضحکہ خیز اور دھوکہ دہی ہے. اس کی تصدیق باآسانی اس طرح کی جاسکتی ہے کہ آپ بھینسوں کے چارے، کیٹل کالونی میں پانی اور بجلی کے بل، لیبر اور مین پاور، ٹرانسپورٹیشن، اور دسٹریبیوشن پر آنے والے اخراجات کا حساب کریں. یا محض اپنے اندازے سے ہی پروڈکشن پر آنے والی لاگت کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں.
میرے خیال میں تو بارہ روپے کی قیمت کا جھوٹ ہونا ثابت کرنے کے لئے محض کامن سینس ہی کافی ہے. مگر شہری حکومت کی جائزہ کمیٹیوں نے بھی دودھ کی قیمت اڑتیس روپے فی لیٹر مقرر کی ہے.
September 19, 2008 بوقت 12:16 am
میں حیران ہوں۔۔۔پاکستان میں لوگ اب تک کیسے گزارا کر رہے ہیں۔ اور غریب لوگوں کا کیا حال ہوتا ہو گا۔
پاسبان کی طرف سے عبارت کیوں لکھی?
کمنٹ کرتے ہوئے۔۔ میرے نام کے ساتھ اوتار کیوں نظر نہیں آ رہا?
September 19, 2008 بوقت 8:33 am
نعمان!
ہاں بارہ روپے دودھ کی قیمت تو اگرچہ نہیں ہوگی لیکن میرے خیال میں اڑتیس روپے بھی نہیں ہوگی. جب دودھ چوبیس روپے کلو مل رہا تھا، تب بھینس کالونی سے باآسانی دودھ 12 روپے کلو مل جاتا تھا. یعنی آدھی قیمت میں. اب بھی شاید اتنا ہی فرق ہو.
ماوراء!
گزارا تو کر ہی رہے ہیں لوگ کسی نہ کسی طرح.
تبصرہ کے ساتھ اوتار ظاہر کرنے کے لیے دراصل Gravatar کا استعمال ہورہا ہے. یہاں رجسٹر ہوکر تصویر دیدو تو اوتار نظر آئے گا.
September 19, 2008 بوقت 10:03 am
دودہ کی قیمت کے مطالق میرا بھی یہی خیال ہے کہ اصل قیمت فروخت کی آدھی ہی ہوگی۔
پاسبان کے مطالق تمہارا پہلا اندازہ درست تھا کہ جماعت اسلامی کی زیلی تنظیم ہی ہے
سعود احسن کے بلاگ سے آخری تحریر کراچی اورمارہ مکران ساحلی شاہرہ
September 19, 2008 بوقت 12:52 pm
اس سے پتا چلتا ہے کہ ہم کتنے مظلوم ہیں۔۔ کہ احتجاج کرنے کیلیئے صرف دیواریں ہی ملتی ہیں!
عامر راز کے بلاگ سے آخری تحریر “Let the sunlight in.”
September 19, 2008 بوقت 8:59 pm
یہاں تو رجسٹر ہوں۔۔ اور اوتار بھی شامل کیا ہوا ہے۔
ماوراء کے بلاگ سے آخری تحریر Protected: Endelig
September 20, 2008 بوقت 9:02 am
سعود!
بلاگ پر خوش آمدید. پاسبان کے بارے میں تصحیح کا شکریہ. اس ذیلی تنظیم کا مقصد؟
عامر راز!
آپ کو بھی بلاگ پر خوش آمدید. امید ہے آمد و رفت جاری رہے گی.
ہم تو واقعی بہت مظلوم ہیں… دیواروں پر جو کچھ لکھا ہوتا ہے، اور جیسے لکھا ہوتا ہے، اس سے اندازہ ہوجاتا ہے.
ماوراء!
سمجھ نہیں آیا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے.