قائد کو سلیوٹ
میرا دماغ بھی عجیب ہے۔۔۔ اچھوتی اچھوتی باتوں کا سوچتا ہے اور پھر اس کے بعد اپنے ہی آپ کو چیلنج کہ میں یہ کرسکتا ہوں یا نہیں؟ “نہیں” کیسے کہوں، جواب “ہاں” ہی میں ہوتا ہے اور پھر ثبوت۔۔۔!!!
میرے دفتر سے کچھ فاصلہ ہی پر مزارِ قائد ہے۔۔۔ عظیم رہنما، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تربت۔ گھر سے دفتر آنے اور دفتر سے گھر جانے کے دوران عموما اس کے سامنے ہی سے گزرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے دماغ پر ایک خیال سوار ہوگیا کہ میں نے گزرتے ہوئے قائد کو سلیوٹ کرنا ہے۔۔۔ اب آپ خود سوچیں، عین سڑک پر گزرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا کوئی بندہ سلیوٹ مارتا کیسا لگے گا۔۔۔؟ کافی دن ٹالتا رہا۔۔۔ اب نہ کروں تو اندر سے آواز آتی، “اچھا تو قائد سے تمہاری محبت ایسی ہے کہ لوگوں کا خیال کرکے تم ایک سلیوٹ نہیں کرسکتے۔” کئی ایک بار سر تک ہاتھ اٹھایا بھی مگر۔۔۔۔
لیکن کل میں کامیاب ہوگیا۔۔۔ رات کو ابو کے ساتھ جارہا تھا بائیک پر۔۔۔ جیسے ہی مزارِ قائد آیا، وہی خیال پھر سے کود پڑا اور میں نے اپنے قائد کو محبت بھرا سلام کیا۔۔۔۔
اب سکون ہے۔
تبصرے
12 تبصرے برائے ”قائد کو سلیوٹ“
اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
وضاحت:
ممکن ہے کہ کسی بھی تحریر پر کیا جانے والا تبصرہ منظوری کے بعد شائع ہوتا ہو۔ اس لیے اپنا تبصرہ ایک بار بھیجنے کے بعد دوبارہ بھیجنے کی زحمت نہ کریں۔
اگر آپ کے ویب براؤزر میں جاوا اسکرپٹ فعال ہے تو آپ درج ذیل خانوں میں براہ راست اردو لکھ سکتے ہیں۔ اردو کو بحیثیت قومی زبان فروغ دیں۔
بامر مجبوری انگریزی لکھنے کے لیے Ctrl + Spacebar دبائیں۔
ماوراء! زیادہ پڑھ لیا تھا کیا جو سر میں...
(July 18, 2008 7:48 pm )
بہت اچھے!
اقتباس(July 18, 2008 10:49 pm )
اقتباس(July 19, 2008 3:22 am )
کسی نے دیکھا تو نہیں نا؟ ورنہ لوگ پریشان ہو جاتے کہ بچے کو کیا ہو گیا۔
اقتباس(July 19, 2008 6:56 am )
اپنے بزرگوں سے محبت اور ان کا احترام ہی ہمیں ان جیسا بننے کی لگن دل میںجگاتے ہیں۔
اقتباس(July 19, 2008 10:13 am )
راہبر بہت اچھے بس میں اگر کرتے تو کیا ہی بات تھی ۔ میرا بھی آپ والا حال ہے کبھی سب کے سامنے ایسے کام نہیںکرپاتا۔ :sad:
اقتباسکسی دن دونوں اکھٹے چلیں گے بس میں اور دونوں ایک ساتھ سلوٹ کریں گے :wink: ۔
(July 19, 2008 11:08 am )
شکر ہے عمار تم نے قائد سے محبت کا اظہار کیا ۔۔ ورنہ وہاں جا کر لوگ کس کس سے اظہار نہیں کرتے سوائے قائد کے ۔۔۔
اقتباس(July 19, 2008 2:47 pm )
آپ کے بلاگ کو پرھا تو پہلے بھی ہے تبصرہ پہلی دفعہ ہے
حقیقتا اگرکبھی رات کے پچھلے پہر وہاں سے گزر ہو تو دل چاہتا ہے کہ اسی چلتی سڑک پر بیٹھ کر قائد سے باتیں کی جائیں
اقتباس(July 21, 2008 2:48 pm )
طارق! شکریہ۔
مجھے بھی ان ہی میں سے ایک سمجھتے۔

اقتباسحجاب! :wink:
ماوراء! لوگوں نے کیا کہنا تھا، رستہ میں کئی مینٹل نظر آتے ہیں
افضل صاحب! بالکل ٹھیک کہا آپ نے۔
شکاری! پھر کب آرہے ہیں آپ میرے ساتھ قائد کو سلیوٹ کرنے؟
سارہ! پتا ہے، کراچی میں ایک جگہ “لو پوائنٹ” کے نام سے مشہور تھی۔ اب شاید ایسا نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ اب مزار قائد کا باغ اس لقب کا اصل مستحق ہے۔
امید! بلاگ پر خوش آمدید اور تبصرہ کا بہت شکریہ۔ قائد سے باتیں کیا کی جائیں، ان کی محنت اور جدوجہد کے پھل سے ہم نے جیسا سلوک کیا ہے، اس کے بعد تو ان کا سامنا کرنا بھی مشکل ہے۔
(July 22, 2008 10:00 am )
راہبر جب بولیں میں جانے کے لیے تیار ہوں۔
اقتباس(July 23, 2008 11:41 am )
تمہاری حرکتیں بھی نرالی ہیں لیکن خوب ہیں۔ لوگ کچھ نہیں کہیں گے، اگر بس میں بیٹھے بیٹھے بھی کرو گے تو، بلکہ اچھا سمجھیں گے، یہ میری طرف سے ضمانت ہے۔
اقتباس(July 23, 2008 4:38 pm )
شکاری! آپ کہاں ہوتے ہیں؟
نرالی کچھ زیادہ ہی ہوگئی ہیں حرکتیں۔۔۔ ابھی لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ کچھ سنجیدہ ہونے کی کوشش کرو۔۔۔ بڑے ہوگئے ہو۔
اقتباسفہد بھائی!
(July 25, 2008 11:51 pm )
راہبر میں نارتھ ناظم آباد میں رہتا ہوں۔ روزانہ صبح پرانے 10:30 پر مارکیٹ کے لیے بس میں جاتا ہوں ۔ آپ آفس کتنے بجے جاتے ہیں۔
اقتباس