عادات اور نرم بستر
کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ہماری فلاں عادت کبھی چھوٹ نہیں سکتی یا ہم فلاں چیز کے بغیر رہ نہیں سکتے کیونکہ اس چیز کے پاس ہوتے ہوئے اس چیز کی غیر موجودگی کا سوچنا اکثر اوقات مشکل ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، بہت سی عادات چھوٹ جاتی ہیں بلکہ کبھی تو اس کی متضاد عادت اپنالی جاتی ہے۔
کچھ سالوں تک مجھے نرم بستر پر سونے کی عادت تھی۔ اگر میں زمین پر لیٹا کرتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ میری کمر کی ہڈی میں تکلیف ہو رہی ہے اور وہ زمین سے لگ رہی ہے۔ اس لیے یا تو میں گدا بچھایا کرتا یا فوم والے پلنگ پر لیٹتا۔ پھر بعد میں ہم نے جگہ کی تنگی کے باعث پلنگ بیچ دیا، آہستہ آہستہ گدے کی عادت بھی ختم ہوگئی اور زمین ہی پر سونے لگا۔
گذشتہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب میں اپنی خالہ کی گھر ٹھہرا تھا۔ وہاں جب سونے لگا تو انتہائی نرم پلنگ تھا۔ میں اس پر لیٹ کر اتنا بے چین رہا کہ بیان نہیں۔ حالانکہ میں امتحانات کی وجہ سے کافی جاگا ہوا تھا اور نیند کے مارے آنکھوں میں بے حد جلن تھی لیکن اس نرم بستر کی وجہ سے ایک گھنٹے تک میں کروٹ ہی بدلتا رہا اور سمجھ نہیں آیا کہ کیسے سوؤں اس پر۔۔۔
پھر کوئی ساڑھے چار بجے کے قریب میری آنکھ لگی۔۔۔ تو اس رات کروٹ بدلتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا کہ کہاں نرم بستر کی اتنی عادت تھی کہ اس کے بغیر سونا مشکل تھا اور اب زمین پر لیٹنے کی ایسی عادت پڑی ہے کہ نرم بستر پر سونا عذاب ہوگیا۔
تبصرے
7 تبصرے برائے ”عادات اور نرم بستر“
اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
وضاحت:
ممکن ہے کہ کسی بھی تحریر پر کیا جانے والا تبصرہ منظوری کے بعد شائع ہوتا ہو۔ اس لیے اپنا تبصرہ ایک بار بھیجنے کے بعد دوبارہ بھیجنے کی زحمت نہ کریں۔
اگر آپ کے ویب براؤزر میں جاوا اسکرپٹ فعال ہے تو آپ درج ذیل خانوں میں براہ راست اردو لکھ سکتے ہیں۔ اردو کو بحیثیت قومی زبان فروغ دیں۔
بامر مجبوری انگریزی لکھنے کے لیے Ctrl + Spacebar دبائیں۔
ماوراء! زیادہ پڑھ لیا تھا کیا جو سر میں...
(July 4, 2008 6:44 pm )
بھای شادی کر لو
اقتباس(July 6, 2008 8:57 am )
پچھلے چوبیس گھنٹے سے جب میں اُردو سیّارہ کھولنے کی کوشش کرتا ہوں تو یہ پیغام ملتا ہے
اقتباسForbidden
You don’t have permission to access /planet/ on this server
(July 6, 2008 3:14 pm )
بالکل اسی طرح کی دشواری سے آج کل میںگذر رہا ہوں۔ یعنی گھر میں تو فرشی بستر پر سونے کی عادت تھی لیکن اب پردیس میں نرم بستر اور گداز تکیے پر بے چینی رہتی ہے۔ ماموں صاحب کا شادی والا مشورہ بھی اچھا ہے اس صورت میں بیگم کے خوف سے نیند خود بخود آجائے گی نہیں بھی آئ تو کم از کم بے چینی جیسی “معمولی شکایت” زبان پر نہیں آئے گی، بے گم کے خوف سے۔ یہ میں اپنے متعلق ہرگز نہیں کہہ رہا
اقتباس(July 7, 2008 12:46 pm )
ماموں! مشورہ تو آپ کا خوب ہے۔ پر میں سوچ رہا ہوں کہ آپ ماموں ہیں کونسے؟ میرے خاندان میں تو ایک ہی ماموں ہیں جن کا نیٹ سے واسطہ نہیں۔۔۔ کہیں آپ میرے سسرالی ماموں تو نہیں جو مجھے جلد از جلد شادی کے محاذ پر بھیجنا چاہتے ہوں
اقتباسویسے آپ کہیں جائیے گا نہیں کیونکہ مجھے کسی نے مشورہ دیا ہے، ماموں کو جانے نہ دینا، عید پر فائدہ حاصل ہوگا۔ :wink:
اجمل چچا! اردو سیارہ میں کوئی پرابلم آگئی تھی، اب چل رہا ہے۔
خاور بھائی! بڑے ہونے کے ناطے آپ کا فرض بنتا ہے کہ یہ تجربہ پہلے آپ کریں، کامیابی ہوئی تو میں بھی ضرور پیروی کروں گا۔ :mrgreen:
(July 9, 2008 9:34 am )
راہبر بھائی! خاور صاحب کا تجربہ ناکام ہو یا کامیاب، پیروی تو آپ نے ہر حال میں کرنی ہے :wink:
اقتباس(July 14, 2008 1:12 pm )
آپ غلط وقت پر خالہ کے ہاں چلے گئے اور میں آپ سے ملاقات کے شرف سے محروم رہا۔ امید ہے کہ خالہ کے گھر کا چکر جلد ہی دوبارہ لگے گا اور ہمیں آپ کی میزبانی کی سعادت نصیب ہوگی۔
اقتباس(July 14, 2008 4:45 pm )
جی ہاں، بہت جلد دوبارہ چکر لگے گا۔۔۔ یعنی تین چار مہینوں میں
اقتباس