No Gravatar

“کچرا نہ پھیلائیں۔ سب کو یہ سمجھائیں۔”

“کچرا کوڑے دان میں ڈالئے۔”

ایسے مزید بھی کچھ جملے شاید آپ کی نظر سے گزرے ہوں۔ حکومت نے کئی جگہ لکھوائے ہیں۔ لیکن آج میری نظر سے ایک منفرد جملہ گزرا۔ جانتے ہیں، کیا؟

“خدا کے لیے یہاں کچرا نہ ڈالیں۔”

ذرا محسوس کیجئے، کتنی بے بسی اور لاچاری سے التجاء کی گئی ہے۔ یہ ناظم آباد کے علاقہ میں ایک کونے کے مکان کی دیوار پر لکھا ہوا تھا۔ غالبا اس گھر کے سامنے لوگ کچرا ڈال جایا کرتے ہوں گے جس پر اس بے چارے نے تنگ آکر یہ جملہ لکھوایا ہوگا۔

یہاں کچرا پھیلانے والے بہت ہیں۔ یا یوں کہئے کہ یہاں کچرا بہت ہے۔ جب سے شہری حکومتوں کا نظام آیا ہے، صفائی ستھرائی پر کچھ توجہ دی جانے لگی ہے لیکن اب بھی بہت کچھ کرنا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ ہمیں خود احساس کرنا ہے اس مسئلہ کا۔۔۔ ہمیں خود کچرا پھیلانے سے بچنا ہے۔

ہمارے گھر سے کچھ دور ایک پلازا ہے۔ وہاں دوسری تیسری منزل کے ایک بزرگ اکثر چینختے ہوئے ملتے تھے کہ لوگ پلازا کے کنارے کچرا ڈال جاتے ہیں جس سے بدبو کے بھبکے اٹھتے رہتے ہیں (واضح رہے کہ وہ جگہ باقاعدہ کچرا ڈالنے کی جگہ ہی ہے)۔ خیر، وہ بزرگ ہر وقت کچرا ڈالنے والوں پر گرجتے برستے رہتے۔ ایک دن ابو وہاں سے گزر رہے تھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ بزرگ خود اپنے گھر سے کچرا نیچے پھینک رہے ہیں۔ ابو نے انہیں دیکھا تو وہ کچھ بوکھلا سے گئے اور پھر کہنے لگے کہ اصل میں یہ کچرا ہم سے اوپر والوں نے ہماری گیلری میں پھینک دیا تھا اس لیے اسے نیچے پھینک رہا ہوں۔ :razz:

کچھ گھرانوں میں تو صفائی کا معیار بہت گرا ہوا ہے۔ کچرے کی تھیلیاں بنائیں اور وہیں سے بیٹھے بیٹھے کھڑکی سے باہر پھینک دیں۔ اب چاہے وہ کسی کے سر پر جاگرے یا کچھ بھی ہو۔۔۔ انڈا توڑا، توے پر ڈالا اور چھلکا کھڑکی سے باہر۔۔۔ شہر کے ان علاقوں میں ایسے واقعات اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں میمن برادری کی اکثریت ہو۔ لیکن یہ حرکت صرف ان ہی تک محدود نہیں بلکہ دوسرے بھی کرتے ہیں۔ ہماری ہی بلڈنگ میں ایک گھر سے سب کو یہ شکایت تھی۔ بارہا کہا لیکن کچھ اثر نہ ہوا۔ شرم دلانے کے لیے ان کو کچرا ڈالنے کی ٹوکری بھی دی گئی لیکن اس کے باوجود وہی شکایت۔

حاصل گفتگو یہ کہ کچرا اپنے مقام پر ڈالیں۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔