وکیل صاحب
میں اس بات پر خدا کا بہت شکر ادا کرتا ہوں کہ اردو محفل پر آنے کے بعد مجھے بہت اچھے اچھے دوست اور ساتھی ملے۔ کافی دوستوں سے ملاقات کا تذکرہ تو میں پہلے اپنی کچھ تحاریر میں کرچکا ہوں لیکن ایک شخصیت پر لکھنے کا مجھ پر اب تک قرض تھا اور ایک عرصہ سے میری کوشش تھی کہ یہ قرض چکادوں۔ آج وقت ملا ہے اور وہ شخصیت ہے شعیب صفدر کی۔
دو ماہ پہلے تک میری شعیب صفدر سے زیادہ واقفیت نہ تھی۔ کبھی بھولے سے ان کے بلاگ پر چلا جاتا تھا، ورنہ کبھی کبھی یہ خود اردو محفل پر اپنا دیدار کروا جاتے تھے۔ آج کل ان کا بلاگ تجربات کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔ ایک دن قدیر کے بلاگ پر پڑھا کہ شعیب صفدر نے قدیر سے میرا موبائل نمبر لیا ہے۔ اسی دن انہوں نے فون پر رابطہ کیا اور پھر سلسلہ چل پڑا۔ اگلے دن ہماری ملاقات ہوئی، ان کی جانب سے لنچ کیا گیا۔ اس کے بعد مزید دو، ملاقاتیں ہوئیں۔
وکیل ہیں، شاید اسی لیے بہت حاضر جواب ہیں۔ پنجابی ہیں شاید اس لیے کافی سے زیادہ خوش مزاج ہیں۔ اچھے انسان ہیں شاید اس لیے صاف گو ہیں۔
آپ جتنے بھی سنجیدہ انسان ہیں، منہ بناکر بیٹھے ہوں، ان کے لب کھلیں گے تو ان کے ساتھ ساتھ آپ کے منہ سے بھی قہقہے جھڑیں گے۔ سنجیدہ باتوں میں مزاح کا پہلو نکالنا اور موقع کی مناسبت سے دلچسپ واقعات اور لطائف کو برجستہ بیان کرنا ان کی ایسی خوبی ہے جس نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے۔ ابتدائی ملاقات میں تو میں خاموش ہی ہوگیا تھا۔ یہ اتنا برجستہ کہتے تھے کہ کوئی جواب سمجھ ہی نہیں آتا تھا۔ بعد میں، میں نے سوچا کہ کہیں یہ نہ سمجھیں کہ میں بور ہوتا ہوں اس لیے میں نے زبردستی بولنا شروع کیا۔ اب باتیں کرلیتا ہوں۔ :wink:
ہر کچھ عرصہ بعد ایس۔ایم۔ایس یا فون کرکے حال چال پوچھتے ہیں، پھر مصروفیات کے بارے میں سوال ہوتا ہے۔ فرصت کا وقت ہو تو فورا ملنے کی پیشکش کرتے ہیں کہ شام میں کہیں مل بیٹھ کر کچھ کھاتے پیتے ہیں۔ چونکہ یہ اپنے بڑے ہونے کا حق جتاکر مجھے کوئی خرچہ نہیں کرنے دیتے، اس لیے مجھے تھوڑی سی شرمندگی بھی ہوتی ہے۔
ان سے بات کرنے بیٹھیں تو گھنٹہ گزرنے پر بھی لگتا ہے کہ کچھ ہی وقت ہی گزرا ہے۔ بہت اچھے انسان ہیں۔ اب میں زیادہ تعریفیں کروں گا تو کہیں گے کہ وہ خوبیاں بھی بیان کرڈالیں جو خود ان کے علم میں نہیں تھیں اس لیے اتنا ہی کافی ہے۔
شعیب صفدر کے بارے میں قدیر احمد کی تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
May 14, 2008 بوقت 3:34 pm
ہممممم
تزک نگارs last blog post..تلمبہ کا سفر
May 14, 2008 بوقت 7:59 pm
آپ نے اتنا کچھ لکھ کر قدیر صاہب کا ربط انے لکھے کو صفر کرنے کیلئ دیا ہے ؟
اجملs last blog post..موت اور اللہ کی مدد
May 15, 2008 بوقت 11:06 am
اجمل صاحب! مجھے اندازہ ہے کہ اگر میں نے خود ربط نہ دیا ہوتا تو تب بھی تزک نگار خود آکر یہ ربط لکھ جاتے۔۔۔ ان کو اپنی پبلسٹی کا بہت شوق ہے اس لیے میں نے ان کو عزت دیتے ہوئے خود ہی ربط شامل کردیا ہے تحریر میں۔
May 15, 2008 بوقت 3:53 pm
عمار بھائی بہت اچھا لکھا ہے آپ نے بہت پسند آیا کچھ لوگ ایسے ہوتے ہین جو ہر کسی کے دل مین جگہ بنا لیتے ہیں اور کچھ اتنے اچھے ہونے کے باوجود بھی کسی کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتے ہیں آپ کی یہ تحری پڑھ کر مزہ ایا بہت شکریہ اب قدر صاحب کی تحریر پڑھنے کو دل کر رہا ہے بہت شکریہ
May 15, 2008 بوقت 5:29 pm
شعیب بھائی بہت کمال کی شخصیت ہیں۔ خصوصا سیاسی معاملات پر ان کے تبصرے انتہائی بے لاگ اور کبھی کبھار مزاحیہ بھی ہوتے ہیں (میرا یہ خیال ایک ملاقات کی بنیاد پر ہے، اگر غلط ہو تو معذرت)۔ بہت خوب بولتے ہیں، خصوصا پنجابی کے الفاظ کا پیوند اردو میں شاندار طریقے سے لگاتے ہیں۔ خواہش ہے کہ اب ان سے دوسری ملاقات ہو۔
ابوشاملs last blog post..اوبنٹو 8.04 جائزہ