No Gravatar

15 اگست 2008ء کو دفتر سے واپسی پر ثاقب کے گھر ہی چلا گیا۔ عصر پڑھ کر تھوڑی دیر میں پتا چلا کہ پولیس اسٹیشن جارہے ہیں جہاں ملزم، واٹر ٹینکر اور موٹر سائیکل موجود ہے۔ میری ایک چاچی کے بھائی پولیس میں اچھے عہدے پر ہیں۔ ایک ان کی گاڑی تھی اور ایک فرحت پھپھا کی۔ شاید فیروز آباد کا تھانہ کہلاتا ہے جہاں ہم پہنچے۔ بتایا گیا کہ ملزم کو جیل لے جایا جاچکا ہے۔ ہم تین لڑکوں کو حکم ہوا کہ باہر کھڑے رہو اور بڑے اندر بات کرنے چلے گئے۔ میں نے فہد سے کہا، موبائل فون میں کیمرہ ہے نا تو نکالو۔۔۔ ہم نے فوٹو گرافی شروع کردی۔


یہ ہے اس واٹر ٹینکر کا سامنے سے ایک منظر جس نے ثاقب اور اس کی امی کی جان لی۔

بائیں طرف سے ٹرک کا یہ حال اس لیے ہوا کہ دو جسم روندنے کے بعد جب ایک موٹر سائیکل سوار نے اس کا پیچھا کیا تو ڈرائیور نے تیز رفتاری کے سبب اپنا ٹینکر ایک بنگلے کی دیوار سے ٹکرادیا۔

ایک ٹائر ہی اتنا دیوہیکل ہے۔۔۔ اس کے نیچے آنے کے تصور ہی سے خوف آتا ہے۔۔۔ کیا حال ہوا ہوگا ان کا۔۔۔ :(

میں نے فہد کو کہا، تھانے کے سامنے سے بھی ایک تصویر لے لو۔۔۔ کچھ گھبراہٹ تھی کہ کوئی کچھ نہ کہے۔ وہ یہ تصویر کھینچ رہا تھا اور ہمارے سامنے ہی ایک پولیس والا اپنی بائیک اسٹارٹ کررہا تھا۔ تصویر کھینچتے دیکھا تو سوال جواب کرنے لگا۔ پھر کہتا ہے، پہلے آفس سے پوچھو پھر کھینچو ورنہ ایویں ہی کوئی پکڑ لے گا۔۔۔ ہمیں بعد میں ہنسی آئی، کوئی دیکھے گا تو سمجھے گا حملہ کی پلاننگ کررہے ہیں۔ :wink:
دائیں طرف دیوار پر جو بورڈ لگا ہے، اس پر کیا لکھا ہے؟ تصویر میں پڑھنا مشکل ہے لیکن میں نے اسے کاغذ پر لکھ لیا تھا۔

پولیس مین کی صفات
نرم خو
فرمانبردار
وفادار
ذہین
باہمت
مستعد

:razz:


موٹر سائیکل کا حال۔۔۔ :( (درمیان والی۔ ہنڈا)

یہ ہیں اے ایس آئی معراج جنہوں نے اس تمام معاملہ کی تفتیش کی۔ فہد ان کی تصویر لیتے ہوئے گھبرارہا تھا۔ جب یہ باتوں میں مصروف تھے تو میں نے اسے کہا کہ جلدی سے تصویر لے لے۔ اس نے تصویر لیتے ہی موبائل فون نیچے کرلیا لیکن تصویر کھینچنے کی جو آواز موبائل سے نکلی، اس سے وہ متوجہ ہوگئے اور مسکراکر ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ تصویریں کس لیے لی جارہی ہیں؟ میں نے بھی ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ کر مصافحہ کرلیا اور کہا کہ بس یادگار رکھنے کے لیے لے رہا تھا۔۔۔ انہوں نے کچھ کہا نہیں۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔