یہ تارا۔۔۔ وہ تارا۔۔۔ ہر تارا۔۔۔!
کیا ہمیں یہ سبق یاد کرنے کی ضرورت ہے؟
یہ تارا، وہ تارا، ہر تارا، یہ تارا، وہ تارا، ہر تارا
دیکھو جسے بھی لگے پیارا، یہ تارا، وہ تارا، ہر تارا
یہ سب ساتھ میں، جو ہیں رات میں
تو جگمگایا آسمان سارا
جگمگ تارے، دو تارے، نو تارے، سو تارے
جگمگ سارے، ہر تارا ہے شرارہ
تم نے دیکھی ہے دھنک تو، بولو رنگ کتنے ہیں؟
سات رنگ کہنے کو، پھر بھی سنگ کتنے ہیں؟
سمجھو سب سے پہلے تو، رنگ ہوتے اکیلے تو
انتر دھنش بنتا ہی نہیں
ایک نہ ہم ہوپائے تو انیائے سے لڑنے کو
ہوگی کوئی جنتا ہی نہیں
پھر نہ کہنا نربل ہے کیوں ہارا؟
یہ تارا۔۔۔ وہ تارا۔۔۔ ہر تارا۔۔۔۔!
بوند بوند ملنے سے بنتا ایک دریا ہے
بوند بوند ساگر ہے، ورنہ یہ ساگر کیا ہے
سمجھو اس پہلی کو، بوند ہو اکیلی تو
ایک بوند جیسے کچھ بھی نہیں
ہم اوروں کو چھوڑیں تو، منہ سب سے ہی موڑیں تو
تنہا رہنے جائیں دیکھو ہم کہیں
کیوں نہ بنیں مل کے ہم دھارا؟
یہ تارا۔۔۔ وہ تارا۔۔۔ ہر تارا۔۔۔!
جو کسان ہل سنبھالے، دھرتی سونا ہی اگائے
جو گوالا گیا پالے، دودھ کی ندی بہائے
جو لوہار لوہا ڈھالے، ہر اوزار ڈھل جائے
مٹی جو کمہار اٹھالے، مٹی پیالا بن جائے
سب یہ روپ ہیں محنت کے، کچھ کرنے کی چاہت کے
کسی کا کسی سے کوئی بیر نہیں
سب کے ایک ہی سپنے ہیں، سوچو تو سب اپنے ہیں
کوئی بھی کسی سے یہاں غیر نہیں
سیدھی بات ہے سمجھو یارا۔۔۔۔!
یہ تارا۔۔۔ وہ تارا۔۔۔ ہر تارا۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلم: سودیس
موسیقار: اے۔ آر رحمن
شاعر: جاوید اختر
گلوکار: ادت نارائن
اداکار: شاہ رخ خاں (و دیگر)
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
March 25, 2008 بوقت 3:50 pm
پرسوں رات کو ہی فلم کیبل پر دیکھی ہے۔ اس فلم کے تمام گانے ہی عمدہ ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان جہاں عموما یہ چلن ہے کہ میڈیا ہندوستان کی ہولناک غربت کو چھپائے رکھتا ہے وہاں کسی نے اس قسم کی فلم بنائی۔ ہندوستانی عوام کو یہ فلم شاید اسی پسند نہیں آئی۔ ورنہ فلم انتہائی معیاری ہے۔
March 25, 2008 بوقت 4:28 pm
میں آپ سے متفق ہوں۔ یہ فلم مجھے صرف اس لیے نہیں پسند کہ اس میں میرا پسندیدہ کنگ خان موجود ہے
بلکہ اس فلم کے سبھی گیت عمدہ ہیں اور کہانی بھی بے حد معیاری۔ اس فلم نے باکس آفس پر کوئی برا بزنس تو نہیں کیا تھا۔۔۔ مناسب ہی تھا۔ کم سے کم وہاں اتنا تو ہے کہ ایسے موضوعات پر فلمز بنتی ہیں اور عوام ان کو پسند کرتی ہے۔ یہاں تو ایسے موضوعات کو قابل توجہ نہیں سمجھا جاتا۔
اس فلم کے کسی گیت میں حب الوطنی کا اظہار ہے، کسی میں بھائی چارگی کا پیغام اور کسی میں اپنے لوگوں اور علاقہ سے انسیت کا اعلان۔۔۔ جاوید اختر کی شاعری کمال کی ہوتی ہے۔