الوداع پرویز مشرف
پرویز مشرف رخصت ہوئے۔ انہیں رخصت ہونا ہی تھا۔ اقتدار کی کرسی کب کسی کو ہمیشہ کے لیے ملتی ہے۔ ابھی ہمارے ہر مسئلہ کی وجہ مشرف تھے، اب ہم نے نئے اسباب تلاش کرنے ہیں کہ ہر مشکل میں ان پر انگلی اٹھاسکیں۔ زرداری سے مجھے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں۔ میڈیا کا کردار بھی اہم ہوگا۔ اب تک میڈیا کی تقریبا تمام توپوں کا رخ پرویز مشرف کی طرف تھا۔ اب وہ نہیں رہے تو ظاہر ہے آہستہ آہستہ یہ توپیں موجودہ حکمرانوں کی طرف رخ کرلیں گی۔ کیا موجودہ سیاستدان انہیں برداشت کرسکیں گے؟ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے کیا اپنا وعدہ ایفا کرسکیں گے یا یہی راگ الاپتے رہیں گے کہ ہمیں ملک ملا ہی ایسی حالت میں ہے کہ درست ہوتے ہوتے عرصہ لگ جائے گا۔
ہماری عوام بھی خوب ہے۔ ابھی پرویز مشرف کو جوتیاں مار کر اتارا ہے۔ کچھ عرصہ بعد جب موجودہ حکمران ستم ڈھائیں گے تو پھر پرویز مشرف کو یاد کیا جائے گا۔ مشرف چونکہ خود چلے گئے ہیں اس لیے ہماری قوم جلد ہی ان کی غلطیاں معاف کردے گی بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ہاں جب کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو لوگ اس کی ساری غلطیاں یکسر بھول کر ہر وقت اس کی شان میں قصیدے پڑھتے رہتے ہیں۔ واللہ! ہم بھی خوب ہیں۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
August 19, 2008 بوقت 1:46 pm
خس کم جہاں پاک۔
ایک لٹیرا گیا اب دوسرا آجائے گا۔
چہرے بدل جائیں گے نظام وہی رہے گا۔
اور ہم چہروںکے اسیر، سیدوں، مخدوموں، زرداریوں اور بھٹوؤں کے اسیر۔
ان کے جانے کے بعد ان کو پیر مان لیں گے اور ان کے مرنے کے بعد ان کو خدا۔
جمہوریت سسکتی رہے گی اور پاکستانیت کسی کونے میں منہ چھپائے پڑی رہے گی۔ ہمارے حالات تب تک نہیں بدلیں گے جب ہم انسانوں کو خدا ماننا نہیں چھوڑیں گے۔
چہرے نہیں نظام کی بالادستی اور تبدیلی کی بات کیجیے۔ ورنہ ہماری آپ کی یہی اوقات ہے کہ دو وقت کی روٹی کی ترستے رہیں اور ہمارے اوپر ہم جیسے ہی باری باری آکر بیٹھتے اور ہمیں لوٹتے رہیں۔
کاش ہم یہ بات سمجھ جائیں۔
وسلام
دوست کے بلاگ سے آخری تحریر بابا مشرف (مرحوم)
August 19, 2008 بوقت 7:44 pm
بندے ہی نظام بدلتے ہیں اور یہ دو چار دنوںکی بات بھی نہیں، پہلی اسلامی ریاست کتنے عرصے بعد قائم ہوئی؟ پہلے تو بندے ہی تیار ہوئے نا.
فیصل کے بلاگ سے آخری تحریر همارا نیا نوکیا -١
August 20, 2008 بوقت 1:53 am
جذباتی قوم…!