آہ ثاقب!
12 اگست 2008۔ بروز منگل۔
میں ایک دوست کے ساتھ سہ پہر سے پی۔اے۔ایف میوزیم میں تھا۔ رات 9 بجے ہم نکلنے ہی والے تھے کہ میرا موبائل فون بجنے لگا۔ دوسری طرف امی تھیں۔ گھبرائی ہوئی آواز میں بولیں، ثاقب اور انجم پھپھو کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، صبا چاچی کا فون آیا تھا، سعد کو فون کرکے کنفرم کرو۔ میرا دماغ جیسے میرا ساتھ چھوڑ گیا۔ ہاں ہوں کرکے فون بند کیا۔ سوچا، سعد کو کیوں، ثاقب کے گھر ہی فون کرکے کیوں نہ معلوم کروں۔ اس کے گھر فون کیا، ثاقب کی چھوٹی بہن نے اٹھایا۔ میں نے پوچھا تو روتے ہوئے بولی کہ بھائی اور امی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، پتا نہیں کس حال میں ہیں۔ میں نے پوچھا، کہاں ہیں وہ؟ کون ہے ان کے ساتھ؟ تو کہنے لگی کہ ابو گئے ہیں۔ پھر میں نے گھر فون کیا اور امی کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ شاید بچیوں کو نہ بتایا ہو لیکن دونوں کا انتقال ہوگیا ہے۔
(اناللہ وانا الیہ راجعون)
کیسی ناقابل یقین خبر تھی۔۔۔ ثاقب میرا پھپھوزاد بھائی تھا۔ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی۔۔۔ ایک بڑی بہن کی شادی ہوچکی تھی اور باقی تین اس سے چھوٹی۔ مجھ سے کوئی دو سال بڑا تھا۔ خاصا عرصہ ہم نے ساتھ گزارا تھا۔ ہم پہلے ان کے گھر سے دو گلیاں چھوڑ کر ہی رہا کرتے تھے۔ تقریبا دس سال کا وقت۔۔۔ یعنی ہمارا بچپن ساتھ بیتا۔ محلے کے لوگ ہمیں تین بھائی سمجھتے تھے یعنی میں، میرا بھائی اور ثاقب۔ افسوس! وہ ہم سے بچھڑ گیا۔ ایسے کہ ہم نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا۔
ثاقب سے میری آخری ملاقات گزرے جمعہ ہی کو ہوئی تھی۔ صبح میرے دفتر آپہنچا۔ بتانے لگا کہ آج میں نے دفتر سے چھٹی کی ہے۔ تقریبا دو گھنٹے پاس بیٹھا رہا، گپ شپ کرتے رہے۔ پھر ایک مووی کاپی کروائی کہ دوپہر میں آؤں گا فلیش ڈرائیو لے کر تو لے جاؤں گا۔ جمعہ کے بعد اپنی امی (میری پھپھو) کے ساتھ آیا۔ قریب ہی زینب مارکیٹ سے خریداری کرنی تھی۔ مجھے کہتا ہے، تم یہیں ہو نا، میں برابر والی کمپیوٹر مارکیٹ سے کوئی سی۔ڈی لے کر آتا ہوں۔ میں پھپھو کے پاس رہا۔ تھوڑی دیر بعد آیا تو اس کے ہاتھ میں SAMCITY 2 کی ڈی وی ڈی تھی۔ پھر اپنی امی کے ساتھ چلا گیا۔ کیا علم تھا کہ یہ آخری ملاقات ثابت ہوگی۔
ثاقب نے بی بی اے کیا تھا۔ اسے دو، تین دن پہلے ہی اپنی پہلی تنخواہ ملی تھی۔ دو ماہ ہوئے تھے کام کرتے اور یکمشت دو ماہ کی تنخواہ ملی تھی۔ اس نے پانچ سو روپے صدقے کے لیے دیے تھے۔ سب سے چھوٹی بہن کو اسکول میں داخل کروایا گیا تھا اور اور منجھلی بہن کا اسکول تبدیل ہوا تھا۔ بڑی بہن کا میٹرک امتحانات میں نتیجہ 84فیصد آیا تھا۔ مغرب کی نماز پڑھ کر اپنی امی کے ساتھ بائیک پر نکلا تھا کہ بہنوں کا یونیفارم لے آتے ہیں اور بڑی بہن کے لیے کوئی تحفہ۔ بہادر آباد، طارق روڈ جانا تھا۔ یہ طارق روڈ جارہے تھے اور موت ان کے تعاقب میں دوڑی چلی آرہی تھی۔
ایک واٹر ٹینکر کہیں کسی موٹر سائیکل سوار کو زخمی کرکے بھاگا تھا۔ اس کے پیچھے سارجنٹ تھا، اس لیے ٹینکر کا ڈرائیور اندھا دھند گاڑی چلارہا تھا اور ہل پارک چورنگی کے قریب اس نے ثاقب کی بائیک کو ہِٹ کیا۔ موٹر سائیکل دوسری طرف گری اور دونوں ماں بیٹا ٹینکر کے نیچے آکر موقع ہی پر دم توڑ گئے۔ واٹر ٹینکر والا تو پھر بھی بھاگا چلا جارہا تھا۔ اسی اثناء میں اس نے ایک دوسرے موٹر سائیکل والے کو مارا جو خوش قسمتی سے بچ گیا۔ اسی نے تعاقب کیا اور ڈرائیور کو پکڑا۔
روزنامہ “ایکسپریس” کراچی کی خبر
ثاقب کے ساتھ میری آخری یادگار تصویر، میرے رشتہ طے ہونے کی تقریب کے موقع پر۔

دائیں طرف ثاقب اور بائیں طرف میں (عمار)
حادثہ والی رات میں جب گھر پہنچا تو میرا چھوٹا بھائی اسامہ پہلے ہی حسن (میری دوسری پھپھو کا بیٹا) اور اس کے گھر والوں کے ساتھ ثاقب کے گھر جاچکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد امی، ابو بھی چلے گئے۔ مجھے گھر میں رکنا تھا، اپنی بہنوں کے پاس۔ رات جیسے تیسے گزری۔۔۔ کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہوگیا ہے۔ ثاقب کی بہنیں میرے بہت قریب تھیں۔ میں اور ثاقب تقریبا ایک ہی جیسے تھے۔۔۔ میں بھی ان کے سگے بھائی کی طرح تھا۔ مجھے بار بار خیال آتا رہا کہ اس وقت میرا وہاں ہونا کتنا ضروری تھا۔
کتنا بڑا صدمہ تھا۔۔۔ ان کے گھر والوں کے لیے۔۔۔ ثاقب کے والد کے لیے کیسا غم ہے کہ ان کا اکلوتا بیٹا، ان کا سہارا، جس کے لیے انہوں نے اتنا کچھ سوچا تھا، وہ بھی بچھڑ گیا اور ان کی شریکِ حیات۔۔۔ ان کے ہر دکھ درد غم کی ساتھی۔۔۔ وہ بھی نہیں رہی۔۔۔ کیسا رنج کا پہاڑ ٹوٹا ہے ثاقب کی بہنوں پر کہ نہ ان کا سہارا، ان کا محافظ ان کے پاس رہا نہ ہی ان کی مامتا۔
13 اگست 2008ء۔ بروز بدھ
ظہر کے بعد نماز جنازہ تھی۔ لاشیں سہراب گوٹھ کے ایدھی سینٹر میں رکھوائی ہوئی تھیں۔ صبح موسم خوشگوار اور ابر آلود تھا۔ پھوار پڑنا شروع ہوئی اور موسلا دھار بارش میں بدل گئی۔ رحمت کی بارش۔۔۔! میں دن میں گھر سے ثاقب کے ہاں جانے کے لیے نکلا تو ابو کا فون آیا کہ سہراب گوٹھ والے ایدھی سینٹر پہنچ جاؤ۔ بھیگتا ہوا بس میں سوار ہوا۔ سہراب گوٹھ پہنچا تو بارش تھم چکی تھی۔ باقی لوگ بھی اسی وقت پہنچے تھے۔ میتوں کو غسل دینا تھا۔ وہاں تو جیسے قطار لگی تھی۔ایک میت آتی تھی، ایک جاتی تھی۔ ہر ایک کی اپنی داستان تھی۔۔۔ اپنے غم تھے۔۔۔ وہاں لوگ ہنس بھی رہے تھے، رو بھی رہے تھے۔۔۔
ایدھی سینٹر کے سرد خانے کے باہر کرسی پر بیٹھا ایک شخص کافی رو رہا تھا، دوسرا اسے دلاسا دے رہا تھا۔ ثاقب سے پہلے جس میت کو غسل دیا گیا، وہ اس کے ساتھ تھا۔ پتا چلا کہ رونے والا شخص اس لڑکے کا باپ تھا جس کی میت کو غسل دیا گیا۔ وہ لڑکا صبح گھر سے نکل کر دروازے کے باہر کھڑا تھا کہ بائیک پر دو لڑکے آئے اور اسے گھورنے لگے۔ اس نے بھی انہیں دیکھا۔ پھر وہ مڑے اور ایک نے فائر کیا۔ گولی سیدھا اس کے دل میں جا لگی۔ دل ٹوٹ گیا
وہ لڑکا مر گیا۔۔۔ (شاید کوئی تنظیم وغیرہ کا چکر تھا)۔
میں نے ثاقب کی میت کو نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی مجھ میں ہمت تھی۔ جب اسے سرد خانے سے باہر لایا گیا تو میں اس کمرہ میں جھانک جھانک کر ہی دیکھتا رہا لیکن قریب جانے کا حوصلہ نہیں ہوسکا۔ جب پہلی بار اس کے پاؤں دیکھے تو لگا کہ جیسے پلاسٹک کے ہوں۔ بالکل پیلے، خون سے خالی۔۔۔ سر سے ناک تک پٹی بندھی ہوئی تھی۔ وہ حصہ کافی متاثر ہوا تھا شاید لیکن جب پٹی ہٹائی گئی تو سامنے سے ٹھیک ہی تھا۔ اندرونی ہڈی چٹخی تھی۔ جسم پر بھی نشانات تھے۔ واٹر ٹینکر کا بے رحم ڈرائیور اسے روندتا چلا گیا تھا۔ میں بے چینی کے عالم میں باہر ٹہلتا رہا۔
بعد میں امی نے بتایا کہ پھپھو کی بھی سیدھے ہاتھ سے لے کر ٹانگ تک کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔
کتنا وزنی ہوتا ہے وہ ٹرک۔۔۔ تین ہزار گیلن پانی کی جگہ ہوتی ہے۔۔۔۔ اور پھر اس کا اپنا وزن۔۔۔
غسل کے بعد لاشے لے کر روانہ ہوئے تو میں راستہ بھر یہ سوچتا رہا کہ وہاں جاکر سب کا سامنا کیسے کروں گا؟ ثاقب کی بہنوں کو کیسی تسلی دوں گا؟ صبح تک تو میں ٹھیک ہی تھا لیکن اس سفر کے دوران میری اندرونی حالت متغیر ہونا شروع ہوگئی۔۔۔ تاہم مجھے یقین تھا کہ میرے آنسو نہیں نکلیں گے۔۔۔ میں میت پر نہیں روتا۔ سوچتا ہی نہیں اتنا۔۔۔ پھر میں سوچنے لگا کہ کیا ایسی بھی کوئی میت ہوگی جس پر میرے آنسو بہیں؟
سفر بہت طویل ہوگیا۔۔۔ فاصلہ طے ہی نہیں ہوتا تھا۔ آخر کار گھر پہنچ ہی گئے۔ کہرام برپا تھا۔ لاشیں اتاری جاچکی تھیں۔ مجھ میں اس وقت اندر جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ باہر سڑک کنارے کھڑا رہا۔ کافی دیر بعد حوصلہ کرکے اس جگہ پہنچا جہاں میت رکھی تھی۔ پردے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پھپھو کی میت کی طرف کسی غیر مرد کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ثاقب کی میت کے گرد ہجوم تھا۔ اس کی بہنیں، رشتے دار سب رو رہے تھے۔ ثاقب کے چہرے پر نور تھا، لبوں پر ویسی ہی دبی دبی مسکراہٹ جیسی زندگی میں ہمیشہ رہا کرتی تھی۔ اس کی سب سے بڑی بہن کا بڑا حوصلہ تھا۔۔۔ آنکھوں میں آنسو تک نہ تھا بلکہ جو رو روہے تھے، انہیں بھی خاموش کروا رہی تھیں کہ کیوں روتے ہو؟ بھائی کو دیکھو تو سہی، ان شاء اللہ جنت میں جائے گا۔۔۔ کلمہ درود پڑھو۔۔۔ چھوٹی بہنوں نے جب مجھے دیکھا تو روتے ہوئے کہنے لگیں کہ بہت پکی دوستی تھی نا آپ لوگوں کی، اتنا عرصہ ساتھ رہے، آپ کچھ کریں نا۔۔۔ کچھ کریں۔۔۔ اور میں۔۔۔ سر پر ہاتھ رکھوں۔۔۔ دلاسا دوں۔۔۔
وہاں میرا ایک کزن بھی موجود تھا۔۔۔ جس سے ہماری بات چیت بند تھی اور تعلقات میں کافی بگاڑ آچکا تھا حالانکہ ہم لوگ کافی عرصہ ساتھ بھی رہے تھے۔ میں نے اسے بھی روتے دیکھا۔ میں نے ایک فیصلہ کیا، اس کے پاس جاکر ہاتھ ملانے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔ اس نے ہاتھ ملایا اور پھر میرے گلے لگ کر رونے لگا۔۔۔ میں نے اسے تسلی دی۔ رنجشوں کی دیوار گرادی۔
میت اٹھانے کا وقت آگیا۔۔۔ نماز جنازہ ادا کی گئی۔۔۔ اعظم بستی کے قبرستان میں دفنادیا گیا۔۔۔ محلے کے پانچ، دس دیندار افراد میت کو دفنانے کے بعد بھی موجود رہے۔۔۔ مردوں کو تلقین کی گئی۔۔۔ اذان دی گئی۔۔۔ دعائیں کی گئیں۔۔۔ گھر والے سب چلے گئے تھے سوائے ہم چند افراد کے۔۔۔ کوئی ایک گھنٹہ قبر کے پاس موجود رہے۔۔۔ ہم جب نئے گھر منتقل ہوتے ہیں تو اجنبی اجنبی سا محسوس ہوتا ہے، مردہ بھی نئے گھر جاتا ہے تو عجیب سا محسوس کرتا ہے۔۔۔ کچھ وقت وہیں ٹھہرا جائے تو اسے راحت ہوتی ہے۔
گھر پہنچے تو کھانا لگ چکا تھا۔۔۔ ہمارے ہاں میت کے گھر والے کھانے کا انتظام نہیں کرتے بلکہ یہ ذمہ داری رشتہ دار انجام دیتے ہیں۔ رات میں نے اسی گھر پر گزارنی تھی۔
پتا چلا کہ ثاقب جہاں کام کررہا تھا، وہاں کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر وغیرہ بھی آئے تھے۔ اسے کام کرتے دو ماہ ہی ہوئے تھے لیکن اس کی کارکردگی کے باعث اس کی تنخواہ میں چالیس فیصد اضافہ کردیا گیا تھا۔ اسے کبھی کبھار کوئی مشکل پیش آتی تو وہ مجھے فون کرکے پوچھا کرتا کہ یہ کام کیسے ہوگا؟ کچھ دن پہلے ہی وہ آکسفورڈ ڈکشنری کی سی۔ڈی کا کہہ رہا تھا کہ وہ چاہئے۔۔۔ اس کے پاس سے سیٹ۔اپ کہیں کھوگیا تھا۔ میں نے اسے کہا تھا کہ ڈھونڈ کر رکھوں گا۔۔۔ لیکن اب کس کے لیے ڈھونڈوں؟
ثاقب سے میری مشابہت کے سبب کچھ لوگ بے اختیار مجھے ثاقب کہہ کر آواز دیتے رہے۔ ایک وقت تو میں امی کے پاس بیٹھا تھا کہ ثاقب کی تائی امی آکر بیٹھ گئیں۔ امی سے کہنے لگیں کہ ثاقب سے بہت ملتا ہے، میں کئی بار اسے ثاقب بلاتے بلاتے رک گئی۔۔۔ اس کا صدقہ ضرور دیدینا۔۔۔ اور ایسی ہی کچھ باتیں کرکے رونے لگیں۔
اگلے دن ناشتہ کے وقت میری دادی میرے پاس بیٹھی تھیں۔ میں نے صرف اتنا پوچھا کہ طبیعت کیسی ہے اور انہوں نے میرے کاندھے پر سر رکھ کر جو رونا شروع کیا۔۔۔۔ سب نے مجھے کہا کہ تم یہاں سے ہٹ جاؤ، تمہیں دیکھ کر ثاقب کی زیادہ یاد آتی ہے۔ :sad:
ثاقب کی بہن رو رہی تھی۔۔۔ اسے چپ کرانے لگا تو چپ ہوکر کہتی ہے، آپ میرے سامنے نہ آئیں، آپ کو دیکھ کر مجھے ثاقب بھائی یاد آجاتے ہیں۔۔۔ پر، شکر ہے۔۔۔ مجھ میں کم سے کم انہیں اپنے بھائی کی شباہت تو نظر آتی رہے گی۔۔۔!
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
August 15, 2008 بوقت 11:33 am
انا للہ وانا الیہ راجعون
August 15, 2008 بوقت 12:19 pm
انا للہ وانا الیہ راجعون
August 15, 2008 بوقت 12:31 pm
انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ آپ سب کو صبر جمیل دے ، بے شک اچھے دوستوں کا بچھڑنا ساری زندگی کے لئے ایک دکھ بنتا ہے ، اللہ سے دعا ہے کہ وہ ماں بیٹا دوںوں کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے (آمین)
August 15, 2008 بوقت 12:31 pm
انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے
اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے
August 15, 2008 بوقت 3:33 pm
:sad:
اناللہ وانا الیہ راجعون ،
August 15, 2008 بوقت 3:36 pm
انا للہ و انا الیہ راجعون
دوست کے بچھڑنے کا غم کیسا ہوتا ہے اس کا مجھے اچھی طرح علم ہے، میرے ماموں میرے دوست بھی آج سے 5 سال قبل مجھ سے بچھڑے تھے تو اپنوں کے بچھڑنے کا غم کا احساس پہلی بار ہوا۔ الفاظ ساتھ نہیں دیتے لیکن چہرہ اور آنکھیں سب کہہ دیتی ہیں۔ اللہ مرحوم کے والد اور بہنوں کو صبر جمیل دے۔ اس عظیم سانحے کے بعد رشتہ داروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس گھرانے کو مزید بکھرنے نہ دیں۔ اس لیے کوشش کرو کہ تمام گھر والے ان کے اہل خانہ سے قریبی تعلق رکھیں اور ان کے غم کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ آمین
August 15, 2008 بوقت 4:06 pm
انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے
اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے
August 15, 2008 بوقت 5:31 pm
انا للہ وانا الیہ راجعون
ہم نے بھی بہت ساری اموات دیکھی ہیںاور ان کے جنازے بھی پڑھے مگر جتنا دکھ نوجوانوںکی موت پر ہوتا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ یقین کریںہم اب بھی اکثر جوانی میںبچھڑ جانے والے دوستوں کو یاد کرتے رہتے ہیں۔
یہ تو بہت بڑی ٹریجڈی ہے جس میں نوجوان بیٹا اور اس کی ماںدونوں کو اللہ نے اپنے پاس بلا لیا۔
ہم سے بچھڑے ہیں مہرباںکیسے کیسے
لیتی ہے قدرت امتحاںکیسے کیسے
August 15, 2008 بوقت 7:28 pm
آہ
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
August 15, 2008 بوقت 7:32 pm
انا للہ و انا الیہ راجعون
یہی زندگی ہے!
نہ جانے میری باری کب اور کس طرح آئے گی؟ اللہ تعالیٰ سب کا سفر آسان کے، آمین۔
August 15, 2008 بوقت 10:10 pm
انا للہ وانا الیہ راجعون!
اللہ مرحوم کے والد اور بہنوں کو صبر جمیل دے!
August 16, 2008 بوقت 12:28 am
بہت دکھ ہوا عمار۔ میں تو معصوم بچیوں کا سوچ رہی ہوں، ماں کے بغیر بہت مشکل ہو گا ان کے لیے۔ :sad:
ایسے موقعوں پر ہمیشہ میرے پاس الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ :sad:
لیکن اللہ سے دعا ہے کہ وہ گھر والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ اور مرحومین کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین۔ :sad:
August 16, 2008 بوقت 12:33 am
انا للہ و انا الیہ راجعون اللہ مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر دے :sad:
August 16, 2008 بوقت 5:49 am
انا لللہ وانا الیہ راجعون
بہت دکھی خبر ہے، ایسے موقع پر سمجھ میں نہیں آتا کیا کہا جائے الفاظ بھی ساتھ نہیں دیتے۔ یہ تینوں بہنیں تو ہیں بھی اتنی چھوٹی اور لڑکیاں ویسے بھی انسکیور محسوس کرتی ہیں ایسے میں آپ سب قریبی عزیزوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ اللہ تعالی سب کو اپنے حفظ میں رکھے، آمین ۔
August 16, 2008 بوقت 7:51 am
اناللہ و انا الیہ راجعون
بہت افسوس ہوا عمار یہ جانکاہ خبر پڑھ کر، اللہ تعالٰی مرحومین کی مغفرت فرمائیں اور گھر والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائیں۔
دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر حادثے لوگوں کی لاپروائی سے ہوتے ہیں جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ اب اس کم بخت ڈرائیور کو کیا علم کہ اس نے اپنے چالان سے بچنے کیلیئے ایک بھرا گھر اجاڑ دیا، وہ نوجوان جس کی آنکھوں میں روشن مستقبل کے تارے جھلملا رہے تھے، اسکی آنکھیں ہمیشہ کیلیئے تاریک ہو گئیں۔، افسوس صد افسوس
August 16, 2008 بوقت 9:09 am
بہت افسوس ہوا عماربھائی اللہ آپ سب کو صبر دے ۔اور اپنوں کے بچھڑنے کام غم تو وقت کے ساتھ ساتھ جاتا ہے پر جو دل میں ایک کمی سی ہمشہ رہتی ہے
اللہ مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دے آمین
August 16, 2008 بوقت 9:32 am
انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ اپنے بچھڑنے کا دکھ الفاظ میں نہیں بیان کیا جا سکتا۔ میرا بھی ایک بھائی 6 سال قبل بچھڑ گیا تھا، آجتک میں ادھورے پن کے احساس سے نہیں نکلا۔
August 16, 2008 بوقت 2:52 pm
انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور آپ تمام لوگوں کو صبر دے! آمین
عمار اس ناگہانی موت پر ہم سب تمہارے غم میں شریک ہیں۔
August 16, 2008 بوقت 4:33 pm
انا للہ و انا الیہ راجعون
پیارے دوست۔
اللہ تمھیں یہ غم سہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پھپھوجانی اور ثاقب کو باری تعالی اپنے جوارِ رحمت میں
جگہ عطا فرمائے ان کی تمام ظاہری باطنی صغیرہ کبیرہ لغزشیں
معاف فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطافرمائے۔۔اٰمین
دست بہ دعا
م۔م۔مغل
August 16, 2008 بوقت 10:13 pm
ہمارے ہاں میت کے گھر والے کھانے کا انتظام نہیں کرتے بلکہ یہ ذمہ داری رشتہ دار انجام دیتے ہیں۔
یہ آپ کے ہاں نہیں اسلامی شریعت میں ہے کہ تین دن تک اس گھر میں کھانا نہیں پکاتے لیکن تین دن سے زیادہ سوگ کا حکم نہیں۔
August 16, 2008 بوقت 11:44 pm
اف عمار یہ سب کیسے لکھ رہے ہو۔۔۔میرے تو آنسو نکل آئیں تو بند ہی نہیں ہوتے۔ :sad:
August 17, 2008 بوقت 1:17 am
August 17, 2008 بوقت 5:10 pm
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
ابوشامل نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے گھر والے اسے موٹر سائیکل نہیں لینے دیتے کیونکہ موٹر سائیکل پر بہت حادثات ہوتے ہیں۔ اس وقت مجھے صحیح اندازہ نہ ہوا تھا اب یہ پوسٹ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ معاملہ کس قدر گھمبیر ہے۔ ایک ڈرائیور کی لاپروائی نے قیمتی جانوں کا ضیاع اور بہت سے لوگوں کو سوگوار کر دیا۔
اللہ پس ماندگان کو صبر جمیل عطا کرے اور ان کی زندگیوں کو آسان کرے۔
August 18, 2008 بوقت 12:49 am
انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے
اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے
August 18, 2008 بوقت 4:08 am
انا للہ و انا الیہ راجعون
کسی عزیز تر ہستی کے بچھڑنے پر دلاسہ دینے کے لیے کس قدر مشکل کام ہے۔ الفاظ ساتھ نہیں دینے۔ ہونی پر کسی کا زور نہیں۔عمار! آپ کی پھپھو اور کزن کے بارے میں جان کر بہت افسوس ہوا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور آپ سب لوگوں کو اس دکھ کو برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔ (آمین)
کہیں ایک ایسا ہی واقعہ پڑھا تھا اور تسلی دینے والے نے لکھا تھا۔
You have your private grief. We outsiders grieve too; but we all rejoice that he lived.
August 19, 2008 بوقت 10:23 am
آپ سب دوستوں کا بے حد شکریہ.
اب غائب نہ ہوجایئے گا.
بدتمیز! شریعت میں تو بہت کچھ ہے، پر یہاں ایسا ہوتا نہیں ہے نا، اس لیے ذکر کیا.
ماوراء! بس لکھ ہی دیا کسی طرح… میں نے سوچا ہے کہ ساری یادیں، ساری باتیں ایک ہی جگہ جمع کروں گا. ابھی پتا نہیں یہ تحریر کب تک اپ.ڈیٹ ہوتی رہے.
محب علوی! آپ کو دیکھ کر اچھا لگا.
August 19, 2008 بوقت 1:42 pm
انا للہ و انا الیہ راجعون
افسوس ہوا.
اللہ کریم مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل.
جانے والوں کی کمی تو پوری نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اس دکھ کا ازالہ لیکن سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے. وقت سب سے بڑا مرہم ہے. اللہ کریم بڑا کارساز ہے وہ ایک سہارا چھینتا ہے تو دوسرا سہارا پیدا کردیتا ہے. اللہ کریم اہل خاندان پر اپنی رحمت و کرم رکھے.
آمین.
دوست کے بلاگ سے آخری تحریر بابا مشرف (مرحوم)
August 20, 2008 بوقت 2:42 pm
انا للہ و انا الیہ راجعون
یہ سن کر بہت دکھ ہوا. اللہ تعالٰی مرحومین کی مغفرت فرمائے اور تمام رشتہ داروں کو صبر جمیل عطا کرے…آمین
August 21, 2008 بوقت 9:59 pm
پولیس انکلز کو اپنی تصاویر بنوانے کا بہت شوق ہوتا ہے. مجھے بغیر بتائے یا پوچھے بغیر فوٹو گرافی کرتے ہوئے بہت ڈر لگتا ہے، جس چیز کی اجازت ہو بھی…میں اس کی بھی اجازت لے کر ہی تصویر بناتی ہوں.
ویسے تم اتنی لمبی پوسٹ لکھ رہے ہو.. تصویروں والا حصہ الگ پوسٹ کر دیتے.
August 22, 2008 بوقت 9:46 am
ماوراء! یہ سب کچھ کافی مکس اپ ہوگیا ہے. میں نے یہ سوچ کر لکھنا شروع کیا تھا کہ سب کچھ ایک ہی تحریر میں جمع کردوں گا تو اسی حساب سے لکھنا شروع کیا. درمیان میں آگے پیچھے کے واقعات کا تذکرہ بھی ہوگیا. اب کرتا ہوں کچھ اس کا… انتقال کا تذکرہ الگ اور باقی تصاویر اور یادیں الگ الگ پوسٹ کرنے کی کوشش.
August 22, 2008 بوقت 2:55 pm
مجھے ثاقب اور اسکی امی کا بہت افسوس ہوا
ہمارے معاشرے میں بے حسی اتنی بڑھ گئی ہے کہ کسی کو کسی دوسرے کی فکر نہیں
میرا نہیں خیال کہ اس ٹرک ڈرائیور کو ابھی بھی کچھ سبق ہوا ہو گا، یا صرف افسوس ہی
اللہ ہر ایک پر اپنا رحم فرمائے اور پیچھے رہ جانے والوں کو ہدائت اور صبر جمیل عطا فرمائے۔ اٰمین
ڈفر کے بلاگ سے آخری تحریر مُحبّت
September 1, 2008 بوقت 1:17 pm
slaam ammar kaise ho yar han yar tumne bht acha likha hai ,,bht ziyada afsoos howa yar saqib ka,,hum logon nai bht ziyada maze kiye hain life mai bht ziyada ,wo sub bus ub yadein bun k reh gaye ahin zara si bhi baat hoti ahi to saqib ki yaad aati hai,,saqib ki shakal har waqt samne rehti hai yaar pata nahi saqib kion chal agaya ,,abhi to os k ache din shro hoye thy yaar bht ziyada afsoos howa………..i m ur cousin sufyan
September 2, 2008 بوقت 10:24 am
بلاگ پر خوش آمدید سفیان!
صحیح کہا بالکل، اتنی باتیں ہوتی ہیں جن میں ثاقب کی کمی محسوس ہوتی ہے. خاص کر ہم کزنز جب بھی جمع ہوں گے، ویسا کبھی انجوائے نہیں کرسکیں گے جیسا اس کے ساتھ کیا تھا.