آرزوئے وصال مت کیجے
طویل وقفہ کے بعد آمد ہوئی تو ایک غزل کہی۔۔۔ اردو محفل پر اصلاح کے لیے پیش کی تو اعجاز عبید صاحب نے اصلاح دی۔ آپ بھی پڑھئے۔
آرزوئے وصال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
جو اسے لاجواب کر ڈالے
کوئی ایسا سوال مت کیجے
اس کے وعدے تمام جھوٹے ہیں
اس طرح دل نہال مت کیجے
دل تو آخر رقیب ہی ٹھہرا
اس سے کچھ بول چال مت کیجے
کیوں پریشاں ہیں، چھوڑیے عمار
اپنا جینا محال مت کیجے
تبصرے
6 تبصرے برائے ”آرزوئے وصال مت کیجے“
اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
وضاحت:
ممکن ہے کہ کسی بھی تحریر پر کیا جانے والا تبصرہ منظوری کے بعد شائع ہوتا ہو۔ اس لیے اپنا تبصرہ ایک بار بھیجنے کے بعد دوبارہ بھیجنے کی زحمت نہ کریں۔
اگر آپ کے ویب براؤزر میں جاوا اسکرپٹ فعال ہے تو آپ درج ذیل خانوں میں براہ راست اردو لکھ سکتے ہیں۔ اردو کو بحیثیت قومی زبان فروغ دیں۔
بامر مجبوری انگریزی لکھنے کے لیے Ctrl + Spacebar دبائیں۔
ماوراء! زیادہ پڑھ لیا تھا کیا جو سر میں...
(July 13, 2008 12:39 am )
اسلام علیکم
اقتباسعمار بھائی
بہت لاجواب :lol:
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
یہ مصرعہ مجھے کچھ سنا ہوا سا لگ رہا ہے
شکریہ
(July 14, 2008 5:11 pm )
وعلیکم السلام شعیب۔۔۔ بہت شکریہ پسند کرنے کا۔
اقتباس(July 15, 2008 4:31 pm )
السلام علیکم
جو اسے لاجواب کر ڈالے
کوئی ایسا سوال مت کیجئے
بہت خوب عمار!
اقتباسبہت اچھا لکھتے ہو آپ۔ ماشاءاللہ
(July 23, 2008 4:39 pm )
وعلیکم السلام ورچوئل رئیلٹی!
اقتباسکافی عرصہ بعد میرے بلاگ پر آپ کی آمد ہوئی اس لیے ایک بار پھر سے پرجوش خوش آمدید۔۔۔ اور غزل پسند کرنے کا بے حد شکریہ۔
(July 26, 2008 4:45 pm )
sweet poetry. ammu tum to ache khase shaier hogae
اقتباس(July 28, 2008 9:35 am )
شکریہ میم۔۔۔ تمہیں کیسے خیال آگیا میرے بلاگ کا؟
اقتباس