آرزوئے وصال مت کیجے
طویل وقفہ کے بعد آمد ہوئی تو ایک غزل کہی۔۔۔ اردو محفل پر اصلاح کے لیے پیش کی تو اعجاز عبید صاحب نے اصلاح دی۔ آپ بھی پڑھئے۔
آرزوئے وصال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
جو اسے لاجواب کر ڈالے
کوئی ایسا سوال مت کیجے
اس کے وعدے تمام جھوٹے ہیں
اس طرح دل نہال مت کیجے
دل تو آخر رقیب ہی ٹھہرا
اس سے کچھ بول چال مت کیجے
کیوں پریشاں ہیں، چھوڑیے عمار
اپنا جینا محال مت کیجے
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
July 13, 2008 بوقت 12:39 am
اسلام علیکم
عمار بھائی
بہت لاجواب :lol:
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
یہ مصرعہ مجھے کچھ سنا ہوا سا لگ رہا ہے
شکریہ
July 14, 2008 بوقت 5:11 pm
وعلیکم السلام شعیب۔۔۔ بہت شکریہ پسند کرنے کا۔
July 15, 2008 بوقت 4:31 pm
السلام علیکم
جو اسے لاجواب کر ڈالے
کوئی ایسا سوال مت کیجئے
بہت خوب عمار!
بہت اچھا لکھتے ہو آپ۔ ماشاءاللہ
July 23, 2008 بوقت 4:39 pm
وعلیکم السلام ورچوئل رئیلٹی!
کافی عرصہ بعد میرے بلاگ پر آپ کی آمد ہوئی اس لیے ایک بار پھر سے پرجوش خوش آمدید۔۔۔ اور غزل پسند کرنے کا بے حد شکریہ۔
July 26, 2008 بوقت 4:45 pm
sweet poetry. ammu tum to ache khase shaier hogae
July 28, 2008 بوقت 9:35 am
شکریہ میم۔۔۔ تمہیں کیسے خیال آگیا میرے بلاگ کا؟