ہادی عالم۔ ایک انوکھی کتاب
مولانا ولی رازی کی شخصیت پاکستان کے مذہبی علمی حلقوں میں نئی نہیں ہے۔ غالبا وزیر مذہبی امور یا وزیر اوقاف بھی رہ چکے ہیں۔ روزنامہ “امت” میں اکثر ان کے کالم بھی چھپا کرتے تھے۔ آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ایک کتاب لکھی ہے جو اردو زبان کی سب سے انوکھی کتاب ہے۔ جانتے ہیں کیوں؟ اس لیے کہ اس پوری کتاب میں تمام الفاظ غیر منقوط استعمال کیے گئے ہیں۔ یعنی اردو کا ایک حرف بھی ایسا نہیں آیا جس میں نقطہ ہو۔۔۔ مثلا، ب، پ، ت، ج، چ، خ، ش، ض وغیرہ وغیرہ۔۔۔ کمال بات یہ ہے کہ تحریر پڑھتے ہوئے آپ کو ایسا خاص احساس نہیں ہوتا کہ اس میں غیر منقوط الفاظ کے استعمال کی وجہ سے تحریر کچھ مشکل ہوگئی ہے۔ کچھ کچھ جگہ مشکل الفاظ ضرور ہیں لیکن ان کے معانی بھی آخر میں درج ہیں۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق اردو زبان میں ایسی کوئی کتاب سیرت پر نہیں۔ ہاں، اکبر بادشاہ کے زمانے میں ابو الفیض فیضی نے ایک تفسیر لکھی تھی جو غیر منقوط تھی تاہم وہ کوئی مسلسل کتاب نہیں تھی بلکہ قرآن کریم کے الفاظ اور جملوں کے مابین مختصر وضاحتی کلمات کا مجموعہ تھی۔
مولانا ولی رازی کی اس کتاب کا نام ہے “ہادی عالم”۔ حکومت پاکستان کی جانب سے کتب سیرت النبی کے قومی مقابلہ برائے سال 1983ء میں اس کتاب کو اول انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ یہ کتاب دار العلم، کراچی کی جانب سے شائع ہوئی۔ اس کتاب سے کچھ اقتباسات پیش کررہا ہوں تاکہ آپ بھی لطف اندوز ہوں۔
کرم ہی کرم ہے اس مالک الملک کا اور واسطہ ہے اسم رسول اکرم کا کہ سرور عالم صلی اللہ علی رسولہ وسلم کے ہر حال کی لکھائی سہل ہوگئی اور سارے احوال رسول اکرم اس طرح مسطور ہوئے کہ سال مولود سے لے کر لمحہ وصال کے سارے احوال، سال وار آگئے۔۔۔۔۔۔۔ الحمد للہ “ہادی عالم” اردو کا واحد اور اول رسالہ ہوا کہ اردوئے معرا کے اصول سے مسطور ہوا مگر لوگوں کو معلوم رہے کہ سارا کام اللہ کے کرم اور اس کی عطائے کامل سے ہوا۔
اللہ اللہ کرکے وہ لمحہ مسعود اور وہ امر الٰہی آکے رہا کہ اس کی آمد کی اطلاع اہل عالم کو رسولوں کے واسطے دی گئی۔ وہ لمحہ سعد کہ سارے عالم کے علماء اس کی آمد کے لیے اللہ کے آگے سر ٹکائے محوِ دعا رہے۔ وہ لمحہ محمود کہ سارے عالم کے گم کردہ راہوں کے لیے مہر علم و عمل ہوکر طلوع ہوا اور لوگوں کو لاعلمی کی گہری کھائی سے رہائی ملی۔ وہ لمحہ موعود کہ سالہا سال سے اللہ کے اس وعدے کی دلوں کو آس رہی۔ مآل کار اللہ کا وعدہ مکمل ہوا۔
اللہ کے رسول کی عمر ساٹھ کم سو سال ہوئی۔ اک سحر کو وہ حرا کی گود کو معور کیے ہوئے محوِ دعا و الحاح ہوئے۔ اللہ کا حکم ہوا اور ملائک کے سردار امرِ وحی لے کر آئے۔
کمال بات یہ کہ قرآن پاک کی کسی آیت کا اگر ترجمہ پیش کیا گیا تو اسے بھی غیر منقوط رکھا گیا:
اللہ مالک الملک اس طرح ہم کلام ہوا۔
“دل سے دہراؤ اس لمحے کو کہ اللہ سے للکار کر دعاگو ہوئے۔ سولوں کی دعا وصول ہوئی (اور اللہ کا وعدہ ہوا) کہ آٹھ سو اور دو سو ملائک سے (اہلِ اسلام کی) امداد کروں گا۔ وہ (ملائک) اک دوسرے کے آگے سلسلہ وار ہوں گے اور اللہ کی وہ امداد اس لیے ہوئی کہ اہلِ اسلام کو کامگاری کی اطلاع ملے اور (اہلِ اسلام کے دل) محکم و مسرور ہوں اور اللہ کی مدد ہی اصل مدد ہے اور اللہ ہی حاوی ہے اور حِکَم والا ہے۔”
آخری اقتباس:
ہادی کامل صٌی اللہ علی رسول وسلم سارے رسولوں کے سردار ہوکر اہلِ اسلام کی اصلاح کے لیے سراسر کرم وعطا ہوکر آئے۔ اک معلوم عرصہ کے لیے اس عالم مادی آکر رہے۔ لوگوں کو راہ ہدا دکھائی۔ اسلام کے احکام و اسرار عطاء کئے۔ لوگوں کو حلال و حرام کا علم عطا ہوا۔ عدل و صلہ رحمی، عطاء و کرم، ہمدردی و مددگاری کا عمل عام ہوا۔ لوگوں کی اصلاح کا اہم کام مکمل ہوا۔ اگلے لوگوں کے لیے ہرگام کے لیے اسوہ مطہرہ عطا ہوا۔ اس لیے سارے دوسرے رسولوں کی طرح سرور عالم کے لیے حکم وصال آکر رہا۔ اللہ کا ارادہ ہوا کہ اللہ کا رسول اس عالم مادی کی اصطلاح کا کام مکمل کرکے اللہ واحد سے آملے۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
April 3, 2008 بوقت 3:38 pm
اچھی شئیرنگ کی ہے۔ میرے علم میں پہلے یہ فیضی والی کتاب سیرت ہی تھی جس کے سلسلے میں اس نے مجدد الف ثانی رحمت اللہ علیہ سے بھی مدد حاصل کی تھی۔
April 3, 2008 بوقت 5:23 pm
ہمیںبھی اس کتاب کا علم پہلی بار ہوا ہے۔ اچھی کاوش ہے جو اتنی آسان نہ تھی۔
April 4, 2008 بوقت 12:41 pm
بہت خوب، یہ ایک انوکھی مگر محبت و محنت سے بھر پور کاوش ہے۔
اردو کے باوجود ایک جوان زبان ہونے کے علمی خزانہ سے بھرپور ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اور یہ سلسلہ جس انداز سے چل رہے ہے، کوئی دن دور نہیں جب سارے عالم میں چرچا ہوگا ہماری زبان کا۔
April 4, 2008 بوقت 2:44 pm
شاکر بھائی! فیضی نے سیرت پر نہیں، تفسیر پر لکھی تھی۔
میرا پاکستان! مجھے حیرت ہے کہ اس کتاب کو جتنی شہرت حاصل کرنی چاہئے تھی، وہ نہیں ملی۔ لوگوں کی اکثریت ناواقف ہے۔
افتخار صاحب! بالکل۔۔۔ ان شاء اللہ ایک دن ہماری زبان کا سارے عالم میں چرچا ہوگا۔۔۔!
April 4, 2008 بوقت 4:23 pm
سعی کا شکریہ ۔ لُطف آیا پڑھ کر اورآدھی صدی سے زیادہ پچھے کا وقت یاد آ گیا جب پرانی کتابین پڑھنے کو مل جاتی تھیں ان کا طرزِ تحریر یہی ہوتا تھا ۔ اس طرزِ تحریر مین قاری کیلئے بہت کشش ہوتی ہے ۔ آجکل کی اُردو میں وہ بات نہیں
April 6, 2008 بوقت 1:36 am
عمار ايک انتہائ بہترين اور دل خُوش کر دينے والی تحرير ہے آپ کی اس کاوش پر ميری طرف سے دلی مُبارکباد قبُول ہو کہ پہلی دفعہ علم ہُوا اس کتاب کے مُتعلق ،بہت بہت شُکريہ اس کاوش کو ہمارے ساتھ شيئر کرنے کا
شاہدہ اکرم
April 6, 2008 بوقت 5:04 am
دلچسپ۔ لیکن غیر منقوط تحریر کا فائدہ؟؟
April 7, 2008 بوقت 11:35 am
شکریہ شاہدہ آنٹی، اجمل صاحب۔۔۔!
ماوراء! غیر منقوط تحریر کا فائدہ کیا ہونا ہے، بس یہ ایک فن سمجھ لو۔۔۔ یا ایک بھرپور محنت والی کاوش۔۔۔ ایسی کتب یادگار ہوتی ہیں۔۔۔
April 14, 2008 بوقت 1:54 pm
السلام علیکم جناب بہت خوب کیا بات ہے بہت اچھی پوسٹ ہےآپ کی۔ میرے خیال میں یہ بہت ہی مشکل کام ہے میں پچھلے ایک ہفتے سے ایک غزل لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں جو کے نقطہ کے بغیر ہو لیکن ابھی تک نہیں لکھ سکا ہوں لیکن یہپوری کتاب ہے بہت خوب