No Gravatar

12 اگست 2008۔ بروز منگل۔
میں ایک دوست کے ساتھ سہ پہر سے پی۔اے۔ایف میوزیم میں تھا۔ رات 9 بجے ہم نکلنے ہی والے تھے کہ میرا موبائل فون بجنے لگا۔ دوسری طرف امی تھیں۔ گھبرائی ہوئی آواز میں بولیں، ثاقب اور انجم پھپھو کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، صبا چاچی کا فون آیا تھا، سعد کو فون کرکے کنفرم کرو۔ میرا دماغ جیسے میرا ساتھ چھوڑ گیا۔ ہاں ہوں کرکے فون بند کیا۔ سوچا، سعد کو کیوں، ثاقب کے گھر ہی فون کرکے کیوں نہ معلوم کروں۔ اس کے گھر فون کیا، ثاقب کی چھوٹی بہن نے اٹھایا۔ میں نے پوچھا تو روتے ہوئے بولی کہ بھائی اور امی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، پتا نہیں کس حال میں ہیں۔ میں نے پوچھا، کہاں ہیں وہ؟ کون ہے ان کے ساتھ؟ تو کہنے لگی کہ ابو گئے ہیں۔ پھر میں نے گھر فون کیا اور امی کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ شاید بچیوں کو نہ بتایا ہو لیکن دونوں کا انتقال ہوگیا ہے۔ :cry: (اناللہ وانا الیہ راجعون)

کیسی ناقابل یقین خبر تھی۔۔۔ ثاقب میرا پھپھوزاد بھائی تھا۔ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی۔۔۔ ایک بڑی بہن کی شادی ہوچکی تھی اور باقی تین اس سے چھوٹی۔ مجھ سے کوئی دو سال بڑا تھا۔ خاصا عرصہ ہم نے ساتھ گزارا تھا۔ ہم پہلے ان کے گھر سے دو گلیاں چھوڑ کر ہی رہا کرتے تھے۔ تقریبا دس سال کا وقت۔۔۔ یعنی ہمارا بچپن ساتھ بیتا۔ محلے کے لوگ ہمیں تین بھائی سمجھتے تھے یعنی میں، میرا بھائی اور ثاقب۔ افسوس! وہ ہم سے بچھڑ گیا۔ ایسے کہ ہم نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا۔

ثاقب سے میری آخری ملاقات گزرے جمعہ ہی کو ہوئی تھی۔ صبح میرے دفتر آپہنچا۔ بتانے لگا کہ آج میں نے دفتر سے چھٹی کی ہے۔ تقریبا دو گھنٹے پاس بیٹھا رہا، گپ شپ کرتے رہے۔ پھر ایک مووی کاپی کروائی کہ دوپہر میں آؤں گا فلیش ڈرائیو لے کر تو لے جاؤں گا۔ جمعہ کے بعد اپنی امی (میری پھپھو) کے ساتھ آیا۔ قریب ہی زینب مارکیٹ سے خریداری کرنی تھی۔ مجھے کہتا ہے، تم یہیں ہو نا، میں برابر والی کمپیوٹر مارکیٹ سے کوئی سی۔ڈی لے کر آتا ہوں۔ میں پھپھو کے پاس رہا۔ تھوڑی دیر بعد آیا تو اس کے ہاتھ میں SAMCITY 2 کی ڈی وی ڈی تھی۔ پھر اپنی امی کے ساتھ چلا گیا۔ کیا علم تھا کہ یہ آخری ملاقات ثابت ہوگی۔

ثاقب نے بی بی اے کیا تھا۔ اسے دو، تین دن پہلے ہی اپنی پہلی تنخواہ ملی تھی۔ دو ماہ ہوئے تھے کام کرتے اور یکمشت دو ماہ کی تنخواہ ملی تھی۔ اس نے پانچ سو روپے صدقے کے لیے دیے تھے۔ سب سے چھوٹی بہن کو اسکول میں داخل کروایا گیا تھا اور اور منجھلی بہن کا اسکول تبدیل ہوا تھا۔ بڑی بہن کا میٹرک امتحانات میں نتیجہ 84فیصد آیا تھا۔ مغرب کی نماز پڑھ کر اپنی امی کے ساتھ بائیک پر نکلا تھا کہ بہنوں کا یونیفارم لے آتے ہیں اور بڑی بہن کے لیے کوئی تحفہ۔ بہادر آباد، طارق روڈ جانا تھا۔ یہ طارق روڈ جارہے تھے اور موت ان کے تعاقب میں دوڑی چلی آرہی تھی۔

ایک واٹر ٹینکر کہیں کسی موٹر سائیکل سوار کو زخمی کرکے بھاگا تھا۔ اس کے پیچھے سارجنٹ تھا، اس لیے ٹینکر کا ڈرائیور اندھا دھند گاڑی چلارہا تھا اور ہل پارک چورنگی کے قریب اس نے ثاقب کی بائیک کو ہِٹ کیا۔ موٹر سائیکل دوسری طرف گری اور دونوں ماں بیٹا ٹینکر کے نیچے آکر موقع ہی پر دم توڑ گئے۔ واٹر ٹینکر والا تو پھر بھی بھاگا چلا جارہا تھا۔ اسی اثناء میں اس نے ایک دوسرے موٹر سائیکل والے کو مارا جو خوش قسمتی سے بچ گیا۔ اسی نے تعاقب کیا اور ڈرائیور کو پکڑا۔
روزنامہ “ایکسپریس” کراچی کی خبر

ثاقب کے ساتھ میری آخری یادگار تصویر، میرے رشتہ طے ہونے کی تقریب کے موقع پر۔

دائیں طرف ثاقب اور بائیں طرف میں (عمار)

حادثہ والی رات میں جب گھر پہنچا تو میرا چھوٹا بھائی اسامہ پہلے ہی حسن (میری دوسری پھپھو کا بیٹا) اور اس کے گھر والوں کے ساتھ ثاقب کے گھر جاچکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد امی، ابو بھی چلے گئے۔ مجھے گھر میں رکنا تھا، اپنی بہنوں کے پاس۔ رات جیسے تیسے گزری۔۔۔ کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہوگیا ہے۔ ثاقب کی بہنیں میرے بہت قریب تھیں۔ میں اور ثاقب تقریبا ایک ہی جیسے تھے۔۔۔ میں بھی ان کے سگے بھائی کی طرح تھا۔ مجھے بار بار خیال آتا رہا کہ اس وقت میرا وہاں ہونا کتنا ضروری تھا۔

کتنا بڑا صدمہ تھا۔۔۔ ان کے گھر والوں کے لیے۔۔۔ ثاقب کے والد کے لیے کیسا غم ہے کہ ان کا اکلوتا بیٹا، ان کا سہارا، جس کے لیے انہوں نے اتنا کچھ سوچا تھا، وہ بھی بچھڑ گیا اور ان کی شریکِ حیات۔۔۔ ان کے ہر دکھ درد غم کی ساتھی۔۔۔ وہ بھی نہیں رہی۔۔۔ کیسا رنج کا پہاڑ ٹوٹا ہے ثاقب کی بہنوں پر کہ نہ ان کا سہارا، ان کا محافظ ان کے پاس رہا نہ ہی ان کی مامتا۔

13 اگست 2008ء۔ بروز بدھ
ظہر کے بعد نماز جنازہ تھی۔ لاشیں سہراب گوٹھ کے ایدھی سینٹر میں رکھوائی ہوئی تھیں۔ صبح موسم خوشگوار اور ابر آلود تھا۔ پھوار پڑنا شروع ہوئی اور موسلا دھار بارش میں بدل گئی۔ رحمت کی بارش۔۔۔! میں دن میں گھر سے ثاقب کے ہاں جانے کے لیے نکلا تو ابو کا فون آیا کہ سہراب گوٹھ والے ایدھی سینٹر پہنچ جاؤ۔ بھیگتا ہوا بس میں سوار ہوا۔ سہراب گوٹھ پہنچا تو بارش تھم چکی تھی۔ باقی لوگ بھی اسی وقت پہنچے تھے۔ میتوں کو غسل دینا تھا۔ وہاں تو جیسے قطار لگی تھی۔ایک میت آتی تھی، ایک جاتی تھی۔ ہر ایک کی اپنی داستان تھی۔۔۔ اپنے غم تھے۔۔۔ وہاں لوگ ہنس بھی رہے تھے، رو بھی رہے تھے۔۔۔

ایدھی سینٹر کے سرد خانے کے باہر کرسی پر بیٹھا ایک شخص کافی رو رہا تھا، دوسرا اسے دلاسا دے رہا تھا۔ ثاقب سے پہلے جس میت کو غسل دیا گیا، وہ اس کے ساتھ تھا۔ پتا چلا کہ رونے والا شخص اس لڑکے کا باپ تھا جس کی میت کو غسل دیا گیا۔ وہ لڑکا صبح گھر سے نکل کر دروازے کے باہر کھڑا تھا کہ بائیک پر دو لڑکے آئے اور اسے گھورنے لگے۔ اس نے بھی انہیں دیکھا۔ پھر وہ مڑے اور ایک نے فائر کیا۔ گولی سیدھا اس کے دل میں جا لگی۔ دل ٹوٹ گیا :( وہ لڑکا مر گیا۔۔۔ (شاید کوئی تنظیم وغیرہ کا چکر تھا)۔

میں نے ثاقب کی میت کو نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی مجھ میں ہمت تھی۔ جب اسے سرد خانے سے باہر لایا گیا تو میں اس کمرہ میں جھانک جھانک کر ہی دیکھتا رہا لیکن قریب جانے کا حوصلہ نہیں ہوسکا۔ جب پہلی بار اس کے پاؤں دیکھے تو لگا کہ جیسے پلاسٹک کے ہوں۔ بالکل پیلے، خون سے خالی۔۔۔ سر سے ناک تک پٹی بندھی ہوئی تھی۔ وہ حصہ کافی متاثر ہوا تھا شاید لیکن جب پٹی ہٹائی گئی تو سامنے سے ٹھیک ہی تھا۔ اندرونی ہڈی چٹخی تھی۔ جسم پر بھی نشانات تھے۔ واٹر ٹینکر کا بے رحم ڈرائیور اسے روندتا چلا گیا تھا۔ میں بے چینی کے عالم میں باہر ٹہلتا رہا۔

بعد میں امی نے بتایا کہ پھپھو کی بھی سیدھے ہاتھ سے لے کر ٹانگ تک کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ :cry: کتنا وزنی ہوتا ہے وہ ٹرک۔۔۔ تین ہزار گیلن پانی کی جگہ ہوتی ہے۔۔۔۔ اور پھر اس کا اپنا وزن۔۔۔

غسل کے بعد لاشے لے کر روانہ ہوئے تو میں راستہ بھر یہ سوچتا رہا کہ وہاں جاکر سب کا سامنا کیسے کروں گا؟ ثاقب کی بہنوں کو کیسی تسلی دوں گا؟ صبح تک تو میں ٹھیک ہی تھا لیکن اس سفر کے دوران میری اندرونی حالت متغیر ہونا شروع ہوگئی۔۔۔ تاہم مجھے یقین تھا کہ میرے آنسو نہیں نکلیں گے۔۔۔ میں میت پر نہیں روتا۔ سوچتا ہی نہیں اتنا۔۔۔ پھر میں سوچنے لگا کہ کیا ایسی بھی کوئی میت ہوگی جس پر میرے آنسو بہیں؟

سفر بہت طویل ہوگیا۔۔۔ فاصلہ طے ہی نہیں ہوتا تھا۔ آخر کار گھر پہنچ ہی گئے۔ کہرام برپا تھا۔ لاشیں اتاری جاچکی تھیں۔ مجھ میں اس وقت اندر جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ باہر سڑک کنارے کھڑا رہا۔ کافی دیر بعد حوصلہ کرکے اس جگہ پہنچا جہاں میت رکھی تھی۔ پردے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پھپھو کی میت کی طرف کسی غیر مرد کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ثاقب کی میت کے گرد ہجوم تھا۔ اس کی بہنیں، رشتے دار سب رو رہے تھے۔ ثاقب کے چہرے پر نور تھا، لبوں پر ویسی ہی دبی دبی مسکراہٹ جیسی زندگی میں ہمیشہ رہا کرتی تھی۔ اس کی سب سے بڑی بہن کا بڑا حوصلہ تھا۔۔۔ آنکھوں میں آنسو تک نہ تھا بلکہ جو رو روہے تھے، انہیں بھی خاموش کروا رہی تھیں کہ کیوں روتے ہو؟ بھائی کو دیکھو تو سہی، ان شاء اللہ جنت میں جائے گا۔۔۔ کلمہ درود پڑھو۔۔۔ چھوٹی بہنوں نے جب مجھے دیکھا تو روتے ہوئے کہنے لگیں کہ بہت پکی دوستی تھی نا آپ لوگوں کی، اتنا عرصہ ساتھ رہے، آپ کچھ کریں نا۔۔۔ کچھ کریں۔۔۔ اور میں۔۔۔ سر پر ہاتھ رکھوں۔۔۔ دلاسا دوں۔۔۔ :cry:

وہاں میرا ایک کزن بھی موجود تھا۔۔۔ جس سے ہماری بات چیت بند تھی اور تعلقات میں کافی بگاڑ آچکا تھا حالانکہ ہم لوگ کافی عرصہ ساتھ بھی رہے تھے۔ میں نے اسے بھی روتے دیکھا۔ میں نے ایک فیصلہ کیا، اس کے پاس جاکر ہاتھ ملانے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔ اس نے ہاتھ ملایا اور پھر میرے گلے لگ کر رونے لگا۔۔۔ میں نے اسے تسلی دی۔ رنجشوں کی دیوار گرادی۔

میت اٹھانے کا وقت آگیا۔۔۔ نماز جنازہ ادا کی گئی۔۔۔ اعظم بستی کے قبرستان میں دفنادیا گیا۔۔۔ محلے کے پانچ، دس دیندار افراد میت کو دفنانے کے بعد بھی موجود رہے۔۔۔ مردوں کو تلقین کی گئی۔۔۔ اذان دی گئی۔۔۔ دعائیں کی گئیں۔۔۔ گھر والے سب چلے گئے تھے سوائے ہم چند افراد کے۔۔۔ کوئی ایک گھنٹہ قبر کے پاس موجود رہے۔۔۔ ہم جب نئے گھر منتقل ہوتے ہیں تو اجنبی اجنبی سا محسوس ہوتا ہے، مردہ بھی نئے گھر جاتا ہے تو عجیب سا محسوس کرتا ہے۔۔۔ کچھ وقت وہیں ٹھہرا جائے تو اسے راحت ہوتی ہے۔

گھر پہنچے تو کھانا لگ چکا تھا۔۔۔ ہمارے ہاں میت کے گھر والے کھانے کا انتظام نہیں کرتے بلکہ یہ ذمہ داری رشتہ دار انجام دیتے ہیں۔ رات میں نے اسی گھر پر گزارنی تھی۔

پتا چلا کہ ثاقب جہاں کام کررہا تھا، وہاں کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر وغیرہ بھی آئے تھے۔ اسے کام کرتے دو ماہ ہی ہوئے تھے لیکن اس کی کارکردگی کے باعث اس کی تنخواہ میں چالیس فیصد اضافہ کردیا گیا تھا۔ اسے کبھی کبھار کوئی مشکل پیش آتی تو وہ مجھے فون کرکے پوچھا کرتا کہ یہ کام کیسے ہوگا؟ کچھ دن پہلے ہی وہ آکسفورڈ ڈکشنری کی سی۔ڈی کا کہہ رہا تھا کہ وہ چاہئے۔۔۔ اس کے پاس سے سیٹ۔اپ کہیں کھوگیا تھا۔ میں نے اسے کہا تھا کہ ڈھونڈ کر رکھوں گا۔۔۔ لیکن اب کس کے لیے ڈھونڈوں؟

ثاقب سے میری مشابہت کے سبب کچھ لوگ بے اختیار مجھے ثاقب کہہ کر آواز دیتے رہے۔ ایک وقت تو میں امی کے پاس بیٹھا تھا کہ ثاقب کی تائی امی آکر بیٹھ گئیں۔ امی سے کہنے لگیں کہ ثاقب سے بہت ملتا ہے، میں کئی بار اسے ثاقب بلاتے بلاتے رک گئی۔۔۔ اس کا صدقہ ضرور دیدینا۔۔۔ اور ایسی ہی کچھ باتیں کرکے رونے لگیں۔

اگلے دن ناشتہ کے وقت میری دادی میرے پاس بیٹھی تھیں۔ میں نے صرف اتنا پوچھا کہ طبیعت کیسی ہے اور انہوں نے میرے کاندھے پر سر رکھ کر جو رونا شروع کیا۔۔۔۔ سب نے مجھے کہا کہ تم یہاں سے ہٹ جاؤ، تمہیں دیکھ کر ثاقب کی زیادہ یاد آتی ہے۔ :sad:

ثاقب کی بہن رو رہی تھی۔۔۔ اسے چپ کرانے لگا تو چپ ہوکر کہتی ہے، آپ میرے سامنے نہ آئیں، آپ کو دیکھ کر مجھے ثاقب بھائی یاد آجاتے ہیں۔۔۔ پر، شکر ہے۔۔۔ مجھ میں کم سے کم انہیں اپنے بھائی کی شباہت تو نظر آتی رہے گی۔۔۔!

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔