گھڑیاں

40 views August 28, 2008 | راہبر
No Gravatar

ایک زمانہ میں گھڑیاں بڑی مہنگی ہوا کرتی تھیں۔ پھر جب چین کی گھڑیاں آنے لگیں تو کوڑی کے مول بکنے لگیں۔ آج آپ 100 روپے میں بہترین گھڑی لے سکتے ہیں۔ خود میں نے ایک سو روپے والی گھڑی ایک سال تک آرام سے چلائی تھی، سال بعد بھی اس کے ساتھ صرف ایک یہ مسئلہ ہوا کہ اس کا پٹا جہاں لگتا ہے، وہ پلاسٹک ٹوٹ گئی تھی تو اسے ایک طرف ڈال دیا ورنہ وہ تو عرصہ تک وقت بتاتی رہی تھی۔

گھڑیاں موجودہ وقت بتاتی ہیں۔۔۔ صرف وقت۔۔۔ اب وہ وقت اچھا ہے یا برا، وہ ساعت سعد ہے کہ نحس، اس کا فیصلہ آپ پر ہوتا ہے۔ میں نے پہلے لکھا تھا کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ ایک تو یہ خود بدلتا رہتا ہے، پھر ہم بھی اب وقت بدلنے لگے۔ پاکستان میں اس کا ایک تجربہ پرویز مشرف کے دور میں ہوا تھا، تب اس پر بہت باتیں بنی تھیں۔ موجودہ حکومت نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی اور گرمیوں میں یکم جون کو رات 12 بجے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کیں۔ پہلے پاک و ہند کے وقت کا موازنہ ہوتا تو لوگ کہتے کہ ہم انڈیا سے آدھ گھنٹا پیچھے ہیں۔ اب ہم آدھ گھنٹا آگے ہوگئے کہ چلو ویسے نہ سہی، ایسے ہی سہی۔ یہ عمل تین ماہ کے لیے تھا اور یکم ستمبر سے گھڑیوں نے واپس ایک گھنٹہ پیچھے آجانا تھا۔ لیکن وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن نے اعلان کیا ہے کہ گھڑیاں مزید دو مہینے ایک گھنٹہ آگے رہیں گی۔ اب جی تو کررہا ہے کہ شیری رحمن کو۔۔۔۔۔ :evil:

تقریبا ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے ہوگیا ہے یعنی آدھ دن بجلی غائب۔ بلوچستان میں پندرہ گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ اور کراچی میں بجلی غائب رہنے کا دورانیہ 20 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ پھر ہمیں وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف یہ نوید سناتے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہوگیا ہے۔ :twisted:

ماہِ رمضان قریب ہے، ایک ہفتہ سے بھی کم کا عرصہ ہے۔ ہم مطمئن تھے کہ رمضان سے پہلے گھڑیاں اپنے معمول پر آجائیں گی تو معمولات درست ہوجائیں گے لیکن یہ اعلان تو خلافِ توقع آپڑا۔ اب ذرا رمضان کے معمولات کا تصور کریں، ابھی ساڑھے نو بجے عشاء کی اذان ہورہی ہے۔۔۔ رمضان تک شاید سوا نو بجے وقت ہوجائے۔ آپ گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تراویح پڑھ کر گھر لوٹیں گے۔ اگر کھانا تروایح کے بعد کھاتے ہیں تو لازما بارہ بج گئے۔ کھانا تراویح سے پہلے بھی کیا ہو تو سوتے سوتے بارہ/ ایک تو بج ہی جائے گا۔ ابھی فجر کی اذانیں پونے چھ بجے شروع ہوجاتی ہیں۔ یعنی آپ نے پانچ بجے تو لازما اٹھ جانا ہے سحری کے لیے۔ فجر پڑھیں گے تو ساڑھے چھ/ پونے سات بجے فارغ ہوں گے۔ اب آپ اگر ملازمت کرتے ہیں تو شاید آپ کو ڈیڑھ دو گھنٹہ صبح آرام کو ملے، پھر شام کو گھر لوٹیں گے تو کب آرام کریں گے، کب عبادت کریں گے۔۔۔ اپنے نظام الاوقات مرتب کرتے پھریں۔ یہ مسئلہ آپ کا ہے، صاحب لوگوں کا نہیں کیونکہ “صاحب لوگ” مذہبی نہیں ہیں۔

سبز پاکستان

43 views August 25, 2008 | راہبر
No Gravatar

نہیں، یہ پاکستان کے سرسبز و شاداب ہونے کا ذکر نہیں بلکہ یہ میرا نیا سانچہ ہے۔ میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ ورڈ پریس کے سانچوں کو اردو میں ڈھالتے ڈھالتے مجھے خیال آیا کہ کب تک دوسروں کے کام کو اردو کی پھینٹی لگاتے رہیں گے۔۔۔ کیوں نہ خود سے کوئی سانچہ بنایا جائے۔ یہ سوچ کر میں نے کوشش شروع کی تھی اور اردو تاہوما گرین اور اردو نسخ پنک پیش کیے۔ لیکن ایک سانچہ کی تشکیل بالکل صفر سے کرنا انتہائی دماغ سوزی کا کام ہے اور اگر میں ایسے ہی کرتا رہا تو پاگل ہوجاؤں گا۔

تب مجھے خیال آیا کہ دوسرے سانچوں کی بنیاد پر اپنے حساب سے تبدیلی کرلی جائے اور سی۔ایس۔ایس کی ویلیوز ری۔ڈیفائن کرکے نئے سانچہ بنائے جائیں۔ یہ خیال مجھے ایک سانچہ پر اردو رنگ چڑھاتے ہوئے آیا تو میں نے اسی پر تجربہ کرڈالا اور اسے بالکل ہی نیا روپ دیدیا۔ میں نے اس کا نام رکھا ہے، سبز پاکستان۔

ابھی میں اسے ریلیز نہیں کررہا ہوں :razz: آپ اس کو دیکھ بھال لیں، کوئی غلطی یا خامی نظر آئے تو بتائیں۔ پھر اسے زیادہ بہتر کرکے ریلیز کروں گا ان شاء اللہ (جب میں اپنے لیے دوسرا سانچہ تیار کرلوں گا :wink:)

لعنۃ اللہ علی الظالمین

37 views August 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

21 اگست 2008ء بروز جمعرات۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے کچھ فاصلہ پر واقع پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے دو مرکزی دروازوں پر ہونے والے خود کش حملے میں اب تک کی اطلاع کے مطابق 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ (خبر)

تحریک طالبان، پاکستان کے مولوی عمر نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ان کے خلاف کاروائی کا رد عمل قرار دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت کے فوجی آپریشن سے عام شہری ہلاک ہورہے ہیں۔ اس عقل کے اندھے کو یہ نظر نہیں آتا کہ اس کی کاروائیوں میں بھی مارے جانے والوں کی اکثریت عام شہریوں ہی کی ہے۔ مولوی عمر کا کہنا ہے کہ

ان کو اس بات کا احساس ہے کہ عام لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واہ کینٹ میں ان کا ہدف عام شہری نہیں بلکہ سکیورٹی اہلکار تھے۔

کس قدر احساس ہے جناب کو عام لوگوں کی “تکلیف” کا۔ کتنے گھر اجڑ گئے اور کہتے ہیں کہ عام لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے؟؟؟ اگر حملے اسی لیے ہیں کہ فوجی آپریشن سے عوام متاثر ہورہے ہیں تو ان کے حملوں سے بھی عام شہری ہی متاثر ہورہے ہیں نا۔ 100 بندے مریں تو دس سیکورٹی اہلکار اور نوے بے گناہ شہری مرتے ہیں۔

یہ اسلام ہے؟ طالبان کا اسلام؟ اسلام تو نام ہے سلامتی کا۔۔۔ امن کا۔۔۔ شانتی کا۔۔۔ لعنۃ اللہ علی الظالمین

آہ ثاقب۔ تصاویر

37 views August 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

15 اگست 2008ء کو دفتر سے واپسی پر ثاقب کے گھر ہی چلا گیا۔ عصر پڑھ کر تھوڑی دیر میں پتا چلا کہ پولیس اسٹیشن جارہے ہیں جہاں ملزم، واٹر ٹینکر اور موٹر سائیکل موجود ہے۔ میری ایک چاچی کے بھائی پولیس میں اچھے عہدے پر ہیں۔ ایک ان کی گاڑی تھی اور ایک فرحت پھپھا کی۔ شاید فیروز آباد کا تھانہ کہلاتا ہے جہاں ہم پہنچے۔ بتایا گیا کہ ملزم کو جیل لے جایا جاچکا ہے۔ ہم تین لڑکوں کو حکم ہوا کہ باہر کھڑے رہو اور بڑے اندر بات کرنے چلے گئے۔ میں نے فہد سے کہا، موبائل فون میں کیمرہ ہے نا تو نکالو۔۔۔ ہم نے فوٹو گرافی شروع کردی۔
مزید پڑھیں »

بھوتنی کے

43 views August 19, 2008 | راہبر
No Gravatar

ہاہاہا۔۔۔ یہ کچھ اور نہیں، ایک فلم کا گیت ہے۔۔۔ایسا بھی وقت آنا تھا۔۔۔ دراصل یہ لفظ یوں رائج ہوا کہ یہاں لوگ اس سے ملتے جلتے الفاظ کی ایک گالی نکالتے ہیں۔۔۔ اب جہاں لوگ وہ گالی نکالنا مناسب خیال نہ کریں، اس کی جگہ یہ لفظ کہہ دیتے ہیں۔ ظاہری معانی فضول اور مقصد وہ گالی۔۔۔ لیکن جب یہ لفظ فلم “سنگھ از کنگ” کے ایک گیت کا ٹائٹل بنا تو جو لوگ اس کا مطلب نہیں سمجھتے تھے، انہوں نے کھوج لگانا شروع کی۔ یاہو آنسرز انڈیا پر یہ سوال پوچھا گیا کہ What does bhootni ke mean۔۔۔ :razz: اب جواب دینے والے بے چارے کیا لکھیں؟ پہلا لکھتا ہے کہ بھوتنی، فیمیل جِن ہوتی ہے۔ دوسرا لکھتا ہے: bhootni ke mean۔۔۔۔ it does’nt have specific meaning۔۔۔ فنی ہی رہا۔۔۔ خیر، آپ گانے سے لطف اندوز ہوں۔

گیت: بھوتنی کے
فلم: سنگھ از کنگ
ہدایت کار: انیس بزمی
موسیقار: پریتم
شاعر: مایور پوری
ستارے: اکشے کمار، جاوید جعفری، کترینا کیف، نیہا دھوپیا
مزید پڑھیں »

الوداع پرویز مشرف

38 views August 19, 2008 | راہبر
No Gravatar

پرویز مشرف رخصت ہوئے۔ انہیں رخصت ہونا ہی تھا۔ اقتدار کی کرسی کب کسی کو ہمیشہ کے لیے ملتی ہے۔ ابھی ہمارے ہر مسئلہ کی وجہ مشرف تھے، اب ہم نے نئے اسباب تلاش کرنے ہیں کہ ہر مشکل میں ان پر انگلی اٹھاسکیں۔ زرداری سے مجھے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں۔ میڈیا کا کردار بھی اہم ہوگا۔ اب تک میڈیا کی تقریبا تمام توپوں کا رخ پرویز مشرف کی طرف تھا۔ اب وہ نہیں رہے تو ظاہر ہے آہستہ آہستہ یہ توپیں موجودہ حکمرانوں کی طرف رخ کرلیں گی۔ کیا موجودہ سیاستدان انہیں برداشت کرسکیں گے؟ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے کیا اپنا وعدہ ایفا کرسکیں گے یا یہی راگ الاپتے رہیں گے کہ ہمیں ملک ملا ہی ایسی حالت میں ہے کہ درست ہوتے ہوتے عرصہ لگ جائے گا۔

ہماری عوام بھی خوب ہے۔ ابھی پرویز مشرف کو جوتیاں مار کر اتارا ہے۔ کچھ عرصہ بعد جب موجودہ حکمران ستم ڈھائیں گے تو پھر پرویز مشرف کو یاد کیا جائے گا۔ مشرف چونکہ خود چلے گئے ہیں اس لیے ہماری قوم جلد ہی ان کی غلطیاں معاف کردے گی بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ہاں جب کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو لوگ اس کی ساری غلطیاں یکسر بھول کر ہر وقت اس کی شان میں قصیدے پڑھتے رہتے ہیں۔ واللہ! ہم بھی خوب ہیں۔

Protected: تم سے ملنا

30 views August 19, 2008 | راہبر
No Gravatar

This post is password protected. To view it please enter your password below:


آہ ثاقب!

68 views August 15, 2008 | راہبر
No Gravatar

12 اگست 2008۔ بروز منگل۔
میں ایک دوست کے ساتھ سہ پہر سے پی۔اے۔ایف میوزیم میں تھا۔ رات 9 بجے ہم نکلنے ہی والے تھے کہ میرا موبائل فون بجنے لگا۔ دوسری طرف امی تھیں۔ گھبرائی ہوئی آواز میں بولیں، ثاقب اور انجم پھپھو کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، صبا چاچی کا فون آیا تھا، سعد کو فون کرکے کنفرم کرو۔ میرا دماغ جیسے میرا ساتھ چھوڑ گیا۔ ہاں ہوں کرکے فون بند کیا۔ سوچا، سعد کو کیوں، ثاقب کے گھر ہی فون کرکے کیوں نہ معلوم کروں۔ اس کے گھر فون کیا، ثاقب کی چھوٹی بہن نے اٹھایا۔ میں نے پوچھا تو روتے ہوئے بولی کہ بھائی اور امی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، پتا نہیں کس حال میں ہیں۔ میں نے پوچھا، کہاں ہیں وہ؟ کون ہے ان کے ساتھ؟ تو کہنے لگی کہ ابو گئے ہیں۔ پھر میں نے گھر فون کیا اور امی کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ شاید بچیوں کو نہ بتایا ہو لیکن دونوں کا انتقال ہوگیا ہے۔ :cry: (اناللہ وانا الیہ راجعون)
مزید پڑھیں »

ورڈ پریس کے تین اردو سانچے

37 views August 11, 2008 | راہبر
No Gravatar

میں نے ورڈ پریس کے سانچوں کو اردو قالب میں ڈھالنے کا کام کافی پہلے شروع کیا تھا۔ ابھی گذشتہ دنوں ہی میں حساب لگا رہا تھا تو پتا چلا کہ 25 سانچوں کی صورت اردو والی کرچکا ہوں۔ پہلے نہیں تو دوسرے تیسرے نمبر پر تو ہوں میں اس وقت۔ ابتداء میں جو سانچے اردوائے تھے، ان میں کچھ خامیاں بھی رہ گئی تھیں کیونکہ اس وقت اتنا زیادہ علم نہیں تھا کہ کام کیسے کرنا ہے۔۔۔ پھر وہ سب سانچے میرے پاس موجود بھی نہیں تےں۔ پچھلے دنوں میں نے سارے سانچے اکٹھے کرکے انہیں درست کرنا شروع کیا ہے۔ ساتھ ساتھ انہیں پوسٹ کرتا جاؤں گا۔ یہ اس سلسلہ کی پہلی قسط ہے۔ تین سانچے حاضر ہیں۔ اس سے پہلے جو دو سانچے اردو تاہوما گرین اور اردو نسخ پنک پیش کیے تھے، ان کو بھی اسی گنتی میں شامل کررہا ہوں۔ سو اب گنتی شروع ہوگی تین سے۔
تیسرا سانچہ ہے Urdu-801-01

سانچہ اتاریں

چوتھا سانچہ ہے اردو بلیک اینڈ اورنج

سانچہ اتاریں۔

پانچواں سانچہ ہے urdu-convergence

سانچہ اتاریں۔

کھلے دل سے استعمال کریں اور جہاں کوئی خامی نظر آئے، اطلاع دیں تاکہ میں اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کرسکوں۔ ان شاء اللہ جلد ہی مزید سانچوں کے ساتھ حاضر ہوتا ہوں۔

ٹھوکو شاعر

32 views August 9, 2008 | راہبر
No Gravatar

اے اجنبی! تُو بھی کبھی
آواز دے کہیں سے
میں یہاں ٹکڑوں میں جی رہا ہوں [2]
تُو کہیں ٹکڑوں میں جی رہی ہے

آپ نے یہ گیت سنا ہے؟ نہیں سنا تو سن لیں بلکہ دیکھ لیں۔
ایک وقت تھا جب میرے دماغ (یا دل؟) کے حالات مخدوش تھے۔ تب میں رات گئے تک یہ گانا سنتا رہتا اور اتنےےےےے سارے آنسو بہاتا رہتا۔۔۔ ایک منٹ! کچھ غلط نہ سوچیں، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ مجھے ان دنوں محبت کا عارضہ لاحق رہا ہو۔ :P

خیر، میں نے اپنی کوئی کہانی لے کر نہیں بیٹھنی ہے (اور آپ نے بھی نہیں)۔ مجھے انڈین فلمز میں شامل شاعری کے دلچسپ پہلو اجاگر کرنے ہیں۔ ؛) آپ نے اوپر والا گیت سنا؟ سنا بھی ہوگا تو شاید اس کے بول پر زیادہ غور نہ کیا ہو۔ اس کا پہلا انترہ یوں ہے:

“روز روز ریشم سی ہوا
آتے جاتے کہتی ہے
بتا ریشم سی ہوا
کہتی ہے پتا
وہ جو دودھ دھلی
معصوم کلی
وہ ہے کہاں، کہاں ہے؟۔۔۔۔۔۔”

ذرا اس کی ابتدائی چند سطور پر غور کریں۔ کوئی معنی پلے پڑتے ہیں؟ میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا جواب اثبات میں ہوگا۔۔۔ ہاں، اس کو کچھ یوں ہونا چاہئے تھا:

“روز روز ریشم سی ہوا
آتے جاتے کہتی ہے
بتا! ریشم سی ہوا!
کہتی ہے تو کیا؟”

اگرچہ مکمل ٹھیک اب بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی اصل سے بہتر ہے۔ اچھا اب اس گیت کے دوسرے انترے پر آئیں۔

“تُو تو نہیں ہے لیکن تیری مسکراہٹیں ہیں
چہرہ کہیں نہیں ہے پر تیری آہٹیں ہیں
تُو ہے کہاں، کہاں ہے؟۔۔۔۔”

کچھ نوٹ کیا آپ نے؟ میں تو آج تک سمجھتا آیا تھا کہ چہرے سے مسکراہٹ ہوتی ہے اور “ہونے” سے آہٹ ہوتی ہے۔ لیکن یہاں تو شاعر کہہ رہا ہے کہ تُو نہیں ہے تو تیری مسکراہٹ ہے اور چہرہ نہیں ہے تو تیری آہٹ ہے۔ اس کی محبوبہ کی آہٹ چہرے سے ہوتی ہے کیا؟ پھر مسکراتی جسم کے کس حصہ سے ہے؟ :D

ویسے یہ گانا مجھے بہت بہت زیادہ پسند ہے۔ اس کی موسیقی اے۔آر رحمن نے دی ہے اور ادت نارائن نے گایا ہے۔ دونوں کمبی نیشن بہت کمال کے ہیں۔ شاہ رخ خان کی فلم “دل سے” میں شامل ہے۔

اچھا، آپ کو پتا ہے، ” جانِ من” کسے کہتے ہیں اور اس کے معنی کیا ہیں؟ یہ ہے فارسی کی ترکیب۔ “من” معنی میں یا میری۔۔۔ “جانِ من” یا “جانم” معنی میری جان۔ (کتنا رومانوی ہے نا۔۔۔! سب سے اچھا جملہ یہی لگتا ہے مجھے :P) اب یہ ایک گانا ہے، مجھے کچھ خاص نہیں لگتا لیکن سب بڑی تعریف کرتے ہیں۔ برسات کے دن آئے، ملاقات کے دن آئے۔ سنا ہے؟ نہیں سنا تو سن لیں۔

اس میں ایک جملہ ہے: “تجھ سے ملنے کو تِری جانِ من ترستی ہے”۔ اب ذرا اس میں دیکھیں، لفظ ” جانِ من” فٹ بیٹھتا ہے کیا؟ اگر میں اس جملہ کو اردو میں کہوں تو “تجھ سے ملنے کو تیری میری جان ترستی ہے۔”

اتنی سمجھ تو یار مجھے بھی ہے، یہ وہاں کیا ایسے شاعر بٹھائے ہوئے ہیں؟ میرے کزنز کی زبان میں “ٹھوکو” شاعر۔ حیرت ہے۔۔۔!!!