No Gravatar

ایک زمانہ میں گھڑیاں بڑی مہنگی ہوا کرتی تھیں۔ پھر جب چین کی گھڑیاں آنے لگیں تو کوڑی کے مول بکنے لگیں۔ آج آپ 100 روپے میں بہترین گھڑی لے سکتے ہیں۔ خود میں نے ایک سو روپے والی گھڑی ایک سال تک آرام سے چلائی تھی، سال بعد بھی اس کے ساتھ صرف ایک یہ مسئلہ ہوا کہ اس کا پٹا جہاں لگتا ہے، وہ پلاسٹک ٹوٹ گئی تھی تو اسے ایک طرف ڈال دیا ورنہ وہ تو عرصہ تک وقت بتاتی رہی تھی۔

گھڑیاں موجودہ وقت بتاتی ہیں۔۔۔ صرف وقت۔۔۔ اب وہ وقت اچھا ہے یا برا، وہ ساعت سعد ہے کہ نحس، اس کا فیصلہ آپ پر ہوتا ہے۔ میں نے پہلے لکھا تھا کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ ایک تو یہ خود بدلتا رہتا ہے، پھر ہم بھی اب وقت بدلنے لگے۔ پاکستان میں اس کا ایک تجربہ پرویز مشرف کے دور میں ہوا تھا، تب اس پر بہت باتیں بنی تھیں۔ موجودہ حکومت نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی اور گرمیوں میں یکم جون کو رات 12 بجے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کیں۔ پہلے پاک و ہند کے وقت کا موازنہ ہوتا تو لوگ کہتے کہ ہم انڈیا سے آدھ گھنٹا پیچھے ہیں۔ اب ہم آدھ گھنٹا آگے ہوگئے کہ چلو ویسے نہ سہی، ایسے ہی سہی۔ یہ عمل تین ماہ کے لیے تھا اور یکم ستمبر سے گھڑیوں نے واپس ایک گھنٹہ پیچھے آجانا تھا۔ لیکن وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن نے اعلان کیا ہے کہ گھڑیاں مزید دو مہینے ایک گھنٹہ آگے رہیں گی۔ اب جی تو کررہا ہے کہ شیری رحمن کو۔۔۔۔۔ :evil:

تقریبا ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے ہوگیا ہے یعنی آدھ دن بجلی غائب۔ بلوچستان میں پندرہ گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ اور کراچی میں بجلی غائب رہنے کا دورانیہ 20 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ پھر ہمیں وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف یہ نوید سناتے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہوگیا ہے۔ :twisted:

ماہِ رمضان قریب ہے، ایک ہفتہ سے بھی کم کا عرصہ ہے۔ ہم مطمئن تھے کہ رمضان سے پہلے گھڑیاں اپنے معمول پر آجائیں گی تو معمولات درست ہوجائیں گے لیکن یہ اعلان تو خلافِ توقع آپڑا۔ اب ذرا رمضان کے معمولات کا تصور کریں، ابھی ساڑھے نو بجے عشاء کی اذان ہورہی ہے۔۔۔ رمضان تک شاید سوا نو بجے وقت ہوجائے۔ آپ گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تراویح پڑھ کر گھر لوٹیں گے۔ اگر کھانا تروایح کے بعد کھاتے ہیں تو لازما بارہ بج گئے۔ کھانا تراویح سے پہلے بھی کیا ہو تو سوتے سوتے بارہ/ ایک تو بج ہی جائے گا۔ ابھی فجر کی اذانیں پونے چھ بجے شروع ہوجاتی ہیں۔ یعنی آپ نے پانچ بجے تو لازما اٹھ جانا ہے سحری کے لیے۔ فجر پڑھیں گے تو ساڑھے چھ/ پونے سات بجے فارغ ہوں گے۔ اب آپ اگر ملازمت کرتے ہیں تو شاید آپ کو ڈیڑھ دو گھنٹہ صبح آرام کو ملے، پھر شام کو گھر لوٹیں گے تو کب آرام کریں گے، کب عبادت کریں گے۔۔۔ اپنے نظام الاوقات مرتب کرتے پھریں۔ یہ مسئلہ آپ کا ہے، صاحب لوگوں کا نہیں کیونکہ “صاحب لوگ” مذہبی نہیں ہیں۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔