اصل بات
ٹھنڈی خوشگوار ہوائیں چلتی ہوئی۔۔۔ ابر آلود موسم۔۔۔ پُر کیف فضا۔۔۔ فضا میں بچوں کے قہقہے گونجتے۔۔۔ ہوا کے جھونکے کانوں میں سرگوشیاں کرتے۔۔۔ ہلکی ہلکی بوندیں ٹپکتی ہوئیں۔۔۔ کتنا رومانوی موسم ہے۔۔۔ کتنا خوبصورت اور پُر فزا منظر ہے۔۔۔ لیکن اس سارے منظر میں ایک شخص ایسا ہے جو اس سین میں کہیں فِٹ نہیں بیٹھتا۔۔۔ جس کے چہرے کے تاثرات اس کے اردگرد کے ماحول کا ساتھ نہیں دیتے۔۔۔ جس کی حرکات و سکنات اپنے آس پاس کے عالم سے لاپرواہ نظر آتی ہیں۔۔۔ اسے باہر کے خوشگوار موسم سے کوئی غرض نہیں۔۔۔ باہر کے پُرکیف جہان سے ذرا سروکار نہیں۔۔۔ کیونکہ اس کے اندر آگ ہے۔۔۔ اس کے دل میں طوفان ہے۔۔۔ اس کے ذہن میں آدھی رات جیسی تاریکی اور اندھیرا ہے۔۔۔ وہ ایک شخص۔۔۔ تنہا۔۔۔ ایسا کہ اگر روئے تو آنسو صاف کرنے والا کوئی نہیں۔۔۔ ایسا کہ لڑکھڑا جائے تو سنبھالنے والا کوئی نہیں۔۔۔ ایسا کہ گر پڑے تو ہاتھ بڑھا کر اٹھانے والا کوئی نہیں۔۔۔ اسے باہر پڑتی پھوار کا احساس نہیں کہ اس کی آنکھوں سے سیلِ رواں جاری ہے۔۔۔
ہنستے مسکراتے لوگوں میں تو سب مگن ہوجاتے ہیں۔۔۔ سب ہی کی توجہ ان کی طرف چلی جاتی ہے۔۔۔ لیکن اس منظر کا مذاق اڑاتا انسان کون دیکھے۔۔۔ اس بکھرتے، ٹوٹتے شخص کی طرف کون ہاتھ بڑھائے۔۔۔ اس تنہا شخص کو کون اپنا ساتھ دے۔۔۔ اس آنسو بہاتے انسان کے آنسو کون صاف کیے۔۔۔ اس پریشان حال آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ کون بکھیرے؟ اصل بات یہ ہے!!!
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
September 6, 2008 بوقت 7:30 pm
امی کہاں ہیں اس کی؟
September 6, 2008 بوقت 11:36 pm
ایسے رومانوی موسم میں ہی تو ایسا شخص فٹ بیٹھتا ہے
بیچارے کو گزرا ہوا کوئی ایسا موسم یاد آ گیا ہوگا 
September 8, 2008 بوقت 11:43 am
ماوراء! امی کو بلائے وہ؟ اور اگر امی پاس میں نہ ہوں تو؟

حجاب!
September 8, 2008 بوقت 12:57 pm
بس جی اگر مہنگائی کا مارا یہ شخص سی ویو کی بجائے ناظم آباد میں کھڑا ہوتا تو اپنے جیسے کئی مل جاتے.
September 9, 2008 بوقت 8:36 am
بھائیو اور بہنو!

ایک سنجیدہ بندے کی سنجیدہ تحریر پر ایسی آراء!