اپریل حملہ
اپریل کی آمد کے ساتھ ہی یہ خوشخبری گلے پڑی کہ بس کے کرایوں میں دو روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ یقینا اپریل فول نہیں تھا، ہمیں اس پر مکمل یقین ہے کہ ایسا ہی ہوا ہے۔۔۔ اور ایسا ہی ہونا تھا۔۔۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں جب دو بار ہوشربا اضافہ ہوا تو اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ بے چارے مسافر۔۔۔ بس والوں سے جھگڑتے رہتے ہیں حالانکہ ان کا بھی کوئی قصور نہیں ہے۔ کل سے گاڑیوں میں نئے کرایوں کی فہرست آویزاں ہوگئی ہے جو کہ حکومت کی منظوری سے ہے۔
ویسے ایک حیرت انگیز بات بھی ہے۔۔۔ اگر آپ 1 کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں تو کرایہ ہے 8 روپے جو کہ کم سے کم کرایہ ہے اور اگر آپ 23 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں تو کرایہ ہے دس روپے جو کہ زیادہ سے زیادہ کرایہ ہے۔ خود سوچئے کہ یہ کتنی عقلمندی کا کام ہے۔۔۔ کم سے کم کرایہ چھ روپے کا تھا، اس پر بھی دو روپے کا اضافہ ہوا اور زیادہ سے زیادہ کرایہ 8 روپے تھا، اس پر بھی دو روپے کا اضافہ۔ یعنی ایک بندہ جو صرف ایک، دو اسٹاپ کے چھ روپے دیتا تھا، اسے بھی اب 8 روپے دینے ہوں گے۔ کیا ہی عقلمند لوگ بیٹھے ہیں ماشاء اللہ۔
اس کے علاوہ دودھ کی قیمت میں بھی اچانک ہی 6 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا ہے اور اب دودھ 36 روپے کے بجائے 42 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے۔۔۔ عیش کرنے والے عیش کررہے ہیں، رونے والے جائیں بھاڑ میں۔
یہ اپریل کا مہینہ شروع ہوتے ہیں دو حملے ہوئے ہیں۔۔۔ باقی دیکھتے ہیں۔۔۔ اپریل وار جاری ہے۔۔۔!
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
April 2, 2008 بوقت 2:54 pm
اصل میں ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہی یہ دو اسٹاپ والے ہوتے ہیں جسے ان کی زبان میں “لوکل سواری” کہا جاتا ہے، پہلے سے آخری اسٹاپ تک چڑھنے والے بہت کم ہی ہوتے ہیں، اس لیے زیادہ سے زیادہ کمائی کے لیے ٹرانسپورٹرز کا بنیادی مطالبہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ کم سے کم کرائے کا تعین کیا جائے۔
April 2, 2008 بوقت 7:26 pm
یہی ڈرامہ آجکل ہمارے ہاں بھی زور سے جاری ہے، تاہم دلچسپ بات اندرون اسلام آباد کی ٹرانسپورٹ کے کرایے نہیں بڑھے، جبکہ سی این جی سوزوکیوں والوں کو اختلاج شروع ہو گیا تھا۔ :roll:
April 3, 2008 بوقت 12:14 am
گرانی کا پوری دنیا میںاس وقت یہی حال ہے، بسوں ویگنوں والے پٹرول کی بے لگام بڑھتی قیمیتوں کے حساب سے کرایہ میں اضافہ کے مطالبہ میں حق بجانب ہیں۔ اصل بات وہی ہے کہ تیل کی قیمت بڑھے یا مارکیٹکریش ہو، اثر ہمیشہ عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے ۔
April 3, 2008 بوقت 10:21 am
23 کول میٹر کا کرایہ 10 روپے۔۔۔یہ تو بہت کم ہے۔۔۔پھر تم اتنا شور کیوں کر رہے ہو کرائے کو لے کر۔۔؟؟
April 3, 2008 بوقت 11:09 am
کل صرف گھر سے دفتر آنے اور واپس گھر جانے میں میرا 63 روپے کرایہ لگا ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیے کہ ایک غریب شخص کس طرح نوکری کر کے اپنے گھر والوں کا پیٹ پال سکتا ہے۔ اب بھی یہاں کراچی میں اکثریت ان افراد کی ہے جن کی تنخواہ 4 سے 6 ہزار کے درمیان ہے۔ اگر کرائے اور دوپہر کے کھانے کی مد میں 100 روپیہ خرچ ہو گیا تو وہ اپنا گھر کیسے چلائے گا؟
April 3, 2008 بوقت 11:10 am
اور زینب صاحبہ! ایک کلومیٹر کا کرایہ 8 روپے وہ آپ کو نظر نہیں آ رہا کیا؟
April 3, 2008 بوقت 2:00 pm
بس۔۔۔ سب رو ہی رہے ہیں۔۔۔ روتے ہی رہیں گے۔۔۔ کیونکہ اس وقت ہمارے ملک کا بنیادی مسئلہ دہشت گردی، امریکہ اور قومی مفاہمت جیسے معاملات ہیں۔
April 6, 2008 بوقت 1:49 am
عمار
السلامُ عليکُم
اپريل کی آمد کے ساتھ ہی جو حملے عام انسان پر ہُوۓ ہيں کتنی عجيب بات ہے وہ حملے کۓ بھی اُنہوں نے ہيں جنہوں نے عوام کی خدمتوں کے وعدے کۓ ہوتے ہيں اور بجٹ کے آنے سے پہلے کے منی بجٹوں کا مُقابلہ بھی انہی عوام کو کرنا ہوتا ہے جو کبھی قيمتوں کی زيادتی کے حملوں کی زد ميں آتی ہے اور کبھی بم دھماکوں کے لۓ بھی يہی عام عوام ہی کام آتے ہيں سوچنے کی بات ہے يہ عام عوام نا ہوں تو خواص حکُومت کس پر کريں گے
خيرانديش
شاہدہ اکرم
April 6, 2008 بوقت 5:09 am
ہمارے ہاں بھی بس کا ٹکٹ بہت مہنگا ہے۔ :sad: میرا تو حوصلہ نہیں ہوتا۔۔اس لیے پیدل مارچ کو ہی ترجیح دیتی ہوں۔
April 7, 2008 بوقت 11:34 am
وعلیکم السلام شاہدہ آنٹی!
حکمرانوں کے تو بس چہرے ہی بدلتے ہیں، انداز تو اب تک ہم نے بدلتے ہوئے نہیں دیکھے۔
ماوراء! چلو اسی بہانے پیدل چلنا پڑتا ہے، یہ اچھی عادت ہے۔ یہاں لوگوں کو سہل پسندی کی عادت اس قدر ہے کہ پیدل چلنا گوارا نہیں۔ میں نے پیدل چلنے کی عادت ابو سے لی ہے۔۔۔ ان کو ہمیشہ بہت پیدل چلتے دیکھا ہے۔