No Gravatar

21 اگست 2008ء بروز جمعرات۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے کچھ فاصلہ پر واقع پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے دو مرکزی دروازوں پر ہونے والے خود کش حملے میں اب تک کی اطلاع کے مطابق 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ (خبر)

تحریک طالبان، پاکستان کے مولوی عمر نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ان کے خلاف کاروائی کا رد عمل قرار دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت کے فوجی آپریشن سے عام شہری ہلاک ہورہے ہیں۔ اس عقل کے اندھے کو یہ نظر نہیں آتا کہ اس کی کاروائیوں میں بھی مارے جانے والوں کی اکثریت عام شہریوں ہی کی ہے۔ مولوی عمر کا کہنا ہے کہ

ان کو اس بات کا احساس ہے کہ عام لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واہ کینٹ میں ان کا ہدف عام شہری نہیں بلکہ سکیورٹی اہلکار تھے۔

کس قدر احساس ہے جناب کو عام لوگوں کی “تکلیف” کا۔ کتنے گھر اجڑ گئے اور کہتے ہیں کہ عام لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے؟؟؟ اگر حملے اسی لیے ہیں کہ فوجی آپریشن سے عوام متاثر ہورہے ہیں تو ان کے حملوں سے بھی عام شہری ہی متاثر ہورہے ہیں نا۔ 100 بندے مریں تو دس سیکورٹی اہلکار اور نوے بے گناہ شہری مرتے ہیں۔

یہ اسلام ہے؟ طالبان کا اسلام؟ اسلام تو نام ہے سلامتی کا۔۔۔ امن کا۔۔۔ شانتی کا۔۔۔ لعنۃ اللہ علی الظالمین

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔