کیوں میاں۔۔۔ سب سمجھ گئے؟
ایک مولانا صاحب ہوا کرتے تھے جن کا تکیہ کلام تھا، “کیوں میاں؟ سب سمجھ گئے؟”۔ ہوا یوں کہ ایک دن مسجد انتظامیہ نے عصر کی نماز سے قبل اعلان کردیا کہ تمام نمازی حضرات نماز کے بعد تشریف رکھیں، مولانا صاحب وعظ فرمائیں گے۔ اب مولانا صاحب کا دل نہیں چاہتا تھا لیکن چونکہ اعلان ہوچکا تھا لہذا بعد از نماز منبر پر چڑھے۔۔۔ ابتدائی کلمات حمدیہ و نعتیہ کے بعد فرمایا۔۔۔ “کیوں میاں؟ سب سمجھ گئے” سب لوگوں نے صدا بلند کی کہ “جی جی۔۔۔ سمجھ گئے۔۔۔” تو انہوں نے فرمایا کہ “میاں جب آپ لوگ اتنے ہی سمجھدار ہیں کہ میرے سمجھائے بنا سمجھ گئے تو پھر میرے سمجھانے کی کیا ضرورت؟” اور یہ کہہ کر اٹھ پڑے۔
لوگوں نے بڑا افسوس کیا کہ یہ ہم نے کیسا جواب دیدیا کہ وعظ سننے سے محروم رہ گئے۔۔۔ طے ہوا کہ اگلی بار جب مولانا صاحب یہ پوچھیں کہ سب سمجھ گئے تو سب مل کر کہیں گے کہ نہیں، ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔ سو، مغرب پر پھر اعلان ہوا کہ نماز کے بعد وعظ ہوگا۔ مولانا صاحب کا دل ہرگز نہ چاہتا تھا لیکن مجبور تھے لہذا منبر پر جلوہ گر ہوئے۔ ابتدائی کلمات کے بعد اپنا تکیہ کلام دہرایا۔۔۔ “کیوں؟ سب سمجھ گئے؟” سب نے ایک آواز ہوکر کہا کہ “نہیں نہیں۔۔۔ ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔۔۔ کچھ بھی نہیں سمجھے۔۔۔” مولانا صاحب فرمانے لگے: “ارے جب آپ لوگ اتنے نا سمجھ ہو کہ سمجھتے ہی نہیں تو پھر آپ لوگوں کو سمجھانا فضول ہے۔۔۔” یہ کہا اور اٹھ کر چل دیئے۔۔۔
اب لوگ پریشان کہ یہ کیا ہوا۔۔۔ دوبارہ وعظ سننے محروم۔۔۔ کیا کیا جائے؟ طے ہوا کہ عشاء میں دوبارہ وعظ کا اعلان کیا جائے اور مولانا صاحب جب یہ سوال پوچھیں تو ان کے دائیں طرف والے لوگ کہیں کہ ہاں، ہم سمجھ گئے اور بائیں طرف والے لوگ کہیں کہ نہیں، ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔۔۔ تب تو انہیں ضرور وعظ کرنا ہی پڑے گا۔
منصوبہ کے مطابق عشاء کے وقت بھی وعظ کا اعلان کردیا گیا۔ اب مولوی صاحب نہ چاہتے ہوئے بھی منبر پر تشریف فرما ہوئے اور جب اپنا تکیہ کلام ادا کیا کہ سب سمجھ گئے؟ تو آدھے لوگوں نے کہا کہ ہاں، ہم سمجھ گئے اور آدھے لوگ کہنے لگے کہ نہیں، ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔ مولانا صاحب نے فرمایا: “بھئی ماشاء اللہ۔۔۔ کچھ لوگ بہت ہی سمجھ دار ہیں اور کچھ لوگ انتہائی ناسمجھ۔ تو جو لوگ سمجھ گئے ہیں، میری ان سے گزارش ہے کہ جو لوگ نہیں سمجھے، وہ ان کو سمجھادیں۔۔۔ وما علینا الا البلاغ”
یہ کہہ کر چل دیئے۔
![]()
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
April 11, 2008 بوقت 4:21 pm
اس سب بے کاراور بے محل واقعے کا مقصد؟
April 11, 2008 بوقت 4:53 pm
یہ صرف تفریح طبع کے لیے ہے۔ کوئی مقصد تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
April 11, 2008 بوقت 11:33 pm
بہت ہی شاندار۔ بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مولانا کا وعظ نہ ہوا پاکستان کی قومی اسمبلی ہوگئی جہاں کسی ممبر کا دل اسمبلی کی کاروائی اور قانون سازی میں نہیںلگتا اور بس پانچ سال کیوںمیاں سمجھ گئے میں گزار دیے جاتے ہیں
April 11, 2008 بوقت 11:57 pm
لیجئے راشد کامران نے تو مطلب بھی نکال لیا۔
April 14, 2008 بوقت 10:13 pm
April 15, 2008 بوقت 4:54 pm
راشد بھائی۔۔۔ واہ آپ نے تو کافی دلچسپ مطلب بھی نکال لیا ہے۔۔۔ بہت اعلیٰ۔۔۔۔۔۔