میری واپسی
لیجئے، مابدولت واپس آچکے ہیں۔
شکر ہے خدا کا کہ سر پر جو امتحانات کی بلا آن پڑی تھی، اس کا اچھی طرح مقابلہ کیا اور پرچے اچھے خاصے ہوگئے۔ اب سکون ہے۔ اگرچہ اتنا عرصہ دفتر سے بھی چھٹی لی تھی اور باقی سب کام بھی چھوڑے تھے کہ صرف پڑھائی کرنی ہے، لیکن حال یہ تھا کہ گھر میں ہوتا تھا تو پڑھائی کم ہوتی ہے اور دوسرے کام زیادہ۔ اور کچھ نہیں تو ٹی۔وی پر فلم دیکھنے بیٹھ گیا۔ :wink: پھر امی اٹھاتی تھیں کہ اس کو دیکھو، سال بھر پڑھا نہیں ہے اور اب پڑھنے کا وقت ہے تو بھی ٹی۔وی دیکھ رہا ہے۔۔۔
لیکن پھر بھی سارے ہی پرچے بہت اچھے ہوئے۔ میں “اے” گریڈ کی توقع کیے بیٹھا ہوں۔ ان شاء اللہ کامیابی ہوگی۔
اسلامک اسٹڈیز کا پرچہ شاید بدھ کو تھا اور اتوار کو تو میں نے کتاب ہی خریدی۔ اس دن مطالعہ کیا۔ سوموار کو دفتر چلا گیا۔ آکر تھوڑا بہت پڑھا۔ پھر اگلے دن بارہ، ایک بجے تک پڑھا تو اس کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا جیسے اب یاد کرنے کو کچھ نہیں بچا۔ لہذا کتاب ایک طرف رکھی اور پھر تفریح شروع
اور اللہ کا شکر ہے کہ اگلے دن پرچہ دینے گیا تو اے ون ہوا۔
باقیوں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں رہی۔ بہرحال! اب میں آہستہ آہستہ فعال ہونے کی کوشش کروں گا۔ اللہ مالک ہے۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
July 1, 2008 بوقت 1:07 pm
تمہیںمیں نے یاہو پر کہا تھا کہ جی میل پر آؤ ، مگر تم نہیں آئے ۔ لگتا ہے ابھی صرف تمہارا جسم ہی واپس آیا ہے ، عقل کا شاید انجن فیل ہو گیا ہے
July 1, 2008 بوقت 3:10 pm
بھائی صاحب! آپ نے کس کو کہا تھا، کب کہا تھا؟ اور کون سے یاہو پر کہا تھا؟ میں تو آج کل یاہو استعمال ہی نہیں کررہا ہوں۔
July 1, 2008 بوقت 3:47 pm
تو پھر تمہارا بھوت ہوگا ۔ بہرحال تم جی میل پر کیوں نہیں آئے؟
July 2, 2008 بوقت 3:21 pm
او بھائی! مجھے الہام تو نہیں ہوا نا کہ تم جی۔میل پر بلارہے ہو۔ اور تم م۔س۔ن پر کیوں نہیں ملتے؟ تمہیں میں نے کل شام ایس۔ایم۔ایس بھی کیا تھا پر نو رپلائی۔ :?:
July 2, 2008 بوقت 7:47 pm
پڑھتی تو میں بھی امتحانوں کے ہی دنوں میں تھی۔۔۔ لیکن مائی گاڈ۔۔۔ تمھارے جتنی لائق نہیں تھی کہ انہی دنوں کتاب خریدتی۔
بہرحال رزلٹ آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔
ویلکم بیک۔
July 3, 2008 بوقت 12:44 am
ہمارے ملک کے نظام تعلیم کی عظیم ترین خوبیوں میں ایک یہ بھی ہے کہ لوگ بغیر پڑھے ہی آسانی سے امتحان پاس کرلیتے ہیں۔ امتحانی طریقہ کار انتہائی دقیانوسی اور فضول ہے۔ اور نصاب تو باوا آدام کے زمانے کا ہے۔
July 15, 2008 بوقت 10:34 pm
یہ سب کچھ سن کر کچھ اپنائیت کا احساس ھو رہا ہے۔۔ ویسے مجھے کب چین ملتا تھا کہ ٹک کر پیپرز میں پڑھوں سارا دن ادھر کتاب لے کر پھرتا تھا۔۔۔ھاھاھاھاھاھا۔۔۔۔کبھی کتاب اور ٹی وی ساتھ ساتھ۔۔۔کبھی کتاب اور پی سی ساتھ ساتھ۔۔۔کبھی کتاب اور ھم دونوں خالہ کے گھر ساتھ ساتھ۔۔۔کبھی کتاب کھانے کی میز پر۔۔۔۔ مت پوچھو کہ کہاں کہاں ساتھ رہے ھم۔۔۔بس، رکشۃ ‘ گاڑی سب میں ہوتی تھی اس ہاتھ میں کتاب۔۔۔۔بس دماغ کہیں اور ہوتا تھا۔۔۔ میری بلاگز آپ کی کمینٹز کی منتظر۔۔۔۔