بھرم بازی

348 views April 30, 2008 | راہبر
No Gravatar

میں بہت شریف انسان ہوں (واقعی)۔ سیدھا سادہ۔۔۔ لیکن چونکہ غصہ کا تیز اور جوشیلا ہوں اس لیے کچھ جلدی بھڑک جاتا ہوں۔ :razz: کل اچھی خاصی حرکت ہوگئی۔

بس میں جارہا تھا۔ قائد اعظم کے مزار سے کچھ پہلے گاڑی بیچ سڑک پر کھڑی ہوگئی۔ دونوں اطراف سے گاڑیاں گزر رہی تھیں۔ کچھ دیر تو میں نے خاموشی اختیار کی پھر حسب عادت کرخت آواز میں ڈرائیور پر گرجا۔ ڈرائیور نے معصومیت سے شیشے میں دیکھ کر کہا کہ یار آگے سارجنٹ نے روک رکھا ہے۔ یہ ٹریفک پولیس والے اپنے دھندے کے چکر میں ہر جگہ ہی کھڑے نظر آتے ہیں۔ میں نے ڈرائیور کو کہا کہ بھئی، گاڑی کھڑی کرنی ہے تو کنارے پر لگاؤ نا، یہ کیا بیچ میں کھڑے ہو۔ پتا چلا کہ سارجنٹ صاحب گاڑی کے عین سامنے آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔ پھر کنڈیکٹر آیا۔ مسافروں سے اپیل کرنے لگا کہ یار، آپ لوگ اترو، کچھ کہو۔۔۔ ہم حرام تو نہیں کماتے جو ان لوگوں کو دیدیں۔ میں بہت متاثر ہوا کہ یہ تو بڑا بہادر بنا ہے۔ دو، تین لوگ بس سے اتر رہے تھے۔ میں بھی اترا اور سارجنٹ کے پاس پہنچا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیوں روک رکھا ہے، جانے کیوں نہیں دیتا؟ کہنے لگا کہ تم لوگ کون ہوتے ہو؟ میری مرضی۔۔۔ اور اس گاڑی والے سے کہو، کاغذات دیدے، چالان کردیتا ہوں۔ اب کنڈیکٹر اس سے پوچھے کہ چالان کی وجہ تو بتاؤ نا؟ کیا میں نے کوئی سگنل توڑا؟ کوئی جرم کیا؟ تو اس پر وہ سارجنٹ اس کو گالیاں دے کہ تم لوگ میراثی کے بچے، صبر کرو، تمہارا تو میں یہ کروں گا، وہ کروں گا۔۔۔ عجیب بکواس۔۔۔ لوگ واپس آگئے۔۔۔ پھر میں نے بس میں کچھ لوگوں کو تیار کیا۔ لڑکوں کو بھی کہا کہ ویسے تو بہت بھرم مارتے پھرتے ہو، آؤ تو میدان میں۔ لیکن بے فائدہ۔ خیر، اب کی بار کچھ بوڑھے حضرات اترے۔ میں پھر ان کے ساتھ چلا۔ بوڑھوں نے بات کی تو ان سے بھی سارجنٹ نے بدتمیزی کی۔ مجھے تو غصہ تھا۔ میں نے کہا، ابھی تیرے ہاتھ میں پچاس روپے کا نوٹ رکھ دیں گے نا تو سب چالان بھول جائے تجھے۔ بس یہ سننا تھا کہ سارجنٹ نے تو سب کو چھوڑا، مجھ سے الجھ گیا۔

بس ڈرائیور نے موقع غنیمت جانا۔ اس نے گاڑی تھوڑا پیچھے کی اور رخ موڑ کر ایک طرف سے نکالنے لگا۔ باقی لوگ جلدی جلدی بس میں چڑھ گئے۔ جب بس کا دروازہ میرے قریب آیا تو میں بھی سوار ہوگیا۔ سارجنٹ اپنی بڑبڑا رہا تھا، میں نے چینخ کر اسے کہا، حرام لگ گیا ہے تمہارے منہ کو بے غیرتو۔۔۔ :razz: اس پر تو اس نے ماں بہن کی گالیاں شروع کردیں۔ بس آگے بڑھ رہی تھی۔ میں نے اس کی طرف ہاتھ کا اشارہ کیا اور کہا، لعنت ہو تجھ پر۔ وہ فورا اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہوا اور آگے بڑھا۔ تاثر اس نے یہ دیا کہ جیسے وہ ہمارا پیچھا کرے گا لیکن دراصل ان گرے ہوئے لوگوں میں اتنی جرات نہیں ہوتی اور جہاں کئی لوگ ہم آواز ہوجائیں، وہاں سے یہ لوگ فرار ہونے میں ہی عافیت جانتے ہیں لہذا وہ بھی موٹرسائیکل لے کر ایک طرف ہوگیا۔ میں نے اپنے ساتھ والے ایک لڑکے کو خوب سنایا کہ ویسے تو تم بڑی بڑی ہوائیاں مارتے ہو کہ فلاں کو ایسا بھرم دیا، فلاں کے ساتھ ایسا کیا۔ وقت پڑا تو تمہاری آواز نہیں نکل رہی تھی؟ لوگ بہانے بنارہے تھے کہ ہمیں کیا حق پہنچتا ہے اس کے معاملہ میں بولنے کا؟ میں نے کہا، اتنا تو فرض بنتا ہے کہ مظلوم کی حمایت کرو؟ اگر کوئی ظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہورہا ہے تو تم اس کا ساتھ تو دے سکتے ہو؟ بہرحال، ہم منزل مقصود پر پہنچے۔

گھر پہنچ کر یہ قصہ سنایا تو امی، ابو کی ڈانٹ :sad: کہتے ہیں، اکیلے کھڑے ہوجاتے ہو، کوئی ساتھ نہیں دے گا تمہارا۔ میں نے کہا، نہیں دیتا تو نہ دے۔ میں خود ہی کرتا رہوں گا ایسے۔۔۔ ایک دن لگے گی اخبار میں بڑی سی خبر۔۔۔

اور کسی “اور” نے بھی مجھ پر بہت غصہ کیا۔ :cry:

کچرا

298 views April 24, 2008 | راہبر
No Gravatar

“کچرا نہ پھیلائیں۔ سب کو یہ سمجھائیں۔”

“کچرا کوڑے دان میں ڈالئے۔”

ایسے مزید بھی کچھ جملے شاید آپ کی نظر سے گزرے ہوں۔ حکومت نے کئی جگہ لکھوائے ہیں۔ لیکن آج میری نظر سے ایک منفرد جملہ گزرا۔ جانتے ہیں، کیا؟

“خدا کے لیے یہاں کچرا نہ ڈالیں۔”

ذرا محسوس کیجئے، کتنی بے بسی اور لاچاری سے التجاء کی گئی ہے۔ یہ ناظم آباد کے علاقہ میں ایک کونے کے مکان کی دیوار پر لکھا ہوا تھا۔ غالبا اس گھر کے سامنے لوگ کچرا ڈال جایا کرتے ہوں گے جس پر اس بے چارے نے تنگ آکر یہ جملہ لکھوایا ہوگا۔

یہاں کچرا پھیلانے والے بہت ہیں۔ یا یوں کہئے کہ یہاں کچرا بہت ہے۔ جب سے شہری حکومتوں کا نظام آیا ہے، صفائی ستھرائی پر کچھ توجہ دی جانے لگی ہے لیکن اب بھی بہت کچھ کرنا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ ہمیں خود احساس کرنا ہے اس مسئلہ کا۔۔۔ ہمیں خود کچرا پھیلانے سے بچنا ہے۔

ہمارے گھر سے کچھ دور ایک پلازا ہے۔ وہاں دوسری تیسری منزل کے ایک بزرگ اکثر چینختے ہوئے ملتے تھے کہ لوگ پلازا کے کنارے کچرا ڈال جاتے ہیں جس سے بدبو کے بھبکے اٹھتے رہتے ہیں (واضح رہے کہ وہ جگہ باقاعدہ کچرا ڈالنے کی جگہ ہی ہے)۔ خیر، وہ بزرگ ہر وقت کچرا ڈالنے والوں پر گرجتے برستے رہتے۔ ایک دن ابو وہاں سے گزر رہے تھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ بزرگ خود اپنے گھر سے کچرا نیچے پھینک رہے ہیں۔ ابو نے انہیں دیکھا تو وہ کچھ بوکھلا سے گئے اور پھر کہنے لگے کہ اصل میں یہ کچرا ہم سے اوپر والوں نے ہماری گیلری میں پھینک دیا تھا اس لیے اسے نیچے پھینک رہا ہوں۔ :razz:

کچھ گھرانوں میں تو صفائی کا معیار بہت گرا ہوا ہے۔ کچرے کی تھیلیاں بنائیں اور وہیں سے بیٹھے بیٹھے کھڑکی سے باہر پھینک دیں۔ اب چاہے وہ کسی کے سر پر جاگرے یا کچھ بھی ہو۔۔۔ انڈا توڑا، توے پر ڈالا اور چھلکا کھڑکی سے باہر۔۔۔ شہر کے ان علاقوں میں ایسے واقعات اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں میمن برادری کی اکثریت ہو۔ لیکن یہ حرکت صرف ان ہی تک محدود نہیں بلکہ دوسرے بھی کرتے ہیں۔ ہماری ہی بلڈنگ میں ایک گھر سے سب کو یہ شکایت تھی۔ بارہا کہا لیکن کچھ اثر نہ ہوا۔ شرم دلانے کے لیے ان کو کچرا ڈالنے کی ٹوکری بھی دی گئی لیکن اس کے باوجود وہی شکایت۔

حاصل گفتگو یہ کہ کچرا اپنے مقام پر ڈالیں۔

ایک دن میرزا محب دہلوی کے ساتھ

527 views April 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

آپ نے میرزا محب دہلوی کو دیکھا ہو یا نہ ہو، ملے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، نام تو یقینا سنا ہی ہوگا۔ میں انہیں زمانہ حال کی نادر و نایاب اشیاء (یا افراد) میں گردانتا ہوں۔ اب آپ بھلے مجھ سے لاکھ اختلاف کریں، لیکن میں اپنے بیان پر مصر ہوں۔ آپ ان سے بات کیجئے، جھٹ سے فروغ اردو کے لیے آپ کو رضاکار بننے کی تجویز دیں گے۔ پھر آپ چاہے ہنس کر ٹال دیں یا بات گھمادیں، لیکن اس خوش فہمی کا شکار ہرگز نہ ہوں کہ آپ کو کامیابی مل گئی ہے۔ دو لمحے کی مزید گفتگو کے بعد آپ کو ایک بار پھر دعوت دی جائے گی اور دعوت کا یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جائے گا اگرچہ آپ کام شروع بھی کردیں۔ آپ بہانے کرتے کرتے تنگ آجائیں گے لیکن یہ ہرگز تنگ نہ ہوں گے۔

کچھ لوگ سوچتے ہیں اور کچھ پوچھتے بھی ہیں کہ یہ موصوف ہم سے اتنا کام کرواتے ہیں پر خود کیا کرتے ہیں؟ یہ اکثریت کے لیے ایک معمہ ہے اور اسے معمہ ہی رہنا چاہئے۔ اگرچہ بزرگ بلونگڑے قدیر احمد مدظلہ العالی نے میرزا محب دہلوی کو “گفتار کا غازی” پکار کر کچھ انکشاف کرنے کی کوشش کی ہے تاہم بہتر ہے کہ آپ ایسی باتیں نظر انداز کردیں۔

عرصہ سے اڑتی اڑتی خبر تھی کہ میرزا صاحب کراچی تشریف لائیں گے اور آخر کار وہ گھڑی آگئی کہ موصوف نے 19 اپریل 2008ء کو اپنی آمد سے شہر کراچی کو شرف بخشا۔ اگلے دن، اتوار کو ان کا فون آیا تو پتا چلا کہ کچھ مقامات دیکھنے کا ارادہ ہے۔ کچھ دیر بعد ہم نے ان کے میزبان ابو شامل کو فون گھمایا۔۔۔ پتا چلا کہ پہلے پی۔اے۔ایف میوزیم چلنے کا ارادہ ہے۔ ادھر ہم پہنچے، ادھر میزبان اپنے مہمان صاحب کو لے پہنچے۔

کچھ دیر باتیں ہوئیں، ٹھنڈا پیا۔ اسی دوران کراچی اور لاہور کا تقابل ہونے لگا۔ پتا یہ چلا کہ کل رات سے یہی بحث جاری ہے کہ لاہور کو اتنا سر چڑھا کر کیوں بیان کیا جاتا ہے؟ میرزا محب دہلوی اکثر کافی زور و شور سے لاہور کی برتری ثابت کرنے کی کوشش فرماتے۔ کچھ دیر بعد نماز ظہر ادا کی۔ اس کے بعد میوزیم کے معائنہ کے لیے اندر داخل ہوئے۔ میں کراچی میں رہتے ہوئے اس طرف پہلی بار آیا تھا۔ بہت دلچسپ اور معلوماتی دورہ تھا۔ غالبا محب صاحب کو اس میں خاص دلچسپی محسوس نہ ہوئی لہذا وہ ہم سے پہلے ہی گھوم پھر کر باہر نکل گئے۔ ابوشامل مجھے جہازوں اور ہتھیاروں کے بارے میں کافی معلومات فراہم کرتے رہے۔ ہم تو شاید مزید کافی دیر وہیں لگادیتے لیکن میرزا صاحب کی مس۔کالز آنے لگیں۔ لہذا ہم باہر نکلے۔ اب موصوف کو ڈھونڈتے ہیں تو نظر نہیں آتے۔ کچھ دیر بعد میری نظر پڑی تو ایک جوڑے کے پہلو میں بیٹھے فون پر گفتگو میں مصروف تھے۔ ہم نے انہیں وہاں سے اٹھایا۔ فرمانے لگے، میں نے ایک جوڑے کو مخصوص مسائل پر گفتگو سے ہٹ کر عمومی مسائل پر گفتگو کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ :) پھر کچھ دیر سیاسی و تاریخی گفتگو فرمائی۔ چائے کا دور چلا۔ وقفہ وقفہ سے کراچی اور لاہور کا تقابل جاری رہا۔

پھر یہ طے کیا جانے لگا کہ اگلی منزل کیا ہوگی؟ میرزا محب دہلوی کو کوچہ ثقافت دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا۔ اگرچہ ہم نے انہیں کہا بھی کہ ثقافت تو یہاں بھی اچھی خاصی نظر آرہی ہے لیکن موصوف بضد تھے لہذا کوچہ ثقافت کی ٹھانی۔ تاہم جب منزل پر پہنچے تو یہ دیکھ کر خاصی مایوسی ہوئی کہ کوچہ ثقافت لپیٹ دیا گیا تھا۔ شاید انہیں میرزا صاحب کے آنے کی خبر ہوگئی تھی۔ :D انہیں بڑا افسوس ہوا۔

قریبی مسجد میں عصر کی نماز ادا کی۔ اب سوچنے لگے کہ یہاں سے کہاں جایا جائے؟ ہمارا ارادہ تھا کہ ساحل سمندر پر چلتے ہیں لیکن میرزا صاحب فرماتے تھے کہ انہوں نے پہلے بھی دیکھا ہوا ہے لہذا کسی “اور” جگہ چلا جائے۔ اب یہ “اور” کافی قابل غور بھی ہوسکتا تھا لیکن اس “اور” کے “قابل غور” ہونے کے لیے “لاہور” والے کا ہونا بہت ضروری تھا اس لیے آخر کو سمندر کی طرف روانہ ہوئے۔

ساحل پر پہنچ کر میرزا صاحب سٹے کی بابت دریافت کرنے لگے۔ ہم معصوم تو بے چارے ایک ہی سٹے کو جانتے ہیں جو کسی کھیل پر لگایا جاتا ہے لیکن راز کھلا کہ ان کے “سٹے” سے مراد وہ ہے جسے ہم “بھٹہ” کہتے ہیں۔ میرا اور ابو شامل کا دل نہیں تھا۔ میرزا صاحب نے ایک جگہ سے “سٹہ” لیا۔ میں اور ابو شامل کھڑے باتیں کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد دیکھتے ہیں تو میرزا صاحب ایک دوسرے سٹے والے کے ٹھیلے پر پہنچے ہوئے تھے۔

خیر، اس کے بعد ہم نے انہیں ساحل کے ساتھ ساتھ بہت پیدل چلایا۔ کافی دیر بعد جب ہم بیٹھے تو اندھیرا چھا رہا تھا۔ چائے پی، کھایا پیا، اور اس کے بعد گھر کو روانہ ہوئے۔۔۔

پیسہ ہضم، کہانی ختم۔

بلاگ پر ویڈیوز اور تصاویر

268 views April 15, 2008 | راہبر
No Gravatar

بلاگ کے نئے صارفین کو کئی مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ابتداء میں چھوٹے چھوٹے مسائل بھی بہت بڑے محسوس ہوتے ہیں۔ ان ہی میں ایک مسئلہ بلاگ پر کوئی تصویر یا ویڈیو لگانا ہے۔

سب سے پہلے بلاگ پر تصویر لگانے کا طریقہ:
آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ کسی امیج ہوسٹ سائٹ پر اپنی تصویر اپ۔لوڈ کروالیں۔ مثلا امیج شیک پر۔ جب آپ کی تصویر اپ۔لوڈ ہوجائے گی تو اس کا لنک آپ پوسٹ ایڈیٹر میں وہاں پیسٹ کردیں جہاں آپ وہ تصویر ظاہر کروانا چاہتے ہیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جب آپ کوئی پوسٹ لکھنے کے لیے ایڈیٹر کھولتے ہیں تو ایڈیٹر کے نیچے دیکھئے گا، اپ۔لوڈز کا خانہ موجود ہوگا۔ وہاں آپ براؤز کرکے اپنی مطلوبہ تصویر اپ۔لوڈ کریں۔ جب اپ۔لوڈ ہوجائے گی تو آپ کے سامنے Send to Editor کا بٹن آجائے گا۔ اسے دبانے سے وہ تصویر پوسٹ میں شامل ہوجائے گی۔
شروع میں ممکن ہے کہ کچھ مشکلات پیش آئیں لیکن چند تجربات کیجئے، مزا بھی آئے گا اور پھر کامیابی بھی ملے گی ان شاء اللہ۔

بلاگ پر ویڈیو اپ۔لوڈ کرنے کا طریقہ:
تصویر کی طرح آپ جو ویڈیو اپنے بلاگ پر شائع کرنا چاہ رہے ہیں، اس کا بھی کہیں نہ کہیں اپ۔لوڈ ہونا ضروری ہے۔ ایسی بہت سی ویڈیو ہوسٹ سائٹس موجود ہیں جن میں یوٹیوب سر فہرست ہے۔ آپ یوٹیوب پر اپنا اکاؤنٹ بنا لیجئے (یعنی کہ سائن۔اپ کرلیں)۔ اس کے بعد اپنی ویڈیو یوٹیوب پر اپ۔لوڈ کیجئے۔ میں یہاں پر فرض کررہا ہوں کہ آپ جو ویڈیو اپنے بلاگ پر شائع کرنا چاہتے ہیں، وہ یوٹیوب پر موجود ہے۔ اس ویڈیو کو چلایئے۔۔۔
ایڈریس بار میں اس ویڈیو کا ڈائرکٹ لنک (URL) ہوگا جب کہ ویڈیو کے دائیں جانب ایک کوڈ Embedded Player کے نام سے ہوگا۔ اس کوڈ کو کاپی کرلیجئے اور اپنے بلاگ کے پوسٹ ایڈیٹر میں آکر پیسٹ کردیں۔ پوسٹ پبلش کرکے دیکھیں۔۔۔۔ لیجئے۔۔۔ پوسٹ میں ویڈیو شامل ہوگئی۔۔۔

کیوں میاں۔۔۔ سب سمجھ گئے؟

285 views April 11, 2008 | راہبر
No Gravatar

ایک مولانا صاحب ہوا کرتے تھے جن کا تکیہ کلام تھا، “کیوں میاں؟ سب سمجھ گئے؟”۔ ہوا یوں کہ ایک دن مسجد انتظامیہ نے عصر کی نماز سے قبل اعلان کردیا کہ تمام نمازی حضرات نماز کے بعد تشریف رکھیں، مولانا صاحب وعظ فرمائیں گے۔ اب مولانا صاحب کا دل نہیں چاہتا تھا لیکن چونکہ اعلان ہوچکا تھا لہذا بعد از نماز منبر پر چڑھے۔۔۔ ابتدائی کلمات حمدیہ و نعتیہ کے بعد فرمایا۔۔۔ “کیوں میاں؟ سب سمجھ گئے” سب لوگوں نے صدا بلند کی کہ “جی جی۔۔۔ سمجھ گئے۔۔۔” تو انہوں نے فرمایا کہ “میاں جب آپ لوگ اتنے ہی سمجھدار ہیں کہ میرے سمجھائے بنا سمجھ گئے تو پھر میرے سمجھانے کی کیا ضرورت؟” اور یہ کہہ کر اٹھ پڑے۔

لوگوں نے بڑا افسوس کیا کہ یہ ہم نے کیسا جواب دیدیا کہ وعظ سننے سے محروم رہ گئے۔۔۔ طے ہوا کہ اگلی بار جب مولانا صاحب یہ پوچھیں کہ سب سمجھ گئے تو سب مل کر کہیں گے کہ نہیں، ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔ سو، مغرب پر پھر اعلان ہوا کہ نماز کے بعد وعظ ہوگا۔ مولانا صاحب کا دل ہرگز نہ چاہتا تھا لیکن مجبور تھے لہذا منبر پر جلوہ گر ہوئے۔ ابتدائی کلمات کے بعد اپنا تکیہ کلام دہرایا۔۔۔ “کیوں؟ سب سمجھ گئے؟” سب نے ایک آواز ہوکر کہا کہ “نہیں نہیں۔۔۔ ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔۔۔ کچھ بھی نہیں سمجھے۔۔۔” مولانا صاحب فرمانے لگے: “ارے جب آپ لوگ اتنے نا سمجھ ہو کہ سمجھتے ہی نہیں تو پھر آپ لوگوں کو سمجھانا فضول ہے۔۔۔” یہ کہا اور اٹھ کر چل دیئے۔۔۔

اب لوگ پریشان کہ یہ کیا ہوا۔۔۔ دوبارہ وعظ سننے محروم۔۔۔ کیا کیا جائے؟ طے ہوا کہ عشاء میں دوبارہ وعظ کا اعلان کیا جائے اور مولانا صاحب جب یہ سوال پوچھیں تو ان کے دائیں طرف والے لوگ کہیں کہ ہاں، ہم سمجھ گئے اور بائیں طرف والے لوگ کہیں کہ نہیں، ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔۔۔ تب تو انہیں ضرور وعظ کرنا ہی پڑے گا۔

منصوبہ کے مطابق عشاء کے وقت بھی وعظ کا اعلان کردیا گیا۔ اب مولوی صاحب نہ چاہتے ہوئے بھی منبر پر تشریف فرما ہوئے اور جب اپنا تکیہ کلام ادا کیا کہ سب سمجھ گئے؟ تو آدھے لوگوں نے کہا کہ ہاں، ہم سمجھ گئے اور آدھے لوگ کہنے لگے کہ نہیں، ہم تو بالکل بھی نہیں سمجھے۔ مولانا صاحب نے فرمایا: “بھئی ماشاء اللہ۔۔۔ کچھ لوگ بہت ہی سمجھ دار ہیں اور کچھ لوگ انتہائی ناسمجھ۔ تو جو لوگ سمجھ گئے ہیں، میری ان سے گزارش ہے کہ جو لوگ نہیں سمجھے، وہ ان کو سمجھادیں۔۔۔ وما علینا الا البلاغ”
یہ کہہ کر چل دیئے۔
:razz:

ہادی عالم۔ ایک انوکھی کتاب

331 views April 3, 2008 | راہبر
No Gravatar

مولانا ولی رازی کی شخصیت پاکستان کے مذہبی علمی حلقوں میں نئی نہیں ہے۔ غالبا وزیر مذہبی امور یا وزیر اوقاف بھی رہ چکے ہیں۔ روزنامہ “امت” میں اکثر ان کے کالم بھی چھپا کرتے تھے۔ آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ایک کتاب لکھی ہے جو اردو زبان کی سب سے انوکھی کتاب ہے۔ جانتے ہیں کیوں؟ اس لیے کہ اس پوری کتاب میں تمام الفاظ غیر منقوط استعمال کیے گئے ہیں۔ یعنی اردو کا ایک حرف بھی ایسا نہیں آیا جس میں نقطہ ہو۔۔۔ مثلا، ب، پ، ت، ج، چ، خ، ش، ض وغیرہ وغیرہ۔۔۔ کمال بات یہ ہے کہ تحریر پڑھتے ہوئے آپ کو ایسا خاص احساس نہیں ہوتا کہ اس میں غیر منقوط الفاظ کے استعمال کی وجہ سے تحریر کچھ مشکل ہوگئی ہے۔ کچھ کچھ جگہ مشکل الفاظ ضرور ہیں لیکن ان کے معانی بھی آخر میں درج ہیں۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق اردو زبان میں ایسی کوئی کتاب سیرت پر نہیں۔ ہاں، اکبر بادشاہ کے زمانے میں ابو الفیض فیضی نے ایک تفسیر لکھی تھی جو غیر منقوط تھی تاہم وہ کوئی مسلسل کتاب نہیں تھی بلکہ قرآن کریم کے الفاظ اور جملوں کے مابین مختصر وضاحتی کلمات کا مجموعہ تھی۔

مولانا ولی رازی کی اس کتاب کا نام ہے “ہادی عالم”۔ حکومت پاکستان کی جانب سے کتب سیرت النبی کے قومی مقابلہ برائے سال 1983ء میں اس کتاب کو اول انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ یہ کتاب دار العلم، کراچی کی جانب سے شائع ہوئی۔ اس کتاب سے کچھ اقتباسات پیش کررہا ہوں تاکہ آپ بھی لطف اندوز ہوں۔

کرم ہی کرم ہے اس مالک الملک کا اور واسطہ ہے اسم رسول اکرم کا کہ سرور عالم صلی اللہ علی رسولہ وسلم کے ہر حال کی لکھائی سہل ہوگئی اور سارے احوال رسول اکرم اس طرح مسطور ہوئے کہ سال مولود سے لے کر لمحہ وصال کے سارے احوال، سال وار آگئے۔۔۔۔۔۔۔ الحمد للہ “ہادی عالم” اردو کا واحد اور اول رسالہ ہوا کہ اردوئے معرا کے اصول سے مسطور ہوا مگر لوگوں کو معلوم رہے کہ سارا کام اللہ کے کرم اور اس کی عطائے کامل سے ہوا۔

اللہ اللہ کرکے وہ لمحہ مسعود اور وہ امر الٰہی آکے رہا کہ اس کی آمد کی اطلاع اہل عالم کو رسولوں کے واسطے دی گئی۔ وہ لمحہ سعد کہ سارے عالم کے علماء اس کی آمد کے لیے اللہ کے آگے سر ٹکائے محوِ دعا رہے۔ وہ لمحہ محمود کہ سارے عالم کے گم کردہ راہوں کے لیے مہر علم و عمل ہوکر طلوع ہوا اور لوگوں کو لاعلمی کی گہری کھائی سے رہائی ملی۔ وہ لمحہ موعود کہ سالہا سال سے اللہ کے اس وعدے کی دلوں کو آس رہی۔ مآل کار اللہ کا وعدہ مکمل ہوا۔
اللہ کے رسول کی عمر ساٹھ کم سو سال ہوئی۔ اک سحر کو وہ حرا کی گود کو معور کیے ہوئے محوِ دعا و الحاح ہوئے۔ اللہ کا حکم ہوا اور ملائک کے سردار امرِ وحی لے کر آئے۔

کمال بات یہ کہ قرآن پاک کی کسی آیت کا اگر ترجمہ پیش کیا گیا تو اسے بھی غیر منقوط رکھا گیا:

اللہ مالک الملک اس طرح ہم کلام ہوا۔
“دل سے دہراؤ اس لمحے کو کہ اللہ سے للکار کر دعاگو ہوئے۔ سولوں کی دعا وصول ہوئی (اور اللہ کا وعدہ ہوا) کہ آٹھ سو اور دو سو ملائک سے (اہلِ اسلام کی) امداد کروں گا۔ وہ (ملائک) اک دوسرے کے آگے سلسلہ وار ہوں گے اور اللہ کی وہ امداد اس لیے ہوئی کہ اہلِ اسلام کو کامگاری کی اطلاع ملے اور (اہلِ اسلام کے دل) محکم و مسرور ہوں اور اللہ کی مدد ہی اصل مدد ہے اور اللہ ہی حاوی ہے اور حِکَم والا ہے۔”

آخری اقتباس:

ہادی کامل صٌی اللہ علی رسول وسلم سارے رسولوں کے سردار ہوکر اہلِ اسلام کی اصلاح کے لیے سراسر کرم وعطا ہوکر آئے۔ اک معلوم عرصہ کے لیے اس عالم مادی آکر رہے۔ لوگوں کو راہ ہدا دکھائی۔ اسلام کے احکام و اسرار عطاء کئے۔ لوگوں کو حلال و حرام کا علم عطا ہوا۔ عدل و صلہ رحمی، عطاء و کرم، ہمدردی و مددگاری کا عمل عام ہوا۔ لوگوں کی اصلاح کا اہم کام مکمل ہوا۔ اگلے لوگوں کے لیے ہرگام کے لیے اسوہ مطہرہ عطا ہوا۔ اس لیے سارے دوسرے رسولوں کی طرح سرور عالم کے لیے حکم وصال آکر رہا۔ اللہ کا ارادہ ہوا کہ اللہ کا رسول اس عالم مادی کی اصطلاح کا کام مکمل کرکے اللہ واحد سے آملے۔

اپریل حملہ

283 views April 2, 2008 | راہبر
No Gravatar

اپریل کی آمد کے ساتھ ہی یہ خوشخبری گلے پڑی کہ بس کے کرایوں میں دو روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ یقینا اپریل فول نہیں تھا، ہمیں اس پر مکمل یقین ہے کہ ایسا ہی ہوا ہے۔۔۔ اور ایسا ہی ہونا تھا۔۔۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں جب دو بار ہوشربا اضافہ ہوا تو اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ بے چارے مسافر۔۔۔ بس والوں سے جھگڑتے رہتے ہیں حالانکہ ان کا بھی کوئی قصور نہیں ہے۔ کل سے گاڑیوں میں نئے کرایوں کی فہرست آویزاں ہوگئی ہے جو کہ حکومت کی منظوری سے ہے۔

ویسے ایک حیرت انگیز بات بھی ہے۔۔۔ اگر آپ 1 کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں تو کرایہ ہے 8 روپے جو کہ کم سے کم کرایہ ہے اور اگر آپ 23 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں تو کرایہ ہے دس روپے جو کہ زیادہ سے زیادہ کرایہ ہے۔ خود سوچئے کہ یہ کتنی عقلمندی کا کام ہے۔۔۔ کم سے کم کرایہ چھ روپے کا تھا، اس پر بھی دو روپے کا اضافہ ہوا اور زیادہ سے زیادہ کرایہ 8 روپے تھا، اس پر بھی دو روپے کا اضافہ۔ یعنی ایک بندہ جو صرف ایک، دو اسٹاپ کے چھ روپے دیتا تھا، اسے بھی اب 8 روپے دینے ہوں گے۔ کیا ہی عقلمند لوگ بیٹھے ہیں ماشاء اللہ۔

اس کے علاوہ دودھ کی قیمت میں بھی اچانک ہی 6 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا ہے اور اب دودھ 36 روپے کے بجائے 42 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے۔۔۔ عیش کرنے والے عیش کررہے ہیں، رونے والے جائیں بھاڑ میں۔

یہ اپریل کا مہینہ شروع ہوتے ہیں دو حملے ہوئے ہیں۔۔۔ باقی دیکھتے ہیں۔۔۔ اپریل وار جاری ہے۔۔۔!

پاکستانی پولیس کو قتل معاف

251 views April 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

آج اس کالم پر گزارا کرلیں۔
روزنامہ جنگ کراچی۔ 30 مارچ 2008ء۔ اتوار

پاکستانی پولیس کو قتل معاف ہے