ایک دن میرزا محب دہلوی کے ساتھ
آپ نے میرزا محب دہلوی کو دیکھا ہو یا نہ ہو، ملے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، نام تو یقینا سنا ہی ہوگا۔ میں انہیں زمانہ حال کی نادر و نایاب اشیاء (یا افراد) میں گردانتا ہوں۔ اب آپ بھلے مجھ سے لاکھ اختلاف کریں، لیکن میں اپنے بیان پر مصر ہوں۔ آپ ان سے بات کیجئے، جھٹ سے فروغ اردو کے لیے آپ کو رضاکار بننے کی تجویز دیں گے۔ پھر آپ چاہے ہنس کر ٹال دیں یا بات گھمادیں، لیکن اس خوش فہمی کا شکار ہرگز نہ ہوں کہ آپ کو کامیابی مل گئی ہے۔ دو لمحے کی مزید گفتگو کے بعد آپ کو ایک بار پھر دعوت دی جائے گی اور دعوت کا یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جائے گا اگرچہ آپ کام شروع بھی کردیں۔ آپ بہانے کرتے کرتے تنگ آجائیں گے لیکن یہ ہرگز تنگ نہ ہوں گے۔
کچھ لوگ سوچتے ہیں اور کچھ پوچھتے بھی ہیں کہ یہ موصوف ہم سے اتنا کام کرواتے ہیں پر خود کیا کرتے ہیں؟ یہ اکثریت کے لیے ایک معمہ ہے اور اسے معمہ ہی رہنا چاہئے۔ اگرچہ بزرگ بلونگڑے قدیر احمد مدظلہ العالی نے میرزا محب دہلوی کو “گفتار کا غازی” پکار کر کچھ انکشاف کرنے کی کوشش کی ہے تاہم بہتر ہے کہ آپ ایسی باتیں نظر انداز کردیں۔
عرصہ سے اڑتی اڑتی خبر تھی کہ میرزا صاحب کراچی تشریف لائیں گے اور آخر کار وہ گھڑی آگئی کہ موصوف نے 19 اپریل 2008ء کو اپنی آمد سے شہر کراچی کو شرف بخشا۔ اگلے دن، اتوار کو ان کا فون آیا تو پتا چلا کہ کچھ مقامات دیکھنے کا ارادہ ہے۔ کچھ دیر بعد ہم نے ان کے میزبان ابو شامل کو فون گھمایا۔۔۔ پتا چلا کہ پہلے پی۔اے۔ایف میوزیم چلنے کا ارادہ ہے۔ ادھر ہم پہنچے، ادھر میزبان اپنے مہمان صاحب کو لے پہنچے۔
کچھ دیر باتیں ہوئیں، ٹھنڈا پیا۔ اسی دوران کراچی اور لاہور کا تقابل ہونے لگا۔ پتا یہ چلا کہ کل رات سے یہی بحث جاری ہے کہ لاہور کو اتنا سر چڑھا کر کیوں بیان کیا جاتا ہے؟ میرزا محب دہلوی اکثر کافی زور و شور سے لاہور کی برتری ثابت کرنے کی کوشش فرماتے۔ کچھ دیر بعد نماز ظہر ادا کی۔ اس کے بعد میوزیم کے معائنہ کے لیے اندر داخل ہوئے۔ میں کراچی میں رہتے ہوئے اس طرف پہلی بار آیا تھا۔ بہت دلچسپ اور معلوماتی دورہ تھا۔ غالبا محب صاحب کو اس میں خاص دلچسپی محسوس نہ ہوئی لہذا وہ ہم سے پہلے ہی گھوم پھر کر باہر نکل گئے۔ ابوشامل مجھے جہازوں اور ہتھیاروں کے بارے میں کافی معلومات فراہم کرتے رہے۔ ہم تو شاید مزید کافی دیر وہیں لگادیتے لیکن میرزا صاحب کی مس۔کالز آنے لگیں۔ لہذا ہم باہر نکلے۔ اب موصوف کو ڈھونڈتے ہیں تو نظر نہیں آتے۔ کچھ دیر بعد میری نظر پڑی تو ایک جوڑے کے پہلو میں بیٹھے فون پر گفتگو میں مصروف تھے۔ ہم نے انہیں وہاں سے اٹھایا۔ فرمانے لگے، میں نے ایک جوڑے کو مخصوص مسائل پر گفتگو سے ہٹ کر عمومی مسائل پر گفتگو کرنے پر مجبور کردیا تھا۔
پھر کچھ دیر سیاسی و تاریخی گفتگو فرمائی۔ چائے کا دور چلا۔ وقفہ وقفہ سے کراچی اور لاہور کا تقابل جاری رہا۔
پھر یہ طے کیا جانے لگا کہ اگلی منزل کیا ہوگی؟ میرزا محب دہلوی کو کوچہ ثقافت دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا۔ اگرچہ ہم نے انہیں کہا بھی کہ ثقافت تو یہاں بھی اچھی خاصی نظر آرہی ہے لیکن موصوف بضد تھے لہذا کوچہ ثقافت کی ٹھانی۔ تاہم جب منزل پر پہنچے تو یہ دیکھ کر خاصی مایوسی ہوئی کہ کوچہ ثقافت لپیٹ دیا گیا تھا۔ شاید انہیں میرزا صاحب کے آنے کی خبر ہوگئی تھی۔
انہیں بڑا افسوس ہوا۔
قریبی مسجد میں عصر کی نماز ادا کی۔ اب سوچنے لگے کہ یہاں سے کہاں جایا جائے؟ ہمارا ارادہ تھا کہ ساحل سمندر پر چلتے ہیں لیکن میرزا صاحب فرماتے تھے کہ انہوں نے پہلے بھی دیکھا ہوا ہے لہذا کسی “اور” جگہ چلا جائے۔ اب یہ “اور” کافی قابل غور بھی ہوسکتا تھا لیکن اس “اور” کے “قابل غور” ہونے کے لیے “لاہور” والے کا ہونا بہت ضروری تھا اس لیے آخر کو سمندر کی طرف روانہ ہوئے۔
ساحل پر پہنچ کر میرزا صاحب سٹے کی بابت دریافت کرنے لگے۔ ہم معصوم تو بے چارے ایک ہی سٹے کو جانتے ہیں جو کسی کھیل پر لگایا جاتا ہے لیکن راز کھلا کہ ان کے “سٹے” سے مراد وہ ہے جسے ہم “بھٹہ” کہتے ہیں۔ میرا اور ابو شامل کا دل نہیں تھا۔ میرزا صاحب نے ایک جگہ سے “سٹہ” لیا۔ میں اور ابو شامل کھڑے باتیں کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد دیکھتے ہیں تو میرزا صاحب ایک دوسرے سٹے والے کے ٹھیلے پر پہنچے ہوئے تھے۔
خیر، اس کے بعد ہم نے انہیں ساحل کے ساتھ ساتھ بہت پیدل چلایا۔ کافی دیر بعد جب ہم بیٹھے تو اندھیرا چھا رہا تھا۔ چائے پی، کھایا پیا، اور اس کے بعد گھر کو روانہ ہوئے۔۔۔
پیسہ ہضم، کہانی ختم۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
April 22, 2008 بوقت 11:52 pm
بہت خوب قبلہ راہبر لکھنوی ، میں لکھتا ہوں آپ کے ساتھ ملاقات کی روداد بھی :wink:
محب علوی’s last blog post..چند بہترین یوٹیلیٹیز
April 23, 2008 بوقت 1:25 am
بہت خوب۔ لیکن محب علوی کا نام تبدیل کر کے لکھنے کا کیا مقصد کہیں آپ کو یہ ڈر تو نہیں تھا کہ وہ ہتک عزت کا دعویٰ داغ دیں گے۔ :wink:
April 23, 2008 بوقت 8:24 am
برائے مہربانی اپنی بلاگ رول میں میرے بلاگ کا نیا ایڈریس http://urdublog.tuzk.net اپ ڈیٹ کر دیجیے .
اور میں نے اپنے نام کے ساتھ سے رانا ہٹا دیا ہے . برائے مہربانی میرا نام صرف “قدیر احمد” لکھیے .
شکریہ
قدیر احمد’s last blog post..منتقلی
April 23, 2008 بوقت 10:36 am
او یار کمال کر دتا ای! (یہ پنجابی دو دن محب کے ساتھ رہنے کا کمال ہے)۔ اب یہ بتائیے کہ میں آپ اور محب کی تصویریں منظرِ عام پر لاؤں یا نہیں؟ ویسے آپ کی تصویر بڑی شاندار آئی ہے
ای میل کروں؟
ابوشامل’s last blog post..سندھی کی تنصیب
April 23, 2008 بوقت 11:56 am
میرزا محب دہلوی صاحب! ضرور لکھئے، ہمیں بھی انتظار ہے۔

عارف انجم! ہتک عزت کا دعوی کیا داغنا ہے میرزا جی نے۔۔۔ یہ تو ان کی عزت افزائی ہوئی ہے نا
قدیر۔۔۔! اوکے۔
ابو شامل! تصاویر آپ اس طرح منظر عام پر نہ لایئے۔۔۔ پہلے مجھے میل کردیں۔۔۔ میں دیکھتا ہوں۔ اگر اس لائق ہوئیں تو ضرور پوسٹ کروں گا۔ ویسے مجھے نہیں لگتا کہ کچھ اچھی ہوں گی کیونکہ جس وقت وہ تصاویر کھینچی گئیں، اس وقت سبھی کا حال بہت برا ہورہا تھا۔ :mrgreen:
April 23, 2008 بوقت 2:40 pm
یار سب ایک دوسرے کے خاکے لکھ رہے ہیں میں بھی بدتمیز کا خاکہ لکھ دیتا ہوں :mrgreen:
جہانزیب’s last blog post..سٹائل شیٹ
April 23, 2008 بوقت 3:08 pm
جی جی بالکل جہانزیب بھائی۔۔۔ مجھے تو اس کا انتظار تھا کہ آپ بھی کچھ لکھیں بدتمیز سے ملاقات کا احوال۔
April 23, 2008 بوقت 4:00 pm
کیا لڑکیوں کیطرح شرما رہے ہیں، تصویریں شائع کریں، ہمیں بھی کچھ پتہ چلے کہ واقعی محب آئے بھی تھے کہ نہیں؟ ابوشامل بھائی ہم منتظر ہیں۔
ساجداقبال’s last blog post..ورڈپریس ہیلپ شیٹ
April 24, 2008 بوقت 1:22 am
کتنے دن رہنا ہے محب نے؟ مجھے تو ابو شامل کا خیال آ رہا ہے۔ کتنے دن میزبانی کرنی پڑی گی یا کی ہو گی؟
تصویریں کہاں ہیں بھئی؟ جلدی سے تصویریں پوسٹ کرو۔ :???:
ماوراء’s last blog post..جودھا اکبر
April 24, 2008 بوقت 10:18 am
ساجد بھائی شرما نہیں رہے لیکن اگر تصاویر چھپ گئیں تو واقعی ہتک عزت کا دعویٰ ہو جائے گا
محب کے آنے کا اندازہ آپ کو میری پنجابی سے نہیں ہو رہا کیا؟
ماوراء صاحبہ بس داستانِ الم کیا سنائیں؟ بقول شاعر
میری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کے روئے :sad: :sad:
آج جمعرات ہے، محب ہفتہ کے روز تک کراچی ہی میں ہیں، میں ابتدائی تقریباً تین دن ان کا میزبان رہا اور آخری دو دن بھی میزبانی کے فرائض انجام دینے ہیں۔ ویسے میں انہیں بہت ٹف ٹائم دے رکھا ہے کھیلنے کے لیے کُھلا میدان نہیں دیا۔
April 24, 2008 بوقت 11:04 am
افففف۔۔۔ ساتھیو! تصویریں ہرگز ہرگز پیش کرنے کے لائق نہیں ہیں ورنہ میں نے تصویریں کھینچنے والے پر مقدمہ کردینا ہے۔
April 24, 2008 بوقت 2:29 pm
مقدموں کی فکر نہ کریں، ہمارے پاس اپنے وکیل ہیں شعیب بھائی۔ :cool: آپ تصویریں چھاپیے، مجھے شک ہے تصویروں میں کہیں ایسی بھی تصویر ہے جسمیں راہبر ”سٹے“ والے سے سٹہ اچک کر بھاگ رہا ہے، شاید اسی لئے گریزاں ہیں چھاپنے سے۔

آپ نے ایک دن محب کے ساتھ تو لکھا ہے لیکن کہیں بھی آپ نے محب کی گفتگو پر یہ نہیں کہا کہ ”کیا یہ کھلا تِضاد نہیں ہے۔“
ساجداقبال’s last blog post..ورڈپریس ہیلپ شیٹ
April 24, 2008 بوقت 3:16 pm
راہبر میاں اس لیے تصویریں پیش کرنے سے گریزاں ہیں کیونکہ ان کی تصویر ہی بہت “شاندار” ہے
April 24, 2008 بوقت 5:28 pm
ساجد بھائی! مقدمہ دائر میری طرف سے ہوگا تو شعیب بھائی میرے وکیل ہوں گے۔۔۔ آپ میرے وکیل کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ :wink:
تصویروں کے بارے میں زیادہ تجسس نہ فرمایئے۔۔۔ :arrow:
اگلے جلسہ کی تصاویر ان شاء اللہ پوسٹ کی جائیں گی۔
April 24, 2008 بوقت 8:31 pm
————————————————————-
افففف۔۔۔ ساتھیو! تصویریں ہرگز ہرگز پیش کرنے کے لائق نہیں ہیں ورنہ میں نے تصویریں کھینچنے والے پر مقدمہ کردینا ہے۔
———————————————————-
بھائی یہ مجھ پر کس خوشی میں مقدمہ دائر ہورہا ہے؟
ابوشامل’s last blog post..انسانی فطرت
April 25, 2008 بوقت 9:52 pm
السلام علیکم ۔۔۔
عمار ایک دن میں اتنا دہلا دیا محب نے اپ کو :shock: کے آپ نے انہیں دہلوی کا خطاب دے دیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے میں انہیں بہت ٹف ٹائم دے رکھا ہے کھیلنے کے لیے کُھلا میدان نہیں دیا۔
ادا ابو شامل : محب نے تو بڑی لمبی لسٹ تیار کی ہوئی تھی ملاقاتوں کی ۔۔ آپ نے تو ان کے ارمانوں پر اچھی طرح سے پانی پھیر دیا ۔۔

April 26, 2008 بوقت 6:25 pm
ہممم ۔۔ بہت خوب تو محب تم کراچی پہنچے ہوئے ہو ، جبکہ میں یہ توقع کر رہا تھا کہ تم میرے پاس پہنچتے ہی ہوگے ۔ خیر سناؤ کہاں کہاں گھومے کراچی میں ، اور یہ تصاویر پر مقدمات کیوں دائر کیئے جا رہے ہیں ۔ ایسی کیا بات ہے ان تصاویر میں ۔۔۔۔
آج کل تو کراچی میں گرمی کا آغاز ہوگیا ہوگا ، کراچی اور لاہور کی گرمی میں بہت فرق ہے ، اسکا تو تمہیں احساس ہوگیا ہوگا ۔ آج معلوم ہوا کہ تم کراچی میں ہو ۔ اس لیئے فوراً آیا ۔ تفصیلی بات پھر ہوگی انشاءاللہ /
April 28, 2008 بوقت 2:28 am
السلامُ عليکُم
کيا بحث چھيڑی ہُوئ ہے آپ لوگوں نے عمار کہہ دو ان کو شيروں کو مُنہ دھونے کی ضرُورت نہيں ہوتی دُھلے دُھلاۓ ہوتے ہيں يا کہيں زيادہ تو نہيں دُھل گۓ آپ ،ليکن يہ کيا ؟ايک مہمان آيا آپ کے شہر ميں اور آپ سب نے تير سيدھے کر لۓ روايات نبھائيے مہمانداری کی اور ہاں تصويريں کب شائع ہو رہی ہيں؟
مع السلام
شاہدہ اکرم
شاہدہ اکرمs last blog post..تاريخی مُقامات
April 28, 2008 بوقت 9:56 am
اور بالآخر ایک ہفتہ پر محیط میزبانی کے ایام ختم ہوئے اور محب صاحب بروز اتوار صبح سویرے کی فلائٹ لیے لاہور سدھار گئے
امید ہے کہ کراچی میں ان کے یہ ایام یادگار گزرے ہوں گے خصوصاً محفل کے کئی دوستوں سے ملاقاتیں!
April 28, 2008 بوقت 9:59 am
—————–
ادا ابو شامل : محب نے تو بڑی لمبی لسٹ تیار کی ہوئی تھی ملاقاتوں کی ۔۔ آپ نے تو ان کے ارمانوں پر اچھی طرح سے پانی پھیر دیا ۔
—————–
ابوشاملs last blog post..انسانی فطرت
April 28, 2008 بوقت 4:37 pm
سارہ! یہ تو محب سے پوچھئے گا کہ انہیں کس نے کتنا ہلایا؟

ظفری بھائی اسی بہانے میرے بلاگ پر تو تشریف لائے۔ اتنے عرصہ بعد آنے پر خوش آمدید۔
شاہدہ آپی! وعلیکم السلام۔ تصویریں ناقابل اشاعت ٹھہر گئی ہیں۔ اور ہاں، واقعی۔۔۔ شیروں کو منہ دھونے کی تو بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔ سن لیں سب۔۔۔
ابوشامل! کہاں تو سوموار کو جانے کا تھا اور کہاں وہ اتوار کو ہی روانہ ہوگئے۔۔۔۔ :sad: میں نے دوبارہ ملنا تھا۔
April 29, 2008 بوقت 10:35 am
—————————————————————————-
ابوشامل! کہاں تو سوموار کو جانے کا تھا اور کہاں وہ اتوار کو ہی روانہ ہوگئے۔۔۔۔ :sad: میں نے دوبارہ ملنا تھا۔
—————————————————————————-
ارے حضرت! ایک تو ٹکٹ اسی روز کا ملا دوسرا بڑی مشکل سے تو وہ طیارے میں سوار ہو سکے کیونکہ لیٹ ہو گئے تھے۔ خیر شکر ہے فلائٹ مس نہیں ہوئی۔
ابوشاملs last blog post..انسانی فطرت
April 29, 2008 بوقت 12:34 pm
السلام علیکم مبارک ہو جناب عمار بھائی اور ابوشامل بھائی آپ کی ملاقات محب صاحب سے ہوگی بھائی بڑا مزہ آیا ہوگا آپ سب کو مجھے تو یہ پڑھ کر ہی مزہ آ رہا تھا آپ تو پھر وہاں ہی تھے اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے میری بھی دل کرتا ہے میں بھی نیٹ کے دوستوں سے ملاقات کروں لیکن ان کے نام نہیں بتاؤں گا جب میں نام بتاوں گا وہ پہلے ہی بھاگ جائے گے ہی ہی ہی
April 29, 2008 بوقت 2:16 pm
ہاں اگر آپ انہیں ملاقات سے قبل تصویر دکھا دیں تو
(ازراہِ مذاق، برا مت منائیے گا)
ابوشاملs last blog post..انسانی فطرت
April 30, 2008 بوقت 3:31 pm
مقدمہ تو اب کراچی والوں پر بنے گا جب ہم یہاں محب کے بی ایم آئی وغیرہ جیسے ٹیسٹ کروائینگے اور ویسٹ ناپیں گے۔ کسی بھی خرابی کی صورت میں مقدمہ کیلیے تیار رہیں۔
ساجداقبالs last blog post..ورڈپریس ہیلپ شیٹ
April 30, 2008 بوقت 4:42 pm
ساجد بھائی ہم مقدمے کا سامنا کرنے کو مکمل طور پر تیار ہیں، ایک تگڑا وکیل بھی کر رکھا ہے شعیب صفدر کی صورت میں، اس میدان میں تو فتح ہماری ہی ہوگی اس لیے خبردار اس میدان میں ہمارا سامنا مت کیجیے گا۔ محب کے جتنے ٹیسٹ کروانے ہیں کروا لیں لیکن اپنے خرچے سے، لیکن اتنا بتا دوں پہلے سے بہتر کر کے ہی بھیجا ہے ہم نے
ابوشاملs last blog post..انسانی فطرت
May 1, 2008 بوقت 4:57 am
شکر ہے، ابو شامل سے تو میزبانی کا بوجھ اترا۔۔مجھے تو بس انہی کی فکر ہو رہی تھی۔:grin:
دو دن بندہ کوئی گھر میں آ جائے تو نظام الٹ پلٹ ہو جاتا ہے یہ تو ہفتہ ہو گیا تھا۔
ماوراءs last blog post..کتاب سروے 2008
May 2, 2008 بوقت 10:16 am
ماوراء! آپ کا فکر کرنے کا بہت شکریہ، لیکن محب صاحب بڑے اچھے بچے تھے، انہوں نے بالکل تنگ نہیں کیا، ان کی روانگی کے بعد گھر سُونا سُونا لگ رہا تھا۔
ابوشاملs last blog post..روشن خیالی یا رُو سیاہی
May 5, 2008 بوقت 3:08 pm
ماشاللہ میں نے دیکھا ہی نہیں پہلی پوسٹ کرکے ، یہاں تو باقاعدہ میدان سجا ہوا ہے۔
ابو شامل نے واقعی میدان کھلا نہیں چھوڑا ورنہ ارادہ تو تھا کہ کراچی کے گلیاں اور کوچے خود جا کر دیکھتا اور مشاہدات حق میں اضافہ کرتا مگر ابوشامل اور راہبر کا اصرار تھا کہ وہ اپنی راہنمائی میں ایک باقاعدہ کوچہ ثقافت کی سیر کروائیں گے۔ وہاں پہنچے تو نہ ثقافت تھی اور نہ ہی کوچہ بچا تھا بقول غالب
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پر تماشہ نہ ہوا :wink:
محب علویs last blog post..AUTISM
May 6, 2008 بوقت 10:03 am
جی محب بھائی! کوچۂ ثقافت نہ دیکھنے کا تو مجھے بھی بہت افسوس ہوا۔
May 8, 2008 بوقت 3:46 pm
جی ابو شامل بھائی آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ میں بورا نہیںمانتا آپ میرے ساتھ مزاق کر سکتے ہیں میں حاضر ہوں 4 دن کی زندگی ہے بھائی ہنس کر گزارے گے تو کوئی یاد کرے گا نا ویسے اگر میں نے تصویر دیھکا دی تو پھر یہ جو آپ مجھ سے بات کرتے ہیںوہ بھی نہیںکرے گے ہا ہا ہا :lol:
May 10, 2008 بوقت 1:09 pm
اچھی تحریر ہے آپ کی عمار۔
ویسے جس فاتحانہ انداز سے جناب علوی صاحب نے کراچی کا دورہ فرمایا اس سے انکے ممدوح “منصف” صاحب تو پانی پانی ہو گئے ہونگے :mrgreen:
محمد وارثs last blog post..غزل
May 12, 2008 بوقت 5:20 pm
بالکل وارث صاحب! خصوصاً آج کے روز 12 مئی کو تو یہ احساس کہیں زیادہ ہو رہا ہوگا :wink: