یہ تحریر
Tuesday, April 1, 2008 بوقت 1:14 pm لکھی گئی اور اسے زمرہ متفرقاتکے تحت شائع کیا گیا۔
آپ اس تحریر پر ہونے والے تبصروں سے بذریعہ RSS 2.0 فیڈ باخبر رہ سکتے ہیں۔
آپ اس تحریر پر تبصرہ یا اپنی ویب سے ٹریک بیک کرسکتے ہیں۔
یہ تو بہت عام سا مسئلہ ہے۔۔۔۔کتنے ہی بے گناہ پولیس کسٹڈی میں مارے جاتے ہیں بس کچھ کی ایسے خبریں آجاتی ہیں اخبار میںاور کچھ بے چارے غریب لاش لے کے دفن کر دیتے ہیں چپ چاپ۔۔۔کر بھی کیا سکتے ہیں اس کے علاوہ۔۔۔پولیس کے ہاتھ مٰں اختیار کا ڈنڈا ہے جب مرضی جس پے مرضی برسا دیں۔۔۔۔۔۔
اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
خوش آمدید
میں آپ کو اپنی بیاض پر خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ دوبارہ تشریف لائیں گے۔
باخبر رہیں!
میری بیاض پر شائع ہونے والی نئی تحاریر سے باخبر رہنے کے لیے ریڈر پر سسکرائب کریں۔ یا بذریعہ ای۔میل باخبر رہنے کے لیے
April 3, 2008 بوقت 10:26 am
یہ تو بہت عام سا مسئلہ ہے۔۔۔۔کتنے ہی بے گناہ پولیس کسٹڈی میں مارے جاتے ہیں بس کچھ کی ایسے خبریں آجاتی ہیں اخبار میںاور کچھ بے چارے غریب لاش لے کے دفن کر دیتے ہیں چپ چاپ۔۔۔کر بھی کیا سکتے ہیں اس کے علاوہ۔۔۔پولیس کے ہاتھ مٰں اختیار کا ڈنڈا ہے جب مرضی جس پے مرضی برسا دیں۔۔۔۔۔۔