No Gravatar

کیا ہمیں یہ سبق یاد کرنے کی ضرورت ہے؟

یہ تارا، وہ تارا، ہر تارا، یہ تارا، وہ تارا، ہر تارا
دیکھو جسے بھی لگے پیارا، یہ تارا، وہ تارا، ہر تارا
یہ سب ساتھ میں، جو ہیں رات میں
تو جگمگایا آسمان سارا
جگمگ تارے، دو تارے، نو تارے، سو تارے
جگمگ سارے، ہر تارا ہے شرارہ

تم نے دیکھی ہے دھنک تو، بولو رنگ کتنے ہیں؟
سات رنگ کہنے کو، پھر بھی سنگ کتنے ہیں؟
سمجھو سب سے پہلے تو، رنگ ہوتے اکیلے تو
انتر دھنش بنتا ہی نہیں
ایک نہ ہم ہوپائے تو انیائے سے لڑنے کو
ہوگی کوئی جنتا ہی نہیں
پھر نہ کہنا نربل ہے کیوں ہارا؟

یہ تارا۔۔۔ وہ تارا۔۔۔ ہر تارا۔۔۔۔!

بوند بوند ملنے سے بنتا ایک دریا ہے
بوند بوند ساگر ہے، ورنہ یہ ساگر کیا ہے
سمجھو اس پہلی کو، بوند ہو اکیلی تو
ایک بوند جیسے کچھ بھی نہیں
ہم اوروں کو چھوڑیں تو، منہ سب سے ہی موڑیں تو
تنہا رہنے جائیں دیکھو ہم کہیں
کیوں نہ بنیں مل کے ہم دھارا؟

یہ تارا۔۔۔ وہ تارا۔۔۔ ہر تارا۔۔۔!

جو کسان ہل سنبھالے، دھرتی سونا ہی اگائے
جو گوالا گیا پالے، دودھ کی ندی بہائے
جو لوہار لوہا ڈھالے، ہر اوزار ڈھل جائے
مٹی جو کمہار اٹھالے، مٹی پیالا بن جائے

سب یہ روپ ہیں محنت کے، کچھ کرنے کی چاہت کے
کسی کا کسی سے کوئی بیر نہیں
سب کے ایک ہی سپنے ہیں، سوچو تو سب اپنے ہیں
کوئی بھی کسی سے یہاں غیر نہیں
سیدھی بات ہے سمجھو یارا۔۔۔۔!

یہ تارا۔۔۔ وہ تارا۔۔۔ ہر تارا۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلم: سودیس
موسیقار: اے۔ آر رحمن
شاعر: جاوید اختر
گلوکار: ادت نارائن
اداکار: شاہ رخ خاں (و دیگر)

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔