بارش کی رم جھم

200 views July 30, 2008 | راہبر
No Gravatar

اور آخرکار کل ابرِ کرم برس ہی گیا۔ آرزو پایہ تکمیل تک پہنچی۔ کل دوپہر دفتر میں ہی امی کا ٹیکسٹ آیا کہ تیز بارش ہورہی ہے حالانکہ ہمارے ہاں تیز دھوپ تھی۔ شام کو جب گھر کے لیے نکلا تب تک بارش کے آثار نہیں تھے۔ راستہ بھی سوکھا پڑا تھا، ناظم آباد سات نمبر کے اوورہیڈ برج سے پہلے تک سب کچھ خشک تھا اور برج کے دوسری جانب بارش ہورہی تھی، سڑکیں گیلی ہی نہیں تھیں، پانی بھی کافی کھڑا ہوا تھا اور جیسے جیسے شمال کی طرف آگے بڑھتے گئے، اندازہ ہوتا گیا کہ یہاں اچھی خاصی بارش ہوچکی ہے۔ پھر پتا چلا کہ شہر کے مرکز میں شام کے وقت بارش برسنا شروع ہوئی تھی۔

گھر پہنچا تو دروازے پر ہی روک لیا گیا۔ پتا چلا کہ خواتین کا میلاد رکھا گیا تھا اور روکنے کی وجہ ہمارے سسرال کا مع ہماری منگیتر صاحبہ کے موجود ہونا تھا۔ حکم ہوا کہ چہرہ ادھر ادھر گھمائے بغیر سیدھا اپنے کمرے کا رخ کرو۔ حکم کی تعمیل کی۔ :razz:

جب تک وہ موصوفہ گھر میں موجود رہیں، ہماری سرگرمیاں انتہائی محدود رہیں لیکن گھر سے باہر نکلنے کا جی بھی نہیں کیا حالانکہ تیز بارش ہورہی تھی اور مجھ سے بارش میں نہائے بِنا رہا نہیں جاتا۔ بس گیلری میں کھڑا رومانوی موسم سے لطف اندوز ہوتا رہا۔۔۔ بے وقوفی ہی کی۔ باہر نکل کر انجوائے کرتا تو ہی بہتر تھا، گھر میں رہنے کا فائدہ کیا ہوا جب ایک جھلک بھی دیکھ نہ سکا۔ :sad:

رات گیارہ/ بارہ بجے تک بارش تھم گئی تھی۔ آج دن میں تو اچھی خاصی دھوپ ہی تھی لیکن ابھی چار بجے کے بعد بادل گِھر آئے ہیں۔ مجھے ابھی کچھ کام ہے ورنہ میرے ذہن میں موسم کی مناسبت سے ایک دو گیت کلبلارہے ہیں۔۔۔ :smile: چلیں، آپ اپنے طور مزہ لیں۔۔۔ میں بعد میں لکھتا ہوں۔

اردو نسخ پنک

228 views July 29, 2008 | راہبر
No Gravatar

نام کچھ عجیب سا لگ رہا ہے کیا؟ خیر میں نے تو ورڈ پریس سانچہ کی مناسبت سے رکھ دیا ہے۔ یہ ایک اور ورڈ پریس سانچہ ہے جسے میں نے اردو تاہوما گرین کی بنیاد پر ہی تیار کیا ہے تاہم اس میں کی جانے والی تبدیلیوں کے باعث یہ پچھلے سے زیادہ اچھا ہے۔ اس کا مرکزی خطِ تحریر نفیس ویب نسخ ہے، اردو اوپن پیڈ انٹیگر ہے، رنگ گلابی ہے اور سائیڈ بار کے بٹنز بہت خوبصورت ہیں۔ اب یہ بنائے کیسے ہیں، ابھی نہیں بتارہا۔ :razz:

اردو نسخ پنک ڈاؤنلوڈ کریں۔

اردو تاہوما گرین

139 views July 29, 2008 | راہبر
No Gravatar

ورڈ پریس کے سانچے اردو میں ڈھالنے کا کام میں نے محب علوی کے کہنے پر شروع کیا تھا اور اس سے بھی پہلے شاکر عزیز کے لکھے اسباق نے اس طرف راغب کیا تھا۔ اب تک کوئی پندرہ سے زائد سانچوں کو اردو قالب میں ڈھال چکا تھا لیکن وہ مجھ سے ضائع ہوگئے۔ :razz: خیر، ابھی مجھے دوبارہ ایک جگہ ویب سائٹ پر نظر آئے ہیں۔۔۔ محفوظ کرتا ہوں ان کو۔
بہرحال، چند سانچوں پر کام کرنے کے بعد میرے دماغ پر یہ بھوت سوار ہوگیا کہ دوسروں کی تھیمز پر کام کرنے کے بجائے خود اپنی تھیم بنانے کی کوشش کی جائے۔ اب سے پہلے میں نے ایک سانچہ “نیوز پورٹل” کو ترتیب دیا تھا لیکن وہ بھی کہیں کھوگیا۔ :wink: میں کچھ زیادہ ہی لاپرواہ ثابت ہوا اس معاملہ میں۔ خیر اب کے احتیاط کررہا ہوں۔
میں نے پچھلے دنوں ایک ویب ٹیمپلیٹ کی بنیاد پر ورڈ پریس کا سانچہ بنایا ہے۔ ویب ٹیمپلیٹ کی مدد بس برائے نام ہی ہے۔ زیادہ تر کام میرا اپنا ہی کیا ہوا ہے۔ ملاحظہ کریں ایک سادہ سا ورڈ پریس اردو سانچہ، “اردو تاہوما گرین”۔

تھیم میں اردو پیڈ انٹیگر ہے، مرکزی خط تاہوما رکھا ہے۔ ابھی میں چونکہ ماہر نہیں ہوا ہوں اس لیے تھیم کی سائیڈ بار میں ویجٹس کی سپورٹ نہیں ہے۔
اردو تاہوما گرین ڈاؤنلوڈ کریں

پانی تو برساؤ

204 views July 26, 2008 | راہبر
No Gravatar

آج کل کراچی کا موسم ایسا ہے کہ یہاں رہنے والوں کی اکثریت بارش کو ترس رہی ہے۔ دن بھر گہرے بادل چھائے رہتے ہیں، موسم رومانوی رہتا ہے لیکن ابر برستا نہیں ہے۔ شب نے اپنے بلاگ پر عاشقانہ موسم کا ذکر کیا تو ہے :razz: پر اس میں ایک گیت شامل ہونے سے رہ گیا ہے۔ اسے میں لکھ دیتا ہوں۔ :smile: کراچی والوں کے دل کی آواز:
مزید پڑھیں »

ویسٹ سائیڈ اسٹوری

207 views July 25, 2008 | راہبر
No Gravatar

گزشتہ اتوار کو شام میں ٹی۔وی کھولے چینل گردی کے دوران انگریزی فلمی ٹی وی چینل MGM پر چلتی ایک مووی کچھ دلچسپ لگی تو دیکھنے بیٹھ گیا۔ نام وغیرہ تو پتا ہی نہیں چلا کہ فلم کافی گزر چکی تھی۔ ایک گیت پسند آیا تو اس کے کچھ جملے میں نے جلدی جلدی اپنے سیل فون میں لکھ کر محفوظ کرلیے کہ نیٹ پر سرچ کروں گا۔ ہیروئن کا نام تھا ماریہ اور اسی پر وہ گیت تھا کہ I just met a girl named Maria۔ اب جو میں نے گوگل کیا تو اتنے سارے آرٹیکلز اور بلاگز سامنے آگئے۔ ایسا لگتا تھا جیسے آدھی دنیا ماریہ سے ملی ہو اور اس پر کچھ لکھ ڈالا ہو کہ میں ایک ایسی لڑکی سے ملا جس کا نام ماریہ تھا۔ خیر، ایک جگہ لیرکس ملیں تو فلم کا نام پتا چلا۔ “West Side Story“۔
مزید پڑھیں »

قائد کو سلیوٹ

187 views July 18, 2008 | راہبر
No Gravatar

میرا دماغ بھی عجیب ہے۔۔۔ اچھوتی اچھوتی باتوں کا سوچتا ہے اور پھر اس کے بعد اپنے ہی آپ کو چیلنج کہ میں یہ کرسکتا ہوں یا نہیں؟ “نہیں” کیسے کہوں، جواب “ہاں” ہی میں ہوتا ہے اور پھر ثبوت۔۔۔!!!

میرے دفتر سے کچھ فاصلہ ہی پر مزارِ قائد ہے۔۔۔ عظیم رہنما، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تربت۔ گھر سے دفتر آنے اور دفتر سے گھر جانے کے دوران عموما اس کے سامنے ہی سے گزرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے دماغ پر ایک خیال سوار ہوگیا کہ میں نے گزرتے ہوئے قائد کو سلیوٹ کرنا ہے۔۔۔ اب آپ خود سوچیں، عین سڑک پر گزرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا کوئی بندہ سلیوٹ مارتا کیسا لگے گا۔۔۔؟ کافی دن ٹالتا رہا۔۔۔ اب نہ کروں تو اندر سے آواز آتی، “اچھا تو قائد سے تمہاری محبت ایسی ہے کہ لوگوں کا خیال کرکے تم ایک سلیوٹ نہیں کرسکتے۔” کئی ایک بار سر تک ہاتھ اٹھایا بھی مگر۔۔۔۔ :razz:

لیکن کل میں کامیاب ہوگیا۔۔۔ رات کو ابو کے ساتھ جارہا تھا بائیک پر۔۔۔ جیسے ہی مزارِ قائد آیا، وہی خیال پھر سے کود پڑا اور میں نے اپنے قائد کو محبت بھرا سلام کیا۔۔۔۔ :smile: اب سکون ہے۔

ہمارا معاشرہ اور وقت کی ضرورت

187 views July 18, 2008 | راہبر
No Gravatar

اردو محفل پر ایک موضوع پاکستانی معاشرہ کی تعریف کیجئے پر گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے میں نے بھی اپنے مبارک خیالات کا اظہار فرمایا۔ :razz: بیاض کے قارئین کے استفادے کے لیے پیش کرتا ہوں۔

ہر معاشرہ اور قوم میں خوبیاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں۔ اب اگر ہماری خامیاں بڑھ گئی ہیں تو اب کیا ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم دور بیٹھ کر تنقید کرتے رہیں؟ ایک لوگ وہ ہوتے ہیں جو صرف تنقید کرنے تک محدود رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو تنقید کے بعد ایک قدم آگے بڑھ کر اصلاح کا فرض بھی نبھاتے ہیں۔ ہاں، ہمارے معاشرہ کی خامیاں کافی بڑھ گئی ہیں۔

یقینا
۔۔۔۔۔ ہم لوگ فرقہ واریت، لسانی اور علاقائی تعصبات میں گھرے ہیں،
۔۔۔۔۔ ہم لوگ غیر قانونی اور غیر اخلاقی کاموں میں پھنسے ہیں،
۔۔۔۔۔ ہم اخلاقی، معاشرتی اور سماجی لحاظ سے پستی کا شکار ہیں،

لیکن
۔۔۔۔۔ یہی معاشرہ ہے جو ہمدردی کا احساس بھی رکھتا ہے،
۔۔۔۔۔ یہی قوم ہے جس میں ایک دوسرے کی پرواہ کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں،
۔۔۔۔۔ یہی لوگ ہیں جن کی اکثریت امن پسند ہے اور “جیو اور جینے دو” کے اصول پر جینا چاہتی ہے،

پھر
۔۔۔۔۔ اس معاشرہ کے لوگ متشدد کیوں ہیں؟
۔۔۔۔۔ یہ معاشرہ بے حس کیوں ہوتا جارہا ہے؟
۔۔۔۔۔ ہمارا معاشرہ بگاڑ کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے؟

اس لیے کہ
۔۔۔۔۔ اسلام کے نام پر کی جانے والی تربیت یہاں کے لوگوں کو گمراہ اور انتہاپسند بنارہی ہے،
۔۔۔۔۔ قانونی حق کا حصول دشوار اور غیرقانونی کام آسان ہوگیا ہے،
۔۔۔۔۔ یہاں یہ اصول رواج پارہا ہے کہ مجھے کھانے کو مل گیا تو سمجھو سب کو کھانے کو مل گیا اور مجھے نہیں ملتا تو تجھے کیوں ملا؟

اس معاشرہ کی ضرورت
یہ صرف تین، تین نکات ہی نہیں۔۔۔ اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔ یہ صرف مسئلہ کی طرف اشارہ کے لیے ہیں۔ خرم بھائی سوچتے ہیں کہ پاکستان آکر اس ملک کے لیے کچھ کرنا چاہیں تو کچھ نتیجہ نکلے گا بھی یا نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق؟ صحیح سوچتے ہیں بالکل۔ کچھ لوگ ایسے بھی سوچتے ہیں کہ یہ قوم سدھرنے والی نہیں، بھاڑ میں جائے، اپنا جیو۔ شاید وہ بھی اپنی جگہ صحیح سوچتے ہوں۔ لیکن اس قوم کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے۔۔۔ اچھے راہنماؤں کی۔۔۔ یقین جانئے، اس قوم کو، اس معاشرہ کو اگر اچھے راہنما اور مصلح میسر آجائیں نا تو ہم جو دور بیٹھ کر انگلیاں اٹھاتے ہیں، کل کو خوبیاں گنوائیں گے ان شاء اللہ۔

تنقید آسان، اصلاح مشکل
آج اگر میں اٹھ کر یہ کہتا ہوں کہ میں اس قوم کی اصلاح کے لیے آواز اٹھاتا ہوں، حق بات کہوں گا تو جانتے ہیں، یہاں ایک بندہ شاید مری مری آواز میں میرا حوصلہ بڑھاتا ہے اور نو بندے یہ کہتے ہیں کہ پاگل ہوا ہے۔ لیکن اگر میں اس معاشرہ کی کسی خامی پر تنقید کے لیے ایک جملہ کہوں گا نا تو جواب میں دس آوازیں نہ صرف میری تائید کریں گی بلکہ تنقید کی گولہ باری شروع ہوجائے گی۔ یعنی ہمیں گالیاں دینے کو بٹھادو، ڈنڈے مارنے کو بٹھادو تو یہ کام اچھا ہے لیکن ہم نے نہ سدھرنا ہے نہ کسی کو سدھرنے دینا ہے۔

ایک بڑا ماہر مصور تھا۔ اس نے ایک شاندار تصویر بنائی اور سرعام لٹکادی کہ اس کی غلطیاں بتائیں۔ بس، پھر تو لوگوں نے ڈھیر لگادیا۔۔۔ ہر جگہ نشانات کہ یہاں غلطی، یہاں غلطی۔۔۔ اس مصور نے ایک اور تصویر بنائی اور لکھا کہ اس میں کوئی غلطی ہو تو اصلاح کریں۔۔۔ کسی ایک نے بھی نہ چھیڑا۔

سبق؟؟؟ ہم اس معاشرہ کو گند بھی کہتے ہیں، کیچڑ بھی کہتے ہیں۔۔۔ تو صفائی کرنے کے لیے کیا آسمان سے کوئی آئے گا؟ ہم ہی نے کرنی ہے نا۔۔۔ یہ نہ دیکھیں کہ ابھی آپ کا ساتھ کون دے رہا ہے۔۔۔ پہلا قدم اٹھائیں۔۔۔ ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
لیکن اپنے آپ کو اس قوم اور معاشرہ کا ہمدرد کہنے والو۔۔۔ ذرا آگے آؤ تو سہی۔۔۔ اس قوم کو اپنے دل کی آواز سناؤ تو سہی۔۔۔ یہ لوگ جو لٹیروں کے بڑے بڑے جرائم تین سالوں میں بھول بھال کر ان کے نعرے مارنے لگتے ہیں، کیا تمہیں نہیں اپنائیں گے؟ بالکل ابتداء سے شروع کرتے ہیں۔۔۔ اس معاشرہ کی خامیوں، غلطیوں اور بگاڑ کی اصلاح کا عمل۔۔۔ یہ طے کیے بنا کہ آگے کیا ہونا ہے یا انجام کیا ہوگا؟ صرف پہلے قدم پر توجہ رکھیں۔۔۔ اور پہلے قدم کے بعد اگلے قدم کی طرف۔۔۔ بھول جائیں کہ دس قدم کے بعد کیا ہونا ہے۔۔۔ کیونکہ دس قدم کے بعد والی باتیں ابھی سے سوچیں گے نا تو بس سوچتے ہی رہیں گے۔۔۔ بہت سوچ چکے ہیں۔۔۔ بہت سوچکے ہیں۔۔۔ بہت کھوچکے ہیں۔۔۔ خواب کافی دیکھ لیے۔۔۔۔
اٹھ! باندھ کمر، کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

فقط
ایک محب الوطن

کھری کھری سنانا

188 views July 14, 2008 | راہبر
No Gravatar

امی کہتی ہیں، تمہیں غصہ کچھ زیادہ ہی آنے لگا ہے۔۔۔ پر میرا خیال ہے کہ اب اظہار زیادہ ہونے لگا ہے۔ غلط بات ہوتے دیکھوں تو مجھ سے خاموش نہیں رہا جاتا، عجب بے چینی شروع ہوجاتی ہے اور جب تک اپنے دل کی بھڑاس نہ نکالوں، قرار نہیں آتا۔۔۔ ابھی پرسوں، سنیچر کی شام کا قصہ ہی سنئے۔

دفتر سے گھر واپسی پر جس بس میں سوار ہوا، اس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر انتہائی گنوار اور جاہل تھے۔ مسافروں، خاص کر خواتین کو اتارنے میں ایسی بے صبری کا مظاہرہ کررہے تھے اور ساتھ ساتھ انتہائی بکواس بھی کہ جلدی سے اترو نا، وقت کیوں ضائع کررہی ہو، اب کسی خاتون کو سوار نہیں کروں گا گاڑی میں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اور ان کو اترنے ہی نہ دیں نا۔۔۔ فورا سے گاڑی چلادیں۔۔۔ میں بڑی مشکل سے برداشت کئے بیٹھا رہا۔ پھر سخی حسن چورنگی سے کچھ پہلے ڈرائیور فضول میں گاڑی روک کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ تب میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا بلکہ چھلکنے لگا۔ :razz:

پہلے تو میں نے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ڈرائیور کو آواز لگائی پر اس پر اثر نہیں ہوا۔ تب میں نے اپنے آس پاس دیکھا، ایک بندہ کھڑا تھا قریب ہی کہ بس بھری ہوئی تھی۔ میں کھڑا ہوا اور اس کو کہا کہ بیٹھ جاؤ اس سیٹ پر۔۔۔ پھر میں نے کھڑے ہوکر ڈرائیور کو کھری کھری سنائیں کہ مسافروں کو اتارتے ہوئے تو تمہیں موت آرہی تھی اور یہاں جاہلوں کی طرح کھڑے ہوکر جو وقت ضائع کررہے تو شرم نہیں آتی تمہیں، بے غیرتو! :wink: اس پر آگے پیچھے سے سب نے مجھے گھورا۔

میں دیکھنے میں کافی شریف لگتا ہوں (یا شاید مجھے ایسی خوش فہمی ہے :smile:) لہذا میں نے اپنی شرافت کو چھپانے کے لیے اپنی آستینوں کے بٹن کھولے اور ان کو ذرا سا اوپر کرلیا۔۔۔ گریبان کے بٹن بھی اوپر تک لگے تھے، اس میں سے بھی ایک کھول لیا۔۔۔ :razz: ڈرائیور نے شیشے میں پیچھے کی طرف دیکھا اور بڑبڑا کر خاموش ہوگیا۔۔۔ پھر خود ہی آہستہ آہستہ گاڑی چلانا شروع کردی۔

سنانے کو تو میں نے اور بھی سوچا تھا بہت لیکن بڑی مشکل سے ضبط کیے رکھا کیونکہ اس پر کنڈیکٹر ہاتھا پائی پر بھی اتر سکتا تھا اور مجھے ایسا مذاق بالکل پسند نہیں ہے۔ :wink:

اصل میں غلطی ہماری بھی ہے۔ ہم نے ڈرائیوری کے پیشہ کو شجر ممنوعہ کی حیثیت دی ہے اور اسے جاہلوں، ان پڑھوں کے حوالہ کردیا ہے۔۔۔ اب خمیازہ تو بھگتنا ہی ہے نا۔۔۔ خیر، زبان تو کھولنی چاہئے ایسی بے حسی پر۔ اب لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تمہارے بولنے سے کیا فرق پڑے گا، ڈھیٹ لوگ ہیں، جاہل ہیں، گنوار ہیں۔۔۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں؟ وہ جتنے بھی جاہل ہوں، اگر ہم حق بات کے لیے صدا بلند نہیں کرتے تو ہم پڑھے لکھے جاہل ہوئے۔ اور اگر چند لوگوں میں بھی یہ شعور بیدار ہوجائے اور وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے لگیں تو سامنے والا چاہے طاقتور ہو یا گنوار، وہ ایک دن ہماری بات ماننے پر مجبور ہوجائے گا۔ (ان شاء اللہ)

آرزوئے وصال مت کیجے

185 views July 10, 2008 | راہبر
No Gravatar

طویل وقفہ کے بعد آمد ہوئی تو ایک غزل کہی۔۔۔ اردو محفل پر اصلاح کے لیے پیش کی تو اعجاز عبید صاحب نے اصلاح دی۔ آپ بھی پڑھئے۔


آرزوئے وصال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے

میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے

جو اسے لاجواب کر ڈالے
کوئی ایسا سوال مت کیجے

اس کے وعدے تمام جھوٹے ہیں
اس طرح دل نہال مت کیجے

دل تو آخر رقیب ہی ٹھہرا
اس سے کچھ بول چال مت کیجے

کیوں پریشاں ہیں، چھوڑیے عمار
اپنا جینا محال مت کیجے

عادات اور نرم بستر

185 views July 4, 2008 | راہبر
No Gravatar

کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ہماری فلاں عادت کبھی چھوٹ نہیں سکتی یا ہم فلاں چیز کے بغیر رہ نہیں سکتے کیونکہ اس چیز کے پاس ہوتے ہوئے اس چیز کی غیر موجودگی کا سوچنا اکثر اوقات مشکل ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، بہت سی عادات چھوٹ جاتی ہیں بلکہ کبھی تو اس کی متضاد عادت اپنالی جاتی ہے۔

کچھ سالوں تک مجھے نرم بستر پر سونے کی عادت تھی۔ اگر میں زمین پر لیٹا کرتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ میری کمر کی ہڈی میں تکلیف ہو رہی ہے اور وہ زمین سے لگ رہی ہے۔ اس لیے یا تو میں گدا بچھایا کرتا یا فوم والے پلنگ پر لیٹتا۔ پھر بعد میں ہم نے جگہ کی تنگی کے باعث پلنگ بیچ دیا، آہستہ آہستہ گدے کی عادت بھی ختم ہوگئی اور زمین ہی پر سونے لگا۔

گذشتہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب میں اپنی خالہ کی گھر ٹھہرا تھا۔ وہاں جب سونے لگا تو انتہائی نرم پلنگ تھا۔ میں اس پر لیٹ کر اتنا بے چین رہا کہ بیان نہیں۔ حالانکہ میں امتحانات کی وجہ سے کافی جاگا ہوا تھا اور نیند کے مارے آنکھوں میں بے حد جلن تھی لیکن اس نرم بستر کی وجہ سے ایک گھنٹے تک میں کروٹ ہی بدلتا رہا اور سمجھ نہیں آیا کہ کیسے سوؤں اس پر۔۔۔

پھر کوئی ساڑھے چار بجے کے قریب میری آنکھ لگی۔۔۔ تو اس رات کروٹ بدلتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا کہ کہاں نرم بستر کی اتنی عادت تھی کہ اس کے بغیر سونا مشکل تھا اور اب زمین پر لیٹنے کی ایسی عادت پڑی ہے کہ نرم بستر پر سونا عذاب ہوگیا۔