No Gravatar

میرا دماغ بھی عجیب ہے۔۔۔ اچھوتی اچھوتی باتوں کا سوچتا ہے اور پھر اس کے بعد اپنے ہی آپ کو چیلنج کہ میں یہ کرسکتا ہوں یا نہیں؟ “نہیں” کیسے کہوں، جواب “ہاں” ہی میں ہوتا ہے اور پھر ثبوت۔۔۔!!!

میرے دفتر سے کچھ فاصلہ ہی پر مزارِ قائد ہے۔۔۔ عظیم رہنما، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تربت۔ گھر سے دفتر آنے اور دفتر سے گھر جانے کے دوران عموما اس کے سامنے ہی سے گزرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے دماغ پر ایک خیال سوار ہوگیا کہ میں نے گزرتے ہوئے قائد کو سلیوٹ کرنا ہے۔۔۔ اب آپ خود سوچیں، عین سڑک پر گزرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا کوئی بندہ سلیوٹ مارتا کیسا لگے گا۔۔۔؟ کافی دن ٹالتا رہا۔۔۔ اب نہ کروں تو اندر سے آواز آتی، “اچھا تو قائد سے تمہاری محبت ایسی ہے کہ لوگوں کا خیال کرکے تم ایک سلیوٹ نہیں کرسکتے۔” کئی ایک بار سر تک ہاتھ اٹھایا بھی مگر۔۔۔۔ :razz:

لیکن کل میں کامیاب ہوگیا۔۔۔ رات کو ابو کے ساتھ جارہا تھا بائیک پر۔۔۔ جیسے ہی مزارِ قائد آیا، وہی خیال پھر سے کود پڑا اور میں نے اپنے قائد کو محبت بھرا سلام کیا۔۔۔۔ :smile: اب سکون ہے۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔