کھری کھری سنانا
امی کہتی ہیں، تمہیں غصہ کچھ زیادہ ہی آنے لگا ہے۔۔۔ پر میرا خیال ہے کہ اب اظہار زیادہ ہونے لگا ہے۔ غلط بات ہوتے دیکھوں تو مجھ سے خاموش نہیں رہا جاتا، عجب بے چینی شروع ہوجاتی ہے اور جب تک اپنے دل کی بھڑاس نہ نکالوں، قرار نہیں آتا۔۔۔ ابھی پرسوں، سنیچر کی شام کا قصہ ہی سنئے۔
دفتر سے گھر واپسی پر جس بس میں سوار ہوا، اس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر انتہائی گنوار اور جاہل تھے۔ مسافروں، خاص کر خواتین کو اتارنے میں ایسی بے صبری کا مظاہرہ کررہے تھے اور ساتھ ساتھ انتہائی بکواس بھی کہ جلدی سے اترو نا، وقت کیوں ضائع کررہی ہو، اب کسی خاتون کو سوار نہیں کروں گا گاڑی میں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اور ان کو اترنے ہی نہ دیں نا۔۔۔ فورا سے گاڑی چلادیں۔۔۔ میں بڑی مشکل سے برداشت کئے بیٹھا رہا۔ پھر سخی حسن چورنگی سے کچھ پہلے ڈرائیور فضول میں گاڑی روک کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ تب میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا بلکہ چھلکنے لگا۔
پہلے تو میں نے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ڈرائیور کو آواز لگائی پر اس پر اثر نہیں ہوا۔ تب میں نے اپنے آس پاس دیکھا، ایک بندہ کھڑا تھا قریب ہی کہ بس بھری ہوئی تھی۔ میں کھڑا ہوا اور اس کو کہا کہ بیٹھ جاؤ اس سیٹ پر۔۔۔ پھر میں نے کھڑے ہوکر ڈرائیور کو کھری کھری سنائیں کہ مسافروں کو اتارتے ہوئے تو تمہیں موت آرہی تھی اور یہاں جاہلوں کی طرح کھڑے ہوکر جو وقت ضائع کررہے تو شرم نہیں آتی تمہیں، بے غیرتو! :wink: اس پر آگے پیچھے سے سب نے مجھے گھورا۔
میں دیکھنے میں کافی شریف لگتا ہوں (یا شاید مجھے ایسی خوش فہمی ہے :smile:) لہذا میں نے اپنی شرافت کو چھپانے کے لیے اپنی آستینوں کے بٹن کھولے اور ان کو ذرا سا اوپر کرلیا۔۔۔ گریبان کے بٹن بھی اوپر تک لگے تھے، اس میں سے بھی ایک کھول لیا۔۔۔
ڈرائیور نے شیشے میں پیچھے کی طرف دیکھا اور بڑبڑا کر خاموش ہوگیا۔۔۔ پھر خود ہی آہستہ آہستہ گاڑی چلانا شروع کردی۔
سنانے کو تو میں نے اور بھی سوچا تھا بہت لیکن بڑی مشکل سے ضبط کیے رکھا کیونکہ اس پر کنڈیکٹر ہاتھا پائی پر بھی اتر سکتا تھا اور مجھے ایسا مذاق بالکل پسند نہیں ہے۔ :wink:
اصل میں غلطی ہماری بھی ہے۔ ہم نے ڈرائیوری کے پیشہ کو شجر ممنوعہ کی حیثیت دی ہے اور اسے جاہلوں، ان پڑھوں کے حوالہ کردیا ہے۔۔۔ اب خمیازہ تو بھگتنا ہی ہے نا۔۔۔ خیر، زبان تو کھولنی چاہئے ایسی بے حسی پر۔ اب لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تمہارے بولنے سے کیا فرق پڑے گا، ڈھیٹ لوگ ہیں، جاہل ہیں، گنوار ہیں۔۔۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں؟ وہ جتنے بھی جاہل ہوں، اگر ہم حق بات کے لیے صدا بلند نہیں کرتے تو ہم پڑھے لکھے جاہل ہوئے۔ اور اگر چند لوگوں میں بھی یہ شعور بیدار ہوجائے اور وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے لگیں تو سامنے والا چاہے طاقتور ہو یا گنوار، وہ ایک دن ہماری بات ماننے پر مجبور ہوجائے گا۔ (ان شاء اللہ)
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
July 14, 2008 بوقت 6:18 pm
پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کا غصہ کم ہو جائے گا ذرا شادی ہو جانے دیں۔
دوسری بات اب معاشرہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ ایک آدھ آدمی کے کہنے سننے سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ ہاں اگر ہمارے صاحب اقتدار چاہیں تو وہ اسے بدل سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کراچی میںایم کیو ایم والے اور ان کے بھائی الطاف اس بارے میںبہت کچھ کر سکتے ہیں اگر ان کی نیت ٹھیک ہو تو۔
July 14, 2008 بوقت 7:05 pm
محترم ۔ ڈرائیوروں کے منہ نہ لگیئے یہ عام طور پر پینے والے ہوتے ہیں ۔ اسلئے بکواس کرتے ہیں
July 14, 2008 بوقت 9:33 pm
اجمل چچا نے صحیح کہا ہے۔ دھیان رکھنا۔۔ ایسا نہ ہو کہ ایک دن ڈرائیور بھی آستینوں کے بٹن کھول کے اوپر چڑھا لیں۔ پھر باقی سارے دبک کر بیٹھ جائیں اور تمھیں اکیلا لڑنا پڑے۔
—-
کیونکہ اس پر کنڈیکٹر ہاتھا پائی پر بھی اتر سکتا تھا اور مجھے ایسا مذاق بالکل پسند نہیں ہے۔
—-
:lol: :mrgreen:
July 15, 2008 بوقت 5:19 am
لاہور میں ایسا بہت کم ہوتا ہے اور ویسے بھی وہاں اکثر لوگ چپ نہیں رہتے بلکہ پوری پوری ویگن کنڈیکٹر پر برس رہی ہوتی ہے۔ پھر اکثر اوقات ڈرائیور بھی کنڈیکٹر کو ڈانٹ دیتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے لیکن ہوتا ہے پر لوگ چپ نہیں رہتے۔
July 18, 2008 بوقت 12:28 am
میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک ڈرائیور کو پٹتے دیکھا ، کیا منظر تھا اب بھی یاد آتا ہے تو :lol: ڈرائیور کے برابر میں انجن والی سیٹ پر ایک خاتون آ کے بیٹھی وہ شائد رشتے دار تھی ڈرائیور کی کچھ تھوڑی بہت بات ہوئی دونوں میں پھر اچانک پتہ نہیں کیا ہوا ایک زور دار تھپڑ کی آواز آئی :lol: کیا آواز تھی
ڈرائیور تو اُسی وقت گاڑی روک کے اُتر گیا شائد شرمندگی سے
ویسے مزہ بہت آیا تھا :lol:
اور اُس سے 10 روپے زبردستی لیئے تھے، اُس کے بعد امّی سے بہت ساری ڈانٹ بھی کھائی تھی 
میں نے ایک بار ایک ٹیکسی ڈرائیور کو سنائی تھی، میں اور امّی کہیں سے آ رہے تھے اُس ٹیکسی والے نے ایک اسٹاپ پہلے اُتار دیا کہ نہیں آپ نے یہیں تک کا کہا تھا ، میں نے کہا لاؤ 10 روپے واپس کرو میرے تو میں اُتروں گی ٹیکسی سے
July 18, 2008 بوقت 11:13 am
میرے خیال میں تو آپ نے بہت ٹھیک کیا ہے۔۔۔ پر کسی دن کنڈیکڑ اور ڈرائیور بھی غصے والے مل گئے تو آپ کا کام تمام کر سکتے ہیں کیونکہ آپ نے خود ہی لکھا ھے کہ آپ کو ہاتہا پائی پسند نہیں ہے پر ڈرائیورز کو بہت پسند ہوتا یہ سب۔۔۔۔احتیاط برتئے اگلی دفعہ۔
July 18, 2008 بوقت 2:33 pm
افضل صاحب! نیت ہی کا تو مسئلہ ہے سارا۔۔۔ خیر، غصہ شادی کے بعد کم ہوجانا ہے؟ مجھے تو لگتا ہے، اور ہی بڑھ جائے گا۔ :mrgreen:

اجمل چچا! پبلک ٹرانسپورٹ والوں نے عموما پی نہیں ہوتی۔ بڑے روٹ کی گاڑیوں والے پیتے ہیں۔
ماوراء۔۔۔۔۔
بدتمیز! لاہور میں تو ایسا کچھ ہوتا ہے؟ میرا تو نہیں خیال :wink:
حجاب! ویری گڈ۔۔۔ ویسے محفل پر آپ کے انٹرویو کا دھاگا دیکھا میں نے آج بھی۔۔۔ اب پتا چل رہا ہے کہ کافی لڑاکا ہیں
شکریہ اک اجنبی۔۔۔ پر ایسی احتیاط کرنا بڑا مشکل ہے۔ :cool:
July 18, 2008 بوقت 10:38 pm
راہبر ، انٹرویو پڑھنے کے بعد میں لڑاکا لگ رہی ہوں کیا
ویسے میں لڑاکا نہیں ہوں ، زیادہ سے زیادہ 10 منٹ لڑ سکتی ہوں ، اس 10 منٹ میں بھی 6 منٹ کے بعد سے موٹے موٹے آنسو ٹپکنے کو تیار ہوتے ہیں :lol: ہاں سچ بولنے کی وجہ سے بدتمیزاور منہ پھٹ ضرور مشہور ہوں :sad: