بھرم بازی
میں بہت شریف انسان ہوں (واقعی)۔ سیدھا سادہ۔۔۔ لیکن چونکہ غصہ کا تیز اور جوشیلا ہوں اس لیے کچھ جلدی بھڑک جاتا ہوں۔
کل اچھی خاصی حرکت ہوگئی۔
بس میں جارہا تھا۔ قائد اعظم کے مزار سے کچھ پہلے گاڑی بیچ سڑک پر کھڑی ہوگئی۔ دونوں اطراف سے گاڑیاں گزر رہی تھیں۔ کچھ دیر تو میں نے خاموشی اختیار کی پھر حسب عادت کرخت آواز میں ڈرائیور پر گرجا۔ ڈرائیور نے معصومیت سے شیشے میں دیکھ کر کہا کہ یار آگے سارجنٹ نے روک رکھا ہے۔ یہ ٹریفک پولیس والے اپنے دھندے کے چکر میں ہر جگہ ہی کھڑے نظر آتے ہیں۔ میں نے ڈرائیور کو کہا کہ بھئی، گاڑی کھڑی کرنی ہے تو کنارے پر لگاؤ نا، یہ کیا بیچ میں کھڑے ہو۔ پتا چلا کہ سارجنٹ صاحب گاڑی کے عین سامنے آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔ پھر کنڈیکٹر آیا۔ مسافروں سے اپیل کرنے لگا کہ یار، آپ لوگ اترو، کچھ کہو۔۔۔ ہم حرام تو نہیں کماتے جو ان لوگوں کو دیدیں۔ میں بہت متاثر ہوا کہ یہ تو بڑا بہادر بنا ہے۔ دو، تین لوگ بس سے اتر رہے تھے۔ میں بھی اترا اور سارجنٹ کے پاس پہنچا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیوں روک رکھا ہے، جانے کیوں نہیں دیتا؟ کہنے لگا کہ تم لوگ کون ہوتے ہو؟ میری مرضی۔۔۔ اور اس گاڑی والے سے کہو، کاغذات دیدے، چالان کردیتا ہوں۔ اب کنڈیکٹر اس سے پوچھے کہ چالان کی وجہ تو بتاؤ نا؟ کیا میں نے کوئی سگنل توڑا؟ کوئی جرم کیا؟ تو اس پر وہ سارجنٹ اس کو گالیاں دے کہ تم لوگ میراثی کے بچے، صبر کرو، تمہارا تو میں یہ کروں گا، وہ کروں گا۔۔۔ عجیب بکواس۔۔۔ لوگ واپس آگئے۔۔۔ پھر میں نے بس میں کچھ لوگوں کو تیار کیا۔ لڑکوں کو بھی کہا کہ ویسے تو بہت بھرم مارتے پھرتے ہو، آؤ تو میدان میں۔ لیکن بے فائدہ۔ خیر، اب کی بار کچھ بوڑھے حضرات اترے۔ میں پھر ان کے ساتھ چلا۔ بوڑھوں نے بات کی تو ان سے بھی سارجنٹ نے بدتمیزی کی۔ مجھے تو غصہ تھا۔ میں نے کہا، ابھی تیرے ہاتھ میں پچاس روپے کا نوٹ رکھ دیں گے نا تو سب چالان بھول جائے تجھے۔ بس یہ سننا تھا کہ سارجنٹ نے تو سب کو چھوڑا، مجھ سے الجھ گیا۔
بس ڈرائیور نے موقع غنیمت جانا۔ اس نے گاڑی تھوڑا پیچھے کی اور رخ موڑ کر ایک طرف سے نکالنے لگا۔ باقی لوگ جلدی جلدی بس میں چڑھ گئے۔ جب بس کا دروازہ میرے قریب آیا تو میں بھی سوار ہوگیا۔ سارجنٹ اپنی بڑبڑا رہا تھا، میں نے چینخ کر اسے کہا، حرام لگ گیا ہے تمہارے منہ کو بے غیرتو۔۔۔
اس پر تو اس نے ماں بہن کی گالیاں شروع کردیں۔ بس آگے بڑھ رہی تھی۔ میں نے اس کی طرف ہاتھ کا اشارہ کیا اور کہا، لعنت ہو تجھ پر۔ وہ فورا اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہوا اور آگے بڑھا۔ تاثر اس نے یہ دیا کہ جیسے وہ ہمارا پیچھا کرے گا لیکن دراصل ان گرے ہوئے لوگوں میں اتنی جرات نہیں ہوتی اور جہاں کئی لوگ ہم آواز ہوجائیں، وہاں سے یہ لوگ فرار ہونے میں ہی عافیت جانتے ہیں لہذا وہ بھی موٹرسائیکل لے کر ایک طرف ہوگیا۔ میں نے اپنے ساتھ والے ایک لڑکے کو خوب سنایا کہ ویسے تو تم بڑی بڑی ہوائیاں مارتے ہو کہ فلاں کو ایسا بھرم دیا، فلاں کے ساتھ ایسا کیا۔ وقت پڑا تو تمہاری آواز نہیں نکل رہی تھی؟ لوگ بہانے بنارہے تھے کہ ہمیں کیا حق پہنچتا ہے اس کے معاملہ میں بولنے کا؟ میں نے کہا، اتنا تو فرض بنتا ہے کہ مظلوم کی حمایت کرو؟ اگر کوئی ظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہورہا ہے تو تم اس کا ساتھ تو دے سکتے ہو؟ بہرحال، ہم منزل مقصود پر پہنچے۔
گھر پہنچ کر یہ قصہ سنایا تو امی، ابو کی ڈانٹ :sad: کہتے ہیں، اکیلے کھڑے ہوجاتے ہو، کوئی ساتھ نہیں دے گا تمہارا۔ میں نے کہا، نہیں دیتا تو نہ دے۔ میں خود ہی کرتا رہوں گا ایسے۔۔۔ ایک دن لگے گی اخبار میں بڑی سی خبر۔۔۔
اور کسی “اور” نے بھی مجھ پر بہت غصہ کیا۔ ![]()
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
April 30, 2008 بوقت 2:22 pm
جیتے رہو عمار۔
بے انصافی کو للکارنا بہت دلیری کی بات ہے۔ بس خود سے کبھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔
اور کچھ جان شان بھی بناؤ۔ دبلے پتلے لوگوں کا رعب مشکل سے پڑتا ہے۔
April 30, 2008 بوقت 4:45 pm
عمار! ناانصافی کے خلاف بولنا بہت اچھی بات ہے لیکن امی ابو نے تمہیں بالکل ٹھیک ڈانٹا، حقیقت بتاؤں! اگر تم بھاگ کر خود دروازے پر نہ لٹک جاتے تو وہ بس والا اور کنڈیکٹر بھی تمہیں چھوڑ کر بھاگ جاتے۔ ویسے مجھے پہلے تو اتنا علم نہ تھا لیکن چند روز قبل 5 لڑکوں کے انہی بھرموں کی وجہ سے ایک بندے کے ہاتھوں جو دھنائی ہوتے ہوئے میں نے دیکھی ہے اس کے بعد سوچا ہے کہ آئندہ کبھی کسی پولیس والے سے پنگا نہیں لوں گا کیونکہ سول ڈریس میں وہ بندہ دراصل پولیس والا تھا۔ اللہ معاف کرے۔ آئندہ خیال رکھنا اور کسی دوسرے کے پھڈے میں ٹانگ مت اَڑانا۔
ابوشاملs last blog post..انسانی فطرت
April 30, 2008 بوقت 4:48 pm
شاباشی تو بڑوں نے دے دی۔ مجھے تمہاری پوسٹ کا طرز تحریر بہت پیارا لگا کیا ٹیپیکل کراچی کی زبان میں تم نے پوسٹ لکھی ہے۔ بہت عمدہ۔ اور یہ جو بھرم باز ٹائپ کے لونڈے ہوتے ہیں نا ان کے تو بس بھرم ہی ہوتے ہیں۔ ذرا سا جگر نہیں ہوتا ان میں۔ کسی کمزور کو دبالیا تو اتراتے ہیں۔ اور ویسے ہمارے معاشرے میں لوگ غلط کو غلط اور ظلم کو ظلم سمجھتے ہی کب ہیں؟
بہت اچھا روزانہ لکھا کرو
April 30, 2008 بوقت 8:08 pm
شاباش میرے شیر۔ لیکن ذرا بچ بچا کر یہ کرنا یہ لوگ جتنے حرام خور ہوتے ہیں اتنے ہی کمینے بھی ہوتے ہیں۔
محمد شاکر عزیزs last blog post..اردو کا ایک عدد کارپس بنانا
April 30, 2008 بوقت 8:45 pm
جتنی شاباش مل گئی ہے کافی ہے!
باقی کسی اور کی ڈانٹ کافی وزنی لگتی ہے!
میرے میاں مٹھو!
May 1, 2008 بوقت 5:07 am
تمھیں تو پنجابی ہونا چاہیے تھا عمار۔
لیکن ہاں بڑوں سے ایسے بات نہیں کرتے۔ “حرام لگ گیا ہے تمہارے منہ کو بے غیرتو۔۔۔” “لعنت ہو تجھ پر۔۔”
اور اوپر سے اس نے بھی گالیاں نکالیں۔ کیا فائدہ ہوا کہ ایک غلط حرکت کو برا کہتے ہوئے ایک اور غیر اخلاقی حرکت ہو گئی۔
ماوراءs last blog post..کتاب سروے 2008
May 1, 2008 بوقت 1:05 pm
نبیل بھیا! شکریہ۔۔۔ قانون تو واقعی ہاتھ میں لینے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ میں ایسا کوئی کام نہیں کرتا۔ اور اب خیر اتنا بھی دبلا پتلا نہیں ہوں۔۔۔ کافی ہوگیا ہوں۔

اب کیا کہوں۔۔۔۔
ابوشامل! آپ کی بات درست ہے اور اب تک امی مجھ سے یہی پوچھتی ہیں کہ کیا کوئی تمہارے ساتھ تھا؟ اگر بس والا چھوڑ جاتا تو؟ بڑی مشکل سے ان کو تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوتا۔ میں خود جانتا ہوں کہ میں جس کے لیے لڑ رہا تھا وہ بھی شاید مجھے چھوڑ کر بھاگ سکتا تھا مگر۔۔۔۔ :sad: بس اللہ نگہبان رہے۔ دعاؤں میں یاد رکھا کریں۔
نعمان بھائی! بہت شکریہ۔ مجھے بھی اچھا خاصا تجربہ ہوگیا ہے کہ کچھ لوگ صرف کاغذی شیر ہوتے ہیں۔ وہ صرف بڑی بڑی باتیں بناسکتے ہیں۔ اور کچھ بھی نہیں۔ آپ مجھے روزانہ لکھنے کو کہہ رہے ہیں، کیا مجھے روزانہ ایسے کام کرنے پڑیں گے؟؟؟
شاکر بھائی! شکریہ۔۔۔ بس دعا کرتے رہا کریں۔
شعیب صاحب!
ماوراء! میں نہیں سمجھتا کہ جس شخص سے میں نے یہ زبان استعمال کی، تو ایسا کرکے کچھ غلط کیا۔ ہاں، میں خود ایسی زبان استعمال کرنے سے پرہیز کرتا ہوں لیکن کبھی کبھار سامنے والے کو دیکھ کر بات کرنی پڑتی ہے۔ اگر میں نے اس کے سامنے سارے آداب و تمیز رکھے ہوتے تو اس نے مجھے شریف سا لڑکا سمجھ کر تھپڑ جڑ دینا تھا۔
May 1, 2008 بوقت 4:28 pm
اسلام علیکم،
عمار بہت اچھاکیا جو کسی کا ساتھ دیا
May 2, 2008 بوقت 2:10 am
راہبر ، کوئی نا انصافی ہو یا مظلوم پِٹ رہا ہو کسی بھی نا انصافی کے معاملے میں ، کسی مظلوم کی حمایت کرنا ، ہر کوئی چاہتا ہے ،مگر کراچی کے حالات تو ایسے ہیں کہ کسی ایسے معاملے میں جس میں سارجنٹ یا پولیس یا کوئی پارٹی کا معاملہ ہو ، کسی مظلوم کا ساتھ دے کر بندہ خود پھنس جاتا ہے ، احتیاط اچھی چیز ہے خاص کر قانون کے معاملے میں ، ڈانٹ کا کوٹہ بڑھانا چاہیئے تمہارے گھر والوں کو
May 2, 2008 بوقت 11:27 am
راہبر بھائی

یہ “اور” کون ہے
جس کے غصہ سے تم ڈرتے ہو
اکرامs last blog post..ايک منٹ ﺍﷲ ﮐﯿﻠﮱ
May 5, 2008 بوقت 12:02 pm
عمار ۔ بہت اعلی ، اس سانچہ کو قدیر اور میں پہلے ہی تھیم میںڈھال چکے ہیں، لیکن تمہاری سائیڈ بار اور تبصرے دیکھ کر جی خؤش ہو گیا ہے ، تم ایک دو اور سانچوں کو تھیم میںڈحال لو، پھر ہم ورڈ پریس تھیم بنانے کا مقابلہ رکھیںگے ۔
جہانزیبs last blog post..اردو اور ترقی
May 5, 2008 بوقت 2:48 pm
میں تو یہی کہوں گا کہ بالکل صحیح کیا کیونکہ برائی کو قبول کرنے سے ہی وہ بڑھتی ہے۔
محب علویs last blog post..AUTISM
May 5, 2008 بوقت 4:45 pm
عدنان زاہد: وعلیکم السلام۔ شکریہ بھائی۔
حجاب! آپ بھی :sad:
اکرام! بس کچھ باتوں کو راز میں رہنے دیں۔
جہانزیب بھائی! آپ کے تبصرے کو تھیم والی پوسٹ کے تبصروں میں کاپی کردیا ہے۔
محب بھائی! شکریہ۔
May 9, 2008 بوقت 12:20 am
عمار
السلامُ عليکُم
آپ کی بھرم بازی کی داستان پڑھی ليکن ميرے خيال ميں پہلے ميں بھی اپنا حق استعمال کر لُوں وُہی بقول ميری بيٹي„ بڑے ہونے کا ناجائز استعمال „
ٹھيک ہے بچے آپ نے اپنے طور پر جو بھی کيا بہت اچھا کيا ايک عُمر ہوتی ہے جس ميں انسان کو گرما گرمی درُست لگتی ہے ليکن وقت کے ساتھ شايد انسان اپنے بچوں کی وجہ سے بُزدل ہو جاتا ہے ورنہ حق بات کہنا ہے تو قابل تعريف بات ہی اللہ تعاليٰ سب کو حق بات کہنے کی توفيق دے ليکن ياد رکھو جو بھی کہو يا کرو ہميشہ حد ميں رہ کر اور امّی ابُو نے جو ڈانٹا تو بہت اچھا کيا اور رررررررررر اور جس نے بھی جو کُچھ کہا ٹھيک کيا ايک بُلھے شاہ کی زبان ميں ايک لائن لکُھوں
بُلہيا گل تائيوں مُکدی
جے منوں ميں مُکائيے
جس دن ہمارے اندر سے ميں ختم ہو جاۓ وُہی دن ہمارے لۓ بہترين ہوگا کاش کہ ہر کوئ ايسا سوچے ليکن ہوتا نہيں بہرحال
اپنا خيال رکھنا
خير انديش
شاہدہ اکرم
شاہدہ اکرمs last blog post..عراق
May 9, 2008 بوقت 4:44 pm
وعلیکم السلام شاہدہ آپی۔۔۔ میں ایک بات بتاؤں۔۔۔ میں عمومی طور پر دفاعی رویہ اختیار کرنے والا انسان ہوں۔ مجھے لڑائی جھگڑے سے بہت خوف آتا ہے لیکن کچھ جگہ مجھے لگتا ہے کہ نرمی سے کام نہیں نکلے گا۔ وہاں مجھے مجبورا سختی دکھانی پڑتی ہے حالانکہ تھوڑا ڈر بھی ہوتا ہے۔ بس دعا کریں کہ اللہ مجھے اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین
May 9, 2008 بوقت 8:05 pm
ہوتا ہے، چلتا ہے، دنیا ہے۔
ساجداقبالs last blog post..ورڈپریس ہیلپ شیٹ
May 9, 2008 بوقت 10:54 pm
زبر دست عمار
اتنے کمینے لوگ ہوتے ہیں یہ کہ چند روپوں کی خاطر لوگوں کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں اور تو اور تہذیب کے دائے میں رہ کر انہیں بات کرنی بھی نہیں آتی مجھے تقریبا 6 ماہ ہوئے ہیں بائیک کی ڈرائیو کرتے ہوئے اور ان 6 ماہ میں 4 دفعہ مجھے انہوں روکا پلی باررمضان مبارک میں وہ چونکہ میری پہلی دفعہ تھی اور یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ ان سے جان کیسے چھڑانی ہے خیر ہیلمٹ نہ ہونے کی وجہ سے چالان کرایا (مگر رشوت نہیں دی) دوسری دفعہ ہم تین سوار تھے اور ہلیمٹ نہیں تھا کہ اچانک ان سے پالا پڑا ورنہ متبادل رستہ بھی تھا اس دن بھی مجبورا چالان کرایا اب تیسی بار سب کچھ پورا پھر جب اس نے روکا تو اوبجکشن کہ لرننگ لائسنس پہ آپ بائیک نہیں چلا سکتے کافی بدتہذیبی کے انداذ سے جب اس نے کہا تو میں نے کہا دیکھو جس انسانیت کے دائرے میں رہ کر بات کرو ورنہ مجھے بھی تمہارے والے لہجے میں آتے ہوئے دیر نہیں لگتی مگر میرے اس جواب پر پھر بدتہذیبی اس پر پھر میں آ گیا طیش میں اور شروع ہو گیا کہ جو کرنا ہے کرو کہے لائسنس پر چلانے کی اجازت نہیں میں کہوں کہ اس کے پہچھے لکھو کہ میں اس لائسنس پر بائیک نہیں چلا سکتا اور یہ کام اسکی ہمت سے باہر تھا کیونکہ لائسنس اسلام آباد ٹریفک پولیس والوں کا جاری کردہ تھا اور وہ خود پھنستا تھا خیر کافی بحث کے بعد وہ کہے جاؤ میں کہوں نہیں لکھو کہ یہ استعمال نہیں ہو سکتا خیر پھر اس نے مجھے ہاتھ جوڑ کر وہاں روانہ کیا پھر اس کے اب لگ بھگ 3 ماہ میں اس نے کبھی نہیں روکا ایک اور نے اک بار روکا تو میں رکے بغیر ہی گزر گیا
حال ہی کی بات ہے کہ بائیک پر اسلام آباد گیا حالانکہ فسٹ ٹائم کا سفر تھا ڈبل روڈ پر اور وہ بھی اسلام آباد کے ایریے میں مگر وہاں کی پولیس نے کہیں بھی مجھے تنگ نہیں کیا ختی کہ اک جگہ بھولا تو پوچھنے کے لئے بھی پو لیس والوں کے پاس ہی گیا اور ان سے پوچھ کر درست رستے پر چلا بس ہمارے اس ملک کے ہر اک ادارے پر اللہ ہی رحم فرمائے آمین