ہمارا معاشرہ اور وقت کی ضرورت
اردو محفل پر ایک موضوع پاکستانی معاشرہ کی تعریف کیجئے پر گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے میں نے بھی اپنے مبارک خیالات کا اظہار فرمایا۔
بیاض کے قارئین کے استفادے کے لیے پیش کرتا ہوں۔
ہر معاشرہ اور قوم میں خوبیاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں۔ اب اگر ہماری خامیاں بڑھ گئی ہیں تو اب کیا ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم دور بیٹھ کر تنقید کرتے رہیں؟ ایک لوگ وہ ہوتے ہیں جو صرف تنقید کرنے تک محدود رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو تنقید کے بعد ایک قدم آگے بڑھ کر اصلاح کا فرض بھی نبھاتے ہیں۔ ہاں، ہمارے معاشرہ کی خامیاں کافی بڑھ گئی ہیں۔
یقینا
۔۔۔۔۔ ہم لوگ فرقہ واریت، لسانی اور علاقائی تعصبات میں گھرے ہیں،
۔۔۔۔۔ ہم لوگ غیر قانونی اور غیر اخلاقی کاموں میں پھنسے ہیں،
۔۔۔۔۔ ہم اخلاقی، معاشرتی اور سماجی لحاظ سے پستی کا شکار ہیں،لیکن
۔۔۔۔۔ یہی معاشرہ ہے جو ہمدردی کا احساس بھی رکھتا ہے،
۔۔۔۔۔ یہی قوم ہے جس میں ایک دوسرے کی پرواہ کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں،
۔۔۔۔۔ یہی لوگ ہیں جن کی اکثریت امن پسند ہے اور “جیو اور جینے دو” کے اصول پر جینا چاہتی ہے،پھر
۔۔۔۔۔ اس معاشرہ کے لوگ متشدد کیوں ہیں؟
۔۔۔۔۔ یہ معاشرہ بے حس کیوں ہوتا جارہا ہے؟
۔۔۔۔۔ ہمارا معاشرہ بگاڑ کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے؟اس لیے کہ
۔۔۔۔۔ اسلام کے نام پر کی جانے والی تربیت یہاں کے لوگوں کو گمراہ اور انتہاپسند بنارہی ہے،
۔۔۔۔۔ قانونی حق کا حصول دشوار اور غیرقانونی کام آسان ہوگیا ہے،
۔۔۔۔۔ یہاں یہ اصول رواج پارہا ہے کہ مجھے کھانے کو مل گیا تو سمجھو سب کو کھانے کو مل گیا اور مجھے نہیں ملتا تو تجھے کیوں ملا؟اس معاشرہ کی ضرورت
یہ صرف تین، تین نکات ہی نہیں۔۔۔ اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔ یہ صرف مسئلہ کی طرف اشارہ کے لیے ہیں۔ خرم بھائی سوچتے ہیں کہ پاکستان آکر اس ملک کے لیے کچھ کرنا چاہیں تو کچھ نتیجہ نکلے گا بھی یا نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق؟ صحیح سوچتے ہیں بالکل۔ کچھ لوگ ایسے بھی سوچتے ہیں کہ یہ قوم سدھرنے والی نہیں، بھاڑ میں جائے، اپنا جیو۔ شاید وہ بھی اپنی جگہ صحیح سوچتے ہوں۔ لیکن اس قوم کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے۔۔۔ اچھے راہنماؤں کی۔۔۔ یقین جانئے، اس قوم کو، اس معاشرہ کو اگر اچھے راہنما اور مصلح میسر آجائیں نا تو ہم جو دور بیٹھ کر انگلیاں اٹھاتے ہیں، کل کو خوبیاں گنوائیں گے ان شاء اللہ۔تنقید آسان، اصلاح مشکل
آج اگر میں اٹھ کر یہ کہتا ہوں کہ میں اس قوم کی اصلاح کے لیے آواز اٹھاتا ہوں، حق بات کہوں گا تو جانتے ہیں، یہاں ایک بندہ شاید مری مری آواز میں میرا حوصلہ بڑھاتا ہے اور نو بندے یہ کہتے ہیں کہ پاگل ہوا ہے۔ لیکن اگر میں اس معاشرہ کی کسی خامی پر تنقید کے لیے ایک جملہ کہوں گا نا تو جواب میں دس آوازیں نہ صرف میری تائید کریں گی بلکہ تنقید کی گولہ باری شروع ہوجائے گی۔ یعنی ہمیں گالیاں دینے کو بٹھادو، ڈنڈے مارنے کو بٹھادو تو یہ کام اچھا ہے لیکن ہم نے نہ سدھرنا ہے نہ کسی کو سدھرنے دینا ہے۔ایک بڑا ماہر مصور تھا۔ اس نے ایک شاندار تصویر بنائی اور سرعام لٹکادی کہ اس کی غلطیاں بتائیں۔ بس، پھر تو لوگوں نے ڈھیر لگادیا۔۔۔ ہر جگہ نشانات کہ یہاں غلطی، یہاں غلطی۔۔۔ اس مصور نے ایک اور تصویر بنائی اور لکھا کہ اس میں کوئی غلطی ہو تو اصلاح کریں۔۔۔ کسی ایک نے بھی نہ چھیڑا۔
سبق؟؟؟ ہم اس معاشرہ کو گند بھی کہتے ہیں، کیچڑ بھی کہتے ہیں۔۔۔ تو صفائی کرنے کے لیے کیا آسمان سے کوئی آئے گا؟ ہم ہی نے کرنی ہے نا۔۔۔ یہ نہ دیکھیں کہ ابھی آپ کا ساتھ کون دے رہا ہے۔۔۔ پہلا قدم اٹھائیں۔۔۔ ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
لیکن اپنے آپ کو اس قوم اور معاشرہ کا ہمدرد کہنے والو۔۔۔ ذرا آگے آؤ تو سہی۔۔۔ اس قوم کو اپنے دل کی آواز سناؤ تو سہی۔۔۔ یہ لوگ جو لٹیروں کے بڑے بڑے جرائم تین سالوں میں بھول بھال کر ان کے نعرے مارنے لگتے ہیں، کیا تمہیں نہیں اپنائیں گے؟ بالکل ابتداء سے شروع کرتے ہیں۔۔۔ اس معاشرہ کی خامیوں، غلطیوں اور بگاڑ کی اصلاح کا عمل۔۔۔ یہ طے کیے بنا کہ آگے کیا ہونا ہے یا انجام کیا ہوگا؟ صرف پہلے قدم پر توجہ رکھیں۔۔۔ اور پہلے قدم کے بعد اگلے قدم کی طرف۔۔۔ بھول جائیں کہ دس قدم کے بعد کیا ہونا ہے۔۔۔ کیونکہ دس قدم کے بعد والی باتیں ابھی سے سوچیں گے نا تو بس سوچتے ہی رہیں گے۔۔۔ بہت سوچ چکے ہیں۔۔۔ بہت سوچکے ہیں۔۔۔ بہت کھوچکے ہیں۔۔۔ خواب کافی دیکھ لیے۔۔۔۔
اٹھ! باندھ کمر، کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہےفقط
ایک محب الوطن
تبصرے
3 تبصرے برائے ”ہمارا معاشرہ اور وقت کی ضرورت“
اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
وضاحت:
ممکن ہے کہ کسی بھی تحریر پر کیا جانے والا تبصرہ منظوری کے بعد شائع ہوتا ہو۔ اس لیے اپنا تبصرہ ایک بار بھیجنے کے بعد دوبارہ بھیجنے کی زحمت نہ کریں۔
اگر آپ کے ویب براؤزر میں جاوا اسکرپٹ فعال ہے تو آپ درج ذیل خانوں میں براہ راست اردو لکھ سکتے ہیں۔ اردو کو بحیثیت قومی زبان فروغ دیں۔
بامر مجبوری انگریزی لکھنے کے لیے Ctrl + Spacebar دبائیں۔
ماوراء! زیادہ پڑھ لیا تھا کیا جو سر میں...
(July 19, 2008 3:26 am )
بہت اچھی طرح بیان کیا ہے۔ ویل ڈن۔
اقتباس(July 19, 2008 11:20 am )
عمار بہت اچھے خیالات ہیں ۔۔
ہم لوگ سب بہت اچھے اچھے خیالات کا اظہار تو کر لیتے ہیں اپنے ملک کے لئے ۔۔ لیکن عمل نہیں کرتے اور صرف گفتار کے غازی بن کر رہ جاتے ہیں ۔۔۔ :roll:
اقتباس(July 21, 2008 2:44 pm )
شکریہ ماوراء۔
اقتباسسارہ! یہی تو مسئلہ ہے نا، اکثریت صرف باتوں تک محدود رہتی ہے۔ خیر، آپ دعا کیجئے گا، میرا ارادہ عملی طور پر بھی بہت کچھ کرنے کا ہے۔