No Gravatar

پرویز مشرف رخصت ہوئے۔ انہیں رخصت ہونا ہی تھا۔ اقتدار کی کرسی کب کسی کو ہمیشہ کے لیے ملتی ہے۔ ابھی ہمارے ہر مسئلہ کی وجہ مشرف تھے، اب ہم نے نئے اسباب تلاش کرنے ہیں کہ ہر مشکل میں ان پر انگلی اٹھاسکیں۔ زرداری سے مجھے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں۔ میڈیا کا کردار بھی اہم ہوگا۔ اب تک میڈیا کی تقریبا تمام توپوں کا رخ پرویز مشرف کی طرف تھا۔ اب وہ نہیں رہے تو ظاہر ہے آہستہ آہستہ یہ توپیں موجودہ حکمرانوں کی طرف رخ کرلیں گی۔ کیا موجودہ سیاستدان انہیں برداشت کرسکیں گے؟ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے کیا اپنا وعدہ ایفا کرسکیں گے یا یہی راگ الاپتے رہیں گے کہ ہمیں ملک ملا ہی ایسی حالت میں ہے کہ درست ہوتے ہوتے عرصہ لگ جائے گا۔

ہماری عوام بھی خوب ہے۔ ابھی پرویز مشرف کو جوتیاں مار کر اتارا ہے۔ کچھ عرصہ بعد جب موجودہ حکمران ستم ڈھائیں گے تو پھر پرویز مشرف کو یاد کیا جائے گا۔ مشرف چونکہ خود چلے گئے ہیں اس لیے ہماری قوم جلد ہی ان کی غلطیاں معاف کردے گی بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ہاں جب کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو لوگ اس کی ساری غلطیاں یکسر بھول کر ہر وقت اس کی شان میں قصیدے پڑھتے رہتے ہیں۔ واللہ! ہم بھی خوب ہیں۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔