No Gravatar

اور آخرکار کل ابرِ کرم برس ہی گیا۔ آرزو پایہ تکمیل تک پہنچی۔ کل دوپہر دفتر میں ہی امی کا ٹیکسٹ آیا کہ تیز بارش ہورہی ہے حالانکہ ہمارے ہاں تیز دھوپ تھی۔ شام کو جب گھر کے لیے نکلا تب تک بارش کے آثار نہیں تھے۔ راستہ بھی سوکھا پڑا تھا، ناظم آباد سات نمبر کے اوورہیڈ برج سے پہلے تک سب کچھ خشک تھا اور برج کے دوسری جانب بارش ہورہی تھی، سڑکیں گیلی ہی نہیں تھیں، پانی بھی کافی کھڑا ہوا تھا اور جیسے جیسے شمال کی طرف آگے بڑھتے گئے، اندازہ ہوتا گیا کہ یہاں اچھی خاصی بارش ہوچکی ہے۔ پھر پتا چلا کہ شہر کے مرکز میں شام کے وقت بارش برسنا شروع ہوئی تھی۔

گھر پہنچا تو دروازے پر ہی روک لیا گیا۔ پتا چلا کہ خواتین کا میلاد رکھا گیا تھا اور روکنے کی وجہ ہمارے سسرال کا مع ہماری منگیتر صاحبہ کے موجود ہونا تھا۔ حکم ہوا کہ چہرہ ادھر ادھر گھمائے بغیر سیدھا اپنے کمرے کا رخ کرو۔ حکم کی تعمیل کی۔ :razz:

جب تک وہ موصوفہ گھر میں موجود رہیں، ہماری سرگرمیاں انتہائی محدود رہیں لیکن گھر سے باہر نکلنے کا جی بھی نہیں کیا حالانکہ تیز بارش ہورہی تھی اور مجھ سے بارش میں نہائے بِنا رہا نہیں جاتا۔ بس گیلری میں کھڑا رومانوی موسم سے لطف اندوز ہوتا رہا۔۔۔ بے وقوفی ہی کی۔ باہر نکل کر انجوائے کرتا تو ہی بہتر تھا، گھر میں رہنے کا فائدہ کیا ہوا جب ایک جھلک بھی دیکھ نہ سکا۔ :sad:

رات گیارہ/ بارہ بجے تک بارش تھم گئی تھی۔ آج دن میں تو اچھی خاصی دھوپ ہی تھی لیکن ابھی چار بجے کے بعد بادل گِھر آئے ہیں۔ مجھے ابھی کچھ کام ہے ورنہ میرے ذہن میں موسم کی مناسبت سے ایک دو گیت کلبلارہے ہیں۔۔۔ :smile: چلیں، آپ اپنے طور مزہ لیں۔۔۔ میں بعد میں لکھتا ہوں۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔