بھوتنی کے
ہاہاہا۔۔۔ یہ کچھ اور نہیں، ایک فلم کا گیت ہے۔۔۔ایسا بھی وقت آنا تھا۔۔۔ دراصل یہ لفظ یوں رائج ہوا کہ یہاں لوگ اس سے ملتے جلتے الفاظ کی ایک گالی نکالتے ہیں۔۔۔ اب جہاں لوگ وہ گالی نکالنا مناسب خیال نہ کریں، اس کی جگہ یہ لفظ کہہ دیتے ہیں۔ ظاہری معانی فضول اور مقصد وہ گالی۔۔۔ لیکن جب یہ لفظ فلم “سنگھ از کنگ” کے ایک گیت کا ٹائٹل بنا تو جو لوگ اس کا مطلب نہیں سمجھتے تھے، انہوں نے کھوج لگانا شروع کی۔ یاہو آنسرز انڈیا پر یہ سوال پوچھا گیا کہ What does bhootni ke mean۔۔۔
اب جواب دینے والے بے چارے کیا لکھیں؟ پہلا لکھتا ہے کہ بھوتنی، فیمیل جِن ہوتی ہے۔ دوسرا لکھتا ہے: bhootni ke mean۔۔۔۔ it does’nt have specific meaning۔۔۔ فنی ہی رہا۔۔۔ خیر، آپ گانے سے لطف اندوز ہوں۔
گیت: بھوتنی کے
فلم: سنگھ از کنگ
ہدایت کار: انیس بزمی
موسیقار: پریتم
شاعر: مایور پوری
ستارے: اکشے کمار، جاوید جعفری، کترینا کیف، نیہا دھوپیا
بے بے۔۔۔! وہ آگیا کمینہ!
ہوئےےے
آج خوشی کا دن ہے آیا، نکلا مہورت چنگا (بھئی)
سوٹ پہن کے بن گیا دولہا (بلےےے)
او سوٹ پہن کے بن گیا دولہا کل تک تھا جو ننگا (بھئی)
گھر والوں کا نام نہ لینا (شاوا۔۔۔)
گھر والوں کا نام نہ لینا، بچے ڈر جائیں گے
سیاپا پائیں گے پیٹ پیٹ کے چھاتی۔5
سیاپا پائیں گے
او چلو ڈھول والیو بینڈ واجا لے کے آجاؤ اوئےےے
اک تیرا بھائی ۔۔۔ ہائے سیاپا
بڑا شیدائی ۔۔۔ ہائے سیاپا
اک تیری بہنا ۔۔۔ ہائے سیاپا
بھینگے نینا ۔۔۔ ہائے سیاپا
او پیو پیاکڑ ۔۔۔ ہائے سیاپا
او ماں فے کڑ ۔۔۔ ہائے سیاپا
او چاچو لنگڑا ۔۔۔ ہائے سیاپا
پاوے بھنگڑا ۔۔۔ ہائے سیاپا
کہندے تینو ۔۔۔ ہائے سیاپا
دور فٹے منہ ۔۔۔ ہائے سیاپا
(او نچدا سب توں آگے آگے
سینٹ لگا کے، سہرا سجا کے)۔2
اتے بھاڑے دا سوٹ بوٹ نیچے
تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنایا؟ بھوتنی کے
بھوتنی کے۔۔۔ بھوتنی کے
او تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنایا؟ بھوتنی کے
اوے پنڈ دے پیارے ہم تھے
سالوں سے کنوارے ہم تھے
بیٹھے کے بیٹھے ہم ہیں
تُو چڑھ گیا گھوڑی
یاری کر گئی چھٹی
بس اپنی تو ہے کتی
ہم کو جو دیکھے
تجھ کو آئے شرم تھوڑی
جیتے ابے جیتے
اوئے گل سن لے منجیتے
رہ گیا ٹھنڈے ارمانوں کے گھونٹ پی کے
تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنایا؟ بھوتنی کے
بھوتنی کے۔۔۔ بھوتنی کے
تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنایا؟ بھوتنی کے
سیاپا۔۔۔ سیاپا۔۔۔ سیاپا۔۔۔ سیاپا
اب کاہے کا رونا
جب ہوگیا جو تھا ہونا
اچھی قسمت ہے تیری
ہم یار ہیں تیرے
تُو پٹھا ہر جائی
پر اچھی ہے بھرجائی
بیٹھیں گے اس کے در پر
ہم ڈال کر ڈیرے
جیتو اوئے ٹونی
اوئے کیسے ٹالیں ہونی
ہُن کی کرنا اس کھوتے دا خون پی کے
او تینو۔۔
تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنایا؟ بھوتنی کے
بھوتنی کے۔۔۔ بھوتنی کے
تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنایا؟ بھوتنی کے
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
August 19, 2008 بوقت 3:39 pm
:lol: :lol: :lol: :lol:
August 19, 2008 بوقت 5:35 pm
جناب
ہم نے اردو ٹیک پر بلاگ بنانے کی کوشش کی مگر سوئی کیپچا کوڈ پر آ کر رک گئی. کیا آپ بتائیںگے کہ اس خانے میںہم کیا داخل کریںکہ اردو ٹیک ہمیںبلاگ بنانے دے. دراصل کچھ لوگوں نے ہم سے نیا بلاگ شروع کرنے کے بارے میںپوچھنا شروع کردیا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ اردو ٹیک پر بلاگ بنانا ان کیلیے زیادہ آسان ہو گا. اگر آپ برا نہ منائیںتو ہم ان لوگوں کو آپ کی طرف بھیج دیا کریں.
August 19, 2008 بوقت 6:23 pm
میرا پاکستان. تھینکس. پرابلم فکسڈ
بدتمیز کے بلاگ سے آخری تحریر bye bye bye
August 20, 2008 بوقت 1:29 am
لگتا ہے فلمی شاعری تو روپے کی قدر سے بھی زیادہ تیزی سے تنزلی کی طرف گامزن ہے.. کیا خبر کل کو اصل “گالی” کے ساتھ ہی گانا ری مکس کر دیا جائے :cool: پھر یار لوگوں کو سوال نہیں پوچھنا پڑے گا
August 20, 2008 بوقت 1:50 am
تو گانے میں یہ گالی ہے؟
میرے تو سر میں پہلے ہی درد ہو رہا تھا.. اس کو سن کر مزید ہو گیا. :sad:
August 20, 2008 بوقت 9:40 am
میرا پاکستان! اردو ٹیک پر بلاگ بنانے کے حوالہ سے ایک سبق لکھنا بھی میرے ذمہ ہے پر چند وجوہات اور میری سستی کی بنا پر یہ کام ذرا تعطل کا شکار ہے. ان شاء اللہ جلد ہی لکھتا ہوں.
راشد کامران! :wink:
ماوراء! یہ گالی نہیں ہے… ویسے شعیب صفدر کا خیال ہے کہ “بھوتنی کے” سے مراد یہ ہے کہ بدصورت ماں کا بدصورت بیٹا…
گانا سن کر درد بڑھ گیا؟ اتنا اچھا تو ہے گانا.
August 20, 2008 بوقت 10:56 pm
:???: :shock: :roll:
ایسے گانے نہیں سنتی میں 
August 21, 2008 بوقت 12:23 am
یار یہ بھی تو کہا تھا ناں کہ کنفرم کر لینا!! کیوں لوگوں میں نالائق مشہور کروانا ہے؟
August 21, 2008 بوقت 9:38 am
حجاب! بچوں کے سننے کے لیے نہیں ہے یہ

شعیب بھائی! صرف یہی تو لکھا ہے کہ شعیب بھائی کا خیال ہے، تحقیق تو نہیں لکھا نا
August 21, 2008 بوقت 5:30 pm
بچّوں کے لیئے یہ گانا نہیں یہ تنصرہ دیکھنے کے بعد اوپر لکھا ہوا گانا پورا پڑھا میں نے کل نہیں پڑھا تھا :lol: گانا پڑھنے کے بعد میری ذاتی عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ میرے سامنے کوئی یہ گانا خود گائے یا ٹیپ ، سی ڈی پر سنے اُس کو 2 تھپڑ ماروں گی میں ساتھ سی ڈی چھین کے توڑ دوں گی اور ٹیپ بھی توڑ دوں گی
August 22, 2008 بوقت 9:41 am
حجاب! یہ بھی ایک نفسیاتی حربہ ہے. جو چیز کسی کو سنانی یا دکھانی ہو، کہہ دو کہ یہ تمہارے لیے نہیں ہے یا بچوں کے لیے نہیں ہے، انسان خود بخود اس کے لیے متجسس ہوجاتا ہے.
ویسے میرا ایسا ارادہ ہرگز نہیں تھا. :wink:
August 22, 2008 بوقت 1:21 pm
گانا پڑھنے کے بعد میری ذاتی عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ میرے سامنے کوئی یہ گانا خود گائے یا ٹیپ ، سی ڈی پر سنے اُس کو 2 تھپڑ ماروں گی میں ساتھ سی ڈی چھین کے توڑ دوں گی اور ٹیپ بھی توڑ دوں گی
:shock:
میں تو کتنے دنوں سے روزانہ صبح منہ نہار سنتا ہوں.
ذرا ملاحظہ کریں
ہو پنڈ دے پیارے ہم تھے
سالوں سے کنوارے ہم تھے
بیٹھے کے بیٹھے ہم ہیں
تو چڑھ گیا گھوڑی
:???:
راہبر اس گانے کو درست کرو.
ٹٹی نہیں کتی ہے
بنڑایا نہیں بنایا ہے
باقی بھی دیکھو سرسری یہی تھا
August 22, 2008 بوقت 10:05 pm
مجھے بھی پتہ ہے یہ نفسیاتی حربہ
اس طرح سے بہت سارے کام بھی کروائے جا سکتے ہیں ۔
بدتمیز ، نہار منہ سے افاقہ نہیں لگتا آپ میں ، تین ٹائم کردیں گانے کی خوراک
August 23, 2008 بوقت 9:31 am
بدتمیز! شکریہ. ٹھیک کردیا ہے… اب جسے پنجابی نہ آتی ہو، وہ ایسی ہی غلطیاں کرے گا نا…
ویسے یہ گانا روز نہار منہ سن کر کیا آپ کو لگتا ہے کہ قسمت بدل جائے گی؟ 
حجاب کے مشورے پر عمل کرکے دیکھیں. :wink:
August 25, 2008 بوقت 3:49 pm
پنجابی میں “بنایا” نہیں بنڑایا ہی ہوتا ہے، اور یہاں بھی بنڑایا ہی ہے .
اور یہ “دور فٹے منہ” نہیں “دُر فٹے منہ” ہے 
August 25, 2008 بوقت 4:04 pm
دیکھا… میں نے بنڑایا ہی لکھا تھا، بدتمیز نے تبدیل کروادیا.
August 25, 2008 بوقت 10:48 pm
میرا تو خیال تھا کہ بنایا لکھتے ہیں لیکن بولتے بنڑایا ہیں جیسے Wednesday کو لکھا اور بولا الگ الگ جاتا ہے۔ خیر جہانزیب کو زیادہ اچھی پنجابی آتی ہے وہی درست ہو گا پھر۔