No Gravatar

اتوار کی صبح مجھے خبر ملی کہ عائشہ افتخار نامی ایک ذہین طالبہ کو ڈاؤ میڈکل کالج کے انٹری ٹیسٹ میں بیٹھنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا۔ میڈکل کالج کی انتظامیہ کا اس اقدام سے مذکورہ طالبہ کی سب محنت رائیگاں جاتی نظر آتی ہے۔

عائشہ افتخار کا میٹرک کے امتحان میں نتیجہ 91 فیصد اور انٹر کے امتحان میں 88 فیصد رہا۔ میں تب سے یہ سوچ رہا ہوں کہ اس طالبہ نے اور اس کے گھر والوں نے کتنے سپنے سجائے ہوں گے، اور عائشہ نے میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کی خاطر پڑھائی میں کتنی محنت کی ہوگی۔۔۔ اور اس کا صلہ یہ؟

میڈکل کالج کی انتظامیہ نے عائشہ کی معذروی کو وجہ بنایا ہے کہ وہ پولیو سے متاثرہ ہے۔ میں ایکسپریس نیوز پر دیکھ رہا تھا، کالج کے وائس چانسلر نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ شعبہ ایمرجنسی کا ہے۔ کیا ڈاکٹری کی تمام شاخوں میں ایمرجنسی کیسز آتے ہیں؟ طالبہ معذور ہے تو کیا ہوا؟ آگے چل کر سائیکاٹرسٹ بن سکتی ہے، کسی فیلڈ میں اسپیشلسٹ کرسکتی ہے۔۔۔ یا ہمارے ہاں ڈاکٹری میں صرف سرجن ہی ہوتے ہیں؟

میڈکل کالج میں معذور افراد کا الگ سے کوٹہ بھی ہوتا ہے کہ اگر معذور افراد میرٹ کے معیار پر پورے نہ اترتے ہوں تو اس کوٹہ کی بنیاد پر داخلہ ہوجائے لیکن عائشہ کے امتحانی نتائج میرٹ کے اعتبار سے انتہائی شاندار ہیں۔ قدیر نے اپنی ایک تحریر میں چند ایسے معذور ڈاکٹرز کے حوالہ دیے ہیں جو احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔ اس کے علاوہ PMC میں ڈاکٹر وقاص بھی خدمات انجام دے رہے ہیں حالانکہ وہ بھی پولیو سے متاثرہ ہیں۔

اس معاملہ میں کالج کے انچارج ایڈمیشن سیل، ڈاکٹر عزیز سمیت تمام انتظامیہ کا کردار ہی افسوسناک رہا ہے۔ طالبہ کی جانب سے یہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ فی الحال انٹری ٹیسٹ میں شمولیت کے لیے عارضی ایڈمٹ کارڈ جاری کردیا جائے اور بعد میں اس معاملہ کو دیکھ لیا جائے لیکن اس طرف بھی توجہ نہیں دی گئی۔

پاکستانی میڈیا نے اس معاملہ کو کافی ہائی لائیٹ کیا ہے۔ جیو، ایکسپریس، اے آر وائی ٹیلی ویژن چینلز سمیت کئی اخبارات نے بھی اس بارے میں کافی کوریج کی ہے۔ میں نے کل پڑھا ہے کہ چار ڈاکٹرز پر مشتمل ایک بورڈ بٹھانے کا کہا کیا گیا ہے جو اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔ اب دیکھتے ہیں کہ فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔